2022 - 09 - 25 ساعت :
اسلامی انقلاب

نظريہ جمہوريت پر اعتراضات

2020-07-20 03

نظريہ جمہوريت پر اعتراضات

اب تك ہم جمہوري طرز تفكر، جمہوريت كے جواز كے دلائل، جمہوريت كي راہ ميں موجود ركاوٹوں اور مشكلات كے راہ حل اور جمہوريت سے متعلق دين كے موقف سےآشنا ہو چكے ہيں اب ايك اور زاويئے سے جمہوريت كي راہ ميں موجود ركاوٹوں اور جمہوريت پر كئے جانے والے اعتراضات كو بيان كررہے ہيں ۔ہم وضاحت كريں گے كہ جمہوريت كے پاس ان اعتراضات كا كوئي (قابل قبول) جواب موجود نہيں ہے۔وہ اشكالات اوراعتراضات در ج ذيل ہيں:
1) اقليت كے حقوق كي پامالى
جمہوريت كے نتيجہ ميں اقليت كے حقوق پامال ہو جاتے ہيں كيونكہ كوئي ضمانت فراہم نہيں كي جا سكتي كہ كسي بھي مسئلے پر مكمل اتفاق راي ہو سكتا ہے، يہاں تك كہ اس بنيادي اور كلي اصول پر بھي اتفاق راي نہيں ہوتا كہ اكثريت آراء كو معيار قرار ديا جائے، اگر عوام كي كچھ تعداد اس بنيادي اصول (اكثريت آراء معيار ہو) كو قبول نہ كرے (اگر چہ ان كي تعداد كم ہو) تو ايسے لوگوں كے ساتھ (جمہوريت) كا رويہ كيا ہوگا؟
اس سلسلے ميں جان جان روسو كہتے ہيں: “حكومت فقط ان لوگوں كے درميان قائم ہوتي ہے جو پيمان معاشرت ميں شريك ہوتے ہيں اور اس پيمان كے مخالفين كو ملك كے شہريوں كے درميان اجنبي اور بيگانے لوگوں كي حيثيت حاصل ہوتي ہے، اگر يہ اقليت مكمل اختيار كے ساتھ اس ملك ميں سكونت اختيار كرے تو اس كامطلب يہ ہے كہ وہ پيمان معاشرت ميں شريك ہے۔
يہ مخالفين اس پيمان معاشرت كے نتيجہ ميں قائم ہونے والي حكومت كے سامنے سر تسليم خم كرتے ہيں۔لہٰذا ہماري سامنے اقليت كے مسئلہ كے نام سے كوئي ركاوٹ اور مشكل موجود نہيں ہے (يعني در حقيقت ہماري پاس اس كاراہ حل موجود ہے) ليكن حيران كن (لاجواب) سوال يہ ہے كہ اس اقليت نے كس بنياد پر اس ملك ميں رہنے كا فيصلہ كيا ہے؟ آپ كس اختيار كي بنياد پر اس اقليت كو دو چيزوں ميں سے ايك كو اختيار كرنے پر مجبور كرتے ہوئے كہتے ہيں: “اگر اس ملك ميں رہائش اختيار كروگے تو اس كا مطلب يہ ہوگا كہ تم لوگ حكومت كي اطاعت كرتے ہو ورنہ دوسري صورت يہ ہے كہ اس ملك كو چھوڑ كر چلے جاؤ “سوال يہ ہے كہ اس اقليت كو يہ اختيار كيوں حاصل نہيں ہوتا كہ تيسري صورت (اس ملك ميں رہتے ہوئے پيمان معاشرت ميں شامل نہ ہو اور اس پر حكومت كي اطاعت بھي ضروري نہ ہو) كو اختيار كر سكے؟
كيا يہ اقليت اس حكومت كو قبول كرتي ہے؟ كيا ان كي نظر ميں حكومت كو يہ حق حاصل ہے كہ انھيں دو صورتوں ميں سے كسي ايك صورت كو اختيار كرنے پر مجبور كرے؟ يہ ايك بے معني فرض ہے كہ پيمان معاشرت ميں شريك نہ ہونے والا فرد يا جماعت (جوايك ملك ميں رہائش پذير ہے) كے روابط پيمان معاشرت ميں شريك ہوكر حكومت تشكيل دينے والي جماعت سے مكمل طور پر كٹ جائيں، اب يہ كہنا كہ كيونكہ ايك دوسري سے ان دوجماعتوں كے روابط مكمل طور پر كٹ چكے ہيں لہٰذا اقليت نامي كوئي مسئلہ ہي موجود نہيں ہے (تاكہ اسے حل كرنے كي ضرورت محسوس ہو)
يہ نا معقول بات ہے كيونكہ ہر حكومت كي ذمہ داري ہے كہ اپنے باشندوں اور شہريوں پيمان (جومعاشرت ميں شامل ہوئے ہوں) كے دوسري لوگوں كے ساتھ روابط وتعلقات كي نوعيت كو مشخص كرے، يہ معين كرنا بھي حكومت كي ذمہ داري ہے كہ اگر كچھ اور لوگ (جو قرار داد ميں شامل نہيں ہوئے) اس ملك ميں سكونت اختيار كرنا چاہيں تو اس كاطريقہ كيا ہوگااور ان لوگوں پر كون سے قوانين لاگو ہوں گے؟
جب صورت حال يہ ہے تو دوبارہ يہ سوال اٹھ كر سامنے آتا ہے كہ حكومت اس شخص كي آزاديوں كو كس جواز كي بنياد پر محدود كرتي ہے جس نے پيمان معاشرت كو قبول نہيں كيا، اور اس حكومت كو اس شخص پر اپنے قوانين لاگو كرنے كا حق كہاں سے حاصل ہوا ہے يہ شخص نہ تو حكومت كو قبول كرتا اور نہ ہي اس پيمان ميں شريك ہواہے جس كي بنياد پر حكومت قائم ہوئي ہے۔
جمہوريت كے پاس اس سوال كا كوئي معقو ل جوا ب نہيں ہے۔
2) اقليت كي حكومت
ہم نے پہلے اعتراض كے ضمن ميں ملاحظہ كيا كہ جمہوري نظام ميں كسي معقول دليل كے بغير اكثريت، اقليت پر حكمراني كرتي ہے ليكن يہاں پر صورت حال بر عكس ہے جس كي وجہ سے جمہوريت پر اعتراض ميں مزيد شدت آجاتي ہے كيونكہ آخركار اقليت اكثريت پر حكومت كرتي ہے آپ سوال كريں گے يہ كيسے ممكن ہے۔؟
ہم جانتے ہيں معاشري ميں مال و دولت، تعليم اور سياسى، اجتماعى، ديني اثرو رسوخ نيز مہارت و ذہانت كے اعتبار سے طبقاتي فاصلہ پاياجاتا ہے ممكن ہے مندرجہ بالا وسائل (طبقاتي فاصلوں كے اسباب) ايك خاص اقليت كے ہاتھ ميں ہوں۔ يہ بھي ممكن ہے كہ اقليتي گروہ مالي سياسي ديني وسائل اور پرپگنڈہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں كے ووٹ خريدلے يا يہ كہ ان وسائل كو بروئے كار لاتے ہوئے اپنے اغراض ومقاصد كے حصول كے لئے عوامي آراء كو استعمال كرے اور آخر كار يہ نتيجہ سامنے آئے كہ (يہ اقليت) اكثريت كے آراء (فيصلوں) پر اثر انداز ہو۔
جمہوريت كے پيروركار اس اعتراض كا جواب مال ودولت اور قدرت و طاقت كے اعتبار سے لوگوں ميں نسبي مساوات اور برابري كے ذريعے ديتے ہيں، (جب مال و دولت اور قدرت وطاقت كے اعتبار سے لوگ مساوي ہوں گے تو اقليت، اكثريت كي آراء پر تسلط حاصل نہيں كر سكے گي) ليكن يہ راہ حل ہماري اعتراض كا جواب فراہم نہيں كر سكتا كيونكہ مساوات كا قانون اس صورت ميں رائج اور نافذ ہو سكتا ہے جب حكومت وسيع سطح پر اقتصادي نظام وضع كرے اور متعدد طريقوں سے مختلف قوتوں ميں ہماہنگي ايجا د كرے ۔ليكن پھر وہي سوال سامنے آتا ہے كہ حكومت كو ان امور كي انجام دہي اور لوگوں پر حكمراني كا حق كہاں سے حاصل ہوا ہے؟
غير اشتراكي معاشري ميں معمولي فاصلے (ولو نسبي فاصلے) كا فرض كيا جائے تو يہ احتمال ديا جا سكتا ہے كہ لالچ دينے اور فريب و دھوكہ جيسے ہتھكنڈوں كے ذريعے لوگوں كے ووٹوں كو خريدا جا سكتا ہے۔
جمہوريت كے طرفداروں كادعويٰ ہے كہ حكومت اس مخصوص گروہ (ثر وتمند اقليتي گروہ) كوچھوٹ نہيں ديتي كہ يہ گروہ مختلف سياسي ومالي وسائل كے ذريعے عوام كے ووٹ خريد سكے، ليكن ہم پھر وہي سوال دہرائيں گے: حكومت كي حكمراني كا جواز كيا ہے؟ يہ دعويٰ كيونكر كيا جا سكتا ہے كہ حكومت اپنے اقتدار اور طاقت و قوت كے ذريعے صاف و شفاف انتخابات منعقد كرواسكتي ہے، جب كہ حكومت كواثر و رسوخ استعمال كرنے كا قانوني حق حاصل نہيں ہے ۔
فرض كريں ايك ايسي حكومت موجود ہے جو اقليت كو اكثريت كے خلاف مالي وسياسي وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھانے كي اجازت نہيں ديتي ليكن كيا ضمانت دي جاسكتي ہے كہ خود حكومتمالي وسائل، سياسي اثر روسوخ اور پروپگنڈہ جيسے وسائل كو اپنے حق ميں استعمال نہيں كرے گي۔!!
ليكن اشتراكي معاشرہ، جس ميں فرض يہ ہوتا ہے كہ حكومت كا وجود نہيں ہے (اگر چہ فقط يہ ايك فرضيہ ہے كيونكہ كوئي نہ كوئي حكومت موجود ہوتي ہے) ہماري بحث سے خارج ہے كيونكہ ہماري بحث كو موضوع حكومت كي شكل اور حكومت كي كيفيت ہے اور اس معاشري ميں فرض يہ ہے كہ كوئي حكومت ہي نہيں ہوتي تاكہ اس كي شكل و كيفيت كے باري ميں بحث كي جائے، ليكن اگر اس معاشرہ ميں حكومت كے معدوم ہونے سے پہلے والے مرحلہ كو مدنظر ركھا جائے تو كم از كم ايك حكمران قوت موجود ہوتي ہے اور وہ قوت اقليتي پارٹي كي صورت ميں موجود ہوتي ہے جو اكثريت كے ووٹوں كو اپني مرضي كے مطابق استعمال كرتي ہے البتہ اس امر سے چشم پوشي كرتے ہوئے كہ اشتراكيت كا رواج (جو حكومت كے معدوم ہونے كا مقدمہ ہے) بھي قدرتمند حكومت ہي كے ذريعے ممكن ہے ہم پھر وہي سوال دہرائيں گے كہ حكومت كے اقتدار اور امت پر حكومت كے احكام و قوانين كے واجب ہونے كا عقلي و قانوني جواز كياہے؟
ہم نے جو اعتراضات جمہوريت پر كئے ہيں در حقيقت محنت كش طبقے كي حكومت كہ اشتراكي نظام جس حكومت كا نعرہ لگاتا ہے اس پر بھي يہي اشكالات واعتراضات كئے جا سكتے ہيں كيونكہ اشتراكي نظام كا دعويٰ ہے: محنت كش طبقے كي حكومت در حقيقت محنت كش طبقے ميں جمہوري حكومت ہے اور محنت كش طبقے كادوسري طبقوں پر ايك قسم كا استبداد اور ڈكٹيٹر شپ ہے، اس لئے استبداد ي حكومت پر كئے جانے والے اعتراضاتِ اس حكومت پر بھي وارد ہوں گے۔
ليكن يہ حكومت ان اعتراضات سے بالاتر ہے كيونكہ اشتراكي نظام كے حامي جبر تاريخ كے قائل ہيں اور ان كي حكومت كي بنياد بھي جبر تاريخ پر استوار ہے جيسا كہ (مادّيت تاريخ) كا نظريہ ہے ۔لہٰذا جو چيز دائرہ اختيار سے خارج ہو اس سے متعلق يہ بحث ممكن نہيں كہ كيا يہ ظلم ہے يا عدل وانصاف؟ اس نظريے كے مطابق ہر زمانے ميں عدالت وہي ہے جس كا جبر تاريخ تقاضاكرے اور ظلم وہ ہے جسے جبر تاريخ ٹھكرادے، اپنے مقام پر جبر تاريخ كے نظريے كو اعتراض و تنقيد كا نشانہ بناياگيا ہے اور ثابت ہوچكا ہے كہ تاريخ سازي ميں انسانيت اور انساني ارادے كا نہايت اہم كردار ہے ايسا نہيں كہ اس كا واحدسبب ٹيكنالوجي اور مادي ترقي ہے۔
1) اگر ہم حكومت كي اقسام كو مذكورہ اقسام ميں منحصر سمجھيں تو يہ اعتراض جمہوريت كي بعض اقسام كو شامل ہے جب كہ بعض اقسام كو شامل نہيں ہے۔
اعتراض و اشكال يہ ہے كہ عوام كي راي حاصل كرنا اور آراء كي جمع اور ي اگر چہ اپني جگہ پرمفيد ہے (دوسري اعتراضات سے قطع نظر) ليكن اس كا فائدہ صرف يہ ہے كہ قانون سازي كرتے وقت قانون سازي كرنے والے افراد قلبي طور پر مطمئن ہوں كہ انھيں عوامي تائيد حاصل ہے،
ووٹنگ اجتماعى مفادات و مصالح كي حفاظت كے لئے بہترين اور كامياب راہ حل كي تشخيص اور مفيد نظام كي حفاظت كا سبب نہيں بن سكتى، بلكہ اس سے بہتر طريقہ يہ ہے كہماہر، تجربہ كار صاحب نظر سلجھے اور ملجھے ہوئے افراد كا انتخاب كيا جائے اور انھيں يہ اختيار ديا جائے كہ تبادلہ خيال اور بحث و گفتگو كر كے اجتماعى مشكلات كا بہترين حل تلاش كريں ۔
ليكن تمام عوام كي طرف رجوع كرنا اور ان كي راي معلوم كرنے كا مطلب يہ ہے كہ اتني بڑي اكثريت كو اجتماعى مشكلات كا مناسب راہ حل تلاش كرنے كا ذمہ داري سونپي جائے كہ جس كے افكار و خيالات پر جہالت اور ذاتي اغراض و مقاصد كا غلبہ ہے، ايسي صورت حال ميں احتمال ديا جا سكتا ہے كہ كثرت آراء اور شور وغل كے نتيجے ميں حق ضائع ہو جائے گا، يہ صورت ميں ہے كہ جب قانون سازي كے لئے بلا واسطہ طور پر عوام سے رجوع كيا جائے ليكن اگر لوگوں كو ايسے نمايندے منتخب كرنے كا حق ديا جائے جو لائق، اپنے فن ميں ماہر، صاحب نظر اور اس امر كے لئے موزون و مناسب ہوں تو يہ مشكل بہت حد تك كم ہو جائے گى، ليكن پھر بھي ضمانت نہيں دي جا سكتي كہ منتخب افراد اس ذمہ داري كو نبھانے كے لئے موزوں ومناسب ہوں گے خواہ عوام انھيں قرعہ اندازي كے ذريعے معين كرے خواہ انتخابات كے ذريعے ۔يہ بات معقول نہيں كہ قرعہ اندازي كے ذريعے منتخب ہونے والا نمايندہ دوسروں سے بہتر ہوگا اور اسي طرح انتخابات كے نتيجے ميں منتخب ہونے والے نمايندگان بھي ضروري نہيں كہ دوسروں كي نسبت بہتر صفات و شرائط كے حامل ہوں گے كيونكہ انھيں ايك ايسي اكثريت ووٹ ديتي ہے جن پر جہالت اور ذاتي اغراض ومقاصد كا غلبہ ہوتا ہے۔
بہر حال خدائي راہ حل سے قطع نظر، اہل فن اور صاحب نظر نمايندگان كے انتخاب كا طريقہ باقي طريقوں سے بہتر ہے۔
ہم سوال كرتے ہيں كہ حكومت كے ساتھ قرار داد باندھنے والا كون ہے كيا موجودہ زندہ لوگ ہيں (تاكہ انھيں قوم و ملت كا نام ديا جائے) يا طرف قرار داد معنوي شخص ہے كہ جس كا دائرہ موجودہ زندہ افراد سے وسيع تر ہے اور كم از كم گذشتہ افراد كو شامل ہے (تاكہ اسے امت كا نام ديا جائے) پس حكمراني كا حق كس كوحاصل ہے؟ قوم وملت كو يا امت كو؟ جمہوريت ميں يہي دو مختلف مسلك و مكتب پائے جاتے ہيں۔
ڈاكٹر عبدالمجيد متولي نے اپني كتاب”اسلام اور نظام حكومت كي بنياديں” ميں ملت كي حاكميت اور امت كي حاكميت ميں موجودہ فرق كي اہميت كو بيان كرتے ہوئے كہا ہے 16 “يہ اہميت دو مسئلوں ميں ظاہر ہوتي ہے۔”
2) قوم وملت كي حكمراني كے نظريہ كے مطابق انتخاب ايك حق شمار كيا جاتا ہے كيونكہ حكمراني موجودہ اہل وطن كي ملكيت شمار ہوتي ہے يعني ہر اہل وطن حكمراني و اقتدار كے ايك جزء كامالك ہوتا ہے لہٰذا اسے حكمراني كے امور ميں شركت كا حق حاصل ہوتا ہے ۔ليكن اگر امت كي حكمراني كے نظريے كو مد نظر ركھا جائے تو (قدري بہتر راي كے مطابق) انتخاب يا ايك فرض كي حيثيت ركھتا ہے يا بعض فرانسوي دانشوروں كي تعبير كے مطابق انتخاب قانوني حكمراني ہے ۔اس نظريہ كے مطابق ووٹرامت كے فرد كي حيثيت سے انتخاب كو انجام ديتا ہے اپنے مخصوص حق كے طور پر انتخاب ميں شركت نہيں كرتا گويا وہ اپنا عمومي فرض انجام ديتا ہے (انتخاب كے نتيجے ميں) قانون ساز كو حق حاصل ہوتا ہے كہ وہ اپنے فرائض كو كما حقہ انجام دينے كي خاطرفرد كے لئے (اسے ووٹر اور راي دہندہ فرض كرتے ہوئے) شرائط اور قيود وضع كرے۔
3) نہايت اہم نتيجہ جواس اختلاف (حق حكمراني ملت كو حاصل ہے يا امت كو) پر مرتب ہوتا ہے يہ ہے كہ دونوں نظريوں كے مطابق جمہوريت كي ايك شكل سامنے نہيں آتي بلكہ ہر ايك نظريے كے نتيجے ميں جمہوريت كي مختلف شكليں سامنے آتي ہے، ملت كي حكمراني كا نظريہ ركاوٹيں ايجاد كرنے اور سياسي توازن بر قرار كر نے جيسي روشوں كي اجازت نہيں ديتا جب كہ امت كي حكمراني كا نظريہ يہ روشيں اختيار كرنے كي اجازت ديتا ہے۔
الف) مذكورہ بالا نكتہ كي وضاحت يہ ہے (امت كي حكمراني كے نظريہ كے مطابق) جائز ہے كہ پارلماني اكثريت كے فيصلوں اور تجاويز كے مقابلے ميں (ان كے فيصلوں كو روكنے كي خاطر) قوانين وضع كئے جائيں تاكہ پارليمنٹ عارضي اور وقتي عوامل كي بنياد پر قوانين پاس نہ
كر سكے، اور اطمينان حاصل ہو سكے كہ پارليمنٹ كے فيصلے غور وخوض كرنے كے بعد حاصل
ہونے والے مستحكم و پائيدار ارادہ سے وجود ميں آئے ہيں وقتي اور عارضي رجحانات كے نتيجے ميں وجود ميں نہيں آئے ہيں دوسري لفظوں ميں ان قوانين اور فيصلوں كے پس پردہ ايك ايسا ارادہ كار فرما تھا جس ميں قومي مفادات كو مدنظر ركھا گيا تھا اور يہ ارادہ (چنانچہ ہم پہلے ذكر كر چكے ہيں (كہ امت كا دائرہ آيندہ نسلوں كو بھي شامل ہے) امت كا ارادہ تھا۔
بنابرايں امت كي حكمراني كے نظريہ كے حامي جائز سمجھتے ہيں كہ پاليمنٹ كے فيصلوں كے مقابلے ميں قوہ مجريہ (حكومت كي كابينہ كے اراكين) كو اعتراض كا حق”ويٹو” 17 حاصل ہے ۔
اسي طرح امت كي حكمراني كے نظريہ كے مطابق يہ بھي جائز ہے كہ پارليمنٹ امت كي منتخب نمايندہ اسمبلي كے علاوہ ايك دوسري اسمبلي (ايوان بالا يا سينٹ) پر مشتمل ہو، تاكہ اطمينان حاصل ہو سكے كہ پارليمنٹ كے فيصلے قومي ارادے اور خواہشات كے مطابق ہيں چنانچہ ہم اس كي طرف اشارہ كر چكے ہيں (يا فرانسوي دانشوروں كے مطابق) اكثراوقات ايوان بالا (سينٹ) قومي اسمبلي كے ساتھ اختلاف راي ركھتي ہے اس صورت حال ميں كہا جا سكتا ہے كہ:
ب) ليكن ملت كي حكمراني كے نظريے (جس نظريے كا سر چشمہ روسو ہے چنانچہ اس كا تذكرہ ہو چكا ہے) 18 كے مطابق صورت حال بر عكس ہے كيونكہ اس نظريہ كے مطابق اكثريت كے ارادہ كا احترام اور نفاذ ضروري ہے اور اس نظريہ كے مطابق يہ بحث كرنا ضروري نہيں كہ پارليماني قوانين كا سر چشمہ ہماگير اور مصمم ارادہ ہو جو امت سے جاري ہوتا ہے، بنابراين اس نظريہ كو قبول كرنے والوں كي نظر ميں جائزنہيں ہے كہ قوہ مجريہ كو (پارليمنٹ كے مقابلے ميں) ويٹو كا حق حاصل ہو اور يہ بھي جائز نہيں كہ پارليمنٹ دو اسمبليوں (قومي اسمبلي اور ايوان بالا يعني سينٹ) پر مشتمل ہو بلكہ پارليمنٹ كي تشكيل كے لئے ايك ہي اسمبلي پر اكتفاء كياجائے مگر فيڈرل اور متحدہ رياستي حكومتوں ميں متعدد اسمبليوں كي ضرورت ہو سكتي ہے۔ 19
ج) روسو كا عقيدہ ہے كہ ملت كے (منتخب) نمايندوں كو قومي ارادے كے سامنے سر تسليم خم كرنا رہتا ہے اور راي دہندگان انھيں اپني خواہشات و تقاضوں سے آگاہ كرتے ہيں اور نمايندے ان ہي خواہشات و تقاضوں كو عملي جامہ پہناتے ہيں راي دہندگان كو حق حاصل ہوتا ہے كہ جب چاہيں نمايندوں كو بر طرف كر ديں اس سے معلوم ہوتا ہے كہ روسو حتمي وكالت كے نظريے كا قائل ہے جو نظريہ جمہوريت كے متعلق مغربي نظريہ سے منافي ہے جس ميں حكمران قوم كا نمايندہ ہوتا ہے۔ 20 ڈاكٹر عبد الحميد متولي كي عبارت كا يہي حصہ نقل كرنا مقصود تھا۔
بہر حال اگر جمہوريت كے طرفدار يہ كہيں كہ پيمان معاشرت كي طرف ملت (موجودہ لوگ) ہے تو آيندہ انے والے لوگوں كے حقوق سے متعلق سوال پيدا ہوتا ہے اور اسي طرح ان لوگوں كے حقوق سے متعلق سوال پيدا ہوتا ہے جن ميں (پيمان برقرار ہوتے وقت) راي (ووٹ) دينے كي شرائط موجود نہيں تھيں مثلاً ان كي عمر ووٹر كي قانوني عمر سے كم تھى، كس دليل كي بنياد پر حكمراني كا حق فقط موجودہ افراد سے مخصوص ہے جن ميں راي (ووٹ) دينے كي شرائط پائي جاتي ہيں؟ اگر يہ جواب ديا جائے كہ آيندہ انے والے اور مستقبل ميں راي دينے كي شرائط پر پورا اترنے والے لوگ اگر محسوس كريں كہ فلاں قانون ان كے مفادات كے خلاف ہے تو يہ لوگ موجودہ قانون كو تبديل كر سكتے ہيں شرط يہ ہے كہ انھيں اكثريت كي حمايت حاصل ہو ليكن اگراكثريت حاصل نہ كرسكيں تب بھي كوئي حرج نہيں (يعني اس سابقہ قانون كو تسليم كريں) يہاں پر ہم سابقہ بات (اشكال) كو دہرائيں گے كہ اكثريت، اقليت كے حقوق پامال كرتي ہے اور يہ كہاجائےگا كہ يہ اقليت (آيندہ انے والے لوگ) موجودہ قانون پر راضي نہيں ہے اور يہ بھي قبول نہيں كرتي كہ اكثريت آراء كو معيار قرار ديا جائےاور اس محور پر اكثريت سے ہم عقيدہ نہيں ہے۔
4) فرض كيا جاسكتا ہے (اگر چہ عقلي احتمال كے طور پر) كہ تمام ملت مكمل طور پر اس عام قانون پر متفق ہو جائے كہ معيار اكثريت كي راي ہوگي ليكن يہ فرض ہماري مورد بحث اقليت كے باري ميں صحيح نہيں ہے كيونكہ ضمانت نہيں دي جاسكتي كہ آيندہ انے والے افراد اور مستقبل ميں بالغ ہونے والے افراد موجودہ افراد كے فيصلے سے اتفاق كريں گے اگر وہ اتفاق نہ كريں تو كس طرح پيمان معاشرت معقول مدت تك قائم رہ سكے گا؟
5) كبھي كبھار قاصر 21 كا قصور (نقص) واضح ہوتا ہے مثلاً اتنا كم سن بچہ جو اچھے كو بري سے تميز نہ دے سكے اور كبھي كبھار اس كا نقص اور قصور واضح نہيں ہوتا لہٰذا ہميں جامع قانون كي ضرورت ہے جو قاصر كو غير قاصر سے تميز دے سكے ۔جب تك يہ قانون پاس نہ ہوجائے ہميں معلوم نہيں ہوتا كہ راي (ووٹ) دينے كي اہليت ركھنے والے افراد كي تعداد كتني ہے؟ كيونكہ ہميں بالغ افراد (ووٹ كي اہليت ركھنے والے) كي تعداد معلوم نہيں ہو سكتي كيسے دعويٰ كيا جاسكتا كہ فلاں قانون پراتفاق راي پايا جاتا ہے۔حتي اس جامع اور بنيادي قانون پر بھي اتفاق راي كا دعويٰ نہيں كيا جاسكتا ہے جس كے مطابق اكثريت كي آراء معيار قرارپاتي ہيں؟ !
6) آيندہ نسل ياآيندہ ووٹ كي اہليت حاصل كرنے والے افراد بتدريج اكثريت حاصل كرليں گے اور ممكن ہے وہ اپني خواہشات اور اپنے مفادات كے مطابق موجودہ قانون كو تبديل كرديں تاكہ (كم ازكم) مستقبل ميں اپنے حقوق كي پامالي كا سد باب كر سكيں اور اپنے مفادات كا تحفظ كر سكيں انہوں نے جو نقصان سابقہ قوانين كے نتيجے ميں اٹھكياہے اس كي تلافي كس طرح كريں گے واضح ہو كہ ماضي ميں ہونے والے نقصان اور ماضي ميں پامال ہونے والے حقوق كي تلافي اور ازالہ ممكن نہيں ہے۔
مثال كے طور پر ايك علاقے ميں تيل كے ذخائر موجود ہوں موجودہ اكثريت تمام ذخائر كو فروخت كردے يعني ذخائر سے اتنا استفادہ كيا جائے كہ ذخائر ختم ہو جائيں جب كہ آيندہ نسل كو تيل كي شديدضرورت ہو اور وہ عالمي منڈي سے مہنگے داموں تيل خريدنے پر مجبورہوں؟
اسي طرح اگر موجودہ نسل جنگلات كي كٹائي كر كے جنگلات كا صفكيا كردے جب كہ جنگلات ماحول كوآلودگي سے بچانے ميں اہم كردار ادا كرتے ہيں اور اسي طرح تجارت اور سياست كے ميدان ميں طويل الميعاد معاہدے وغيرہ (بھي آيندہ نسلوں كے حقوق كوپامال كرتے ہيں) يہ سب اعتراضات پہلے نظريہ كو قبول كرنے كے صورت ميں سامنے آتے ہيں جس نظريہ كے مطابق قوم و ملت پيمان معاشرت كا ايك فريق اور طرف ہوتي ہے، ليكن اگر دوسري نظريہ كو قبول كيا جائے (جس كے مطابق طرف پيمان امت ہے اور ملت آيندہ نسلوں كو بھي شامل ہے) تو اس سوال كے كے لئے زمين ہموار ہوگي كہ آيندہ نسلوں اور مستقبل ميں ووٹ كي صلاحيت حاصل كرنے والے افراد كے حقوق كے تحفظ كي ضمانت كس طرح فراہم كي جاسكتي ہے؟ جمہوريت پر ضروري ہے كہ اس سوال كا جواب دينے كي غرض سے بعض ايسے قدم اٹھائے جن كے ذريعےآيندہ نسلوں كے حقوق كے تحفط كي ضمانت فراہم ہو سكے ۔
مثال كے طور پر درج ذيل اقدامات كرے جو ڈاكٹر عبد الحميد متولي كي اس عبارت سے سمجھے جاتے ہيں جسے ہم گذشتہ صفحات پر نقل كر چكے ہيں:
7) راي دہندگان فقط اپنے مفادات و خواہشات كو مدنظر نہ ركھيں بلكہ پوري امت كے مشتركہ مفادات اور مصلحتون كو مد نظر ركھيں (امت موجودہ نسل كے علاوہ آيندہ نسلوں كو بھي شامل ہے) ۔كيونكہ آيندہ نسليں بھي قدرتي وسائل اور معدني ذخائر ميں شريك ہيں اور آيندہ نسليں اجتماعى زندگي ميں شريك ہوں گي عوامي نمايندے بھي فقط ان افراد كے مفادات كے تحفظ پر اكتفاء نہ كريں جنھوں نے انھيں منتخب كيا ہے بلكہ ان كا زاويہ نگاہ وسيع ہوناچاہئے اور پوري امت كے مفادات اور مصلحتوں كو مد نظر ركھيں۔
8) اركان پارليمنٹ كو راي دہندگان سے ہٹ كر بھي كچھ اور ختيارات حاصل ہونے چاہئيں تاكہ آيندہ نسلوں كے حقوق كو بھي مد نظر ركھ سكيں اور ان كا مطمع نظر فقط ان افراد كے حقوق كا تحفظ نہ ہو جنھوں نے انھيں منتخب كيا ہے۔
9) قانون بنانے والا، راي دہندگان كے لئے بعض قيودو شرائط معين كرے تاكہ راي دہندگان اپنا فريضہ بخوبي انجام دے سكيں اور پوري امت كے مفادات كو مدنظر ركھتے ہوئے فيصلہ كريں ۔
10) پارليمنٹ دواسمبليوں پر مشتمل ہو (91منتخب قومي اسمبلي جو نمايندگان پر مشتمل ہو!! سينٹ ياايوان بالا، جس كے اركان مہارت طويل تجربات اور لياقت و اہليت كي بنياد پر منتخب ہوں تاكہ طويل الميعاد مصلحتوں اور مفادات كے باري ميں سوچ بچار كر سكيں۔
11) آيندہ نسلوں كے حقوق كے تحفظ كي خاطر قوہ مجريہ (كابينہ كے اراكين) كو پارليمنٹ ميں پاس ہونے والے بلوں كو رد كرنے كے لئے ويٹو كا حق ديا جائے ۔
مندرجہ بالا امور مذكورہ مشكل كے لئے موثر اور كامياب راہ حل پيش نہيں كر سكتے حتي اگراس امر سے چشم پوشي بھي كرلي جائے كہ يہ فرضيہ معقول نہيں كہ ملت (موجودہ نسل) اور حكومت، آيندہ نسلوں سميت پوري امت كي مصلحتوں اور مفادات كو مدنظر ركھتے ہوئے حركت كرے گي يہ ضمانت فراہم كرنا بھي معقول نہيں كہ ملت اس راستے (پوري امت كے مفادات) سے منحرف نہيں ہوگي كيونكہ ملت كے فيصلوں اور اقدامات ميں دين كا ذرہ برابر بھي عمل دخل نہيں ہوتا بلكہ ان اقدامات كا سر چشمہ محدودمادي اور دنياوي مقاصد كا حصول ہوتا ہے اور صحيح معني ميں دين كاكوئي عمل دخل نہيں ہوتا۔
ہاں اگر ان امور كي طرف توجہ نہ كريں تو (پيمان معاشرت كے وجود ميں انے كي كيفيت سے متعلق سوال بدستو رباقي رہتا ہے) جب آيندہ نسل خود اس وقت موجود نہيں ہے كون اس كي نمايندگي كرتے ہوئے پيمان معاشرت ميں شريك ہو كر اسے قبول كرتا ہے۔؟!
يہ دعويٰ ممكن نہيں كہ موجودہ ملت يا اس كے بعض افرادآيندہ نسلوں كي نمانيدگي كرتے ہيں كيونكہ اس نمايندگي كے لئے بھي ايك پيمان اور معاہدے كي ضرورت ہے جو نمايندگي دينے والوں اور نمايندگي لينے والوں كے درميان بر قرار ہو اگر يہ كہاجائے كہ اس قسم كے پيمان، كفالت اور نمايندگي كي بالكل ضرورت ہي نہيں ہے تو جواب ميں كہا جا سكتا ہے كہ حكومت كي حكمراني كے لئے بھي اس پيمان كي كوئي ضرورت نہيں ہے جو ملت (موجودہ افراد) كي رضامندي سے وجود ميں آتا ہے، لہٰذا اس صورت ميں ہماري لئے استبداد ي حكومت كي طرف رجوع كرنا ممكن ہو گا۔ اب تك آپ كي كوششيں يہ ثابت كرنے پر مركوز تھيں كہ حكومت كي بنياد پيمان معاشرت پر استوار ہے لہٰذا ہر صورت ميں آپ كو مذكورہ بالا ركاوٹ اور مشكل كا سامنا كرنا پڑے گا اور آپ اس مشكل سے چھٹكارا حاصل نہيں كر سكتے اور اس ركاوٹ كو بر طرف نہيں كر سكتے كيونكہ ايسے پيمان معاشرت كا تحقق ممكن نہيں جس ميں وہ لوگ شامل ہوں جو في الحال موجود نہيں ہيں، اگر چہ يہ شموليت نمايندوں ہي كے ذريعے ہو۔پس ہم نے ملاحظہ كيا كہ ہم حكومت كي ايسي بہتر قسم يا شكل تك دسترسي حاصل نہيں كر سكے جو انساني عقل اور انساني وجدان وضمير كے لئے قابل قبول ہو۔خواہ يہ جمہوريت ہو ياڈكٹيٹر اور استبدادي حكومت۔حتي اگر ہم حكومت كو اسلامي نقطہ نگاہ سے نہ بھي ديكھيں تب بھي ہم عقل و وجدان كے لئے قابل قبول حكومت كي بہتر قسم تك دسترسي حاصل نہيں كر سكتے۔
اسلام اور جمہوريت
اگر ہم مسلمان ہونے كے ناطے جمہوريت كا مطالعہ كريں تو جمہوريت پرگذشتہ اعتراضات كے علاوہ درج ذيل اعتراضات اور اشكا لات بھي سامنے آتے ہيں ۔
1) مكمل اور مطلق ولايت فقط خداوند وحدہ لاشريك كو حاصل ہے ۔خداوند متعال كي ولايت كے مقابلے ميں كسي كو بطور مستقل ولايت حاصل نہيں ہے اور اگر كسي كو ولايت حاصل ہے تو اس كا منبع اور سر چشمہ خداوند متعال كي ولايت ہے، يعني خداوند متعال ہي سے يہ ولايت حاصل ہوتي ہے اسلامي فقہ كے مطابق پيمان معاشرت گذشتہ مشكل كا حل پيش نہيں كر سكتا، حكومت كے امور چلانے كے لئے متعدد امور ضروري ہيں كہ جن كو انجام دينا حكمراں جماعت پر ضروري ہے جب كہ اسلامي نقطہ نگاہ سے يہ امور ابتدائي طور پر حرام ہيں يہاں تك كہ پيمان معاشرت منعقد ہونے كے بعد بھي حرام ہيں مگر يہ كہ ان امور كو انجام دينے كے لئے اسلام سے حكمراني كا حق حاصل كيا جائے، اسي طرح پيمان معاشرت كي بنياد پر اسلامي حدود كا نفاذ اور قاصر 22 كي املاك ميں تصرف جائز نہيں ہے بلكہ فقط اسلام سے ولايت كا حق حاصل كرتے ہوئے ان امور كا انجام ديا جا سكتا ہے۔
ارشاد رب العزت ہے (إِنْ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلَّہِ اٴَمَرَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِياہُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيمُ وَلَكِنَّ اٴَكْثَرَ النَّاس لاَيعْلَمُونَ) ۔”حكم كرنے كا حق صرف خدا كو ہے اور اسي نے حكم ديا ہے كہ اس كے علاوہ كسي كي عبادت نہ كي جائے كہ يہي مستحكم اور سيدھا دين ہے ليكن اكثر لوگ اس بات كو نہيں جانتے ہيں-” 23 يوں اسلامي تعليمات كے مطابق حاكميت كا حق فقط خدا كو حاصل ہے اور خدا كے علاوہ كسي دوسري كو ذاتي طور پر يہ حق حاصل نہيں ہے۔
2) مسلمانوں كا عقيدہ ہے كہ فقط خداوند متعال حكيم وعليم ہي انسان كے مفادات اور مصلحتوں سے بخوبي آگاہ ہے لہٰذا وہي خداہي انساني ضروريات كو عادلانہ اور تخليفي قوانين سے ہماہنگ طريقوں سے پورا كرسكتا ہے كيونكہ خداہي كائنات، معاشري اور انسان كا خالق ہے لہٰذا نسان كي ضروريات اور انسان كو كمال تك پہنچانے والے راستوں اور طريقوں سے بخوبي آگاہ ہے بنابرايں جب خداوند عظيم وحكيم موجود ہے اور خدانے انسان كے لئے ايسا نظام اور ايسے احكام نازل فرمائے ہيں جو اسے سعادت وخوشبختي سے ہمكنار كرتے ہوئے سيدھے راستے كي طرف ہدايت كرنے كي صلاحيت ركھتے ہيں تو معقول نہيں كہ قانون سازي اور حكومت كي شكل جيسے امور لوگوں كے ہا تھ ميں دے ديئے جائيں جب لوگ خود اپني معرفت نہيں ركھتے اور اپنےآپ سے جاہل ہيں تو بہ درجہ اولي كائنات اور كائنات كے اسرار ورموز سے زيادہ جاہل ہوں گے۔
ان دو حاشيوں كا نتيجہ يہ ہے كہ مسلمان جمہوريت كے سامنے گردن نہيں جھكا سكتا اور اس پر عمل نہيں كرسكتا (يہاں تك كہ صرف قانون نافذ كرنے كے لئے بھي حكمراں جماعت كا انتخاب نہيں كر سكتا) مگر اس صورت ميں كہ جب اسلام اس كا حكم دے اور اس كي اجازت دے۔
ولايت وحاكميت كا دوسرا سرچشمہ
ولايت اور حكمراني حاصل كرنے كا دوسرا سر چشمہ خداوند متعال ہے جو خالق ہے، نعمتيں عطاكرنے والا ہے انسان اور كائنات كا حقيقي موليٰ ہے (گذشتہ ابحاث كے دوران) ہم جان چكے ہيں كہ يہي واحد سر چشمہ ہے جس سے حاكميت وولايت حاصل كرنا ضروري ہے انساني عقل اور ضمير نہ صرف اس كو قبول كرتا ہے بلكہ اسے مورد تاكيد بھي قرار ديتا ہے كيونكہ يہ وہ صورت ہے جس ميں ولايت اور حكمراني كے حقيقي مالك سے حكمراني اور ولايت كا حق حاصل كيا جا رہا ہے ۔
خداوند متعال سے ولايت اور حكمراني حاصل كرنے والے حكمران كي حكومت كي بنياد پر امت كے دنياوي مفادات اور مصلحتوں كے حصول كي ضمانت فراہم كي جا سكتي ہے۔اسي طرح يہي امر خداوند كائنات كي خوشنودي اور اخروي سعادت و خوشبختي كي ضمانت بھي فراہم كرتا ہے۔
اسي نظريہ اور سر چشمہ (ولايت و حكمراني كا سر چشمہ) كے مطابق يہ بحث بے فائدہ اور بے معني ہے كہ كيا حكمراني اور ولايت كا حق امت كو حاصل ہے يا ملت كو؟ كيونكہ اس نظريہ كے مطابق حكمراني اور ولايت كا حق فقط خداوند متعال كو حاصل ہے خدا كے علاوہ كسي اور كو حكمراني كا حق حاصل نہيں ہے وہي خدا صاحبان حاكميت اور صاحبان ولايت كو معين كرتا ہے يہاں پر يہ بحث ضروري ہے كہ خداكي طرف سے عطا كي جانے والي ولايت اور حكمراني كي نوعيت اور كيفيت كيا ہے اور خدا كي طرف سے كس كو يہ ولايت عطا ہوئي ہے؟
كيا اسلامي حكومت كا انجام ظلم واستبداد ہے؟
كبھي دعويٰ كيا جاتا ہے كہ الٰہي حكومت سے مراد يہ ہے كہ ہم “تھيو كرسي (THEOCRACY) 24 كو قبول كرليں جس ميں زور دے كر كہا جاتا ہے كہ حكومت حكمراني كا حق اور اپنے احكام واوامر كا تقدس خداوندمتعال سے كسب كرتي ہے۔
جس كے نتيجہ ميں يہ حكومت بے حساب كتاب اور لا محدود ہوتي ہے اور اسے وسيع اختيارات حاصل ہوتے ہيں اور اس ميں كسي قسم كا اختلاف و نزاع نہيں ہوتا كيونكہ اس حكومت كي مخالفت كرنے والا خدا كي مخالفت كرنے والا شمار كيا جاتا ہے اور خدا حقيقي موليٰ وسرپرست ہے وہ جسے چاہے حكومت عطا كرتا ہے اس حكومت ميں حكمرانوں كو يہ اختيار ہوتا ہے كہ جيسے چاہيں حكومت كريں، آخر كار يہ حكومت بد ترين ظالم واستبدادگر اور ڈكٹيٹر حكومت كي شكل اختيار كر ليتي ہے۔
حقيقت يہ ہے كہ يہ دعويٰ بلا دليل اور باطل ہے جب فرض يہ ہے كہ حكومت كا سر براہ خطا، لغزش اور انحراف سے معصوم ہے جيسے پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور شيعہ عقيدہ كے مطابق ائمہ معصومين عليہم السلام تو اس تصور كي كوئي گنجائش باقي نہيں رہتي جب ايسا ہو تو در حقيقت خداوند متعال اپني تمام تر ولايت، عطوفت اور علم و حكمت كے ذريعے حاكم ہوتا ہے 25 اور اسي طرح (حقيقي حاكم خدا ہوتا ہے) جب امام معصوم عليہ السلام كا نائب خاص حكمران ہو جو امام عليہ السلام كي خدمت ميں شرفياب ہو كر راہنمائي حاصل كرے چنانچہ شيعہ عقيدے كے مطابق امام زمانہ عليہ السلام كے چار خاص نمايندے تھے، 26 ليكن اگر حاكم معصوم نہ ہو (بلكہ نائب امام ہو جس سے متعلق بحث بعد ميں آئے گي) يا شوريٰ كے ذريعے منتخب ہوا ہو (جيسا كہ بعض علماء اہل سنت كا نظريہ ہے) توصرف اس صورت ميں مذكورہ بالا دعويٰ ممكن ہے ليكن اگر درج ذيل دو نكات كو مد نظر ركھا جائے تو اس صورت ميں بھي يہ دعويٰ درست نہيں ہوگا:
معاشرہ اور حكمرانوں كي اسلامي تربيت
اسلام بطور عام تمام مسلمانوں كي تہذيب نفس پر مكمل توجہ ديتا ہے اور مسلم قائدو حكمران كي تربيت پر خصوصي توجہ ديتا ہے اور مسلمانوں كے قائد و حكمران كي ايسي تربيت كرتا ہے جس كے نتيجے ميں حكمران كے دل كي گہرائيوں ميں ايسے حقيقي ديني اور اخلاقي عوامل ايجاد ہو سكيں جن كي وجہ سے وہ ہميشہ صحيح موقف اختيار كرے اور ہر حالت ميں حق كي پيروي كرے اور خدا كي راہ، شريعت كے نفاذ اور حقيقي عدالت كے رواج كے لئے اپني جان تك كي قرباني دينے سے دريغ نہ كرے۔
جمہوري نظام حكومت پر ہمارا اعتراض يہ تھا كہ اس نظام ميں اس امر كي ضمانت فراہم نہيں كي جا سكتي كہ حكمران اپنے ذاتي اغراض و مقاصد اور نفساني خواہشات كي پيروي نہيں كريں گے اور ذاتي اغراض ومقاصد اور ذاتي مفادات كو قومي مفادات پر ترجيح نہيں ديں گے (كيونكہ جمہوري نظام كا دائرہ مادي امور تك محدود ہے) ہم بخوبي درك كرتے ہيں كہ كيونكہ مسلمان اور مسلم حكمران خداوند عظيم، آخرت اور اعليٰ اسلامي قدروں پر ايمان ركھتے ہيں اور اسلامي تربيت كے سايے ميں زندگي گذارتے ہيں لہٰذا مستحكم ضمانت فراہم كي جا سكتي ہے كہ حكمران (راہ راست سے) منحرف نہيں ہوں گے۔
اس سلسلے ميں (اس عاليشان تربيت كے اصولوں اور طريقوں سےآشنائي كے لئے) ميري استاد معظم آيت اللہ العظميٰ سيد محمد باقر الصدر كي گراں قدر كتاب”فلسفتنا “اور ان كي دوسري كتب اور ہماري كتاب “الاخلاق”كامطالعہ فرمائيں۔
دوسري نكتے سے متعلق بحث كاآغاز كرنے سے پہلے مناسب ہے كہ “مونتسكيو”كي كلام كا خلاصہ بيان كردوں جس ميں انھوں نے بيان كيا ہے كہ حكومتوں كو كن بنيادي امور پر توجہ مركوز كرني چاہئے تاكہ حكومت كنٹرول ميں رہ سكے اور معقول حد تك (خرابيوں سے) پاك صاف رہ سكے۔
“مونتسكيو” نے حكومت كي اقسام كے مطابق تين امور بيان كئے ہيں كيونكہ ان كے نزديك حكومت كو تين قسموں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے ۔
(1) جمہوري حكومت۔
(2) بادشاہي حكومت۔
(3) ظالم و استبدادگر حكومت۔
لہٰذا حكومتوں كو در ج ذيل تين بنيادي امور پر پوري توجہ ديني چاہئے:
تقويٰ يا فضيلت، شرافت، خوف و وحشت اور رعب و دبدبہ۔
جمہوري حكومت كو پہلي بنياد، شاہي حكومت كو دوسري بنياد جب كہ استبدادي حكومت كو تيسري بنياد پر استوار ہونا چاہئے تقويٰ يا فضيلت سے مونيسكيوكي مراد دين داري اور پسنديدہ صفات سے مزين ہونا نہيں چنانچہ علماء اخلاق بيان كرتے ہيں بلكہ اس كي مراد حب وطن مساوات اور ذات كي بجائے حكومت سے محبت كرنا ہے۔
مونتسكيو كے مطابق (جمہوريت) كي دو قسميں ہيں:
(1) ڈيموكريسي 27
(2) ارسٹو كريسى۔ 28
) جمہوريت
جمہوري حكومت ميں در اصل حكومت تمام لوگوں كے ہاتھ ميں ہوتي ہے لہٰذا اگر معاشرہ حب وطن اور مساوات ميں فنا ہو جائے تو حكومت فاسد اور تباہ و برباد ہو جائے گي كيونكہ كوئي مركزي طاقت موجود نہيں ہوتي تاكہ پوري طاقت سے امور پر كنٹرول كر سكے اور لوگوں كو ايك دوسري كے خلاف سر كشي سے روك سكے جس كے نتيجے ميں حكومت مستحكم و پائيدار رہ سكے۔
صرف ايك عامل جو حكومت كو فساد اور تباہي و بربادى سے محفوظ ركھ سكتا ہے وہ ہے تقويٰ اور فضيلت كا رواج۔
) ارسٹو كريسى
(يعني اشراف كي حكومت) اس حكومت ميں زمام امور قوم كے مخصوص طبقے كے ہاتھ ميں ہوتي ہے اس حكومت كو بھي (گذشتہ حكومت كي طرح) تقويٰ و فضيلت كي ضرورت ہے كيونكہ قوم كے بعض افراد (اشرافي طبقے كے علاوہ باقي لوگ) بادشاہي نظام حكومت اور بادشاہت كے سامنے رعكيا كي حيثيت ركھتے ہيں۔
رعكيا، اشراف و اعيان يعني حكمران طبقہ كے ميلانات كے مطابق بنائے گئے قوانين كے سامنے بے بس ہوتے ہيں اور ان قوانين كے مطابق عمل كرنے پر مجبور ہوتے ہيں۔
اشرافي حكومت (ارسٹوكرےسي) ذاتي طورپر جمہوري حكومت سے زيادہ محكم اور مضبوط ہوتي ہے اور عوام كو كنٹرول كرنےاور صحيح رخ دينے ميں جمہوري حكومت كي نسبت زيادہ قدرت مند ہوتي ہے ليكن طبقہ اشراف قانون كے پابند نہيں ہوتے تقويٰ و فضيلت كے علاوہ كسي اور عامل كے ذريعے يہ ضمانت فراہم نہيں كي جا سكتي كہ طبقہ اشراف حقوق ميں مساوات كو مدنظر ركھے گا، اگر ان ميں تقويٰ كي صفت اس حدتك مستحكم ومضبوط ہو كہ انھيں اپنے اور رعايا كے درميان مساوات پر مجبور كرے تو جمہوريت كا دائرہ وسيع تر ہو تا جائے گا (ارسٹو كريسي وسيع جمہوريت ميں بدل جائے گي) ليكن اگر تقويٰ كي صفت مستحكم نہ ہو تو كم از كم طبقہ اشراف اپنے درميان مساوات كو مدنظر ركھے گا اور اس طرح اپنےآپكو تباہ و بربادي سے محفوظ ركھے گا۔
شرافت سے مراد قومي شرافت و بزرگى، قومي خوددارى، برتري طلبي كي روح اور بخل و پستي مزاج سے پر ہيز ہے۔
مونتسكيو كے نزديك تقويٰ وفضيلت كو بادشاہي حكومت كي بنياد و اساس ہونا چاہئے جب ايك اعتبار سے يہ امر مشكل ہے كہ بادشاہ كے اطرافيوں اور حلقہ بگوشوں سے توقع ركھي جائے كہ وہ ظلم، سركشي اور بدخلقي سے اجتناب كريں تو نتيجہ ً يہ فرض بھي مشكل ہے كہ ان كے زير سايہ زندگي گذارنے والے افراد صاحب تقويٰ، محب وطن اور محب حكومت بن جائيں كيونكہ اس كا
مطلب يہ ہے كہ حكمران عوام پر ظلم وستم كرتے ہيں، عوام كو غافل ركھتے ہيں عوام محكوم اور غافل رہتے ہيں اور ہميشہ كي طرح ظلم و ستم ميں حكمرانوں كي مدد كرتے ہيں۔
ايك اور اعتبار سے بادشاہي حكومت ميں تقويٰ كي كوئي خاص ضرورت نہيں ہوتي كيونكہ اس نظام حكومت ميں قوانين كے ساتھ شرافت كو ضميمہ كرنا تقويٰ كے مترادف ہے۔ 29
قانون كي طاقت لوگوں كو پابند بناتي ہے اور انھيں كنٹرول كرتي ہے (ہرج ومرج سے محفوظ ركھتي ہے) اور انھيں صحيح سمت ميں حركت كرنے پر مجبور كرتي ہے جب كہ شرافت اور عزت كي طاقت بھي انھيں شہرت اور محبوبيت حاصل كرنے كي غرض سے نيكي كي طرف حركت كرنے پر مجبور كرتي ہے۔
اگر چہ يہ شرافت فلسفي اور حقيقي شرافت نہيں (بلكہ ظاہري و مصنوعي ہے) ليكن حكومت ميں شامل افراد كو كنٹرول ميں ركھتي ہے، اور حكومت كو صحيح و سالم ركھتي ہے۔
ليكن استبدادي حكومت معاشري ميں موجود شرافت كے ساتھ يكجانہيں ہو سكتي كيونكہ ملت كا ظالم اور استبداد گر حكمران سے وہي رابطہ ہے جو رابطہ غلام كاآقا سے ہے جب كہ عزت و شرافت اور خودداري نفس اس كي راہ ميں ركاوٹ ہے، ظالم اور استبداد گر حكمران ملت سے عزت و شرافت خودداري نفس اور موت سے نہ گھبرانے جيسي صفات كو كسب نہيں كر سكتا، پس شرافت جو بادشاہي نظام حكومت ميں پائي جاتي ہے اور قوانين و احكام كي تقويت كا سبب بنتي ہے بلكہ تقويٰ و فضيلت كي بھي تقويت كا سبب ہوتي ہے ان ممالك ميں نہيں پائي جاتي جن ممالك ميں ظالم اور استبدادگر حكومت حكم فرماہو، پس استبدادي حكومت كو كس بنياد پر استوار ہونا چاہئے؟ وہ بنياد تقويٰ نہيں اور نہ ہي (اس حكومت كے لئے) اس كي ضرورت ہے اور وہ بنياد شرافت بھي نہيں كيونكہ آپجان چكے ہيں كہ شرافت بعض مشكلات و خطرات كا سبب بنتي ہے، پس وہ بنياد خوف و رعب و دبدبہ ہے تاكہ ايك طرف سے (عوام ميں سے) كوئي شخص مقام ومنصب كي لالچ نہ كرے اور دوسري طرف سے حكمرانوں اور حكومت ميں شامل ذمہ دار عناصر كو قوم پر ظلم كرنے سے باز ركھا جائے، اگر قوم حكمران سے خوف نہ كھائے تو اسے كنٹرول نہيں كيا جا سكتا ہے كيونكہ شرافت و تقويٰ جيسي صفات موجود نہيں ہوتيں اور نہ ہي پائيدار اور تسلي بخش قوانين موجود ہوتے ہيں بلكہ (اس حكومت ميں) فقط اور فقط حكمران كا ارادہ اور اس كي ذاتي پسند حكم فرما ہوتي ہے۔
ليكن دين اور دينداروں كي قدر ومنزلت كے باري ميں مونتسكيو كہتے ہيں: “ظالم و استبدادگر حكمران كي طاقت و قدرت اور ارادہ كے سامنے دين كے علاوہ كوئي اور طاقت نہيں ٹھہر سكتى، اگر حكمران كسي شخص كو حكم دے كہ اپنے والد كو قتل كردو تو وہ شخص يہ كام كر گذري گا اور اگر حاكم اس كام سے باز رہنے كا حكم دے تو وہ شخص اس كام سے باز رہے گا، ليكن اگر حاكم لوگوں كو شراب خواري كا حكم دے تو لوگ اس حكم كو تسليم نہيں كريں گے كيونكہ وہ دين اس كا م كي اجازت نہيں ديتا جو عوام اور خود حكومت پر حاكم ہے، آئيني اور معتدل حكومتوں ميں شرافت بادشاہ كي طاقت و قدرت كو كم كرتي ہے، كوئي شخص بادشاہ كے ساتھ دين سے
متعلق بات نہيں كرتا، اگر بادشاہ كے قريبي افراد ميں سے كوئي شخص بادشاہ كے ساتھ دين كے باري ميں بات كرے تو اس كا يہ عمل تمسخرآميز اور مذاح كے قابل ہے، بادشاہ كے ساتھ فقط اور
فقط عظمت و شرافت اور بلندي نفس كي بات كي جاسكتي ہے، اگرآئيني سلطنت ميں بادشاہ اور عوام كے درميان رابطہ بر قرار ركھنے اور واسطہ بننے والے لوگ اور طاقتيں موجود نہ ہوں تو فطري طور پر يہ حكومت استبدادي حكومت ميں تبديل ہو جائے گى، ايك اعتبار سے قوانين كے نفاذ اور عوام ميں قوانين كے رواج كي غرض سے اشراف وبزرگان كي موجودگي ضروري ہے تاكہ بادشاہ ظالم و جابر حكمران كي شكل اختيار نہ كر ے جب كہ دوسري طرف حكومتي نفوذ اور اثرو رسوخ كے مقابلے ميں بزرگان (علماء) كو قدرت وطاقت اور عوام ميں اثر و رسوخ حاصل ہونا چاہئے خصوصاً (اس صورت ميں) جب حكومت ظلم و استبداد كي طرف ميلان ركھتي ہو ليكن جمہوري حكومت ميں ديني عناصر كے لئے قدرت اور اثر ورسوخ كا ہونا نہ فقط صحيح نہيں بلكہ ايك خطرہ بھي ہے،،
يہ اس بحث كا خلاصہ تھا جسے مونتسكيونے اپني كتاب “روح القوانين “ميں متعدد مقامات پر پيش كيا ہے۔
ہم مونتسكيو كي عبارت كے متعلق فقط يہ كہيں گے كہ مونتسكيو اوراس كي مانند لوگ ايسي خيالي اور آئيڈيل حكومت كے باري ميں بحث و گفتگو كرتے ہيں جس كا خارج ميں نام و نشان نہيں پايا جاتا اور يہ لوگ فلسفي فرضيوں، تصورات اور خالص عقلي تصورات كےماحول ميں زندگي بسر كرتے ہيں۔
ورنہ ذاتي اغراض و مقاصد، ذاتي مفادات اورحب ذات كے نتيجے ميں پيدا ہونے والے ظلم و استبداد اور سركشي كے سامنے كوئي طاقت نہيں ٹھہر سكتي ولو خارج ميں موجود حقيقي حكومت كے متعلق بحث و گفتگو كرنا مقصود ہو، فقط ايك چيز ا س ظلم و سر كشي كے مقابلے ميں ٹھہرنے كي صلاحيت ركھتي ہے جو دين اوراخلاق سے عبارت ہے جس كے بيج خداوند متعال نے انبياء اور وحي كے ذريعے انسانوں كے دلوں ميں بوئے ہيں۔
دين سے ہماري مرادوہ دين نہيں جس كي طاقت و قدرت فقط اس حد تك محدود ہو كہ لوگوں كو شراب خواري سے تو روك سكے ليكن بيٹے كو باپ كے قتل سے باز نہ ركھ سكے (چنانچہ مونتسكيو كي كلام ميں يہ بات گذر چكي ہے) بلكہ دين سے مراد ايسا دين ہے جسے
مونتسكيو جيسے قرار دادي قوانين كے امام سمجھنے كي صلاحيت و قدرت ہي نہيں ركھتے، وہ دين جو ہر نيكي كا حكم ديتا ہے اور ہر برائي سے روكتا ہے اور انسان كي اس طرح تربيت كرتا ہے كہ انسان عقيدہ كي راہ ميں مال و دولت، مقام و منصب اور خون تك قربان كر ديتا ہے اور اس كا واحد مقصد خداوند متعال كي خوشنودي كا حصول ہوتا ہے۔
ليكن اگر عقيدہ اور دين سے صرف نظر كريں توآئيني نظام اور جمہوري نظام ميں ايسي كوئي چيز نظر نہيں آتي جو ضمانت فراہم كر سكے (كہ حكومت) حق و حقيقت اور عدالت كا اتباع كرے گى، اس شخص ميں كون سي شرافت قابل تصور ہے جو زندگي كے كاروان كوآگے بڑھانے والے اس نظام پر ايمان نہيں ركھتا جو نظام قومي مفادات اورعقيدہ كي راہ ميں اپنے ذاتي مفادات كو قربان كرنے والے شخص كو ہميشہ رہنے والي كامياب اور با سعادت زندگي عطا كرتا ہے اور اسے ايسي جنت كي بشارت ديتاہے جس كي وسعتيں اسمانوں اور زمينوں كے برابر ہيں ۔
جو شخص اسماني تعليمات واوامر كے نتيجے ميں انساني دلوں ميں موجود اخلاقي كمالات اور انساني قدروں كي حقيقت پر ايمان و عقيدہ نہ ركھتا ہو اس كے لئے كون سي شرافت و بزرگي متصور ہے؟ !
جب تك انسان ميں ذاتي اغراض اور نفساني خواہشات موجود ہوں اور اسے دوسروں پر برتري حاصل كرنے اور دنيا كي مادي اور عارضي لذتوں كے حصول كي دوڑ ميں شامل ہونے پر مجبور كريں اور جب تك الٰہي تربيتي اصولوں كي روشني ميں ان لذتوں اور خواہشات و ميلانات كي حدود معين نہ كي جائيں اس وقت تك يہ ضمانت نہيں دي جا سكتي كہ مساوات كے رواج

http://shiastudies.com/ur/157/%d9%86%d8%b8%d8%b1%d9%8a%db%81-%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%d9%8a%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa/

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت