2022 - 09 - 30 ساعت :
اسلامی انقلاب

حضرت امام خمینی (رح) کی تاریخ پیدائش

2020-07-10 07

حضرت امام خمینی (رح) کی تاریخ پیدائش 20/ جمادی الثانیہ ہے جس دن شہزادی کونین بنت رسولخدا (ص) حضرت زہراء (س) نے عالم خاکی کو اپنے نور عظمت سے روشن و منور فرمایا ہے۔

امام خمینی (رح) 20/ جمادی الثانیہ سن 1320 ق کو خمین مقام پر پیدا ہوئے۔آپ اہل علم گھرانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد گرامی اس علاقہ کے عالم دین تھے۔ ابھی آپ عہد طفولیت ہی میں تھے کہ آپ کے والد ماجد کا شہادت ہوگئی۔ اس کے بعد امام خمینی (رح) اپنی والدہ اور پھوپھی کی سرپرستی میں رہے۔ آپ نے ابتدائی اور سطح کے دروس تمام کرنے کے بعد آیت اللہ العظمی شیخ عبدالکریم حائری یزدی کے درس خارج میں شریک ہوئے اور استاد کی خاص توجہ کا مرکز بنے۔ آپ حوزہ علمیہ قم کی تاسیس کے سال قم آگئے اور آیات عظام شیخ علی اکبر یزدی اور محمد علی شاہ آبادی کی خدمت میں درس پڑھا اور بلند مقام پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد امام خمینی (رح) نے خود درس و بحث کا سلسلہ شروع کیا اور آپ کے شاگردوں کی تعدا کافی بنے جو اسلامی تحریک میں اپ کے ناصر و مددگار بھی رہے۔

حضرت امام ان لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے حضرت آیت اللہ بروجردی کی دعوت پر لبیک کہی اور ان کی حمایت کی ہے۔ پھر آیت اللہ بروجردی کے انتقال اور پہلوی مرکز کے اسلامی مخالف وسیع منصوبوں کے بعد حضرت امام ظالم و جابر کے خلاف اٹھ کھڑےہوئے اور ایران کی اسلامی تحریک کو آگے بڑھایا۔ اس دوران متعدد حوادث پیش آئے بالخصوص آپ نے کیپٹالیزم کے خلاف اعتراض کی وجہ ترکی، عراق اور اس کے بعد پیرس جلاوطنی کی زندگی گذاری۔

آپ ہمیشہ ظلم و جور کے خلاف آواز اٹھاتے رہے، اس کے سیاہ کارناموں اور گھناونی حرکتوں اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے۔ نتیجتا بہت سارے مصائب و آلام اور سختیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ آخر کا امام تقریبا 15/ سال جلاوطنی کے بعد سن 1979 ء کے فروری میں اپنے اسلامی ملک ایران  واپس آئے اور جمہوری اسلامی کی بنیاد رکھی۔

حضرت امام اپنے رہبری اور قیادت کے پورے دس سال کے دوران انقلاب کو خطرناک حوادث سے بچایا اور انقلاب کے بعد اور جنگ کے دوران انقلاب کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی اورسامراج کے مقابلہ میں عدالت طلبی اور حق طلبی کی آواز بلند کی۔ آخر کار اس مرد مجاہد اور علم و عمل کے نمونہ انسان نے 4/ جون 1989ء کو 88/ سال کی عمر میں دارفانی کو وداع کہنا پڑا۔ پھر دنیا میں بے مثال تشییع جنازہ کے بعد بہشت زہرا قبرستان میں سپرد لحد کردیئے گئے۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت