خود کو امام خمینی(رح)کے معیار پر پرکھنا چاہئے

0 4

مہرنیوز کی رپورٹ کے مطابق، تہرانی طلاب کی کاوشوں کے نتیجہ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ حوزہ علمیہ تہران کے طلاب  کے ساتھ ملاقات میں  اسلامی انقلاب کے عظیم الشان رہبر کے بیانات کے سلسلے میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں چھ طالب علموں نے اپنے نظریات بیان کئے اور آخر میں وہاں موجود طلاب  حضرت آیت اللہ تحریری کے خطاب سے بہرہ مند ہوئے۔ مشکات نامی مدرسہ  ٔعلمیہ کے ایک طالب علم جناب  حجت الاسلام شیر محمدی نے رہبر کی جانب سے درسی مسائل پر خصوصی  تاکید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ تاکیداس لئے تھی کہ  سیاسی اورمعاشرتی میدانوں میں قدم رکھنا  اور ان میں تبدیلیاں رونما ہونا کہیں  طلاب کی تعلیم  پر اثر انداز نہ ہوجائے۔ عظیم الشان رہبر نے مجلس خبرگان  کے اراکین سے ملاقات میں فرمایا: جب ہم تبدیلی کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ  اسے جاہل یا ادھورے علم کے مالک  انجام دیں  اب  یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ  اس گفتگو کا مصداق کون ہے؟ اگر ابتدائی طالب علم  یہ تبدیلی ایجاد کریں تو  یہ دونوں بیان کیسے ایک ساتھ جمع ہوسکتے ہیں؟۔

خاتم الانبیاء نامی مدرسہ کے ایک طالب علم جناب حجت الاسلام منصوری نے حوزہ کی جانب سے فراموش کئے  گئے فرائض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حوزہ کی مدیریت  کے نقائص کو اس چیز کاذمہ دار ٹھہرایا اور کہا: ہمیں  خودِحوزہ کو اس کی مدیریت  سے جوڑنے کے لئے کوئی راہ حل تلاش کرنا پڑے گا۔

سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے مدرسہ ٔ بقیۃ اللہ کے ایک طالب علم جناب حجت الاسلام فشندی  نے حوزہ تہران میں رہبر کے ساتھ رواں سال اور گذشتہ سال کی ملاقات کا موازنہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ حوزوی طلاب کے ساتھ ملاقات کے سلسلے میں رہبر انقلاب کافی اصرار کر رہے تھے تا کہ ان کی گفتگو سنیں۔ اس ملاقات  کا خلاصہ یہ تھا کہ ہم اس نکتہ کو ان کی خدمت میں پہنچائیں  کہ طلاب اپنے انقلابی بلوغ کو پہنچ چکے ہیں نیز اس امر کو انجام بھی دیا گیا۔

انہوں نے آخر میں رہبر کے بیانات میں سے دو نکتوں کو کافی اہمیت دی  پہلا نکتہ یہ تھا کہ  دینی تعلیم  انبیاء کا راستہ ہے  جس میں بہت زیادہ توفیقات، مشقتوں اور نصرتوں کی ضرورت ہے اور اس راستہ میں کسی کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ حوزہ کو ترقی دینا جوان طلاب کی ذمہ داری ہے اگرچہ عہدیداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہئے اس دونوں نکات کو جمع کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مطلوبہ حوزہ بنانے کے لئے ہم نوجوان طلاب کو رکاوٹوں سے صرف نظر کرتے ہوئے پکے ارادے  اور امید کے ساتھ قدم اٹھاتے ہوئے کام شروع کرنا چاہئے۔

حجت الاسلام شاہنوش نے انقلابی ہونے کے مطلب  اور علمی میدان میں اس کے کردار کو موضوع بحث قرار دیا اور کہا: ہمیں انقلابی ہونے کا مطلب بیان کرنا چاہئے، کیا مرزا شیرازی  کو بھی انقلابی قرار دیا جاسکتا ہے؟انہوں نے اپنے فتویٰ سے  انقلاب برپا کیا، میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ علمی میدان کو تقویت پہنچانے سے بھی انقلاب برپا کیا جاسکتاہے۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ  حوزہ کی مدیریت پر کافی اعتراض ہیں لیکن بات یہیں پہ ختم نہیں ہوتی،ان نقائص کو ہمیں خود برطرف کرنا چاہئے  جیسا کہ  رہبر نے فرمایا لیکن ان کی فرمائش کے مطابق آئندہ  ۱۰۔ ۱۵ سالوں میں یہی مدیریت تم لوگوں کے ذمہ ہوگی لہذا اگر ہم علمی پہلو کو ترقی نہیں دیں گے تو پھر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔

مدرسہ ٔ بقیۃ اللہ  کے ایک طالب علم جناب بیگدلی  نے  بیان کیا کہ تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ انقلابی زمانے میں حوزہ علمیہ کی ذمہ داری کیا ہےاور  تبدیلی کی ضرورت کو درک کرنے  کے لئے اسلامی انقلاب اور اسلامی معاشرہ کی ضرورت کو درک کرنالازمی ہے۔ اگرچہ کوتاہیاں اسلامی انقلاب اور حوزہ دونوں میں پائی جاتی ہیں  لہذا انقلاب کو حوزہ  اور حوزہ کو انقلاب کے معیار پر پرکھنا چاہئے۔

اس کانفرنس کے آخر میں آزاد نمائندہ کے عنوان سےجناب  حجت الاسلام قمی نے خطاب کیا اور کہا: ثقافتی جنگ کو محسوس کرنا چاہئے، جنگ ہر جگہ تقاضے کے مطابق ہونی چاہئے، فوجی جنگ  اور سرد جنگ میں فرق پایا جاتاہے حق کے میدان میں جنگ انبیاء کی روش کے ساتھ ساتھ اپنے خاص شرائط کی حامل ہے۔ جنگ کو یقینی پہلو سے دیکھا جائے اس تازہ پودے کو معرفت  کے ذریعے آبیاری کرنا چاہئے تا کہ وہ جڑ پکڑ لے۔

انہوں نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے ثقافتی جنگ کے موضوع  سے متعلق امام خمینی(رح) اور امام خامنہ ای کے بیانات کی طرف بھی اشارہ کیا اور یہ سوال پیش کیا کہ کیا حقیقت میں ہم اس جنگ میں شریک ہیں یا نہیں؟ ہمیں اپنےنفس  کا محاسبہ کرنا چاہئے، ہمیں خود کو پرکھنا چاہئے، ہمیں امام(رح) کو دوبارہ پہچاننا چاہئے  اور ہمیں خود کو امام خمینی(رح) کے معیارپر پرکھنا چاہئے تا کہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ ہم حق کے میدان میں کس مقام پر ہیں اور ہماری ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟

یہ کانفرنس مدرسہ علمیہ مروی کے متولی جناب آیت اللہ تحریری کے خطاب  پر اختتام پذیر ہوئی۔

تبصرے
Loading...