2022 - 11 - 28 ساعت :
اسلامی انقلاب

حضرت علی (ع)اور سیاست

2020-07-20 090

حضرت علی (ع)اور سیاست

تاریخی واقعات کی تحلیل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ھے:
 (1)۔واقعات کے بعض اجزاء کی ایسی تحلیل، جنکی اھمیت فقط شخصی معلومات میں اضافے کا باعث ھو۔ اس طرح انکا صحیح یا غلط ھو نا معاشر ے کیلئے منفعت بخش یا ضرر رسا ں نھیں ھو تا اور واقعہ کی حقیقت یا عدم حقیقت سے زیادہ اس کی اھمیت نھیں ھوتی۔
 بطور مثال اگرنیپو لین بونا پارٹ کا پڑوسی ھمیشہ کتھئی رنگ کی ھیٹ استعمال کرتا رھاھو اور اس سلسلے میں ھم دھوکا کھا جائیںاور ھیٹ کا رنگ نیلا معین کر دیں تو یقین جانیں ، اس سے  نیپولین کی اس شخصیت کو کسی قسم کا نقصان نھیں ھونے والا جو اجتماعی استفادے کے قابل ھو۔ حقیقت یہ ھے کہ نیپو لین کے پڑوسی کا ھو نا یا نہ ھو ناکسی طرح بھی فائدہ بخش نھیں ھو سکتا۔ اگر پڑوسی رھا بھی ھو تو اس کی ھیٹ کا رنگ نیپو لین کی شخصیت میں کسی طرح بھی شامل نھیں کیا جاسکتا۔اسی طرح ممکن ھے نیپو لین کی زندگی کے بھت سے فردی اور گھریلو کام بھی اس کی شخصیت کے سلسلے میں کوئی تاثیر نہ رکھتے ھوں اس سلسلے میں اگر بالارادہ یا بغیر ارادہ ھم غلطی کریں یا ان واقعات میں تبدیلی وتحریف انجام دیں تو اصلی ھدف کو کسی قسم کا نقصان نھیں پھونچنے والا ۔چونکہ اس قسم کی معلومات کے بغیر بھی  نیپو لین کی سماجی شخصیت پر روشنی ڈالی جا سکتی ھے۔
  (2)۔ایسے اھم واقعات کی تحلیل جن سے اجتماعی نتائج وابستہ ھوں۔اس قسم کے واقعات کی تحلیل آنکھیں بند کر کے نھیں کی جا سکتی۔ اس طرح شخصی مفاد کے تحت انکی تحریف کرنے والا ، سماجی مجرم سمجھا جائیگا۔مثال کے طور پر سب سے زیادہ اھمیت رکھنے والے واقعات جن سے عالمی معاشرہ متاثر ھوتا ھے،منا دیان توحید یعنی پیغمبروں کے واقعات ھوتے ھیں۔ان بزرگوں کی تاریخ میں دھوکا فقط فردی نقصان کا باعث ھی نھیں ھوتا اور صحیح و غلط ھر طرح کے نتائج فقط اصل واقعہ کو ضرر نھیں پھنچاتے بلکہ کروڑوں انسان اس ایک ذرا سی غلطی کے باعث راہ حق سے بھٹک سکتے ھیں۔
 دوسرے لفظوں میں اگر انسانی زندگی میں دین ومذھب کی اھمیت ھے تو اس سلسلے میں ان واقعات اور دینی رھبروں کی تاریخ میں اشتباہ یا دھوکا دھڑی ایک ایسا جرم ھے جس کے اثر ات کو ایک دوفرد پر قیاس نھیں کیا جاسکتا بلکہ اسکے نقصانات لامحدود ھوتے ھیں ۔مثلاً کوئی شخص ذاتی مفادات کے تحت یہ کھے کہ میں تاریخی تحلیل کی بنیاد پر کھہ سکتا ھوں کہ حضرت موسی(ع) وحضرت عیسی (ع) کے درمیان بعض اختلافات تھے تو اس طرح اس شخص نے نہ صرف یہ کہ غلط بیانی سے کام لیتے ھو ئے ان بزرگ شخصیتوں پر الزام عائد کیا ھے بلکہ قوم یھودوقوم نصاری کے قابل احترام نبیوں پر تھمت لگا کر ان کے لاکھوں معتقد ین کی عقیدت سے کھلواڑ کیا ھے اور یوں اس نے انسانیت پر عظیم ترین ظلم کیاھے ۔
 اسی طرح کا ایک اھم مسئلہ حضرت علی بن ابی طالب (ع) کی عادلانہ اور بے مثال سیاست کا ھے۔ بعض مسلمان اپنے روحانی مرض یا عقائد کی کھوٹ کی وجہ سے یہ کھہ دیتے ھیں کہ حضرت علی (نعوذباللھ)اچھے سیاستداں نھیں تھے اور اس نظر یے کے تحت ایک جعلی تاریخ گڑہ کر بعض صفحات سیاہ کرکے مغربی مورخین کے حوالے کردیتے ھیں ۔ مغربی مورخین بھی بعض وجوھات کی بنا پر یا تو عدم علم کی وجہ سے یا جان بوجہ کر ایسے مزخرف صفحات کو دلیل بناکر تاریخ تیار کرلیتے ھیں اور پھر خودمسلمانوں کے درمیان واپس بھیج دیتے ھیں ۔نتیجے امیں سادہ لوح مسلمان تحقیق ودقت نظری کے بغیر ان کو قبول بھی کرلیتے ھیں اور جب بیکار ھو ں اور تاریخ بیان کر کے اس پر تبصرے کرنے لگیں تو سب سے پھلے یھی جھوٹ کا پلندہ پیش کردیتے ھیں کہ حضرت علی(ع) بھادر اور متقی وپرھیزگار توتھے مگر(نعوذباللہ ) ماھر سیاستداں نھیں تھے نیزیہ کہ اس سلسلے میں جو باتیں کھی گئی ھیں ان کو قبول نھیں کیا جاسکتا ۔ ان چند کلمات کے ذریعے اپنی اس گھٹیااور بے بنیاد تحقیق کو بیان کرتے ھیں اور پھر گوشہ نشیں ھو جاتے ھیں۔
   اس قسم کے فیصلے اس وجہ سے سامنے آتے ھیں کہ حضرت علی(ع) اور صدر اسلام کے واقعات وحادثات کا دقت نظری سے مطالعہ نھیں کیا گیا ھے نیز سیاست وسیاستداں ھونے کی حقیقت کو نھیں سمجھاگیا ھے۔
 بھر حال اس قسم کی عمدی یا غیر عمدی غلطیوں کاازالہ کرنے کے لئے ان چند صفحات کو قید تحریر میں لا یا گیا ھے تاکہ ان کا مطالعہ کرنے والے ایک ایسی حقیقت سے آشنا ھو جائیں جس سے بشریت کی سرنوشت وابستہ ھے ۔
سیاست کی تعریف
 بھت سے دوسرے اھم ا لفاظ کی طرح سیاست کی تعریف بھی اختلاف نظرکا شکار ھے لیکن یھاں پر ان سب کے ذکر کی چنداں ضرورت نھیں ھے ۔فقط مندرجہ ذیل تین تعریفوں کا ذکر کافی ھے:
 (1) ۔سیاست یعنی” انسان و حکومت اور معاشرے وحکومت کے درمیان رابطے سے آشنائی۔” اس مختصر تعریف کو بعض مورخین اور اھل سیاست نے بیان کیا ھے لیکن جیسا کہ واضح ھے ، یہ تعریف سیاست کی مکمل طور پر منظر کشی سے قاصر ھے کیونکہ اس میں دوسری قوموں اورحکومتوں نیز وھاں رھنے والے افراد سے تعلقات کا ذکر نھیں ھے۔ جبکہ اس قسم کے تعلقات وروابط بھی اچھی خاصی اھمیت کے حامل ھیں اور سیاست کا اھم حصہ ھیں، ان سب کے علاوہ اس تعریف کا سب سے بڑا نقص یہ ھے کہ اس میں ایک خاص نکتہ کی طرف توجہ نھیں کی گئی ھے اور وہ یہ کہ اس تعریف میں قدرت وطاقت کا تذکرہ نھیں ھے۔ جب کہ یہ عنصر چونکہ مذکورہ روابط پر پوری طرح موٴثر ھوتا ھے لھذاسیاست کا جز ء لاینفک ھے ۔
 (2) ۔ارسطونے سیاست کی تعریف اس طرح کی ھے :
 “ضروری ھے کہ ھر مجموعے کا اھم ترین موضوع سب سے اچھی نیکی قرارپائے اور اسکا نام حکومت وسیاست رکھاجائے۔” (السیاستہ لارسطو طا لیس ص  /91 ک / اب / اف/ 1)
 اسی طرح کا ایک جملہ صفحھ/ 212 ک/ 3ب/7ف/اپر بھی ملتاھے:
  “تمام علوم وفنون کی غرض، خیر ونیکی ھے لھذا سب سے عمدہ نیکی کے لئے ضروری ھے کہ وہ ان علوم کے در میا ن اھم ترین علم یعنی علم سیاست کا موضوع قرار پائے ۔”
یہ جملہ یونانی عبارت کا تیسرا ترجمہ ھے اور ممکن ھے کہ یونانی سے فرنچ زبان یافرنچ سے عربی زبان میں ترجمہ کئے جانے کی وجہ سے کچہ کمی بیشی ھوگئی ھو (اردو ترجمہ پانچواں شمار کیا جائیگا۔مترجم) لیکن پھر بھی جس مقدار میں ھمیںتعریف کی ضرورت ھے وہ یھاں پر واضح ھے۔ لھذا ارسطوکے نظریے کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ھے :” سیاست سے مراد بھترین نیکی کی طرف قدم بڑھانے کے لئے مجموعوں اور گروھوں کے رابطے کی تائید ، تغییر یا پھر ان کا ایجاد کرناھے۔ ” یہ تعریف افلاطون کی کتاب “جمھوریت ” کے بعض مضامین میں بھی ملتی ھے ۔ یھاں پر لازم ھے کہ اس تعریف کی مختصر سی وضاحت کی جائے ۔
  عدالت ،نیکی ، حق وغیرہ ایسے الفاظ ھیں جو ھر انسان یا ھر معاشرے اور حکومت کا نصب العین شمار کئے جاتے ھیں ۔ اسی وجہ سے یہ ممکن نھیں ھے کہ تاریخ بشریت میں کوئی ایسا انسان یا معاشرہ و حکومت مل جائے جو خود کو ان کا حامی نہ سمجھتا ھو ۔ حتی اگر آپ فساد کرنے والوں سے بھی پوچھیں کہ جس راستے کو تم نے اختیار کیا ھے وہ کیسا ھے ؟ تو جواب دیں گے کہ ھمارا راستہ نیکی ، عدالت اور حق کا راستہ ھے ۔ اسی طرح اگر چنگیز خان جیسے بد ترین حکمراں سے بھی پوچھیں کہ اس خونر یزی اور غارت گری میں تمھارا کون سا مقصد پنھاں ھے ، تو گزشتہ جواب ھی کی طرح وہ بھی نیکی ، عدالت اور حق ھی کا حوالہ دے گا ۔
 اس طرح ھم دیکھتے  ھیں کہ تمام افراد ،معاشرے اور حکو متیں اسی نیکی کی تلاش میں یا اس کو بروئے کار لانے کی سعی میں مصروف ھیں ۔ اس نفسیاتی پھلوکا انکار کسی سے ممکن ھی نھیں ھے کیو ں کہ یہ بات مرحلۂ یقین تک پھنچ چکی ھے ۔ اس نکتے کے تحت اب ارسطوکی تعریف کو مندرجہ ذیل وضاحت کے ساتھ بخوبی سمجھاجاسکتاھے ۔
چونکہ خیر ونیکی ھر فر د ، معا شر ے اور حکو مت کا مطمع نظر ھے ، لھذا اس ھد ف کو حاصل کر نے کے و سا ئل وذرا ئع بھی ھو نے چا ھئےں اور وہ علم جو ان و سا ئل کی کیفیت اور مقدار کو پیش کرنے کا ضا من ھے ، علم سیاست کھلا ئے گا ۔ اس طرح اگر سیاست کی تعر یف و ھی ھے جسے ار سطو نے پیش کیا اور ھم نے اس کی مختصر سی وضا حت پیش کی تو یہ بھتر ین علم کھلا ئیگا اور اس کا علم رکھنے وا لی شخصیت سب سے اھم اور بزر گ ھستی شما ر کی جا ئے گی ۔ 
(3)۔سیاست کی تیسری تعریف ایسی ھے جو عوام الناس کے درمیان غیر مانوس ھو نے کے ساتھ ساتھ مذھبی حلقے میں ناپسندیدہ اور قابل نفرت ھے۔اس کے مطابق سیاست کی تعریف یہ ھے : 
 ” سیاسی افراد کے ذریعے ھدف کا معین کیا جا نا اور اسے ھر طرح سے حاصل کر نے کی سعی و کوشش”
 اس تعریف میںنیکی وسعادت وغیرہ کا بالکل ذکر نھیں ھے بلکہ اس میں در اصل انسانیت ھی کا عمل دخل نھیں دکھائی دیتا۔اس تعریف کو بنیاد بنا کر کھا جاسکتا ھے کہ اس طرح ایسے وحشی درندے جو حصو ل اقتدار کی خاطر ھر طرح کا فعل درست سمجھتے ھیں،سیا ستداں کھلائیںگے۔
 سیاست کی مذکورہ تعریف اشپینگلر نے لکھی ھے، وہ کھتا ھے:
  “ایک فطری سیاستداں کے نزدیک حق و باطل کی کوئی اھمیت نھیں ھو تی ۔وہ حادثات و واقعات کو نظام اور طریقۂ کار سے ملا نے کی بھول کبھی نھیں کر تا۔اس کے نز دیک حقیقت اوراشتباہ میںصرف فرق ھی نھیں ھو تابلکہ ھر ایک کی الگ حیثیت ھو تی ھے۔ وہ  ھر ایک کے اسباب وعلل پر پو ری طرح غورو خوض کرتا ھے۔اور ان کے اثرات کو اپنے اقتدار و اختیار کی سر نوشت قرار دیتا  ھے ۔اگرچہ یہ بھی حقیقت ھے کہ ھر سیاستداںکچہ خاص قسم کی عقیدتوں سے وابستہ ھوتا ھے اور انکا پوری طرح احترام کرتا ھے اور اگرچہ یہ چیزیںاسکی فردی و ذاتی زندگی سے متعلق ھوتی ھیں لیکن مرحلۂ عمل میں ان عقیدتوں سے خود کو جدا نھیں کر پاتا ۔گوئٹے کے بقول :”کسی فکر کوعمل کی دنیا میں لانے والا، انصاف اور ذھنی توجہ کوبروئے کارنھیں لاتابلکہ یہ چیزیں دیکھنے والوں سے مخصوص ھوتی ھیں ۔”یہ حقیقت مکمل طور پرتمام سیاستدانوں سولاسے لے کر بیسپیر تک اور مارک سے لے کر رپیٹ تک ھر ایک کے یھاں پائی جاتی ھے۔ بڑے بڑے پاپ اور انگریزی لشکر کے تمام سپہ سالار جب تک حا لات پر قابو پانے کے لئے سخت قسم کی کشمکش اور سختی میں مبتلا رھے،ان لوگو ں کی طرح دکھائی دئے جو کسی علاقے کے فاتح ھوں یا تازہ بر سر اقتدار آ ئے ھوں ۔مثال کے طو ر پر پاپ انو سان سوم کی کوششوں کے نتیجے میں قریب تھاکہ پوری دنیاکلیسا کے زیر اقتدار آجائے۔یھیںسے اس کی کامیابی اور فتح کے راز کو سمجھا جا سکتا ھے کیوں کہ اس نے ھدف کے حصول کی خاطرھر طرح کے آپریشن کو صحیح سمجھا جبکہ یہ سب آئین اخلاق و مذھب کے بالکل خلاف تھا۔”
        (فلسفۂ سیاست:اوسولڈاشپینگلر ص/39۔40)
  صدیوں سے لفظ سیاست کے سلسلے میں بیان کی جانے والی یہ غلط تعریف سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اس روش کی عکاس ھے جس کے مطابق انسانی گروہ بلکہ تمام مخلو قات و موجودات اس لئے خلق ھوئے ھیں تا کہ یہ افراد ان پر حکومت کر سکیں۔اسی لئے اگرکبھی کسی سیاستداں کی زبان پر عدالت،مظلوموں کی حمایت،نظم وضبط جیسے الفاظ جاری ھوجاتے ھیں تو ان کو کوئی اھمیت نھیں دی جاتی بلکہ سمجھا جاتا ھے کہ یہ سب نچلے طبقے کا دل لبھانے اور اپنی حکومت کو مزید مستحکم کر نے کی چا لیں ھیں۔
 اس تلخ حقیقت کی روشنی میں کیسے ممکن ھے کہ ایک سیاستداں سے انسانیت اور دین کے آئین و قوانین کے پاس و لحاظ کی توقع رکھی جائے۔
  
حضرت علی(ع) کی سیاست
 گزشتہ وضاحت کے ذیل میں یہ بات کھی جاسکتی ھے کہ حقیقت کے متلاشی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر سیاست سے مراد وہ ھے جسکو تیسری تعریف کے طور پر بیان کیا گیا ھے نیز جس کی تشریح اوسولڈ اشپینگلرنے کی ھے تو یقین جانئے حضرت علی(ع)ایسی سیاست سے پوری طرح واقف تو تھے مگر اس پر عمل پیرا نہ تھے چونکہ حضرت علی(ع) انسان کی حقیقت اورمقام و منزلت سے مکمل طور پر آگاھی رکھتے تھے لھذا یہ ممکن نھیں ھے کہ چند روزہ فتح وظفر کی خاطر ایسے غیر انسانی امور کو انجام دیتے ۔وہ علی(ع) جو ایک معمولی سی لڑکی کے پیر میں موجود تل کے ناحق مٹادئے جانے پر اتنا ناراض ھو جائے کہ اپنی زندگی کو خیر باد کھنے پر آمادہ ھو جائے ۔ وہ علی ( ع)جو ایک حقیر سی چیو نٹی کی بے ضرر اور محترم زند گی کو پو ری دنیا کی حکو مت پر مقد م قرا ردے ۔ وہ علی (ع) جس کی تو جہ جنگ میں تلواروں کی جھنکا ر کے در میان بھی اس با ت کی طرف ھو کہ کسی کا نا حق خو ن نہ بھہ جا ئے ۔
 بھت بڑی بھو ل ھو گی اگر ایسی ھستی کو خونخوا روں اور ظالمو ں کے گر وہ میں تلا ش کیا جائے ۔یہ شخص تو کا روا ن تو حید کے رھبروں میں ملے گا۔ ھا ں! بلا شبہ حضرت علی (ع) ، خلیل خدا ابر اھیم یا جنا ب مو سی وجنا ب عیسی علیھم السلام جیسے با و قا ر بند گا ن خدا ، نمرو د، چنگیز خا ن اور نیپو لین وغیر ہ سے کو ئی شبا ھت نھیں رکھتے ۔یہ بز ر گا ن عا لم ایک عا م انسان پر بھی حکو مت نہ ر کھنے کے با و جو د پو ری دنیا کو اپنے حیطۂ اقتدا ر میں لا کر ھر طر ح کے مظا لم ڈھا نے وا لے چنگیز وں کے مقا بل زیا دہ با اقتدا ر و با اختیا ر نظر آتے ھیں ۔
 اگر حقیقی سیا ست کو مد نظر رکھا جا ئے تو حضرت علی (ع) اس میدا ن کے شھسو ار نظر آئیں گے بشر طیکہ اس نکتے کی طرف تو جہ رھے کہ چند روز ہ زند گی کی فتح وظفر اور جسمو ں پر حکو مت سے کھیں بھتر ایسی فتح وظفر اور دلوں کی حکمرا نی ھے جو ھمیشگی اور ابدیت رکھتی ھو کیو نکہ زور زبر دستی سے وقتی طو ر پر حا صل ھو نے وا لی سلطنت اس خو فنا ک خو اب کے ما نند ھو تی ھے جو کچہ دیر کے لئے سو نے وا لے کو ڈرا کر ختم ھو جا ئے اور انسا ن بھی بیدا ر ھو کر دو با رہ اپنے امور ز ند گی میں لگ جا ئے ۔
 آج تک وحد انیت کے علمبر دارو ں کا نو رانی وجو د لو گو ں کے ذھنو ں پر حکو مت کر رھا ھے ۔یھاں تک کہ گمراہ تر ین آدمی بھی یہ کھنے کی جرا ٴت نھیں رکھتا کہ   جنا ب ابرا ھیم (ع) جناب عیسی (ع) و جناب مو سی(ع)  (العیا ذباللھ) اس روئے زمین پر تبا ھی پھیلا نے وا لو ں میں سے تھے ۔ جبکہ صورت حا ل یہ ھے کہ اگر کسی سیاستداں کا خیال ذھن میں آجا ئے تو ایک دنیا پر ست اور نا پسند ید ہ آدمی کا تصور پیدا ھو جا تا ھے ۔
اب ذرا د یر ٹھھر کر او سو لڈ اشپینگلر کے اس بیا ن کا بھی مطا لعہ کر لیں :
 “سیا ست کا سب سے پھلا مسئلہ ، شخصیت کو ثا بت کر نا ھو تا ھے ۔ دو سر ا مسئلہ اگر چہ ظا ھر نھیں ھو تا لیکن بھت مشکل ھو تا ھے اور اس کے اثرات و نتا ئج بھی د یر پا ھو تے ھیں ۔ وہ روش اور طر یقہ ٴ کا رکوبروئے کارلا نے اور اسے ھمیشہ بر قرا ر رکھنے کا ھو تا ھے ۔ ایک سیا ستد اں کے لئے ضرو ری ھو تا ھے کہ اس طر ح سے دو سروں پر تسلط  اختیا ر کر ے کہ اس کی روش کو وہ لو گ بھی اختیا ر کر کے اسی کے سے حو صلو ں اور جذ بو ں کے سا تہ تما م کا م انجام د یں ۔ اس کی ذ مہ داری ھے کہ بعض و ظا ئف کے لئے ایسے    ما حو ل اور حا لات پیدا کر دے جن کی بقا کے لئے اسکی مو جو د گی ضرو ری نہ ھو ۔ عصر قد یم میں اگر اس مر حلے میں کو ئی سیا سی راھنما کا میاب ھو جا تا تھا تو اسے خدا کی خاص عنا یت شما ر کیا جا تا تھا ۔ اس طرح وہ نئی زند گی کا مو جد اور جد ید تصو رات کا با نی قرار پا تا تھا ۔ یہ انسان ، بشر ی پیکر میں ھو نے کی و جہ سے چند سا لو ں کے بعد اس کا رگا ہ ھستی سے رخت سفر با ند ہ لیتا ھے لیکن اس کے مکتب کی پر وردہ کچہ شخصیتیں اس کی را ہ وروش کو جا ری رکہ کر اس کو ایک لمبے عر صے کی حیا ت عطا کر د یتے ھیں ۔ معا شر ے کو ایک خاص قسم کی سیاسی نھج پر ھمیشہ کے لئے گا مزن کر دینا ، صرف ایک ھی شخص کا تنھا کا م کھلا تا ھے اور اس کی نھج کے نقو ش ، تا ر یخ بن کر اس معا شر ے پر چھا جا تے ھیں ۔ اس وجہ سے کھا جا سکتا ھے کہ ایک اھم اور بڑ ا سیا ست دا ں ، نا در ا لو جو د ھو تا ھے ۔
( فلسفۂ سیا ست : او سو لڈ اشپینگلر ص/ 43  )
یہ بیان کسی قسم کی و ضا حت کا محتا ج نھیں ھے ۔اچھی طرح سے اس کا مطا لعہ فر ما ئیے اور ھر طر ح کی تقلید یا ھو ا وھو س کے بغیر گز شتہ صفحا ت میں ذکر شد ہ دو طر ح کے سیا ستدا نو ں پر اسے تطبیق دیجئے ۔ غو ر کیجئے کیا یہ حقا ئق ایک عا م قسم کے سیا ستدا ں پر منطبق ھوتے ھیں یا پھر حضرت علی(ع)پر۔
 میں یھاں پرگزشتہ جملوں میں سے بعض کی تشر یح کر تے ھو ئے چا ھو ں گا کہ قا ر ئین محتر م کے ا  فکا ر سے مد دحا صل کر و ں تا کہ مغا لطے اور دھو کہ دھڑی میں پھنسے ھو ئے بعض سا دہ لو ح افراد کو راہ نجات مل سکے ۔ اشپینگلرکے بیان میں یہ جملہ تھا کہ “سیا ست کا سب سے پھلا مسئلہ شخصیت کو ثابت کرنا ھوتا ھے” یھاںپریہ سوال کیا جا سکتا ھے کہ عمرو بن عاص کی شخصیت کے با رے میں کیا کھا جا ئے گا جو جا ن بچا نے کے چکر میں بر ھنہ ھو جا نے اور ایک مرد کے مقا بلے میں زنا نہ اندا ز اختیا ر کر نے تک کو قبو ل کر لے ! اسی طرح معا ویہ کا مسلما نو ں کے رئیس کو قتل کر نے کی خاطر ایک اجنبی شخص کا کا ند ھا استعما ل کر نا کس طرح ایک اچھی شخصیت کو ثابت کر سکتا ھے ۔کیا پانی پر پابندی ،وہ بھی ایسے حالات میں جبکہ دشمن پیاس سے ھلاک ھو رھے ھوں ، شخصیت کو نکھارنے کا طریقہ سمجھا جائےگا؟
 اس کے علا وہ ، اشپینگلرکا بیان ھے : ” حقیقی سیا ستد ا ں وہ ھے جو اپنی با طنی قو ت کو بر وئے کا ر لا کر غیر محدو د زمانے پر اپنے نقو ش ثبت کر دے۔ ” ھر ایک جا نتا ھے کہ حضرت امیر المو منین (ع) اول ز ندگی اور رسا لت مآب صلی اللہ علیہ وا ٓلہ وسلم کی رحلت کے بعد اقلیتی گر وہ میں شما ر کئے جا تے تھے ۔ اس کا سبب عا م لو گو ں کا آپ کے  نظر یا ت سے اختلاف وگر یز تھا لیکن اس کے با وجو د ر فتہ رفتہ آپ نے تمام د نیا کو اپنی رو حا نیت ، حکمت اور حکیما نہ روش کا گر وید ہ بنا لیاتھا ۔
تا ریخ بشر یت نے آئین سیا ست کے کسی اور ایسے علمبر دا ر کوپیدا نھیں کیا جس کا فر یفتہ ھو کر مشھو ر ما دہ پر ست شبلی شمیل اس طرح مد ح خوانی کر نے لگے :
“علی (ع) ایک ایسا ر ھبر ھے جو بزر گو ں کا بھی سر دا ر ھے ،ایک ایسا نا درنسخہ ھے جس کی مثا ل گز شتہ زما نے سے لے کر دور حا ضر تک نہ تومشرق میں مل سکتی ھے اور نہ ھی مغرب کی سر زمین لا سکتی ھے۔ ”
اگر تا ر یخ کا مطا لعہ عقید تی تعصب کی عینک اتا ر کر کیا جا ئے تو معلو م ھو گا کہ د نیا کا کو ئی بھی ر ھبر ایسا نھیں ھے جس کی پیر وی کر نے وا لو ں کو ایسے شکنجو ں میں رکھا جا ئے کہ وہ اپنے رھنما کا نام بھی لینے کی جر اٴت نہ کر یں ۔ دشمن ایسی سختیا ں کر ے جن سے زیا دہ کا تصور بھی ممکن نہ ھو ۔ ان سب کے با وجو د دو سر وں کی کسی بھی قسم کی مدد کے بغیر د ین کی اس سب سے عظیم شخصیت کا نام کتاب انسانیت کی سطراول میں لکھا گیا ۔
آج جبکہ ھم ایسے دور سے گزررھے ھیں جب علمی میدان میں کا میابی کے علا وہ ا نسا نی اقدارکو بھی شخصیت شنا سی کا معیا ر قرا ر دیا جا تا ھے ،پھر بھی تما م ملتیں جس ذا ت کی سب سے زیا دہ تعظیمکر رھی ھیں اسے علی بن ابی طا لب (ع) کھتے ھیں حتی وہ افراد جو کسی بھی د ین کے پا بند نھیں ھیں وہ بھی اس ھستی کی بارگا ہ میں جبین نیا ز خم کر تے ھیں ۔ یھی وجہ ھے کہ اگر نا دانی کے با عث کو ئی قو م حضرت علی (ع) کی شخصیت کے بارے میںکوئی نازیبا لفظ استعمال کردے تو پوری دنیا میں اس کے خلاف نفرت و غصے کا ما حول پیدا ھو جاتا ھے۔ اس طرح ھم کھہ سکتے ھیںکہ حقیقی طور پرحضرت علی (ع)کی سیا ست کا مقدمہ با لکل اسی طرح فرا ھم ھو تا گیا جس طر ح جناب ابر اھیم (ع) کے ساتھ ھو ا کہ عام قسم کے سیا ستدانو ں کے بر خلا ف ان بزرگوں کی شخصیت روز بروز محبوب تر ھو تی گئی اور بغیر تفر یق مذھب وملت ھر ایک انکا شیفتہ اور گر و ید ہ بنتا گیا ۔
بعض کم فھم افراد کھتے ھیں :” اچھا سیا سی را ھنما وہ ھو تا ھے جسکا معاشر ے میں سب سے زیا دہ رسوخ ھو ۔ جبکہ ر سا لت مآب(ص) کی رحلت کے بعد حضرت علی (ع) پو ر ے ا سلامی معا شرے میں رسوخ پیدا نہ کر سکے ۔ گو یا انکے مطا بق رسوخ کے معنی یہ ھیں کہ شمشیر بد ست ھو کر جس طرح بھیڑ بکر یو ں کو ھنکا یا جا تا ھے ، عا م انسا نو ں کو بھی اپنے پسندیدہ راستے پر چلا دیا جا ئے اور وقت ضرورت قتل گاہ میں لے جا کر انکے سر وبدن کو علیحدہ کر کے اپنے تخت ومسند کو استحکام بخشا جا ئے ۔ پھر اس پر بیٹہ کر اکڑا جائے اور دوسر وں کو آنکھیں دکھائی جائیں ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح حجاج بن یو سف اور اسکے جیسے حکا م کا حا ل تھا ۔ یہ لو گ، عقلی دنیا میں ابھی انسانی ز ندگی کی اھمیت اور خدا سے رابطے کی عظمت کو نھیں سمجھ پائے ھیں ۔ یہ لو گ نہ صرف یہ کہ انسانیت کے معنی نھیں سمجھے ھیں یا سمجھنا نھیں چا ھتے بلکہ د ین کو بھی ایک ظاھر ی اور تکلّفاتی آدا ب ورسوم سے زیادہ نھیں سمجھتے ۔ ان کے گمان میں دنیا کی زمام حکو مت کو حا صل کر نے کے لئے پا پ انو سا ن سو ئم کی طرح کسی بھی طرح کے انسانی یاغیرانسا نی اقدام سے گر یز نھیں کرنا چا ھئے ۔
 ان کا یہ د ھو کا یھیں پر ختم نھیں ھو تا بلکہ سب سے بڑی غفلت آمیز اور نقصان دہ فکر اس وقت پیدا ھو ئی جب انھوں نے رسول ا سلا م (ص)کے سلسلے میں بعض عام قسم کی سطحی کتابو ںکا سر سر ی مطا لعہ کر کے یہ لکہ دیا کھ:” اسلامی لشکر ایک مختصر سی مدت میں فلا ںفلا ں جنگ میں کا میا ب ھو ااور بعض ممالک کو زیر کر لیا ۔ جبکہ اس کے برخلاف وہ لو گ یہ نھیں سو چتے کہ اس عا لم اسلام کی وسیع وعریض سرزمین پر جناب ابو ذر غفاری(رح) جیسے کتنے افراد پیدا ھو سکے ؟ کیا خود پیغمبر اکر م (ص)اس مختصر سے عر صے میں تمام اسلامی احکام کو ھر مسلمان کے دل وجان میں (بجز چند مسلمان ) اتا ر سکے ؟ وہ سب کھتے تھے کہ آپ پر ایمان لے آئے ھیں جبکہ خدا وند متعا ل انکے اس اظھار ایمان کو جھٹلا رھا تھا اور اپنے نبی سے یہ فر ما رھا تھا :” ھر گز انکے ظا ھری کلما ت پر بھر وسہ نہ کیجئے گا ، ابھی انکے دلو ں میں ایما ن را سخ نھیں ھو ا ھے۔ وہ سب ظا ھری طور پر مسلمان ھو ئے ھیں اور بس ۔”کیا یہ ممکن ھے کہ اس طر ح کے عر بوںکے نیرنگ و حیلے کو رسا لت پنا ہ کی سا دہ لو حی قرا ر دیا جا ئے یعنی کیا یہ کھا جا سکتا ھے چو نکہ پیغمبر اکرم (ص)پو ری طر ح سے لوگو ں کے در میا ن رسوخ پیدا نہ کر سکے لھذا وہ اچھے سیاستداں نھیں تھے ؟اسی طرح حضرت ابرا ھیم (ع) جو کہ دنیا کے تما م مذاھب کے رئیس ھیں ،اچھے سیاستداں نھیں تھے کیو نکہ انکے زمانے میں خود انکے خا ندا ن وا لے انکے اطا عت گزارنہ تھے ۔ یقینا اس قسم کا تصور فقط ایک وا ھمہ ھے ،اس کے علا وہ کچہ نھیں ۔
     ھم جا نتے ھیں کہ عصر پیغمبر میں اسلام پوری طر ح سے عا لم شبا ب پر تھا اور اس دور کے مسلما نوں میںمکمل طو ر پر حرارت ایمانی پائی جا تی تھی لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ھے کہ آنحضرت کے بعد ایسی باد خزاں چلی کہ جس نے اسلام کے سر سبز با غ کو و یر انہ بنا دیا اور ایسا سر دو یخ زدہ ما حول پیدا ھو ا جس سے پو رے ما حول پر ایک قسم کا جمود سا طاری ھو گیا ۔ یھی نھیں بلکہ ظلم وستم کی ایسی بجلی گر ی جس نے پو رے اسلام کے آشیا نے کو جلا کر خا کستر کر دیا اور پھر اسکے بعد ھر طرف ریا ست طلبی وشھو ت پر ستی کا ایسا با زار  گر م ھو ا جس کے بیان سے قلم لرز تا ھے ۔ ان سب کے با و جو د کیا یہ حضرت علی (ع) کی سیاست کا طرئہ ا متیا ز نہ تھا کہ ایسے پر آشو ب ما حول میں بھی کچہ اس طرح اپنی شخصیت کو ثا بت کیا کہ کچہ ھی عر صے بعد مختصر سے پیرو کا رو ں کا گر وہ ، کر وڑو ں جا نثا ر وعا شق افراد میں تبد یل ھو گیا ۔ یھاں پر جو چیز سب سے ز یا دہ اھمیت کی حا مل ھے ، اس کی طرف اشپنیگلر نے یو ں تو جہ دلا ئی ھے :
 “ایک با غباں کا کام یہ ھو تا ھے کہ وہ بیج بو کر اسکی پر ورش وا صلا ح کرے ۔اسی طرح وہ چا ھے تو پو دے ، در خت بننے سے پھلے ھی خشک ھو کر ضائع ھو جا ئیں ۔اسکے اندر یہ صلا حیت ھو تی ھے کہ ایسی فضا مھیا کر ے جو پھل و پھول کی پو شیدہ خاصیتوں اور اسکی شکل ور نگت پر موٴثر ھو ۔ یہ سب کا م اور اس طرح کے تمام خصوصیات کمی وبیشی کے اعتبار سے با غباں کی بصیر ت اور سمجھ بو جہ پر منحصر ھو تے ھیں لیکن اصل شکل وصورت ، اسکا مستقبل ، اسکا ر شد ، پھل کی قسم و غیرہ با غبا ن کے د ست قدرت سے خا رج ھیں بلکہ یہ سب اس درخت کی طبیعت میں شا مل ھیں ۔”
اگر شھو ت پر ست اور مخا لف د ین افراد یہ نہ چا ھیں کہ آئین انسا نیت کو سمجھ کر اسکی رو شنی میں ز ند گی گزا ریں تو ایک سیاستداں کی غلطی کیا ھو سکتی ھے ؟ اگر کو ئی حیو ان صفت انسا ن فقط ما ل ودو لت اور جا ہ و مقا م ھی کو انسا نی اقدار شمار کرے تو ایک سیاسی ر ھبر کیا کر سکتا ھے جبکہ وہ عظیم شخص عوا م الناس کی ثر وت کا محا فظ ھو نے اور حسا ب وکتا ب میں پو ری دقت سے کام لینے کی وجہ سے ھر شخص کو اسی مقدار میں بیت المال سے عطا کر ے جس مقدار میں اسکی سما جی خدمات کا تقا ضاھو ۔
کیا کسی کو تا ہ نظر کو حضرت علی (ع) کے وہ د ستور ا لعمل ، جو آپ نے ما لک اشتر کو حا کم مصر بنا کر بھیجتے وقت بیان فر مائے تھے اور جو آپ کی سیاست کا شا ھکا ر سمجھے جا تے ھیں ، کے علا وہ بھی کسی اور دلیل کی ضرورت ھے ۔
وہ لو گ جو یہ کھتے ھیں کہ حضرت علی (ع) اچھے سیاستداں نھیں تھے، ان کا مقصود نظر ھمارے لئے پو ری طرح وا ضح ھے ، وضا حت کی چنداں ضرورت نھیں ھے ۔ ان کے مطا بق حضرت علی (ع) کے بارے میں یہ کھنا تو ٹھیک ھے کہ آپ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے وز یر تھے اور عمرو بن عبد ود اور مر حب جیسے شقی القلب وخو نریز دشمنو ں کے مقا بلے میں ڈٹے رھے لیکن آپ کی سیا ست کے بارے میں بس یھی کھا جا سکتا ھے کہ آپ نے سیا سی میدا ن میں ( العیا ذباللہ ) احتیا ط سے کام نھیں لیا کیو ں کہ آپ منجی بشریت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی ز ند گی کو بچا نے کے لئے آنحضرت کے بستر پر سوگئے ۔ اگر دشمن کا میاب ھو جا تے اور شمشیر یں آپ کے ٹکڑے ٹکڑ ے کر دیتیں تو آپ اپنی جا ن سے ھا تہ دھو بیٹھتے ۔ ان کے بقو ل یہ با ت سیاست کے خلا ف ھے کہ قدرت وطا قت اور جا نثارو ں کے با و جو د حضرت علی (ع) نے اپنا حق حاصل کر نے کے لئے قیا م نھیں کیا ۔ لو گو ں کا کیا ھے وہ تو آخر کا ر یا کفر اختیا ر کر تے یا پھر ایما ن پر با قی رھتے ۔ اس کی کیا اھمیت ھے ؟ اسلا م کی حفا ظت نیز مسلمانوںکے جھا لت کی طرف پلٹ جا نے کے خو ف سے حضرت علی (ع) کا خانہ نشیں ھو جا نا ، (نعو ذباللہ ) آپ کی غیر سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھا ۔ان لوگوں کا نظریہ یہ ھے کہ یہ سادہ لوحی ھے کہ انسان حصول ریا ست کی خا طر طا قتو ر اشخاص سے دست وگر یبا ں ھو جا ئے اور نتیجے میں اپنی کمزوری کو سب پر ثا بت کر دے ۔حضرت علی (ع) کے لئے یہ ضروری تھا کہ معاویہ جیسے خونخوار و سفاک کواس کے منصب پر باقی رکھتے کیوں کہ چند سالوں کے لئے ظلم بر دا شت کر لینے اور اسلامی جا ہ و جلا ل کو گر وی رکہ دینے سے کسی قسم کا نقصان نھیں ھو تا ۔ ان افراد کے مطا بق یہ حضرت علی (ع)کی بد احتیاطی تھی کہ آپ نے اپنے جانی دشمنوں کو نھرسے پانی لینے کی اجازت دے دی اور کسی قسم کی پا بند ی نھیں لگائی ۔ اگر آپ سیا ستداں ھو تے تو ھزا رو ں انسا نو ں بلکہ خدا کے بندو ں کو پیاس سے ھلا ک کر دیتے تا کہ آپ کی حکو مت کا میدان فراھم ھو جا تا ۔
ان لو گو ں کے بقو ل : چونکہ علی (ع)مدا حو ں کی تعر یف اور چا پلو سی سے بیزا ر تھے اس لئے کھا جا سکتا ھے کہ وہ (العیا ذباللہ ) سیا ست میں مھا رت نھیں رکھتے تھے ۔ کیو نکہ آپ فر ما تے تھے کہ جو نیک کام میں نے ا نجام د یا ھو ا سکی تعر یف نہ کر و کیو ں کہ اس کام کو میں نے فر یضہ سمجھ کر کیا ھے اور فر یضہ وذمہ داری پر مدح و تعر یف کا کیا تصور ؟ مجھ سے اس طر ح کی باتیں نہ کیا کروجس طر ح کی با تیں ایک پھلو ان سے کی جا تی ھیں ، چا پلوسی نہ کرو ۔ ان لو گو ں کی نگاہ میںچا پلوسوں پر ما ل ودو لت لٹا د ینا ھی سیا ست ھے!
 ھم ان سے کچہ نھیں کھنا چا ھتے لیکن اتنا ضرور کھیں گے کہ ان لوگو ں سے ایک د ھو کا ھو گیا ھے ، ان سب نے جنا ب ابرا ھیم (ع) کے بجا ئے چنگیز خان اور   جنا ب عیسی (ع) کی جگہ اند و بخت النصر کو اپنا ر ھبر بنا لیا ھے ۔
 ھا ں! ایک سیاستداں معا ویہ بھی ھے ۔ اگر اس کی سیاست سے آشنا ئی چا ھتے ھو ں تو اس دستو ر کو پڑ ھیں جو اس نے سفیا ن بن عو ف غا مدی کے لئے جا ری کیا تھا۔ شر ح نھج البلا غہ (ابن ابی الحد ید ۔جلد اول صفحھ16 )کی اس عبا رت کو ملا حظہ فر ما ئیے :
سفیا ن بن عو ف غامدی کھتا ھے :” معاویہ نے مجھے بلایا اور کھا کہ تم کو ایک عظیم لشکر کے ھمراہ بھیج رھا ھو ں ، فر ات کے کنا ر ے سے ھو تے ھو ئے ” ھیت ”  پھنچو ۔ اس پر قبضہ کرو ۔ اگر اھل قر یہ مخا لفت کر یں تو ان سب پر حملہ کر کے جا ن وما ل کو غارت کر دینا ، پھر ھیت سے آگے  بڑہ جا نا اور “انبا ر “پھنچ کر بھی یھی کا م کر نا ، اگر وھا ں فو ج نہ ملے تو وھا ں سے بھی آگے بڑہ جا نا اور مدا ئن پھنچ جا نا لیکن ھر گز کو فے کے قر یب نہ جا نا ۔ اچھی طر ح سمجھ لو کہ اگر تم نے انبا رومدا ئن کے سا کنین کو اچھی طرح خو فزدہ کر لیا تو گو یا تم نے کو فے پر دبا ؤ بڑھا لیا ۔ اے سفیا ن! 1 س قسم کی غا رت گری عرا قیو ں کے دل میں و حشت پیدا کر دے گی ۔ اس طر ح ھما رے دو ستو ں کے دل شا د ھو ں گے نیز ان سب کا مو ں سے ڈرجا نے وا لے ، ھما ری طرف ما ئل ھو جا ئیں گے ۔ ایسے وقت میں وہ افراد جو تمھا ری  را ئے سے متفق نہ ھو ںان کو قتل کر دینا ۔ را ستے میں جو بھی آبا دی ملے اسے تباہ وبرباد کر دینا ، وھاں کے اموال کا مصادرہ کر لیناکیونکہ مال و ثروت کی لو ٹ ما ر ، عمو می قتل کی حیثیت رکھتی ھے اور اس کے اثرات بھی زیا دہ ھو تے ھیں ۔”
 یہ تھا ایک “بڑے سیاست با ز “کا حکم جو ایک ایسے اسلامی معا شرے میں تھا جھا ں کے انسا نو ں کی اھمیت بلکہ ایک حقیر چیو نٹی کی وقعت بھی پو ری دنیا سے ز یا دہ تھی ۔ لو گو ں کا کھنا ھے کہ چنگیر خان کا زمانہ بھی کیا زما نہ تھا ، افسو س کہ وہ کچہ دیر سے دنیا میں آیا ، کاش! معا ویہ کے زما نے میں ھو تا تا کہ اس کے سیاسی نظر یا ت کے سا منے      زا نو ئے ادب تھہ کر کے بیٹھتا اور سیا ست کے آئین سیکھتا ۔
ھا ں! صحیح ھے بعض با تیں سیا ست سے دور ھیں ۔ جب دشمن صف آراھو کے سا منے آچکا ھوا ور حملہ کرنے کے لئے آمادگی کررھا ھو،تا کہ تشنگی سے یاپانی میں ڈبوکر دشمنوں کو ھلاک کردے ۔ایسے وقت میں حضرت علی(ع) ،خدا کی بارگاہ میں ھاتہ بلند کرتے ھوئے دعا فرماتے ھیں :
 “خدایا ! لو گو ں کے قلوب تیری طرف راغب ھیں ، گرد نیں جھکی ھوئی ھیں اور آنکھیں تیری ذات سے امید یں لگا ئے ھوئے ھیں اور ھر گروہ کی دلی کدورت وعداوت ظاھر ھو چکی ھے ، کینہ توزی کا بازارگرم ھے ،خدا وند ا! پیغمبر اسلام (ص) کی غیبت ، دشمنوں کی کثرت اور نظریات کی پراکندگی کے لئے تجھ سے شکایت کرتا ھوں۔ پروردگار ا!ھمیں ھمارے دشمنوں پر حقیقی فتح عنایت فرما،توھی بھتر ین فتح عطا کرنے والاھے ۔” (نھج البلاغہ ج /2ص/102)
یا جنگ شروع ھونے سے قبل اپنے لشکر کو یہ حکم دیتے ھیں :
 ” خبردار! اس وقت تک جنگ شروع نہ کرنا جب تک وہ لوگ پھل نہ کردیں کہ تم بحمد اللہ اپنی دلیل رکھتے ھو اور انھیں اس وقت تک موقع نہ دینا جب تک پھل نہ کر دیں کہ یہ ایک دوسری حجت ھو جائیگی۔ اس کے بعد جب حکم خدا سے دشمن کو شکست ھو جائے تو کسی بھاگنے والے کو قتل نہ کرنا اور کسی عاجز کو ھلاک نہ کرنا نیز کسی زخمی پر قاتلانہ حملہ نہ کرنا اور خواتین کو اذیت مت دینا چاھے وہ تمھیں گالیا ں ھی کیوںنہ دیں اور تمھارے حکام کو برا بھلاھی کیوںنہ کھیں ۔”(نھج البلاغہ مکتوب /14 ،ج /3ص/16)
  کھا جاتا ھے کہ تیسری تعریف میںذکر ھونے والا ایک عام سیاستداں جب مقام عمل میں قدم رکھتاھے تو اپنے اور معاشرہ کے درمیان موجود رابطے کے سلسلے میں دھو کا کھاجاتاھے کیونکہ شروع میں تو خود کو سماج کا خدمت گزار سمجھتا ھے لیکن میدان عمل میں اُترتے ھی معاشرہ کو اپنا خادم سمجھ لیتا ھے ۔ فقط حالی موالی ھوتے ھیں جنھیں اسکی مصاحبت سے فائدہ پھنچتاھے ۔
اس سلسلے میں حضرت علی(ع) کے نظرئے کو بھی معلوم کرنا ضروری ھے۔ آپ فرماتے ھیں :” انی اریدکم للّہ وانتم تریدونی لا نفسکم”
 اس مختصر سے جملہ کے ذریعے حضرت علی(ع) کی شناخت اور ان کے بیانات کی حقیقت معلوم ھوسکتی ھے۔
 تاریخ میںایسے شواھدمل جا ئیں گے جن کے مطابق متعدد سیاسی رھبروں نے ھر طرح کی ذمہ داری سے خودکو  ا ٓزاد کر کے لوگوں کو اپنا زر خرید غلام تصور کر لیا تھا یھی نھیں بلکہ پورے پورے علا قوں کوتاراج بھی کر دیا تو کوئی اف تک کرنے کی جراٴت نھیں رکھتا تھا ۔ اس طرح  وہ لوگ اپنی مطلق العنان سیاست کا رنگ دکھاتے تھے لیکن حضرت علی (ع) فر ما تے ھیں : ا لاو انی اقا تل رجلین رجل اد عی ما لیس لھ، رجل منع الذی علیہ ( میں دو لو گو ں سے ھمیشہ نبر د آزما ئی کر وں گا : ایک وہ جو ایسی صفت کا دعو ی کرے جو ا سمیں نھیں پا ئی جا تی ، دو سر ا وہ شخص جو اپنے حق کو اداکر نے سے انکا ر کر دے ۔ نھج  البلا غہ ج /2 ص/105 ) اب ایسے اشخاص طلحہ وزبیر ھو ں کہ سر دار قوم کھلا ئیں یا عرب کا ایک عا م با شند ہ ھو ،ا لبتہ ایسی صورت میں طلحہ وزبیر اگر ھو ں تو جنگ جمل بر پا کر د یں گے کیونکہ بعض لو گو ں کی نگا ہ میں یہ سیاست کے خلا ف کا م ھے اس لئے جنگ ھو نا ھی چا ھئے ۔
یھیں پر میں حضرت علی (ع) کے اس جملہ کو بھی لکھنا چا ھو ں گا :” ا یھا  الناس  انما انا رجل منکم لی  مالکم و علی  ما علیکم “(نھج البلا غہ ج 2 ص58)
یعنی لو گو!میں تمھاری ھی طرح ایک مسلمان ھو ں لھذا ھر وہ چیز جو تمھارے لئے مفید ھو میر ے لئے بھی مفید ھے اور جو نقصا ندہ ھو وہ میر ے حق میں بھی نقصاندہ ھے ۔
 یھاں پر یہ کھنے کی ضرو رت نھیں ھے کہ سیاست کے اس معنی ” عوا م کی عوام پر حکو مت ” ان دنیا وی سیاستدانو ں سے بھت دور ھے کیو نکہ تا ر یخ کے آئینے میں ھم د یکھتے ھیں کہ اگر ان کا بس چلتا تو وہ ستارو ں اور کھکشا ؤ ں کو بھی رام کر لیتے اگر چہ اس سے ان کو فا ئدے کے بجا ئے نقصان ھی کیو ں نہ اٹھا نا پڑتا ۔
 اب میں اپنی اس گفتگو کو اس شخصیت کے ایک جملے سے مکمل کر تا ھو ں جو حقیقی اور بے مثا ل سیا ستداں ھو نے کے سا تہ ساتھ دنیا کے ھر میدا ن میں کا میاب دکھا ئی دیتا ھے۔
    ” ھم ایسے زمانے میں ز ندگی گزاررھے ھیں جھا ں اکثر افراد مکر و فر یب کو ھو شیا ر ی سمجھتے ھیں اور نا دان لو گ اس قسم کے حیلو ں کو راہ حل سمجھتے ھیں ۔ان کا عذر کیا ھے ؟ خدا ان کو ھلا ک کر ے ، ایک حقیقی رھبر ان تمام د ھو کو ں کو بخوبی سمجھتا ھے لیکن خود بھی اسے اختیا ر نھیں کر تا کیو نکہ خدا کا حکم اس کے قدم روک دیتا ھے ۔ اسی احسا س کے تحت وہ د ھو کہ دھڑی کی راہ پر نھیں چلتا لیکن جس کو دین کا درد نہ ھو وہ ایسے کا مو ں میں پو ری طر ح ڈوب جا تاھے ۔ “(نھج البلا غہ ج 1ص 88)
ایک اور جگہ آپ فر ما تے ھیں :” اگر خدا کا تقو ی نہ ھو تا تو میں انسا نوں ( یا ایک نسخے کے مطا بق عر بو ں ) میں سب سے بڑا سیاستدا ں ھو تا “(لو لا التقی لکنت ادھی الناس ) یھی چیز آپ کی پو ری ز ندگی میں نما یا ں طو ر پر دکھا ئی دیتی ھے جس کے مطا لعہ سے تمام با تیں رو شن ھو جا ئیں گی ۔ ھم فقط بعض نمو نے پیش کر تے ھیں :
  (1) ۔ ا کثر تا ر یخو ں میں ملتا ھے کہ جب خلا فت کی ر سہ کشی چل رھی تھی اس وقت جو پیشین گو ئی آپ (ع)نے فر ما ئی وہ پو ری طر ح صحیح ثا بت ھو ئی ۔ مثا ل کے طور پر جب دوم آپ سے اول کے ھا تہ پر بیعت کا اصرار کر رھا تھا تو آپنے فر ما یا: ” اس کے لئے دو د ہ دو ھو یقینا تھو ڑا بھت بعد میں تمھیں بھی مل جا ئے گا “اس سلسلے میں کسی مورخ نے اختلا ف نھیں کیا ھے کہ دو می کی خلا فت صرف اول کی تائید سے ھو ئی تھی ور نہ اس کے سلسلے میں کسی قسم کی شو ری یا انتخاب کا چکر نھیں تھا ۔
 (2)۔اسی طرح جب جنگ صفین میں پھلے سے طے شدہ پر و گرا م کے مطا بق نیز وں پر قرآن کو بلند کیا گیا اور آپ نے اس کو د یکھا نیز ان کے نعر ے ” لا حکم الا للہ ” کو سنا تو فر ما یا :” یہ ایک کلمہ حق ھے مگر اس سے با طل معنی مرا د لئے جا رھے ھیں” ۔ یھاں پر کو ئی بھی مو ر خ ایسا نھیں ملے گا جو یہ کھے کہ اس جملے کو بیا ن کر نے سے قبل آپ نے پھلے لشکر کے سپہ سالا رو ں سے تبا دلہ خیا ل کیا ھو پھر یہ کلمات کھے ھو ں بلکہ سب نے لکھا کہ جیسے ھی اس منظر کو آپ نے د یکھا اسی وقت یہ جملہ ارشا د فر ما یا تھا ۔
  (3) ۔ طلحہ وزبیر کے وا قعہ کو بھی غور سے دیکھیں۔ ان دونو ں نے آ کر کھا کہ ھم چا ھتے ھیں کہ مکے جا کر عمر ہ کر یں تو آپ نے فر مایا :”  تمھا ری نیت میں حج یا عمرہ نھیں بلکہ حیلہ وفر یب ھے ۔”
  اس کے علا وہ ھزا رو ں مواقع پر حضرت علی (ع) نے پیشین گو ئی فر ما ئی تھی جو بعد میں پوری طرح صحیح ثابت ھوئی ۔
ھما ری اس گفتگو کا خلا صہ یہ ھے کہ حضرت علی (ع) سیا ست کے اس حقیقی معنی ومرا د سے بخوبی وا قف تھے جس کی آرزو ھر فر زند آدم کر تا ھے نیز اس پر عمل پیر ا بھی تھے ۔ اسی طرح سیاست کے دوسر ے غلط معنی کو بھی جا نتے اور سمجھتے تھے جس سے مراد ، مقصد معین کر کے ھر و سیلہ سے اس تک پھنچنا ھے لیکن چو نکہ یہ انسا نو ں کے لئے نقصاندہ ھے اس وجہ سے آپ نے اسے اختیار نھیں فر مایا ۔
 

http://shiastudies.com/ur/81/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b9%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت