2022 - 10 - 06 ساعت :
اسلامی انقلاب

میں اپنی آخری سانس تک اسلام کا دفاع کروں گا:امام خمینی(رح)

2020-07-10 014

 میں اپنی آخری سانس تک اسلام کا دفاع کروں گا:امام خمینی(رح)

آج گھروں میں بیٹھ کر دعا پڑھنے کا وقت نہیں ہے یہ وقت مزاحمت کا وقت ہے آج دشمن ہمارے دین پر حملہ کر رہا ہے اور ہمیں ان  کا مقابلہ کرنا چاہیے میں بھی اپنے خون کے آخری قطرے تک ان کا مقابلہ کروں گا اور آپ سب کی ذمہ داری ہیکہ منبروں سے لوگوں کو بتائیں کہ دین کو خطرہ لاحق ہے اگر ہم حکومتی حکام  کےکاموں میں مداخلت نہ بھی کریں لیکن وہ پھر ہمارے کام میں ضرور مداخلت کریں گے  حکومت کو کس نے حق دیا کہ وہ دینی امور میں مداخلت کرے وہ کس بنا پر احکام الہی میں مداخلت کر رہے ہیں کیا وہ دین کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔

امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ اریران کے بانی امام خمینی(رح) نے اسلامی تحریک کے دوران   علماء اور طلاب سے کرتے ہوے فرمایا آج گھروں میں بیٹھ کر دعا پڑھنے کا وقت نہیں ہے  یہ وقت مزاحمت کا وقت ہے آج دشمن ہمارے دین پر حملہ کر رہا ہے اور ہمیں ان  کا مقابلہ کرنا چاہیے میں بھی اپنے خون کے آخری قطرے تک ان کا مقابلہ کروں گا اور آپ سب کی ذمہ داری ہیکہ منبروں سے لوگوں کو بتائیں کہ دین کو خطرہ لاحق ہے اگر ہم حکومتی حکام  کےکاموں میں مداخلت نہ بھی کریں لیکن وہ پھر ہمارے کام میں ضرور مداخلت کریں گے  حکومت کو کس نے حق دیا کہ وہ دینی امور میں مداخلت کرے وہ کس بنا پر احکام الہی میں مداخلت کر رہے ہیں کیا وہ دین کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔

اسلامی تحریک کے راہنما نے فرمایا میں ملکی وزیر سے ہونی والی آخری ملاقات میں اس بات کو کہا کہ اگر آپ ہمارے دین امور میں مداخلت نہیں کریں گے تو ہم بھی آپ کے مزاحم نہیں ہوں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور ہمارے دین کو نقصان پہچان رہے ہیں آج یہ لوگ بھائیت کو حکومتی اداروں میں جگہ دے رہے ہیں اور یھودیوں کے ساتھ تعلقات بنا رہے ہیں اور کل کہیں گے کہ اسلامی قوانین کو ختم کیا جاے۔

اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی (رح) نے اسلام کو لاحق خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرمایا کہ اسلام کو بہت بڑا خطرہ لاحق جو بھی اس کو خطرے کو درک کر لے گا وہ خاموش نہیں بیٹھے گا اور آج اگر کچھ خاموش ہیں اس کی وجہ یہ ہیکہ ان لوگوں کو ابھی اس خطرے کا علیم نہیں ہے انہوں نے فرمایا حکومت نہیں چاہتی کہ علماء کے پاس طاقت ہو اسی وجہ سے آیت اللہ بروجردی کی وفات کے بعد مرجعیت کو نجف اشرف میں منتقل کرنا چاہتے تھے تانکہ یہ لوگ اپنے غیر شرعی کام آسانی سے کر سکیں لیکن الحمد للہ ایسا نہیں ہوا۔

اسلامی تحریک کے راہنما نے اپنی گرفتاری کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرمایا میری گرفتاری سے بھی ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا یہ لوگ مسلمانوں کے درمیان نفاق کا بیج بو رہے ہیں لہذا ہمیں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے علماء کو آپسی اجلاس منعقدد کرنے کی ضرورت ہے جس سے ان کو بھی معلوم ہو جاے گا کہ ہم سب ایک ہیں۔

 

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت