2022 - 10 - 07 ساعت :
اسلامی انقلاب

صبا کا چلن

2020-07-10 016

کرن مزاج لب بام آگیا ہے کوئی

جہاں پہ صورت خورشید چھا گیا ہے کوئی

 

گریز پا ہیں سبھی ظلمتوں کے سوداگر

خدا کے نور کا جلوہ دکھا گیا ہے کوئی

 

جہاں سے زادِسفر لیتی ہے نسیم سحر

کچھ ایسی شان کی بستی بسا گیا ہے کوئی

 

رچی بسی ہے فضاؤں میں آگہی کی مہک

یہاں علوم کے دریا بہا گیا ہے کوئی

 

کڑے پہر کی تمازت میں بھی صبا کا چلن

خود اپنی جاں سے گذر کر سکھا گیا ہے کوئی

 

خودی گنوائے ہوئے خستہ جاں مریضوں کو

شراب جاں پئے درماں پلا گیا ہے کوئی

 

ملا کے خاک میں تخت و غرورِ شاہی کو

خدا کے نام کا سکہ بٹھا گیا ہے کوئی

 

بجھائے آتش نمرود کو خلیل نسب

کلیم سا ید بیضا دکھا گیا ہے کوئی

 

کبھی نہ ہم ہوں معاصر یزید سے غافل

دکھا کے راہ شہِ کربلا گیا ہے کوئی

 

نشانِ راہ کی تائید بھی ہے خوشبو بھی

ابھی ابھی اسی رستے چلا گیا ہے کوئی

 

حسینیت کا ثمر ہے خمینیت نادم

یہ میرے کان میں آکر بتا گیا ہے کوئی

 

نادم شگری – بلتستان، پاکستان

7 فروری 2018ء – اسلامی انقلاب ایران کی ۳۹ویں سالگرہ کے موقع پر

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت