مظلوموں اور کمزور لوگوں کا عالمی دن

15/ شعبان کو ایران اسلامی میں مظلوموں اور کمزور لوگوں کے دن سے یاد منائی جاتی ہے۔ یعنی یہ دن ان لوگوں کا ہے جن پر دنیا میں ظلم ہورہا ہے۔ جو اس دنیا میں کمزور و ناتواں سمجھے جارہے ہیں۔ حضرت مہدی (عج) کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عالمی عادلانہ حکومت حضرت مہدی (عج) کی قیادت اور رہبری میں انہی مستضعفین کی ہمت اور مدد سے قائم ہوگی۔ اسی وجہ سے آپ نے اس دن کو مظلوم اور کمزور طبقہ کا دن کہا ہے۔

حضرت امام خمینی (رح) کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ قرآنی ادب کو اسلامی انقلاب میں داخل اور نافذ کرتے تھے۔ لہذا امام کا انقلابی ادب، قرآنی ادب تھا۔انہی میں سے ایک کلمہ “مستضعفان” کا ہے جس کی بار بار تکرار کرتے تھے۔ مستکبرین عالم کا مستضعفین کے مقابلہ میں عدل کا ظلم سے مقابلہ اور محرومین اور غاصبوں کا استعمال کرتے تھے۔

امام خمینی (رح) ہر طرح سے محروم طبقہ کے ساتھ تھے اور ظلم، ظالم اور مستکبرین سے مقابلہ کرنے کو اپنی زندگی کا اصول بنالیا تھا۔ آیات اور روایات کی روشنی میں جب امام (عج) ظہور کریں گے تو عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے۔ دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ ہوجائے گا۔ آج کی ساری بڑی طاقتیں آپ کے سامنے ٹیک دیں گے کسی کا کچھ زور نہیں چلے گا۔ بھوکی، پیاسی اور بے آبرو انسانیت سیراب ہوگی اور اس کی لوٹی ہوئی عزت و آبرو واپس آئے گی۔ کائنات کے ذرہ ذرہ پر امن و امان قائم ہوگا، نہ کوئی کسی پر ظلم کرے گا نہ کوئی مظلوم واقع ہوگا۔ عورتیں محفوظ ہوں گی۔ کائنات کا ہر ذرہ پر سکون زندگی گذارے گا۔ نہ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوگی اور نہ ہی کوئی پریشان اور مضطرب ہوگا، اس وقت انسانی اقدار کی قدر ہوگی۔

اس وقت غنڈے، بدمعاش، ظالم و جابر، انسانوں کے حقوق پامال کرنے والوں کا زور ختم ہوجائے گا اور اپنی نفسانی خواہشات پر عمل نہیں کرپائیں، اس دن کزور طبقہ کی حاکمیت ہوگی ، اس کمزور کی جسے دنیا میں کمزور سمجھا جارہا ہے۔ ان پر ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے۔ جہاں عصمت کدہ میں ایک معصوم ہستی کی آمد کی خوشی ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے اعتبار اور اندازہ سے خوشی منارہا ہے وہیں پر ظلم و جور کے خاتمہ، عدل و انصاف کی حکومت کے قیام اور امن و امان سے زندگی گذارنے اور حق کو حقدار تک پہونچانے کی خوشی ہے۔ اس دن عالم بشریت نازاں ہے اور شدت کے ساتھ اس دن اور گھڑی کا انتظار کررہاہے۔ آج ہر شخص اپنے اپنے حدود میں ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی لیکن اس دن مظلوم کو اس کا حق اور ظالم کو اس کے ظلم کا مزہ چھکنا ہوگا۔ کفر و شرک نابود ہوگا، عالم استکبار کو منہ کی کھانی پڑے گی، اس کی موجود ساری ترقیاں اور ٹیکنالوجی بیکار ہوجائیں گی۔

خداوند عالم سے دعا ہے کہ امام زمانہ (عج) کے ظہور میں تعجیل فرما کر امن عالم کا ساماں فراہم کرے اور ظلم و جور کی صفحہ ہستی سے بساط کو لپیٹ دے۔ آمین۔

تبصرے
Loading...