امام خمینی نے نہ مشرق نہ مغرب صرف اسلامی جمہوریہ کے نعرہ کے ساتھ عالمی ادب کو تبدیل کردیا

افغانستان کے لوگوں کے درمیان امام خمینی بہترین سیاسی مذہبی اور پسندیدہ شخصیات میں سے ہیں جنھوں نے اپنے بہترین بیانات سے اس ملک کے لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف جذب کیا۔

تسنیم نیوز کی رپورٹ کے مطابق: افغانستان کے لوگوں کے درمیان امام خمینی بہترین سیاسی مذہبی اور پسندیدہ شخصیات میں سے ہیں حالانکہ امام خمینی دوسرے ملک میں ایک رہبر کے عنوان سے زندگی گزار رہے تھے لیکن امام رہ نے اپنے اجتماعی بیانات (خصوصا امام کا یہ فرمان اسلام کا کوئی بارڈر نہیں) سے نہ صرف افغانستان کے لوگوں کو بلکہ دوسری اقوام کو بھی اپنی طرف مجذوب کیا۔

مذکورہ باتوں سے وا ضح ہوتا ہے افغانستان کے لوگ ہمیشہ مختلف مواقع پر ملک کے اندر یا ملک سے باہر جیسے 22 بہمن یا امام کی برسی پر امام کو یاد کرتے ہیں۔

اس ملک کے لوگوں کے عقیدہ کے مطابق امام خمینی امن اور دوستی کے پیغام آور تھے اس ملک کے کچھ لوگوں نے امام خمینی کی شخصیت کے متعلق اور افغانستان میں اسلامی انقلاب کے تاثرات کے بارے میں تسنیم نیوز کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوے کہا:امام خمینی ایرانی اور افغانی قوم کے درمیان امن اور دوستی برقرار کرنے میں موثر ثابت ہوئے اور ان کا وہ مشہور قول کے اسلام میں کوئی حد بندی نہیں ہوتی اس بات کی علامت ہے امام خمینی کی فکر امن اور دوستی کی فکر تھی۔

افغانستان کی اس شخصیت نے افغانستان سے آئے ہو مہاجرین کے بارے میں کہا کہ یہ امام خمینی کی نوازش تھی کہ اسلامی جمہوری کے رہبر نے ایران اور عراق  کی آٹھ سالہ جنگ تحمیلی کے دوران قبول کیا بگیر کسی شک کے امام تاریخ بشریت کی موثر ترین شخصیت ہیں۔

افغانستان میں نماز جمعہ کے خطبہ میں امام خمینی کی زندگی کا ایک حصہ بیان ہوا۔

حجہ الاسلام سید جواد وحیدی نے  اس ہفتہ  جغارہ شہر کی نماز جمعہ میں 22 بہمن کی مناسبت سے امام خمینی اور اسلامی انقلاب کے متعلق بیان کیا۔

جغارہ کے امام جمعہ نے انقلاب کو علاقہ میں تبدیلی  کا مہم ترین عامل اور ظلم اور اسلام ستیزی کا مقابلہ کرنے والا قرار دیا انھوں نے کہا عالمی ادب امام خمینی کے اس نعرہ نہ مشرق نہ مغرب صرف اسلامی جمہوریہ کا مشکور ہے۔ امام خمینی کسی ایک خاص علاقہ کے رہبر نہیں تھے بلکہ پوری دنیا کے رہبر تھے جنھوں بشریت کو سکھایا ہے ۔

تبصرے
Loading...