2022 - 09 - 27 ساعت :
اسلامی انقلاب

عالم اسلام کے اتحاد سے فلسطنین کا مسئلہ حل یو سکتا ہے:امام خمینی(رہ)

2020-07-10 04

عالم اسلام کے اتحاد سے فلسطنین کا مسئلہ حل یو سکتا ہے:امام خمینی(رہ)

امام خمینی (رہ) نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو لازمی قرار دیتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کی مشکلات کی وجوہات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے اتحاد اور عربی ممالک کے سربراہوں کی سستی ، غفلت اور خیانت کی وجہ سے فلسطین میں ساری مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور قدس میں پیدا ہونے والی ہمارے بھائیوں کی تمام مشکلات عربی ممالک کے سربراہوں کی سستی و غفلت کی وجہ سے ہیں

امام خمینی (رہ) فلسطین کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو لازمی قرار دیتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کی مشکلات کی وجوہات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے اتحاد اور عربی ممالک کے سربراہوں کی سستی ، غفلت اور خیانت کی وجہ سے فلسطین میں ساری مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور قدس میں پیدا ہونے والی ہمارے بھائیوں کی تمام مشکلات عربی ممالک کے سربراہوں کی سستی و غفلت کی وجہ سے ہیں۔ میں نے ۲۰ سال پہلے اپنے بیانات میں اس بات کو بیان کیا ہیکہ عربی ممالک کے سربراہوں کو تمام جزئی اختلافات سے دوری اختیار کرنا چاہئے اور انہیں اسلام اور اسلامی مقصد اور اسلامی ترقی کے لئے متحد ہونا چاہئے۔ مجھے شرم محسوس ہو رہی کہ میں یہ بات کہوں کہ عرب ممالک کی بڑی مسلم آبادی میں صرف مٹھی بھر افراد ان کے مقابلہ میں کھڑے ہوں اور یہ بہانہ بتایا جائے کہ ان کی حمایت امریکہ کر رہا ہے۔ یہ صرف بہانہ بازی ہے امریکہ نے شاہ کی بھی حمایت کی تھی لیکن جب ایرانی قوم متحد ہو گئی تو شاہ کی شیطانی طاقت اور اس کی حمایت کرنے والی اسکتباری طاقتیں اس کے سامنے استقامت نہ کر سکیں لہذا اگر عربی ممالک اور بالخصوص ان کے سربراہ متحد ہو جائیں تو نہ ہی امریکہ اور نہ ہی دوسری طاقتیں ان کا مقابلہ کر سکتیں ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے یہ مشکل تب تک حل نہیں ہو سکتی جب تک عربی ممالک کے سربراہ آپسی اتحاد کا ثبوت نہ دیں اور خداوندمتعال سے درخواست ہے کہ وہ خود اس طرح کی مشکل کو حل کرے۔

امام (رہ) نے ایرانی قوم کی کامیابی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہماری قوم کے پاس نہ اسلحہ تھا اور نہ ہی فوجی ٹریننگ لیکن اس کے باوجود آپسی اتحاد کے نتیجہ میں اسے کامیابی نصیب ہوئی اور اس کامیابی میں سب سے بڑی چیز صرف خداوندطمتعال پر بھروسہ تھا اور “اللہ اکبر” کی نعرہ سے مرد، عورتیں، بچے، نوجوان و جوان سب نے استقامت و پائداری کا ثبوت دیا اور اس کے نتیجہ میں انہوں نے تمام طاقتوں کو توڑ دیا۔ مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ اسلامی حکومتیں کے پاس اسلحہ بھی ہے لیکن پھر بھی وہ اس طرح کی طاقتوں خلاف قیام کیوں نہیں کر رہیں بلکہ ان میں سے بعض خیانتکار بھی ہیں۔ اگر ہم صدر اسلام کو دیکھیں تو پیغمبر اسلامؐ اور مسلمانوں کو اس سے کئی گنا زیادہ مشکلات کا سامنا تھا لیکن اپنی ایمانی طاقت کے ذریعہ انہوں نے صرف پچاس سال کے عرصہ میں اسلامی نظام قائم کیا۔

بانی انقلاب نے اپنے بیان میں کامیابی کے راز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایمان اور خدا پر توکل تمام مشکلات منجملہ فلسطینی مشکلات کو حل کر سکتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ آپ لوگوں کی تمام مشکلات دور ہوں گی اور خدا سے درخواست ہے کہ وہ تمہیں اپنی لازوال طاقت و قدرت کی جانب زیادہ سے زیادہ متوجہ کرے اور جب اس پر توکل ہوگا تو ان شاء اللہ کامیابی تمہارے نصیب ہو گی اور مجھے امید ہے کہ خداوندمتعال کی مدد سے ہماری تمام معنوی اور مادی مشکلات حل ہو جائیں گی۔   

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت