2022 - 09 - 25 ساعت :
اسلامی انقلاب

جمہوريت

2020-07-20 03

جمہوريت

حكومت كي ضرورتكسي بھي معاشري ميں نظم و ضبط كے لئے ايك (حكومتي) ڈھانچے كي شديد ضرورت ہے جو زندگي كے مختلف شعبوں ميں ہم آہنگي ايجاد كرے اور قومي امور كي باگ ڈور سنبھالے تاكہ طرح طرح معاشرتي مسائل، ضروريات كو پورا كرنے كے وسائل كے درميان ہماہنگي قائم رہے، اور مفيد و كار آمد قوتوں كو جمع كركے انھيں صحيح رخ پر لگائے تاكہ وہ اپني توانائياں معاشري كے مصالح و مفادات كے حصول كي راہ ميں استعمال كر سكيں اسي طرح عدل وانصاف كي بر قراري اور دوسروں كے حقوق پر ڈاكہ ڈالنے والے ظالم و جابر افراد سے مقابلہ اس كاايك اہم كام ہے اس كے ساتھ ہي ساتھ ايك معاشرہ كو اس لئے بھي كسي (حكومتي) ڈھانچے كي ضرورت ہے كہ جب ايك مضبوط، مؤثر اور قدرتمند اجتماعى موقف كي ضرورت پيش آئے وہاں يہ (حكومتي) ڈھانچہ مختلف آراء وافكار ميں ہماہنگي ايجاد كركے ايك مؤثر اور قوي و مفيد موقف اختيار كر سكے ايسا موقف جو فيصلہ كن حقائق پر مبني اور قابل اثر ہو، اس كے علاوہ اور بھي ديگر امور ہيں جو ايك معاشرہ ميں حكومت كي شديد ضرورت كو نماياں كرتے ہيں اور كسي كے لئے شك و شبہ كي گنجائش باقي نہيں رہتي۔

جب ايك مختصر سے خاندان كو (جو عظيم معاشري كي ہي ايك بنيادي اكائي ہے) ايك ايسے سر پرست كي ضرورت ہوتي ہے جو خاندان كے تمام امور كي نگراني كر ے، مختلف افراد كے فرائض اور ان كے امور ميں ہماہنگي ايجاد كر سكے تو اس عظيم معاشري كے لئے جو مختلف سماجي اكائيوں، اور مختلف احساسات و جذبات اور مختلف افكار وخواہشات كے حامل گروہوں اور سياسي جماعتوں سے تشكيل پاتا ہے بدرجہ اولي ايك (حكومتي) ڈھانچے كي ضرورتي آشكار ہوجاتي ہے۔
ولايت (سرپرستي و حكومت)يہ ايك اہم حقيقت جو تمام اعلي مرتبہ حكومتي عناصر يا حكومت ميں نماياں نظر آتي ہے يہ ہے كہ تمام حكام اور ارباب اقتدار ميں كچھ خصوصيات كا ہونا ضروري ہے تاكہ ان كي بنياد پر ان كا حكم نافذ ہو سكے وہ اپنے اہداف كي تكميل كر سكيں اور اپنے طريقہ كار اور اقدامات كے لئے جواز اور قانوني حيثيت ثابت كر سكيں۔ظاہر ہے حكومت كو اپنے مقاصد كي راہ ميں معاشري كے افراد يا گروہوں كو زندگي كے مختلف شعبوں ميں بعض ايسے امور سے بھي منع كرنا پڑتا ہے كہ اگر حكومت منع نہ كرتي تو وہ ضروريہ كام انجام ديتے، اسي طرح ان كو بعض ايسے كاموں كي انجام دہي پر مجبور كرنا پڑتا ہے كہ اگر حكومت نہ ہوتي تو وہ ہرگز ان كاموں كو انجام نہ ديتے، چنانچہ اسي طرح كے امور كے لئے حكومت كو بعض اختيارات كي ضرورت ہے ۔ياد رہے اخلاقي طور پر انسان پوري طرح آزاد ہے كہ وہ اپنے لئے كسي بھي راستے كا انتخاب كرے اور جو كام چاہے انجام دے، كيونكہ تخليقي طور پر انسان آزاد پيدا ہوا ہے كسي چيز كا چاہنا اور كسي چيز كا نہ چاہنا اس كي طبيعت اور فطرت ميں شامل ہے، معلوم ہواانساني ضمير انسان كي كسي كام سے نہيں روكتا اور نہ ہي اس كي آزادي كو سلب كرتا ہے مگر يہ كہ مندرجہ ذيل دو حالتوں ميں سے كوئي ايك پيش آجائے گي۔
1) خدا كي طرف سے امر و نہىانسان مومن خدا كے حقيقي مالك اور ولي و حكمران ہونے پر ايمان و يقين ركھتا ہے اور جانتا ہے كہ انسان كو خدا كے اوامر و نواہي كي نافرماني كا حق حاصل نہيں ہے اس عقيدہ كے پر تو ميں آگاہ و بيدار انساني ضمير انسان كو فقط اس حد تك آزادي عطاكرتا ہے كہ جہاں تك خدا نے اجازت دي ہے، دوسري الفاظ ميں ايك انساني ضمير انسان كو دوسري انسانوں كے مقابلے ميں تو آزادي وخود مختاري عطا كرسكتا ہے، خدا مقابلے ميںنہيں۔
2) دوسروں كي آزاديانساني ضمير حكم كرتا ہے كہ انسان كو اسي حد تك آزادي حاصل ہے كہ وہ دوسروں كي آزادي ميں خلل ايجاد نہ كرے لہٰذا جب بھي انسان اس حد سے آگے بڑھتا ہے اسے اس كا اپنا ضمير خبردار كرتا ہے كہ تم خطا كر رہے ہو اور اپني حدوں سے آگے بڑھ رہے ہو، ان دونوں حالتوں كے علاوہ كوئي اور وجداني قوت، فطري آزادي ميں ركاوٹ نہيں ايجاد كر سكتي جب كہ ہم ديكھتے ہيں كہ فطري طورپر حكومت تقاضا كرتي ہے كہ بہت سي آزاديوں كو نظر انداز كردينا اور صرف وجدان كے تقاضوں تك محدود نہ ركھنا ضروري ہے پابنديوں كا دائرہ اس اسے وسيع تر ہونا چاہئے۔مثلاًحكومت بعض كاموں كو عمومي سطح پر ممنو ع كر ديتي ہے اور بعض امور (دوسروں كے خاطر) انجام دينے كا حكم ديتي ہے جيسا كہ ٹريفك وغيرہ كے قوانين ميں نظرآتا ہے

دوسري 2 طرف حكمراں جماعت (ايك ايسے معاشري ميں جو شخصي ملكيت كا قائل ہو) بعض اوقات مجبور ہوتي ہے كہ وہ لوگوں كي ملكيت كے دائروں كو محدود كردے مثلاً چيزوں كي قيمت معين كردے كہ اس كے مطابق فلاں جنس كي خريدو فروخت ضروري ہے۔اس قسم كے اور بہت سے كام جو بظاہر شخصي ملكيت كے ساتھ ميل نہيں كھاتے اور اپنےمال پر اختيار باقي نہيں رہنے ديتے اب ايك ايسے معاشري ميں جو اس بات كاقائل ہے كہ لوگ اپني اشياء كےمالك ہيں اور ان ميں ہر قسم كے تصرف كا حق ركھتے ہيں اگر ارباب حكومت اس اختيار كو سلب كرنا چاہتے ہيں اور شخصي ملكيت كے خلاف حكم نافذ كرنا چاہتے ہيں تو حكومت كے لئے اپنے اقدامات كے جواز ميں كوئي راہ نكالنا ضروري ہے جس پر عوام اور حكومت دونوں متفق ہوں ۔

يہاں پر ايك اور نكتہ بھي قابل ذكر ہے كہ متعدد امور ميں حكومت كے لئے اس كے علاوہ كوئي چارہ كار نہيں ہوتا كہ لوگوں پر سختي كرے اور انھيں بعض ايسي پابندياں قبول كرنے پر مجبوركرے جن ميں لوگ آزاد رہنا پسند كرتے ہيں، يا لوگ اپنا فريضہ سمجھتے ہيں كہ ايك كام نہ كريں، ليكن حكومت مجبور كرتي ہے كہ يہ كام قومي اتحاد ويكجہتي كي خاطر يا كسي دوسري ھدف كے حصول كي خاطر ضرور كيا جائے، مثال كے طورپر حكومت سمجھتي ہے كہ ملك كي فوجي قوت كو قوي كرے تاكہ بيروني حملے كي صورت ميں پوري قوت سے دشمن پر كاري ضرب لگائي جاسكے اس دوران ممكن ہے ايك گروہ كا خيال ہو كہ فوجيبجٹ ميں اضافہ صحيح نہيں ہے كيوں كہ يہ اقدام ملك كي اقتصادي ترقي كي راہ ميں ركاوٹ بنے گا۔اس ميں كوئي شك نہيں كہ ان حالات ميں حكومت اس گروہ كو ان كے حال پر آزاد نہيں چھوڑ سكتي كہ

وہ اپنے خيال كے مطابق جو چاہيں كريں ليكن سوال يہ ہے كہ حكومت كو وہ حق اور ختيار كيسے ملا كہ جس كي بنياد پر لوگوں كو ان كي خواہشات و ميلانات كے خلاف موقف اختيار كرنے پر مجبور كرے چنانچہ اگر حكومت كا معاملہ نہ ہوتا تو افراد پر اس طرح كا دباؤ ڈالنا ممنوع ہوتا ۔مختصر يہ كہ يہ ممكن ہي نہيں ہے ايك معاشري ميں اعليٰ اختيار كي حامل حكمراں كو نسل موجود ہو اور اس كے باوجود معاشري كے تمام افراد ذاتي ملكيت كي بنياد پر ہرقسم كے تصرفات ميں شخصي طورپر آزاد ہوں، اور اپني ذاتي آراء و خواہشات كے مطابق جو روش اپنانا چاہيں، انتخاب كريں۔بنابرايں ايك ايسي حكومت كا وجود ضروري ہے جو حكم دے كہ فلاں كام انجام ديا جائے اور فلاں كام انجام نہ ديا جائے جو قوانين و ضوابط معين كرے اور جو معاشري كوايك معين رخ عطاكرے، جب يہ ايك ناقابل انكار حقيقت ہے تو سوال پيدا ہوتا ہے كہ حكومت كو يہ حق كيسے حاصل ہوا ور ارباب اقتدار كي حكمراني كا سر چشمہ كيا ہو؟ كہ جس كي بنياد پر حكومت كو جائز قرار ديا جا سكے؟اب ہم اس سوال كا”حكومت كي بنياد “يا”سر چشمہ ولايت” كے عنوان سے جائزہ ليں گے تاكہ معلوم ہو جائے كہ ايك حكومت كو عوام اور معاشري پر حكمراني اور تسلط واقتدار كا حق كيسے حاصل ہوتا ہے اور وہ كس حق كي بنياد پر لوگوں كي بنيادي آزاديوں كو قانوني دائروں ميں محدود كرتي ہے، اس منزل ميں يہ بحث ناگريز ہے كہ حكومت كو وسيع بنيادوں پر حكمراني و تسلط كا حق كہاں سے حاصل ہوا اور حكمراني و اقتدار كا وہ كون سا جواز ہے؟ جس نے اسے ايك ظالمانہ واستبدادي نظام حكومت سے الگ كر ديا ہے؟ !
حكومت كي اساسكسي بھي حكومت كي برقراري كاتصور اس وقت تك نہيں كيا جا سكتاجب تك اس كي بنياديں دو اہم ستونوں پر استوار نہ ہوں ان دونوں ستونوں كا استحكام كہ جن كي حقيقت كو غير محسوس طور پر خود انساني ضمير دل كي گہرائيوں سے قبول كرتا ہے اور عوام كے درميان حكومت كي برقرار ي كے لئے ضروري ہے ۔1) جس كي طرف گذشتہ بحثوں ميں اشارہ ہو چكا ہے يعني حكومت كا كوئي محكم و استوار سر چشمہ ہونا بے حدضروري ہے تاكہ حكومت اپني ولايت اور اقتدار كا جواز اس سے حاصل كرسكے ۔2) دوسرا يہ كہ حكومت كا نفاذ اور حكومت كي پاليسياں اور منصوبے سماجي مصلحتوں اور بھلائيوں كے ساتھ ميل كھاتي ہوں۔
ڈكٹيٹر شپ اور جبر استبداداس منطقي بحث ميں “ڈكٹيٹر شپ” جو جبرو استبداد پر استوار ہوتي ہے كوئي مفہوم نہيں ركھتي كيونكہ اس ميں اپنا اقتدار وتسلط برقرار ركھنے اور معاشري كو اپنے احكام و فرامين ماننے پر مجبور كرنے كے لئے ظلم و استبداد اور قوت وغلبہ كا سہارا ليا جاتا ہے، طاقت كي زبان كے علاوہ استبدادي حكومتوں كے حق ميں كسي قسم كي منطقي دليل پيش كرنا ممكن نہيں ہے كيونكہ ذكر شدہ دونوں ستونوں سے محروم ہوتي ہے نہ تو اس كو معاشري پر حكمراني كا كوئي قانوني و شرعي حق حاصل ہوتا ہے اور نہ ہي اس كے منصوبے اور پاليسياں سماجي اور معاشرتي بھلائيوں كے ساتھ ميل كھاتي ہيں ۔يقينا بعض اوقات استبدادي حكومت بھي دعويٰ كرتي ہے كہ اس كے پاس انساني بنيادوں پر عقل و وجدان كو مطمئن كرنے والا حكمراني كاجواز اور دليل موجود ہے اور وہ يہ كہ ہم ظلم و ستم كے شكار لوگوں كو ظالم كے ظلم سے نجات دينا اور ظلم وستم كے ہاتھوں كو عدل و انصاف كي تلوار سے كاٹ دينا چاہتے ہيں اور كہتے ہيں كہ ہم نے معاشري ميں بعض لوگوں پر بعض دوسري افراد كے ناروا سلوك كو ختم كردينے كے لئے حكومت سنبھالي ہے، يا اس قسم كي دوسري باتيں، اسي طرح يہ بھي ممكن ہے كہ اہل استبداد دعويٰ كريں كہ وہ عقلي اصولوں كي بنياد پر شخصي ملكيتوں كو ايك ايسے دائري ميں محدود كرنا چاہتے ہيں جو عملي طور پر قابل اجراء ہوں

ظاہر ہے اس طرح كے نظريات ميں اگر واقعي طورپر قومي مفادات پيش نظر ركھے جائيں تو ملكيتوں ميں انساني تصرفات و اختيارات كو محدود كيا جا سكتا ہے اور حكومت كو دوام واستحكام بھي مل سكتا ہے، جيسا كہ ہماري گذشتہ بحثوں سے واضح ہو چكا ہے كہ حكومت كے احكام اور تسلط كا دائرہ ان حدود سے آگے بڑھ جاتا ہے كہ جس كا وہ دعويٰ كرتے ہيں اور انساني عقل و وجدان كي نظر ميں جو پابندياں جائز كہي جاتي ہيں معلوم ہوا عام طورپر رائج استبدادي حكومت ضرورت سے زيادہ اپنا پاؤں پھيلاليتي ہے خاص طورپر بڑے اور پيچيدہ معاشروں ميں يہ بات بخوبي قابل مشاہدہ ہے۔پس استبدادي حكومت لوگوں پر تسلط واقتدار كے قانوني جواز سے پوري طرح محروم ہے اور طاقت و قدرت كے استعمال كے علاوہ حكمراني كا كوئي اور چارہ اس كے پاس نہيں ہے، (طاقت و قدرت ہي سے استفادہ كرتي ہے)بنابرايں استبدادي نظام حكومت كے پہلے ستون (عوام الناس پر حق حكومت كي) قانوني بنياد سے عاري ہے اور صرف اس بات كا دعويٰ كر سكتي ہے كہ وہ دوسري ستون يعني عوام الناس كي بھلائي كو پيش نظر ركھتي ہے (اور اس بنياد پر استوار ہے) ان كاتمام ہم وغم معاشري كي ترقي اور فلاح و بہبود ہے

ليكن كيا كيجئے گا ان كے پاس اس دعوے كي بھي كوئي دليل نہيں ہے ڈكٹيٹر حكمران طاقت واقتدار كے ذريعے تخت حكومت پر براجمان ہو كر اپنے تمام تر اعليٰ مقاصد بھول جاتے ہيں، انساني وجدان و ضميربھي اس طرز فكر كي مخالفت كرتا ہے، انساني وجدان كا تقاضا كرتا ہے كہ حكومت اور عدل وانصاف كي برقراري كے لئے صحيح راہ سے قانوني جواز حاصل ہو نا چاہئے، صرف معاشري كي فلاح و بہبودكے بہانے قہر وغلبہ سے حكومت كرنا صحيح نہيں ہے۔انسانوں ميں حب ذات كا مرض بھي بہت شديد ہے اور اس مادي دنياميں ايك دوسري كے شخصي مفادات اور مصالح بھي آپس ميں متصادم ہيں، ان تمام امور كو پيش نظر ركھتے ہوئے يہ تصور كرلينا معقول نہيں ہے كہ ايك ڈكٹيٹر پوري معاشري كے مفادات كو شخصي مفادات پر مقدم ركھنے كا پابند رہےگا، بلكہ عام طور پر سبھي انسان اپنے مفادات كو دوسروں كے تمام امور (قومي مفادات) پر ترجيح ديتے ہيں۔

اور بعيد نہيں كہ ضمير ووجدان كي نگاہ ميں بھي اس كا يہ كام غلط اور ناروا محسوس نہ ہوكيونكہ قہر وغلبہ اور طاقت كے بل بوتے پر قائم ہونے والي حكومت خود كو كسي بھي قانو ن اور جواز كا پابند نہيں سمجھتي لہٰذا جو كسي بھي قسم كے جواز كے بغير خلاف وجدان لوگوں كا حكمران بن بيٹھا ہے اگر اپنے ذاتي مفادات كو عوام الناس كي فلاح و ترقي پر ترجيح دے تو كوئي بعيد بات نہ ہوگي۔
ولايت واقتدار كا سر چشمہكسي بھي معاشري پر حكمراني كے لئے ولايت واقتدار كے استحكام كي اساس و بنياد صرف دو چيزوں پر قائم ہوتي ہے۔
1) عوام كي راى2) خداوند متعال كا انتخاب كہا جاتا ہے كہ جب عوام كسي فرد خاص يا جماعت كو معاشري كا نظم ونسق اور معاشري كي حكمراني اپنے اختيار وانتخاب سے سونپ ديں تو اس فرد يا جماعت كي حكومت ذكر شدہ قانوني جواز اور مصلحتوں كے تحفظ دونوں ستونوں پراستوار ہوگى، حكمراني كي اس قسم كو “جمہوريت”كہا جاتا ہے، البتہ لفظ جمہوريت كي متعدد تعريفيں كي گئي ہيں اور اس منزل ميں جمہوريت سے ہمارا مقصود يہ ہے كہ راہ و روش كے تعين كا حق عوام كے ہاتھ ميں ہو اور خود عوام ارادہ و اختيار سے نظم و نسق قائم كريں، قانون سازي كريں اور قانون پر عمل درآمد كے لئے افراد كاانتخاب كريں خواہ يہ كام عوام بلا واسطہ خود انجام ديں يا بالواسطہ منتخب نمايندوں كے ذريعہ انجام پائے، يا دونوں طريقوں سے يہ كام انجام ديا جائے۔

جمہوريت كي اصطلاح “جان جاك روسو”نے ايك خاص معني ميں استعمال كي ہے، ان كي نظر ميں جب حكمران كونسل كے اركان كي تعداد پوري عوام پر يا عوام كي اكثريت پر يا عوام كي نصف تعداد پر مشتمل ہو (تو وہ جمہوري حكومت كہي جائے گي) “جان جاك روسو” كے الفاظ ميں”حكمران كونسل حكومت كے امور كو پوري ملت كو يا عوام كي واضح اكثريت كواس طرح سونپ سكتي ہے كہ حكمراني ميں شريك شہريوں كي تعداد غير متعلقہ شہريوں (حكمراني ميں شريك نہ ہونے والوں) كي تعداد سے زيادہ ہو تو حكومت كے اس طرز كو (جمہوريت) كانام دياجاتا ہے ۔اسي طرح ارباب حكومت كويہ بھي حق حاصل ہے كہ زمام حكومت ايك اقليت كے حوالے اس طورپر كرديں كہ غير متعلقہ شہريوں كي تعداد حكومت كے امورميں شريك شہريوں كي تعداد سے زيادہ ہو تو اس طرز حكومت كو ارسٹوكريسي 3 كہا جاتا ہے اسي طرح يہ بھي ممكن ہے كہ زمام اقتدار كسي شخصي واحد كے حوالے كر ديا جائے اور باقي تمام لوگ حكومت كے امور ميں اپنے قانوني عہدے (قانوني جواز) اسي فرد واحد سے حاصل كريں اور حكومت كي يہ قسم جو باقي تمام كي نسبت زيادہ رائج ہے “بادشاہت” يا “شاہي حكومت” كے نام سے معروف ہے۔

يہاں پر اس امر كو مدنظر ركھنا ضروري ہے كہ مذكورہ تمام اقسام حكومت “يا كم از كم پہلي دو قسموں ميں حكومت كے دائروں ميں بڑے پيمانے پر كمي و زيادتي ممكن ہے اور اہل اقتدار ان دونوں قسموں ميں عملي طور پر وسيع حد تك تصرف ميں آزاد ہيں كيونكہ جمہوريت كے دائري ميں يہ صلاحيت اور گنجائش موجود ہے كہ قوم كے تمام لوگوں كو (امر حكومت ميں) ساتھ ركھيں ان كي تعداد گھٹا كر عوام كي صرف نصف تعداد كو ساتھ ملائيں اسي طرح” يعني امراء كي حكومت ميں بھي يہ صلاحيت اور گنجائش موجود ہے كہ حكومت كے امور ميں دخيل لوگوں كي تعداد ايك بڑے دائري يعني آدھے لوگوں سے گھٹا كر چند افراد كي قليل تعداد تك محدود كر دي جائے (كسي بھي طرح كي كوئي پابندي نہيں ہے)حتي حكومت كي تيسري قسم يعني “بادشاہت”ميں بھي تقسيم بندي ممكن ہے مثال كے طورپر “اسپارٹيوں” كے اپنے ملكي آئين كے مطابق ہميشہ بيك وقت دو بادشاہ ہوا كرتے تھے، ياسلطنت روم كے فرمانرواؤں كي تعداد كبھي كبھي ايك ہي وقت آٹھ افراد تك پہنچ گئي ہے بغير اس كے كہ خود سلطنت مستقل خود مختار آٹھ حصو ں ميں تقسيم ہوئي ہو۔

اس ذيل ميں ايك قابل غوربات كہ حكومت كي مذكورہ تينوں اقسام ممكن ہے كہيں ايك دوسري سے مخلوط اور ملي جلي نظرآئى، كيونكہ ہم ديكھتے ہيں كہ عوام كي مشاركت كے لحاظ سے حكومت كي مذكورہ بالا تينوں قسميں جمہوريت، ارسٹوكيسي اور بادشاہت مختلف شكلوں ميں قابل مشاہدہ ہيں بلكہ اس سے بھي بڑھ كر حكومت كے يہ سبھي طريقے اپني جگہ كئي پہلوؤں سے وسيع ہونے اور اجزاء ميں تقسيم كئے جانے كي صلاحيت ركھتے ہيں چنانچہ اس كے مختلف اجزاء ميں شيوہ٘ حكمراني بھي مختلف و متفاوت ہو سكتا ہے اس طرح مذكورہ تينوں طر زحكومت كي آميزش سے كچھ ايسے نئے طرز حكومت پيش كئے جا سكتے ہيں جو مختلف ہونے كے باوجود مذكورہ كسي نہ كسي قسم كے ساتھ منطبق كئے جا سكتے ہيں ۔

تاريخ كے تمام ادوار ميں ہميشہ حكومت كي بہترين قسم كے متعلق معركۃالآراء بحثيں ہوتي رہي ہيں ليكن كبھي اس نكتے كي طرح توجہ نہيں دي گئي ہے كہ مذكورہ بالا تمام اقسام كي حكومتيں بعض شرايط اور حالات ميں ممكن ہے بہترين اور مناسب ترين ہوں ليكن بعض شرائط و حالات ميں بدترين ثابت ہوں حكمران اور محكوم طبقے كے درميان نسبت كا معكوس ہونا ضروري ہے 4تو اس قاعدے كے مطابق “جمہوريت “چھوٹي مملكتوں كے لئے مناسب ہے ارسٹوكرےسي”مخصوص طبقے يعني امراء كي حكومت”متوسط ملكوں كے لئے ٹھيك ہے اور “باد شاہت “بڑي بڑي حكومتوں كے لئے مناسب ہوگى، يہ قاعدہ كليہ ان ہي اصول و قواعد كي بنياد پر اخذ كيا گيا ہے (جو گذشتہ بحثوں ميں ثابت ہو چكے ہيں)(ليكن سوال يہ ہے كہ) ان مخصوص حالات اور مخصوص زمان ومكان كے تقاضوں كا كسي طرح محاسبہ لگكيا جائے جو غيرمعمولي حالات اور مستثنيات كا سبب بنتے ہيں؟يہ جو كچھ آپ نے پڑھا پوري تفصيل سے جان جاك روسو نے اپني كتاب پيمان معاشرت كے تيسري باب ميں ذكر كيا ہے۔ 5

كيونكہ جان جاك روسونے جمہوريت كي جو تعريف كي ہے اس كے تحت اس كادعويٰ ہے كہ كسي بھي وقت حقيقي جمہوريت كا حصول ممكن نہيں ہے۔جان جاك روسو كے الفاط ہيں”جب ہم جمہوريت كا اس كے كسي بھي معني ميں دقت نظر سے جائزہ ليتے ہيں تو پتہ چلتا ہے كہ حقيقي جمہوريت نہ تو كبھي وجود ميں آئي ہے اور نہ كبھي وجود ميں آئے گي كيونكہ يہ چيز نظام فطرت كے خلاف ہے كہ اكثريت حكمراني كرے اور اقليت محكوم ہو علاوہ ازايں يہ تصور كرنا بھي ممكن نہيں ہے كہ پوري قوم امور عامہ كے حل اور صلاح و مشورہ كے لئے ہر روز اكھٹاہوسكے اور اگر اس بات كي اساني كے لئے اپني طرف سے مختلف كميشن تشكيل ديں گے تو حكومت كے امور چلانے كے لئے نظام كي شكل تبديل كرنا پڑے گي (اور وہ شكل) ڈيموكرےسي كے علاوہ كوئي اور شكل ہوگي ۔ 6جب حكمراں كونسل سے مراد صرف وہ لوگ ہيں جو معاشري اور ملك كے نظام ميں براہ راست مشغول ہيں تو (ا س تعريف كے مطابق) اس گروہ ميں تمام لوگ شامل نہيں ہوسكتے جو صرف اظہار نظر كي حد تك مداخلت كا حق ركھتے ہوں لہٰذا يہ تصور كوئي معني نہيں ركھتا كہ معاشري كے تمام افراد يا ان كي اكثريت يا كم از كم ان كي نصف تعداد حكومت كے تمام امور ميں دخيل ہو سكتي ہے !!مگريہ كہ يہ صورت ايك نہايت ہي مختصر معاشري كے باري ميں تصور كريں، جس معاشري كي كوئي اہميت نہ ہو ليكناس كے باوجوديہ دعويٰ كيا جا سكتا ہے كہ جمہوريت اس معني ميں جوہم نے آغاز ميں گفتگو پيش كيا ہے، چھوٹے بڑے تمام ممالك اور معاشروں ميں قابل عمل اور مناسب ہے بلكہ اس سے بڑھ كرےہ دعويٰ بھي كيا جا سكتا ہے كہ عصر حاضر ميں، تمام ممالك كے لئے جمہوريت ہي بہترين شيوہ حكومت ہے ۔بہر حال جمہوريت ايك مغربي اصطلاح ہے جس ميں عوام ہي بيك وقت قانون ساز بھي ہيں اور قانون پر عمل درآمد كرانے والے بھي۔ 7

بعيد نہيں ہے كہ جمہوريت كے طرفدار اپنے نظريہ كے دفاع ميں جمہوريت كو گذشتہ ستونوں (يعني سرچشمہ حكومت اور قومي مفادات كا تحفظ) كے ساتھ ہماہنگ بنانے كے لئے يہ كہيں كہ درحقيقت جمہوريت ايك شخص كي دوسري شخص پر حكمراني كے معني ميں نہيں ہے بلكہ جمہوريت سے مراد تمام لوگوں كو تمام لوگوں پر حكومت ہے يعني عوام خود عوام پر حكمران ہوں، لہٰذا كسي قسم كا تسلط، اقدار اور زور زبر دستي كا مسئلہ نہيں ہے تاكہ يہ سوال پيدا ہو كہ اس تسلط و حكمراني كا سر چشمہ اور اس حكمراني كا جواز كيا ہے؟ بہ الفاظ ديگر جمہوريت ميں حكمران ٹولہ نے حكمراني كا حق اور جواز خود عوام سے ہي اجتماعى معاہدے كي بنياد پر حاصل كيا ہے اور اس معاہدے كے مطابق خو د عوام نے يہ قوانين بنائے ہيں اور اس قانون پر عمل در آمد كے لئے نمايندے منتخب كئے ہيں۔

چنانچہ اس ميں بھي كوئي شك نہيں كہ خود انساني ضمير ووجدان مختلف افراد اور معاشري پر ضروري قرار ديتا ہے كہ وہ معاہدے كي پابندي كريں اور اس كو بروئے كار لانے كي پوري كوشش كريں ۔اس دعوے كے جواب ميں مخالفين كا كہنا يہ ہے كہ جمہوريت ميں تمام عوام كو راضي ركھنے كي صلاحيت نہيں ہے اور نہ ہي تمام عوام كي راي اور افكار كے مطابق عمل كرسكتي ہے بہت كم ديكھنے ميں آتا ہے كہ تمام عوام كسي خاص مسئلے پر متفق اور ہم آوازہوں نتيجہ ميں اكثريت كي راي پر عمل كے سواكوئي چارہ نہيں ہے۔

اور اس صورت ميں اقليت كے حقوق پامال ہو جاتے ہيں اور نہ چاہتے ہوئے بھي اقليت كو اكثريت كي اطاعت كرنا پڑتي ہيں جسے انساني ضمير و وجدان قبول نہيں كرتا مگر يہ كہ جمہوريت كے طرفدار يہ دعويٰ كريں كہ ايك اساسي اور بنيادي مسئلے پر قومي اتفاق پايا جاتا ہے اور وہ يہ كہ فيصلوں ميں اكثريت كي راي كو معيار قرار ديا جائے گا اور پھر اس عوامي معيار كو قبول كر لينے كے بعد اتفاق راي كے فيصلوں پر عمل، ضمير و وجدان كے مطابق ہوگا (اقليت اپني مخالفت كے باوجود) اكثريت كي راي كا احترام كرے گي اور اكثريت كے فيصلے كو قبول كر لے گي ۔بعض اوقات مخالفين كہتے ہيں كہ شايد كسي معاشري ميں ايك ايسي اقليت موجود ہو جو اس امر كو قبول نہ كرتي ہو كہ قومي فيصلوں ميں معياور وملاك اكثريت كي خواہش كوبنايا جائے يا فرض كريں وہ اقليت ايك ايسے دين ومكتب كي پيرو ہو جو اس معيار كو قبول نہ كرتي ہو يا وہ لوگ اس معيار كو اپنے مفادات كے منافي سمجھتے ہوں، يا كسي اور وجہ سے اس معيار كو قبول نہ كرتے ہوں، تو اب اس اقليت كے سلسلے ميں كيا موقف اختيار كيا جائے گا؟ كيا انہيں ان كے حال پرآزاد چھوڑ ديا جائے كہ جوچاہيں انجام ديں اور اس بات كو بہانہ بنا كر كہ انہوں نے اس قرارداد كو قبول نہيں كيا تھا انھيں حكومت كے فيصلوں كا پابند نہيں بناياجا سكتا چانچہ اگر ايساہوا تو معاشري ميں ہرج ومرج ايجاد ہوگا، يا انہيں مجبور كيا جائے كہ وہ اجتماعى معاشري كے نتيجے ميں وضع ہونے والے قوانين كي پابندي كريں، ليكن ايسا كرنا انساني ضمير و وجدان كے خلاف ہوگا جيسا كہ پہلے بيان ہو چكا ہے۔

جمہوريت كے طرفدار اس كے جواب ميں زور دے كر كہتے ہيں كہ اس طرح كے افراد جمہوريت كے راستے ميں ركاوٹ نہيں بن سكتے كيونكہ اجتماعى معاہدوں كي مخالفت خود اس اقليت كو معاشري ميں الگ تھلگ اور تنہا كردينے كا باعث بنے گي اور وہ معاشري ميں زندگي گذارنے والے ان بيگانوں كي مانند تصور كئے جائيں گے كہ جنھوں نے خود كو (اكثريت كي آراء) كو قبول كرنے والي اكثريت كے ساتھ كھڑا كر ليا ہوتو ان كا ان حالات كے باوجود معاشري ميں زندگي گذارنا اس بات كے مترادف ہوگا كہ وہ بھي اجتماعى معاہدے كے تحت بنائے جانے والے قوانين كو قبول كر رہے ہيں كيونكہ ان كا اس معاشري ميں مكمل آزادي وا ختيار كے ساتھ رہنا قوانين سے راضي ہونے كي علامت ہے ۔جان جاك روسو نے اپني كتاب “پيمان معاشرت “ميں لكھا ہے اگر كچھ لوگ اجتماعى معاہدہ كے وقت اس كے مخالف ہوں تو ان كي مخالفت اس معاہدے كو باطل نہيں كر سكتي۔بلكہ اس كا مطلب فقط يہ ہوگا كہ وہ لوگ معاشري كے ہم پيمانوں كي صف سے الگ ہيں اور اس صورت ميں مخالفين ان بيروني عناصر كےمانند ہوجائيں گے جو ايك خاص طرز كي حكومت كے پابند افراد كے درميان زندگي بسر كرنا قبول كرليں، پس ان كا اس معاشري ميں رہنا اس حكومت كے قوانين سے راضي ہونے كي دليل ہے كيونكہ كسي بھي مملكت ميں سكونت اختيار كرنا اس ملك كے قوانين كے سامنے سر تسليم خم كرنے كے مترادف ہے۔ 8

يہ بات ڈيموكرےسي كےماننے والے اس كے قانوني جواز كے دفاع ميں جو حكومت كا پہلا ستون ہے، كہتے ہيں۔اب رہي حكومت كے دوسري ستون يعني معاشرہ كي مفادات كے تحفظ كي بات تو اس سلسلے ميں بنيادي مسئلہ يہ ہے كہ جب جمہوريت سے عوام پر خود عوام كي حكومت مراد ہے تو قدرتي طور پر جمہوري حكومت كو معاشري كے مفادات كے لئے تگ و دو كرني چاہئے۔كيونكہ عوام اپني مفادات و مصالح كے سوا اور كچھ نہيں چاہتے ہم نے فرض يہ كيا ہے كہ حكمران طبقہ عوام سے جدا نہيں (بلكہ حاكم و محكوم دونوں عوام سے ہيں) لہٰذا يہ تصورنہيں كيا جا سكتا كہ حاكم اپنے ذاتي مفادات كو قومي مفادات پر ترجيح دے گا اور يہ چيز بتاتي ہے كہ قومي مفادات ومصالح كے تحفظ كي ضمانت فراہم كرنے كے لئے جمہوريت سے بہتر كوئي اور طريقہ ٴ حكومت نہيں پايا جاتا۔اس طرح ہم ديكھتے ہيں كہ “جمہوريت” كے طرفدار اپنے نظريہ كي تائيد اور اس كي منطقي بنيادوں كے دفاع ميں كہ يہ طرز حكومت دونوں ستون (حكومت كي قانوني حيثيت اور معاشري كے مفادات) كي حامل ہے اجتماعى معاہدوں كا سہارا ليتے ہيں۔

جمہوريت كے طرفدار دوسري لوگ تو “قومي مفادات” كوہي جمہوري طريقہٴ حكومت كي قانوني حيثيت اور جواز كے لئے مستقل دليل قرار ديتے ہيں جيسا كہ ڈاكٹر عبد الحميد متولي نے پروفيسر آزمن كي عبارت سے مطلب نكالا ہے ڈاكٹر عبد الحميد متولي لكھتے ہيں” چونكہ قيادت اور حكمراني كي فلسفي بنياد اس امر پر استوار ہے كہ حكومت ايك ايسا الٰہي حق ہے (يا خدا نے ارباب اقتدار كو تفويض كياہے) لہٰذا حكمراني كي بنياديں فلسفي اعتبار سے روسو كے”پيمان معاشرت” كے نظريہ كي طرف پلٹتي ہيں۔ليكن پروفيسر آزمن كي مانند بعض فرانسوي مفكرےن نے اس سے مختلف نظريہ پيش كيا وہ كہتے ہيں: حكمراني كا ايك اور جواز ہے وہ يہ كہ عوامي حكومت كي ضرورت صرف ا س لئے ہے كہ قومي مفادات محفوط رہيں، اور اسي لئے ضروري ہے كہ قوم اپني حكومت پر نظر ركھے كہ وہ كيا كر رہي ہے۔ 9اس عبارت سے صاف معلوم ہوتاہے كہ يہ كہنے والا حكومت كي بر قرار ي كوايك مسلم امرمانتا ہے اور اس بات پر زور ديتاہے كہ حكومت كي تشكيل قومي مفادات اور ان كي ضروريات كي تكميل كے لئے وجود ميں آتي ہے لہٰذا ارباب حكومت پر نظر ركھنے كے لئے قومي كنٹرول ضروري ہے۔ليكن ہمارا اصلي سوال حكومت كے اصل جواز سے متعلق ہے ورنہ ہم اس بات كو قبول كرتے ہيں كہ حكومت چونكہ قومي مفادات كي تكميل كے لئے وجود ميں آتي ہے لہٰذا اس كي كار كردگي پر قوم كا كنٹرول اور نگراني ضروري ہے ليكن يہ مسئلہ حكومت كي اصل بنياد اور تسلط كے جواز كي دليل نہيں بن سكتا ولو ہم حكومتي امور ميں قوم كي نگراني كے حق كو قبول بھي كرليں۔

جي ہاں اگر ہم فرض بھي كر ليں كہ قوم كو حكومت كي نگراني كا حق حاصل ہے كيونكہ حكومت قومي مفادات كي تكميل كي غرض سے وجود ميں آئي ہے پھر بھي اصل سوال باقي رہتا ہے كہ حكمرانوں كو حكومت كرنے يا قانون جاري كرنے، اپنا اثرو رسوخ استعمال كرنے اور عقل و جدان كے فيصلوں كے خلاف ابتدائي ترين آزاديوں كو محدود كرنے اور معرض خطر ميں ڈالنے كا يہ حق كہاں سے حاصل ہوا؟ اور اس كا سر چشمہ كيا ہے؟ اجتماعى معاہدے كے علاوہ كيا كوئي اور چيز ہونا ممكن ہے؟ !اس سے قبل ڈكٹيٹر شپ كے طرفداروں كے اس دعوے كے جواب ميں كہ ہم قومي مفادات كي تكميل كے لئے كام كرتے ہيں، ہم عرض كر چكے ہيں كہ فقط قومي مفادات كے لئے كام كرنا حكومت كي قانوني حيثيت اور جواز كي دليل قرار پائے اس كو انساني وجدان قبول نہيں كرتا ۔
جمہوريت كي مشكلاتہم يہاں جمہوري نظام كي چند اہم مشكلات كا ذكر كرتے ہيں جن كے لئے مناسب راہ حل اور جواب تلاش كرنے كي ضرورت ہے۔
1) اكثريت كي جہالت اور خواہشات كا غلبہاس ميں كوئي شك نہيں كہ عوام كي اكثريت معاشري كے لئے مفيد امور سے جاہل ہوا كرتي ہے عوام كي اكثريت جذباتي اور نفساني خواہشات سے مغلوب ہوتي ہے اگر ہم ملك و قوم كي باگ ڈور (جاہل) عوام كے سپرد كرديں تو اس كي كوئي ضمانت نہيں دي جا سكتي كہ عوام غلط راستوں پرگامزن نہيں ہوں گے اور خواہشات نفساني كي پيروي نہيں كريں گے، اسي وجہ سے كہا گيا ہے كہ”جب صدائيں زيادہ ہوں تو حق ضائع ہوجاتاہے” اس مشكل كو بر طرف كرنے كي بہترين راہ يہ ہے كہ تجربہ كار، اور پختہ آراء كے حامل ارباب حل و عقد پر مشتمل ايك مجلس قومي اور ملكي وغيرملكي امور اور تعلقات پر بحث و گفتگو اور تبادلہٴ خيال كے بعد ايك دوسري كي مدد سے ضروري قانون مرتب كريں، اس مشكل كے لئے نظام جمہوريت ميں كہا گيا ہے كہ قانون سازي كي ذمہ داري دو طريقوں سے عوام كے سپرد كي جا سكتي ہے۔

الف) بلاواسطہ شركت: (ريفرنڈم) يعني معاشري كے تمام افراد قانون سازي كےتمام مراحل ميں براہ راست شريك ہوں۔ب) بالواسطہ شركت: عوام اپنے منتخب نمايندوں كے ذريعے بالواسطہ طورپر قانون سازي كے عمل ميں شريك ہوں يعني عوام اہل حل وعقد كي ايك جماعت كو منتخب كريں جو اشتراك عمل كے ذريعہ قانون بنانے كے مختلف طور طريقوں پر غورو فكر كر كے بہترين اور مفيد ترين روش كا انتخاب كريں۔اس طرح پہلي مشكل حل كي جاسكتي ہے اور كسي كا حق ضائع ہوئے بغير جمہوريت كي روح بھي باقي ركھي جا سكتي ہے۔كيونكہ عوام ہي در حقيقت حكمراني كے لئے اپنے نمايندے منتخب كريں گے اور ان سے كہيں گے كہ ان كے لئے مفيد قانون مرتب كريں، (البتہ اس صورت ميں عوام كي تمام امور ميں براہ راست مشاركت ممكن ہے قومي مفادات اور مصالح كے لئے نقصان دہ ثابت ہو)

لہٰذا اس مشكل كو رفع كرنے كے لئے تمام قومي امور كو دو حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے جن امور ميں عوام كي براہ راست شركت قومي مفادات كے لئے نقصان دہ نہ ہو ان ميں تمام لوگوں كو براہ راست مداخلت كا حق ديديا جائے اور عوام قانون سازي كے عمل ميں شركت كريں ليكن وہ امور جن ميں ماہرين كي نظر ضروري ہے عوام بالواسطہ شريك ہوں يعني عوام كے قابل اعتماد منتخب نمايندوں كے ذريعے قانون سازي ہو۔

2) ووٹوں كي خريد و فروختاس مشكل كا شكار تقريبا وہ تمام ممالك ہيں كہ جن ميں جمہوري طرز حكومت رائج ہے ہميشہ گنتي كے كچھ لوگ جن كے ہاتھ ميں اقتدار اور مادي وسائل ہوتے ہيں كہ اكثريت كے ووٹوں كو اپنے مفادات كي تكميل كے لئے خريد ليتے ہيں يہ كام پيسے تقسيم كر كے گمراہ كن پروپيگنڈے اور كبھي كبھي كھوكھلےمالي اور سياسي وعدوں، دھمكيوں اور اثر رسوخ كے ذريعے اساني سے ممكن ہوجاتا ہے ۔ان حالات ميں ہم ديكھتے ہيں ايك اقليت اكثريت كے ووٹ اپنے حق ميں خريد ليتي ہے اور اس كو مخصوس مقاصد مفادات كي تكميل اور اپني نفساني خواہشات كے حصول كے لئے استعمال كرتي ہے اور عوام الناس كے قومي و معاشرتي مفادات كو مكمل طور پر نظرانداز كرديتي ہے۔

جمہوريت كے طرفدار اس مشكل كي بر طرف كرنے كے لئے آزادي كے ساتھ ساتھ مالي مساوات كي بات كرتے ہيں اور كہتے ہيں كہ اگر پورا معاشرہ مال و ثروت كے اعتبار سے يكساں ہو توان كے معيارات بھي يكساں ہو جائيں گے بنا بر ايں جس جگہ مالي وسائل يكساں نہ ہوں آزادي فقط نام كي حد تك ہي باقي رہے گي آزادي كي حقيقي روح ختم ہو جائے گي كيونكہ اقليت اساني سے اكثريت پر مسلط ہوكر اكثريت سے قوت و اختيار سلب كر لے گي اور وہ اپنے مفادات كے حصول ميں كمزرو پڑجائيں گے ليكن اگر معاشري ميں مالي مساوات قائم ہو جا ئے خواہ مساوات (كميونسٹوں كے اشتراكي نظام كے مطابق) مالي مشاركت كے معني ميں ہو يا مساوات سے مرادمال و ثروت كے اعتبار سے طبقاتي تفاوت اور اختلاف ختم ہوجانے كے معني ميں ہو يعني كوئي بھي شہري نہ اتنامالدار ہو كہ دوسري شہريوں كو خريد سكے اور نہ ہي كوئي شہري اتنا فقير و تنگدست ہو كہ ايك وقت كي روٹي كے بدلے اپنے آپ كو فروخت كردے۔

اگر ہم معاشري ميں اس طرح كا مساوات قائم كرنے ميں كامياب ہو جائيں تو كسي بھي قسم كے استحصال اور لوگوں كے ووٹوں كي خريد و فروخت كئے بغير حقيقي معني ميں آزادي بر قرار ہو سكتي ہے۔

جان جاك روسو اسي نكتہ كي تشريح كر تے ہوئے كہتے ہيں”ضروري نہيں كہ اس لفظ “مساوات “سے يہ سمجھا جائے كہ تمام لوگ قدرت و توانائي اور مال و ثروت ميں پوري طور پر يكساں اور برابر ہوں بلكہ طاقت و قدرت ميں توازن سے ہمارا مقصود يہ ہے كہ كوئي بھي طاقت و قدرت اور قہر غلبہ كے بل بوتے پر قانون اپنے ہاتھ ميں نہ لے سكے بلكہ سب قانون كے دائري ميں حركت كريں اسي طرح مال و ثروت ميں مساوات سے ہماري مراد يہ ہے كہ كوئي بھي شہري اس حد تك ثروتمند نہ ہو كہ اس كے ذريعے دوسري شہري كو خريد سكے، اور نہ ہي دوسري طرف كوئي شہري تنگدستي كي اس حد كو پہنچ جائے كہ (اپني ضروريات زندگي كي تكميل كي خاطر) اپنے آپ كو خريد و فروخت كرنے پر مجبور ہو جائے دوسري الفاظ ميں اہل دولت و ثروت بھي قوت و رسوخ كے لحاظ سے اعتدال ميں رہيں اور كمزور و نادار افراد بھي بخل و طمع كے اعتبار سے حداعتدال ميں رہيں ۔ 10
3) نمائندوں كے ذاتي مفاداتوہ نمائندے جنہيں عوام منتخب كرتے ہيں اور قانون بنانے كا اختيار ديتے ہيں اكثر وبيشتر قومي مفادات كو نظر انداز كر كے اپنے اختيارات سے فائدہ اٹھا كر ذاتي وسائل پوري كرنے كي كوشش كرتے ہيں كيونكہ ايك طرف تو ان كو قانون بنانے اور نافذ كرنے كے وسيع اختيارات مل جاتے ہيں دوسري طرف ان كے اپنے ذاتي مفادات بھي انھيں گھيري ہو تے ہيں جو عوام كي جانب سے منتخب ہو جانے اور وسيع اختيارات ہاتھ ميں آجانے كے سبب ذاتي مفادات كي تكميل اور انحراف كے وسائل ميں اضافہ كر ديتے ہيں ايسي صورتحال ميں اطمينان نہيں كيا جا سكتا كہ يہ عوامي نمائندے جس وقت قومي مفادات اور ذاتي مفادات ميں تعارض پيش آئے گا ذاتي مفادات كو قومي مفادات پر ترجيح نہيں ديں گے ۔خاص طور پر جب كہ ہماري گفتگوماديات كے دائري ميں ہے جہاں انسان كو بد ہواسي پر كنٹرول كرنے والي كوئي قوت وجود نہيں ركھتى، انسان كے سامنے فقط يہي مادي دنيا ہوتي ہے جس پر حكومت كے تصورميں وہ كھويا ہوتا ہے اور اپنے ذاتي ميلانات تمناؤں اور آرزوؤں كو حاصل كر نے كے سوا كچھ اور نہيں سوچتا ۔

جب اتنے بڑے خطرے كا امكان موجود ہو تو ارباب حل وعقد كے انتخاب كا يہ طريقہ كار اور تمام امور چند افراد كے ہاتھوں ميں دے ديئے جانا ذاتي اغراض و مقاصد كي تكميل كا راستہ ہموار كرنے كا وسيلہ بن سكتا ہے دوسري طرف اس خطري سے بچنے كے لئے اگر معاشري پر عوامي حكومت كو ہمہ گير بنانے كے لئے بلا واسطہ انتخاب كا طريقہ اپنايا جائے تو وہ دشواري اور مشكل سامنے آكھڑي ہوگي كہ جس كا ہم آغاز بحث ميں ذكر كرچكے ہيں ۔

شايد (جمہوريت كي راہ ميں موجود) ان ہي مشكلات نے جمہوريت كے طرفداروں كوقوۂ مقننہ (قانون ساز اسمبلي) اور قوۂ مجريہ (حكومتي كابينہ كے اراكين) كو الگ الگ، مستقل عنوان دينے پر مجبور كيا ہے اور وہ اسے ايك امر ضروري قرار ديتے ہيں يعني قانون سازي كا اختيار عوام كے منتخب نمايندوں كو ديا جائے ليكن قانون پر عمل در آمد كے لئے كچھ اور نمايندے منتخب ہوں، اس طرح كا محتاط اقدام قانون ساز اسمبلي كا مقتدارنہ تسلط اور قدرت كا ذاتي مفادات اور ذاتي اغراض و مقاصد كے لئے غلط استعمال ممكن نہيں رہ جاتا اسي روشني ميں يہ لوگ عدليہ اور قوۂ مجريہ كے استقلال و خود مختاري كي بھي توجيہ وتاٴويل كرتے ہيں۔بہر حال قوت واقتدار كي اس احتياط تقسيم كے بعد بھي تينوں قوتوں كے درميان گٹھ جوڑ كا امكان جوں كا توں باقي رہ جاتا ہے اور اسي طرح يہ امكان بھي موجود ہوتا ہے كہ قانون ساز اسمبلي يا ملك كي عدليہ اپنے ذاتي مفادات كي تكميل كے لئے اس اعتماد كے ساتھ اقدام كر سكتي ہے كہ حكومت كي كابينہ “قوۂ مجريہ،، كو بہر حال ان كے فيصلوں پر عمل كرنا لازم وضروري ہے يعني اس كا احتمال يہ كہ قوۂ مجريہ پر قوۂ مقننہ يا قوۂ عدليہ كا تسلط قائم ہو جائے ۔

علاوہ از ايں بعض اوقات حكومت كو تين مستقل قوتون ميں تقسيم كردينے كے طرفدار حضرات (جوايك جمہوري طريقہ كار كے حامي ہيں) كے مقابلے ميں جو حكومت واقتدار ايك ہي ذات ميں مركوز قرار دينے كے قائل ہيں، اپنے نظريہ كے حق ميں دوسري دليليں بھي بيان كرتے ہيں اگر چہ ان كي سب ہي دليلوں ميں اسي طرح كي مشكل موجود ہے مثلاً كہتے ہيں “كہ قوت واقتدار قدرتي طور پر آدمي كے دل ميں سامراجيت اور طغيان و سركشي ايجاد كرتا ہے اور انسان كو اپني خواہشات كي پيروي پر اكساتا ہے اور ذاتي مفادات اور خواہشات كي تكميل كے لئے آمادہ كر ديتا ہے اور بالآخر جس حد تك بھي ممكن ہو آدمي كو ظلم و استبداد كي طرف كھينچ ليے جاتا ہے،، ليكن طاقت و اقتدار كي مختلف مراكز ميں تقسيم خود قوت و قدرت ميں كمي كا سبب بنتا ہے اور ذاتي مفادات (كي تكميل كا رجحان) بھي كم ہو جاتا ہے اور جبرو استبداد كي روش جس كے بُري نتائج بيان ہوئے ہيں ختم ہو جاتي ہے يہ بھي كہا جاتا ہے كہ ہم تين الگ الگ مستقل قوتوں ميں اقتدار كي تقسيم كے ذريعے تينوں قوتون ميں اندروني طور پر ايك دوسري پر كنٹرول اور نظر ركھنے كي روح ايجاد كرديتے ہيں جس كے نتيجے ميں ہر قوت دوسرروں كے كاموں كي نگراني كرتي ہے اور قوم كے سامنے اس كو جواب كے لئے كھڑا كر ديتي ہے اس طرح ظلم واستبداد اور ڈكٹيٹر شپ كا سد باب ہو جاتا ہے۔

ايك اور بات جو ذاتي مفادات پر توجہ اور طغيان و سركشي كي روح پيدا ہونے كے مواقع كم كردينے كے سلسلے ميں بيان كي جاتي ہے اقتدار كي مدت كم ہونے كي بات ہے البتہ مقصد كي تكميل كے لئے اختيارات كي حدود، اختيارا ت كے مؤثر استعمال كے لئے مقررہ مدت، اجتماعى مشكلات كے مقابلے كے لئے توانائى، جبرو استبداد اور انانيت كے خطرات كے درميان توازن پيش نظر ركھنا ضروري ہے۔انتخابات كي ميعاد مختصر ہونے كا نظريہ ايك طرف ارباب حكومت كے قوت و اقتدار كے دائري كو كم كر ديتا ہے كہ جس كے ذريعے صاحب اقتدار نمائندے راي عامہ كے ساتھ كھيلتے اور خود كو دوسروں سے ممتاز اور بڑا سمجھ كر تكبر و غرور ميں متبلا ہوجاتے ہيں دوسري طرف عوامي نمائندوں كوذاتي مفادات پر قومي مفادات مقدم قرار دينے اور قومي مصلحتوں كو ترجيح دينے پر ابھارتا ہے ورنہ دوبارہ ووٹ حاصل كر كے اقتدار حاصل نہيں كر سكيں گے۔
دين كے ساتھ جمہوريت كا رشتہواضح سي بات ہے كہ ايك فعال و حيات آفرين دين ميں جو انساني زندگي كے دونوں پہلوؤں ميں قانون سازي اور قانون كا نفاذ خداوند متعال سے مخصوس جانتا ہے ايك ايسي جمہوريت كے لئے كوئي گنجائش نہيں ہے كہ جس كے مطابق قانون سازي اور قانون كے نفاذ كا حق پوري طرح انسان كو عطا كر ديا جاتا ہے اور كم از كم اجتماعى زندگي كے مسائل ميں خداوند متعال كا كوئي كردار اور عمل دخل قابل قبول نہيں سمجھاجاتا اس منزل ميں مناسب نہ ہوگااگر دين اور مدني معاشري ميں دين كے كردار كے متعلق جان جاك روسو كے نظريات بيان كر ديئے جائيں تاكہ دين سے متعلق مغربي طرف تفكر اور نظريات كا ايك گوشہ واضح و آشكار ہو جائے ۔

جان جاك روسو كا كہنا ہے 11 دين اور معاشري كے درميان جو رشتہ ہے خواہ وہ عمومي سطح كا ہو يا خصوصي سطح كا دو قسموں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے۔(1) (ايك مستقل) انسان كا دين(2) (معاشرہ كے ايك) باشندے كا دين(1) ايك ايسے انسان كا دين جومعاشرہ سے بالكل آزاد ہو عبادت گاہوں اور مسجد ومحراب كے مذہبي اصول و قواعد سے بھي آزاد عبادت وبندگي ميں خداوند متعال سے رشتے اور اخلاقيات كے ناقابل تغيير مسلمہ اصولوں كي بجا اور ي پر اكتفاء كرتا ہو اسے ہم الٰہي دين فطرت كا نام دے سكتے ہيں۔(2)

كسي مخصوس قوم وملت كا معاشرتي دين: يہ كسي خاص قوم وملت ميں رائج اور مقبول دين ہے جس كا پيرو اپنے خداؤں اور معبودوں كو اپني قوم اور جماعت سے مخصوس سمجھتا ہے، يہ دين مخصوس عقائد، شعائر اور اصول وقوانين كي روشني ميں خاص طرز پر عبادت اور ديگر مذہبي فرائض انجا م ديتا ہے، اس دين ميں، اپنے ہم مذہبوں كے علاوہ باقي سب لوگ كافر، جنگلي اور غيرشمار ہوتے ہيں اور سماجي حقوق اور شہري ذمہ داريوں سے محروم ہوتے ہيں، اس دين كو ہم الٰہي دين معاشرت كا نام دے سكتے ہيں اس دين ميں انسان كے لئے واجبات اور حقوق كا دائرہ عباد ت گاہوں تك محدود ہوتا ہے۔دين كي تيسري قسم بھي موجود ہے جو پہلي دو قسموں سے زيادہ عجيب و غريب ہے كيونكہ يہ دين لوگوں كے لئے دو طرح كے قانون، دو سر براہ اور دو وطنوں كا قائل ہے اور لوگوں كو دو متضاد فرائض كي ادائگي پر مجبور كرتا ہے اور اس بات كي اجازت نہيں ديتا كہ ايك انسان ايك ہي وقت ميں ديندار مومن بھي ہو اور وطن پرست شہري قوانين كا پابند دنيادار انسان بھي۔اس طرح كا دين بودھ لاماؤں LAMA اور، جاپانيوں نيز رومي عيسائيوں كا ہے اس كو مذہبي قائدين كا دين كہا جاسكتا ہے، اس دين كي بنياد خلط ملط آپس ميں الجھے ہوئے ايسے قوانين پر قائم ہے كہ جس كو كوئي نام نہيں ديا جاسكتا، جب ہم سياسي نطقہ نظر سے ان تين قسموں كے اديان كا جائزہ ليتے ہيں تو پتہ چلتا ہے ان تينوں قسموں كے دين ميں كمياں اور نقائص موجود ہيں۔تيسري قسم كے دين ميں موجود خرابياں اس قدر واضح اور نماياں ہيں كہ اس كي خرابيوں اور نقائص كے باري بحث كرنا وقت ضائع كرنے كے مترادف ہوگا۔

دين كي دوسري قسم اس پہلو سے كہ اس ميں خدا پرستي كا جذبہ قوانين كے احترام كے ساتھ جڑا ہوا ہے بڑي حد تك ٹھيك ہے، يہ دين لوگوں كو تعليم ديتا ہے كہ ملك و وطن كي حكومت كے ذريعے خدمت اس ملك كے خداؤں كي خدمت ہے اور وطن كي راہ ميں موت شہادت كا درجہ ركھتي ہے اور قوانين كي خلاف ورزي شرك و الحاد ہے، ليكن اس طرح كے دين كي خرابي ہے كہ ا س نے اپني بنياد جھوٹ اور بشريت كو فريب دينے پر ركھي ہے اہل مذہب كو وہم و خرافات پر جلدي سے يقين كر لينے كا عادي اور عبادت كو كھوكلي رسومات كي بھينٹ چڑھا ديتا ہے اس كي ايك اور خرابي يہ ہے كہ يہ آدمي كوتنگ نظر اور سركش بنا ديتا ہے اور يہ چيز لوگوں كو خونخوار اور متعصب بناديتي ہے اور وہ كشت و خونريزي كي فكر ميں رہتے ہيں اور دوسري مذاہب كے افراد كا قتل ايك مقدس عمل سمجھنے لگتے ہيں چنانچہ اگر كوئي شخص اس دين پر ايمان نہ لائے تو اس دين كے مطابق واجب القتل ہے۔

اس طرح كي قوميں دوسري اقوام كے ساتھ ہميشہ جنگ و دشمني كي حالت ميں رہتي ہيں اور خود ان كي سلامتي بھي ہميشہ خطري ميں رہتي ہے۔

باقي رہ گئي پہلي انفرادي يا دروني دين كي قسم جسے دين انسانيت يا دين مسيحيت كہا جا سكتا ہے، البتہ موجودہ عيسائي مذہب نہيں جو اصل انجيل كي تعليمات سے ميلوں دور ہو چكا ہے اس مقدس دين اور اس كے پاكيزہ آئين كے مطابق جو ايك اكيلا حقيقي دين سمجھا جاتا ہے تمام لوگ اپنے آپ كو خدا كا بيٹا تصور كرتے ہيں اور آپس ميں بھائي اور براردي كا رشتہ ركھتے ہيں جس معاشري كو مل كر تعمير كرتے ہيں موت كي منزلوں تك بكھرنے نہيں پاتا ليكن اس دين كا سياسي امور اور حكمرانوں سے كوئي تعلق و رابطہ نہيں ہوتا قوانين كو اپنے حال پر چھور ديتے ہيں۔

قانون كي مزيد تقويت كي كوئي فكر نہيں كرتا، اس طرح انسان جو ايك دوسري سے جڑے ہوئے ہيں اكٹھا ہوتے ہيں ليكن يہ رشتہ اور اجتماع ان كي زندگي ميں كوئي اثر مرتب نہيں كرتے بلكہ اس سے بڑھ كر دين مسيحيت (عيسائي مذہب) كي مشكل يہ ہے كہ اس ميں نہ صرف يہ كہ ہم وطنوں كا حكومت كے امور سے كوئي رابطہ ايجاد كرنانہيں چاہتا بلكہ ان كے درميان فاصلہ بڑھانے كي كوشش كرتا ہے بلكہ تمام دنياوي امور كي نسبت اپنے پيرؤں كے دل ميں يہي تصور پيدا كرتا ہے، كہا جاتا ہے كہ اصل عيسائي قوم قابل تصور حد تك كامل ترين معاشرہ ہے مگر ہماري خيال ميں اس تصور كے بر خلاف “يہ كامل معاشرہ “ايك انساني معاشرہ كے خصوصيات سے محروم ہے بلكہ اس طرح كامعاشرہ ميري نظر ميں اس طرح كا معاشرہ نہ قوت ركھتا ہے نہ دوام اور نہ ہي اس كے عوام كے درميان كوئي مستحكم رشتہ پايا جاتا ہے اور يہي بے عيب ونقص ہونا اس كے زوال اور خاتمہ كا باعث بنے گا۔

يقينا اس طرح كے معاشري ميں ہر شخص اپنا فريضہ انجام دے گا قوم قانون كو مقدس سمجھے گي سر براہان مملكت انصاف پسند اور خوش اخلاق ہوں گے حكمران نيك نيت اور سچائي پر گامزن ہوں گے، فوجوں ميں موت سے خوف نہيں ہوگا عوام ميں تكبر اور غرور نہيں ہوگا، يہ سب وہ خوبياں ہيں جو معاشري ميں حسن پيدا كرتي ہيں ليكن ہم بحث كي گہرائي ميں جانے كي اجازت طلب كريں گے۔عيسائيت مكمل طور پر ايك معنوي دين ہے جو فقط آخرت اور اسماني امور پر نگاہ ركھتا ہے جس كے مطابق يہ دنياانسان كا حقيقي وطن نہيں ہے اگر چہ عيسائي اپنے معاشرتي فرائض پر عمل كرتے ہيں ليكن اس كا كوئي مقصد نہيں ہوتا كيونكہ اس دين كے مطابق ان كے انجام دينے كا كوئي اچھا يا بُرا نتيجہ مرتب ہونے والا نہيں ہے بس شرط يہ ہے كہ خود انسان اپني جگہ مرتكب گناہ نہ ہو۔ايك عيسائي كے لئے يہ امر بالكل اہميت نہيں ركھتا كہ دنياوي امور حسن و خوبي كے ساتھ آگے بڑھيں گے يا خرابي كے ساتھ، كيونكہ مملكت خوشحال ہو اور اسائش وآرام كے تمام وسائل فراہم ہوں تو بھي ايك عيسائي اس اسائش سے بہرہ مند نہيں ہو سكتا ۔

كيونكہ اسے خوف لاحق ہتا ہے كہ اگر اپنے ملكي افتخارات پر فخر ومباہات كرے گا تو ايك ناقابل معافي گناہ اور تكبر كا مرتكب ہوجائے گا اگر مملكت ويران اور تباہ و برباد ہوجائے تو گناہگار بندوں كو ان كے اعمال كي سزا ملنے اور ہلاك ہوجانے پر خداكا شكر اداكرتا ہے ايك ايسے معاشري ميں فلاح و بہبود اور نظم ونسق كي بر قراري كے لئے ضروري ہے كہ مملكت كے تمام باشندے كسي بھي استثناء كے بغير پوري طورپر اچھے عيسائي بن جائيں ۔اگر خدانخواستہ ان ميں كوئي ايك شخص بھي خود غرضي جاہ ومقام كا حريص پيدا ہوجائے تو پاكيزہ نفس باشندوں كو دھوكاديكر اپنے مذموم مقاصد كے حصول كے لئے زمين ہموار كر لے گا كيونكہ نيك سادہ دل عيسائي اساني سے اپنے ايك ہم مذہب بھائي كے متعلق بد گماني كي اجازت نہيں دے سكتا، اور جب مكر وفريب كے ذريعے ايك ايسا شخص اپنا تسلط قائم كرے گا اور قوت و اقتدار اس كے ہاتھ ميں آجائے گا تو اپنے لئے بلند وبالا مقام كا قائل ہوگا اور لوگوں سے كہے گا كہ ميرا حترام كرو مجھے بڑا سمجھو اب اگر اس نے اپنے اقتدار سے غلط فائدہ اٹھكيا تو لوگ كہيں گے خدا كي يہي مصلحت ہے كہ اس كے ذريعے لوگوں كي تنبيہ كرے گويا يہ خدائي لاٹھي ہے جس كے ذريعے خدا پنے بندوں كو سزا دے رہا ہے۔

اس طرح ايك عيسائي كا ضميرو وجدان اجازت نہيں ديتا كہ اس غاصب انسان كو (اقتدارسے) بر طرف كر دے كيونكہ اگر ايسا كيا جائے تو لوگوں كے آرام و اسائش ميں خلل واقع ہو گا اسے اقتدار سے ہٹانے كے لئے طاقت كا استعمال كرنا پڑے گا جس سے خونريزي ہوگي عيسائيوں كي نرم دلي اور امن پسندي كے ساتھ يہ چيز ميل نہيں كھاتي۔

علاوہ از ايں ايك عيسائي كي نظر ميں اس چيز كي كوئي اہميت نہيں كہ انسان رنج و الم كي اس فاني دنيا ميں آزاد رہے يا غلام بن كر رہے؟ اصل ہدف و مقصد تومحبت ہے جس كے حصول كا راستہ تسليم ورضا ہے ۔اب اگر كسي دوسري قوم سے جنگ چھڑ گئي تو تمام عيسائي باشندے بڑي اساني سے ميدان جنگ ميں نكل آئيں گے كسي كے ذہن ميں فرار كي فكرپيدا نہيں ہوگي كيونكہ انھيں اپنا مذہبي فريضہ انجام دينا ہے ليكن اس كے ساتھ ہي ان كے دلوں ميں فتح و كاميابي كا نشہ بھي نہيں ہوتا وہ كاميابي سے زيادہ اس امر كي مہارت ركھتے ہيں كہ كيسے مراجائے؟ان كي نظر ميں فتح و شكست كي كوئي اہميت نہيں!كيا خدا سے زيادہ كوئي ان كي مصلحت سےآگاہ ہے؟ اب يہ ديكھنا ہے كہ ايك معاشرتي دين كے عقائد كيا اور كيسے ہوں؟

جواب يہ ہے كہ معاشرتي دين كے عقائد اسان و مختصر اور دائري معين وو اضح ہوجانے چاہئے كسي تفسير و تشريح كي ضرورت نہ ہو ايك حكيم و فرزانہ قوي و قادر، محسن و كريم، بصير و دور انديش مدبر وآگاہ، خداپرايمان، اخروي زندگى، نيكو كاروں كي سعادت و خوشبختي اور بدكاروں پر عذاب كا يقين معاشرتي معاہدہ اور قوانين كے تقدس پر ايمان و اعتقاد يہ وہ امور ہيں جو معاشرتي دين كے بنيادي عقائد ہونے چاہئے۔اس كے ساتھ ہي ساتھ ديگر تمام اديان سے نرم روي وخوش رفتاري بھي ضروري ہے ليكن ان ہي كے ساتھ جو خود بھي اس اصول پر يقين ركھتے ہوں ليكن جو شخص معاشرتي امور ميں خوش رفتاري اور ديني امور ميں نرمي و سہل انگاري كے درميان فرق كا قائل ہے اور فقط معاشرتي ميدان ميں حسن خلق اور نرمي كا قائل ہے غلطي پر ہے دونوں كو جدا كرنا ممكن نہيں ہے سياسى، عقائد، مذہبي عقائد كے ساتھ وابستہ ہيں يا دونوں ميدانوں ميں سخت رويہ اپنايا جائے گا يا دونوں ميں سہل انگاري سے كام ليا جائے گا۔ايسے لوگوں كے ساتھ امن و محبت كے ساتھ زندگي گذارنا محال ہے كہ جن كو يقين ہو آخرت كا عذاب اور سزا ان كو مقدر بن چكا ہے كيونكہ ايك ايسے شخص سے محبت كا مطلب يہ ہوگا كہ خدا سے جنگ و دشمني مول لي جائے كہ جس نے اسے عذاب ميں مبتلا كر نے كا فيصلہ كيا ہے، پس ضروري ہے كہ ايسے لوگوں كو ياتو راہ راست پر لكيا جائے اور وہ سچا دين قبول كر ليں يا انھيں سزا دي جائے۔ليكن عصر حاضر ميں كوئي ايك خطۂ ارض ايسانہيں جہاں پر فقط ايك ہي قومي دين رائج ہو لہٰذا ضروري ہے كہ ان تمام اديان كے ساتھ جو دوسري اديان كے پيرؤں سے نرمي اور خوش رفتاري سے پيش آتے ہيں خوش رفتاري كا رويہ اختيار كيا جائے بشرطيكہ اپنے دين و عقائد اور قوم ووطن كے تئيں فرايض كو ضررو نقصان نہ پہنچے ۔

12جان جاك روسو كي (دين سے متعلق) اس تحرير كو پڑھ كر يہ حقيقت آشكار ہوجاتي ہے كہ “روسو”نے دين كو انسان كے خود ساختہ اصولوں اور تحريف شدہ آئين و دستور كي روشني ميں ديكھا ہے ايسے آئين جو دين كي حقيقي روح سے بے بہرہ ہيں اور انساني تمدن اور زندگي كے اصولوں سے دور كچھ خشك تعليمات كے سوا كچھ نہيں ہيں۔اسلام اس طرح كے كھوكھلے تصورات سے بيزار ہے اور اگر ہم دين اسلام كي حيات آفريں تعليمات كي روشني ميں “روسو” كي اس گفتگو كا جائزہ ليں تو اس ميں متعدد كمياں اور كمزورياں موجود مليں گي ان ميں سے بعض كي طرف ہم يہاں اشارہ كرتے ہيں تاكہ حقيقت واضح ہو سكے۔

1) روسو نے اديان كي تقسيم كرتے ہوئے دين كي تيسري قسم كے باري ميں لكھا ہے كہ”اس طرح كا دين حكومت كے نظام قوانين اور وطن سے مختلف نظام قوانين اور وطن كا تصور پيش كرتا ہے اور انسان دونظام دو وطن اور دو حكمران كے درميان سر گرداں اور تقسيم ہو جاتا ہے جس كا نتيجہ بدعنواني اور انحراف كے سوا كچھ نہيں ہو سكتا، يہ چيز معاشرہ كو صحيح سمت ميں حركت سے روك ديتي ہے۔اسلام ميں ايسا غلط تصور نہيں پايا جاتا ہے اس طرح كي دوگانگي اسلام ميں كہيں نہيں ملے گي اسلام كے مطابق صرف خداوند متعال كو قانون ساز ي كا حق اور اختيار حاصل ہے اور صرف خدا ہي دنيا كا حقيقي حاكم ہے اور اسي نے امت واحدہ كے لئے صحيح سمت ميں حركت كي راہ معين كي ہے، جس طرح خدا كي ذات ميں كوئي اس كا شريك نہيں اسي طرح عبوديت و تشريع يعني بندگي اور قانون سازي كے حق ميں اس كا كوئي شريك نہيں ہے۔

بنا برايں دين اسلام نے ہرگز امت اسلاميہ كو دو نظاموں ميں سرگرداں نہيں چھوڑا ہے، اسلام ميں فقط ايك ہي نظام ہے جو ايك پوري معاشري كي اجتماعى سعادت اور فلاح و نجات كا ضامن ہے اور انسان كے لئے حقيقي كمال كے راستے كي نشان دہي كرتا ہے، انساني زندگي كے مختلف پہلوؤں اور شعبوں كو صحيح رخ ديتا ہے اور خداوند متعال كے لامحدود علم كي روشني ميں انسان كي تمام مشكلات كا حل پيش كرتا ہے اسلام صرف عالم تخليق اور انسان كے اندر محدود نہيں ہے، بنا برايں ايك حقيقي مسلم معاشرہ وہ معاشرہ ہے جس ميں اسلام كي حكمراني ہے اور كسي بھي قسم كے غير اسلامي تسلط و حكمراني كو قبول نہيں كرتا غيروں كي دست درازي سے “اسلامي چہار ديواري” كي پوري طرح حفاظت ركھتا ہے۔2) روسوكي گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے كہ انھوں نے دين كي حقيقت كو ايك حكومت كے لئے اس كي افاديت كے پر تو ميں پركھا ہے كہ دين معاشر ے كے امور كو آگے بڑھنے كے لئے حكومت كو كس قدر وسائل فراہم كرتا ہے يعني ان كي نظر ميں دين كي پركھ كا اعليٰ ترين معيار يہ ہے كہ دين سياسي اور معاشرتي نظام كي گاڑي آگے بڑھانے ميں كس قدر كامياب ہے!!گويا انھوں نے معيارہي كو الٹ ديا ہے!! دين كي شناخت اور اس كي حقانيت پر ايمان كے لئے دين كے عقلي و فطري سرچشموں كو معيار قراردينا چاہئے اگر ايك دين كے معتقدات اور آئين و دستور قابل قبول منطقي ماخذ اور مسلم عقلي دلائل پر استوار و ثابت ہوں اور خداوند متعال كي طرف دين كا منسوب ہونا درست ہو اور دين كي حقانيت پوري طرح ثابت ہو جائے تو انسان اپنے امور كي باگ ڈور دين كے سپرد كر دے گا اور اس الٰہي دين سے زندگي گذارنے كے طريقے اور پروگرام طلب كر ے گا، نہ يہ كہ پہلے اسماني تعليمات سے بي نياز ہو كر نظام بنائيں اور پھر كسي دين كو اس وقت تك قبول نہ كريں جب تك وہ دين خود ہماري تيار كردہ نظام كے رائج كرنے ميں مدد گار نہ ہو اور ہماري طور طريقے كي تائيد نہ كرے۔

3) روسونے اديان كي دوسري قسم بيان كرتے ہوئے كہا ہے كہ يہ دين لوگوں كو خرافات اور توہمات ميں مبتلا كر ديتا ہے اور پروردگار كي عبادت كو كھوكھلے طور طريقوں كا اسير بنا ديتا ہے، ليكن ہم ديكھتے ہيں كہ اسلام كے لئے ہرگز يہ بات صادق نہيں آتى، اسلام ميں عبادات كا نظام اور انساني كمال اور تہذيب و تمدن كي ترقي ميں اسلام كا تعميري كردار بت پرستي اور اسكيم انند ہر قسم كے توہمات و خرافات سے بالكل پاك ہے اور يہي بات كافي ہے كہ ہم اس طرح كے تصورات كي حقيقي الٰہي دين كے بھي گنجائش كي نفي كرديں كسي سلسلے ميں، يہ حقيقت اس وقت مزيد آشكار ہو جاتي ہے جب ہم اسلامي نظام كے حدود اربعہ كا جائزہ ليتے ہيں اور ديكھتے ہيں كہ اس پيكر الٰہي كے وجود اور حيات ميں عبادات كا كس قدر اہم كردار ہے پھر بھي شفاعت اور شفاعت كرنے والوں سے متعلق روسو نے جو اشارہ كيا ہے اسلام ميں اس كا ايك تعميري اور حيات آفريں پہلو ہے اور وسيع نتائج كا حامل ہے ۔اسلام نے بيہودہ قسم كي وہم و خرافات پر مبني (بتوں كي) شفاعت كو قبول نہيں كيا ہے بلكہ شفاعت كا وہ تصور ديا ہے جو مثبت اور تعميري ہے جو انسان كو اہم اھداف ومقاصد كے حصول كي طرف رغبت دلائے اور اسے اميد وار بنائے۔

4) روسو نے اديان كي عالمي حيثيت كو بيان كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان اديان كے پيرو فتح و كامراني كي نسبت موت كي زيادہ مہارت ركھتے ہيں اور اس تصور كي تائيد ميں عيسائي دين اور آئين سے استفادہ كيا ہے كيونكہ عيسائيت اپنے پيرووں كو تعليم ديتي ہے كہ دنيا سے كنارہ كش رہيں اور اپني روح كو دنيا كي فاني لذتوں سے پاك ركھيں اور فتح و كاميابي كي اميدميں معاشرتي اہداف كي تكميل كے لئے شركت نہ كريں۔

يہ تصورات و نظريا ت جو روسو نے دنيائے عيسائيت كو سامنے ركھ كر بيان كئے ہيں اسلام سے ان كا دور كا بھي واسطہ نہيں ہے اسلام نے خدا كے دين كي حكمراني اسلامي مقاصد كي تكميل اور اسلام معاشري كي عزت و سر بلندي كے لئے جہاد كو بہترين عبادت قرار ديا ہے، بيشك اس راہ ميں حركت كے اسباب و عوامل فتح و كامراني كي لذتوں سے كہيں زيادہ بلند محركات كے حامل ہوتے ہيں اور وہ خاموش بيٹھے رہنے كي اجازت نہيں ديتے مسلمان كے نزديك فتح كا مطلب يہ ہے كہ انساني كمال و ارتقاء كي گاڑي تاريخ كے ہر دور ميں اپنے اعلي مقاصد اور عظيم اہداف كے حصول كے لئے ہميشہ آگے بڑھتي رہے، اس كا اصل مقصد ايك كامل توحيد پر ست معاشرہ تشكيل دينا ہے جو تمام پہلوؤں سے سعادت و كامراني كا حامل ہو اسي حقيقت كے تحت ہر مسلما ن پر فرض ہے كہ اس ہدف كے حصول كے لئے ہر ممكن كوشش كرے ايك لمحے كے لئے بھي غفلت سے كام نہ لے۔

چنانچہ اس ھدف كے حصول كے لئے ہروقت آمادہ و تيار رہنے پر جن كيات و روايات زور دياگيا ہے بہت فراوان ہيں، نمونے كے طور پر قران كہتا ہے: (وَاَعِدُّوا لَھُم ما استطعتم من قوہ ورباط الخيل) ۔ 13 “اور تم سب ان كے مقابلہ كے لئے امكاني قوت اور گھوڑوں كي صف بندي كا انتظام كرو”انسان مومن اجتماعى مفادات كے لئے كام كرنا ذاتي مفادات كي تكميل سے مقدم سمجھتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے كہ اسلام ميں زہد اور دنيا سے دوري كا مطلب اس كے سوا كچھ نہيں ہے كہ انسان خود كومادي دنيا كي حقير لذتون سے آزاد كر لے اور معنويت كي روحاني فضاؤں ميں پرواز كرے تاكہ اگر كوئي مادي چيز ہاتھ سے چلي جائے تو اس كے لئے افسوس نہ كرے اور اگر كوئي چيز حاصل ہو جائے تو اس پر فخر و مباحات نہ كرے، اسلامي نظام ميں انساني زندگي ميں نظم و ضبط ايجاد كرنے، زندگي كے كاروان كو رواں دوان ركھنے عدل و انصاف قائم كرنے اور معاشري كو بہترين انداز ميں سعادت اور كمال و ترقي سے ہمكنار كر نے كي تمام راہيں دكھائي گئي ہيں ۔

اگر چہ يہ موضوع وسيع بحث كا طالب ہے اور اس كتاب ميں اس كي گنجائش نہيں ہے اس كتاب ميں صرف “اسلام ميں حكومت كي بنياد” كے متعلق بحث كرنا مقصود ہے لہٰذا جس حد تك يہ موضوع حكومت كي بحث سے مربوط ہے اسي حد تك ہم بحث و گفتگو كريں گے۔5) روسو نے دين كي دوسري قسم بيان كرنے كے ضمن ميں كہا ہے كہ اس طرح كے دين آئين دوسري اديان سے دشمني و عداوت كو رواج ديتے ہيں اور انساني معاشري ميں بد گماني اور جنگ و نزاع كي ذہنيت ايجا د كرتے ہيں ۔جب كہ حقيقت يہ ہے كہ يہ صورت حال اسي وقت ممكن ہے جب ايك معاشرتي نظام ميں توسيع پسندانہ مادي معيارات كارفرما ہوں، ليكن اگر ہم اسلام پر نظر ڈاليں اور خوشنودي پروردگار پر مركوز اس كے توحيدي نظام ميں انساني محركات كا جائزہ ليں تو دين سے دشمني و عداوت كے بجائے مفاہمت اور امن و آشتي كي توقع وابستہ نظراي گي۔علاوہ ازايں اسلام قبول كرنے والوں كے متعلق اسلام كے موقف اس موقف سے مختلف ہے جو روسونے متمدن اديان كے متعلق تصور كيا ہے اسلام اگر چہ اپنے مخالفين كو دشمن تصور كرتا ہے ليكن اس كا مطلب يہ نہيں كہ اسلام اپنے دشمنوں كو قتل كر دينے كا خواہشمند ہے جب اسلام انسانيت كے دشمن مشركين سے در گذر كرتا ہے تو بدرجہ اوليٰ اسماني كتابوں پر ايمان ركھنے والے دين دار افراد كو عدالت پر مبني بعض معين شرائط كے تحت اپنے دين كے مطابق زندگي گذارنے كي اجازت ديتا ہے حتي بعض اوقات اسلام نے ان (كافر كتابي) كے ساتھ نيكي كرنے كو قابل ستائش اور پسنديدہ قرار ديا ہے جوا پنے مقام پر بيان ہوا ہے ۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت