آہ! مولانا احمد حسن واعظ

0 7

حوزہ نیوز ایجنسی دور حاضر میں ہم جہاں بہت سی اہم شخصیات سے محروم ہوئے جنکی یادیں کبھی بھلائی نہیں جا سکتی، ان کی شخصیتوں کے نقوش ہمیشہ انکے چاہنے والے دلوں میں زندہ رکھیں گے، انکے کردار اور حسن اخلاق کو ملنے والے کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ 
اگرچہ وہ آج ہمارے درمیان نہیں لیکن وہ اپنی شخصیت، اپنے کردار اور حسن اخلاق سے ہمیشہ کے لئے اَمَر ہیں۔ 
انہیں اہم شخصیات میں برادر محترم مبلغ اسلام مروج مکتب اہلبیت علیہم السلام جناب مولانا سید احمد حسن واعظ طاب ثراہ تھے۔ 
اپنے وطن امسن کلاں فیض آباد میں ابتدائی تعلیم حاصل کر کے اعلی تعلیم کے لئے لکھنو تشریف لے گئے جہاں مدرسہ جامعۃ التبلیغ میں داخلہ لیا اور فارغ التحصیل ہوئے، جامعۃ التبلیغ سے فراغت پر اکتفاء نہیں کی بلکہ تعلیم کے سفر کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے مدرسۃ الواعظین لکھنو کا رخ کیا،  داخلہ لیا اور وہاں موجود علماء نے ایسی تربیت کی کہ دینی خدمات آپ کا نصب العین بن گیا۔ مدرسۃ الواعظین سے فراغت کے بعد دینی خدمات کا آغاز کیا، منفرد انداز، منفرد لب و لہجہ کی خطابت جو سامعین کے کانوں میں رس گھولتی اور مجمع سے داد و تحسین کی صدائیں تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بلند ہوتی رہتی تھیں۔ اگرچہ جامعۃ التبلیغ میں طالب علمی کے زمانے میں ہی آپ کی خطابت کی آہٹ مومنین کو محسوس ہونے لگی تھی اور اسی زمانے میں شہر میں مجالس کے حوالے سے مومنین متعارف ہو چکے تھے۔ 
احمد حسن بھائی نے ملک کے کئی صوبوں میں دینی خدمات انجام دیں، گجرات، مہاراشٹرا، راجستھان، بہار اور آندھرا پردیش اور آخر میں شاہ گنج آگرہ کے امام جماعت ہوئے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ آپ ایک ایسے مبلغ تھے جن کی دینی خدمات کا احاطہ پورے ملک پر چھایا ہوا ہے۔ 
مولانا سید احمد حسن صاحب جہاں ایک بہترین خطیب و مبلغ تھے اس سے کہیں اچھے انسان تھے، محبت، خلوص اور اخلاق آپ کا خاصہ تھا۔ اپنے کو ہمیشہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا نوکر کہا اور اسی پر فخر کرتے تھے شائد یہی وجہ ہو کہ مولا کے ایام عزاداری میں طلبی کا الہی پروانہ آ گیا اور آپ چلے گئے۔ 
یکم فروری 2021 کو شہید ثالث قاضی نوراللہ شوستری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مقدس پر آپ سے آخری ملاقات ہوئی ، دوران گفتگو پوچھا کیا کر رہے ہو تو میں نے عرض کیا کہ پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کر رہا ہوں اس کے بعد دیکھتے ہیں کہیں اللہ انتظام کر دے، میں نے کہا احمد حسن بھائی آپ نے معلم وغیرہ تو کیا ہی ہوگا کہنے لگے جی بہت پہلے کیا ہے تو میں نے کہا تو پھر سرکاری نوکری کے لئے کوشش کیوں نہیں کی۔ کہنے لگے سعید میاں میں نے مال امام کھایا ہے، میں مولا علی علیہ السلام کا نوکر ہوں اور انکے ہی نام پر مرجانا ہے۔آپ نے اپنے ایک عزیز کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے کئی لوگوں کی سرکاری نوکری کے سلسلہ میں مدد کی ہے انھوں نے مجھ سے بھی کہا کہ اپنی اسناد لے کر آئیں آپ کو بھی سرکاری ملازمت دلا دوں گا لیکن مجھے یہی خدمت اچھی لگتی ہے۔ اگر آپ چاہتے تو سرکاری ملازمت مل جاتی جس سے معاشی مشکلات بھی برطرف ہو جاتے لیکن شائد خدمت دین کی یہ توفیق حاصل نہ ہوتی۔
 اسی ملاقات میں آپ نے اپنے وطن امسن میں خدمت دین کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ میری ہمیشہ سے دلی خواہش رہی اپنے وطن میں خدمت کروں لیکن حالات فراہم نہ ہو سکے لیکن انشاء اللہ محرم تک امسن چلا جاوں گا اور وہیں رہوں گا۔ ماشاء اللہ آپ لوگ اب بڑے ہو گئے ہیں میرے قوت بازو ہوں گے۔ لیکن افسوس محرم سے قبل ہی آپ نے بارگاہ حسینی کی جانب ہجرت کر لی۔ مجھے یقین ہے اگر آپ وطن میں مستقل قیام فرما لیتے تو دینی و مذہبی سرگرمیوں میں چار چاند لگ جاتا اور جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت میں نمایاں ترقی ہوتی۔ 
اللہ تو نیتوں پر جزا دیتا ہے یقینا بارگاہ کبریاء سے بہترین جزا آپ کو نصیب ہوئی ہوگی۔ 
آپ کی اچانک رحلت پر دل غمزدہ اور آنکھیں اشکبار ہیں کہ ہم نے کیسی اہم شخصیت کو کھودیا۔ بارگاد خدا میں دعا ہے کہ خدا رحمت نازل فرنائے، مغفرت فرمائے. پسماندگان و وابستگان کو صبر جمیل و اجر جزیل عطا فرمائے۔ 
جناب جعفر طیار علیہ السلام کی شہادت پر  محبوب کبریاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا : خدایا! تو جعفر کے بچوں کا نگہبان ہے۔ 
خدایا: مولانا احمد حسن واعظ صاحب نے تیرے دین کی خدمت کی، مکتب اہلبیت علیہم السلام کی ترویج میں زندگی بسر کی، تیرے محبوب علی علیہ السلام کی نوکری پر فخر کیا۔ خدایا انکے کمسن چھ بچیوں اور کمسن بیٹے کا تو نگہبان ہے اور تو بہترین نگہبان ہے۔ 

مزید  عید سعید فطر کی فضیلت اور اعمال

شریک غم 
سید حسین مہدی رضوی
ریسرچ اسکالر خواجہ معین الدین یونیورسٹی لکھنو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.