مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ میں پندرہ سال بعد امام خمینی(رہ) سے مل رہا ہوں:آیت اللہ خامنہ ای

0 15

مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ میں پندرہ سال بعد امام خمینی(رہ) سے مل رہا ہوں:آیت اللہ خامنہ ای

رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای ، بانی انقلاب کے ایران میں  ورود کے دن  کی طرف اشارہ کرتے ہوے اپنی ایک یاد داشت میں نقل کرتے ہیں کہ اس دن کئی گھنٹوں تک کسی کو امام(رہ) کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں کیوں کہ لوگوں کے بھیڑ کی وجہ سے ہیلی کیپٹر انھیں ایک ایسی جگہ لے گیا تھا جہاں وہ تھوڑی دیر آرام کر سکیں۔

جماران خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای ، بانی انقلاب کے ایران میں  ورود کے دن  کی طرف اشارہ کرتے ہوے اپنی ایک یاد داشت میں نقل کرتے ہیں کہ اس دن کئی گھنٹوں تک کسی کو امام(رہ) کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں کیوں کہ لوگوں کے بھیڑ کی وجہ سے ہیلی کیپٹر انھیں ایک ایسی جگہ لے گیا تھا جہاں وہ تھوڑی دیر آرام کر سکیں۔

رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای فرماتے ہیں کہ میری بہترین یاد داشتوں میں سے ایک یاد داشت وہ رات ہے جس رات  امام خمینی (رح) تہران پہنچے تھے شاید آپ سب نے سنا ہو گا کہ امام خمینی(رح) مہر آباد ہوائی اڈے سے سیدھے بھشت زہرا گئے تھے جہاں انھوں نے اپنے چاہنے والوں کے درمیان ایک تاریخی  تقریر کی  پھر وہاں سے ایک ہیلی کیپٹر کے ذریعے ایک  دوسری جگہ منتقل ہو گے اس دن کئی گھنٹوں تک کسی کو امام(رہ) کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں کیوں کہ لوگوں کے بھیڑ کی وجہ سے ہیلی کیپٹر انھیں ایک ایسی جگہ لے گیا تھا جہاں وہ تھوڑی دیر آرام کر سکیں۔

آیت اللہ خامنہ ای اپنی زندگی کی سب بہترین رات کی طرف اشارہ کرتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اس رات کو میں مدرسہ رفاہ میں تھا جہاں پر امام(رہ) کے استقبال کے امور طہ  پاتے تھے اسی مدرسہ میں ایک کمرہ ہمارے پاس تھا جس میں ہم اپنے کام کرتے تھے ہم اسی کمرے سے ایک اخبار بھی  شائع کرتے تھے۔

رہبر انقلاب فرماتے ہیں کہ دن بھر کی تھکاوٹ کی وجہ سے سب لوگ چلے گئے تھے میں اسی کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک مجھے مدرسہ کے صحن سے کسی کی اواز سنائی دی کیوں کہ صحن میں آنے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا لہذا مجھے وہاں سے کسی کی آواز سن کر حیرت ہوئی میں جلدی سے اُ ٹھا اور دیکھنے گیا کہ اس وقت اتنی رات کو کون مدرسہ کے صحن میں باتیں کر رہا ہے اتنے میں اچانک میں نے دیکھا کہ سامنے والی گلی سے امام (رہ) اکیلے مدرسہ کی طرف آرہے ہیں پندرہ سال بعد آپ کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی اور مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں پندرہ سال بعد بانی انقلاب سے مل رہا ہوں مدرسہ میں موجود پندرہ بیس افراد یہ خبر سنتے ہی آپ کے اطراف میں جمع  ہوگئے اور آپ کا دست مبارک چومنے لگے۔

اسی وقت آپ کے لئے دوسرے فلور پر ایک کمرہ تیار کیا گیا جس میں آپ کو ارام کرنے کے لئے لے جایا گیا لیکن جیسے ہی آپ کمرے میں جانے کے لئے سیڑھیوں کی طرف بڑھے دو تین سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہماری طرف پلٹے ہماری نگاہوں اپنے لئے محبت دیکھ کر آپ نے انھیں سیڑھیوں پر بیٹھ کر پانچ چھ منٹ ہمارے ساتھ گفتگو کی  اور اس کے بعد اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔

واضح رہے اس مدرسہ میں آج بھی اس کمرے کو باقی رکھا گیا عشرہ فجر کی مناسبت سے اس میں تقریب منعقد ہوتی ہے۔

تبصرے
Loading...