امام خمینی(رح) نے امریکہ کے خلاف جہاد کا حکم کیوں نہیں دیا؟

0 11

امام خمینی(رح) نے امریکہ کے خلاف جہاد کا حکم کیوں نہیں دیا؟

خلیج فارس میں ایرنی ہوائی جہاز پر امریکی حملہ کے ایک دن بعد آیت اللہ منتظری نے اک خط میں امام خمینی(رح) سے امریکا کے خلاف جہاد کے حکم کی درخواست کی جس کے جواب میں امام خمینی(رح) نھے لکھا تھا کہ جناب ہاشمی کی حمایت کریں فوجی کمانڈر جناب منصور نے اچانک خبر دی کہ خلیج فارس میں ایک ہوئی جہاز نے اچانک دریا میں لیڈینگ کی ہے ابھی تک ہمیں اس کی کوئی اطلاع نہیں اس کے فورا بعد جناب شمخانی نے خبر دی کہ سپاہ کی بحری فوج اور امریکی ییلی کاپیٹروں اور جنگی کشتیوں کے درمیان تصادم ہوا ہے۔

امام خمینی پورٹل کی رہورٹ کے مطابق مرحوم آیۃ اللہ ہاشمی رفسنجانی اپنی ایک یاد داشت میں نقل کرتے ہیں کہ 2 جولائی 1988 کو ہم ایک اہم میٹینگ میں تھے کہ جس میں ملکی امور کے بارے میں اظہار خیال کر رہے تھے جبکہ اس میٹنیگ میں ملک کے اعلی سطح کے حکام موجود تھے اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی وزیر  جناب سید احمد خاتمی نے اپنی ایک گزارش پیش کی جبکہ اسی میٹینگ کے دوران فوجی کمانڈر جناب منصور نے اچانک خبر دی کہ خلیج فارس میں ایک ہوئی جہاز نے اچانک دریا میں لیڈینگ کی ہے ابھی تک ہمیں اس کی کوئی اطلاع نہیں اس کے فورا بعد جناب شمخانی نے خبر دی کہ سپاہ کی بحری فوج اور امریکی ییلی کاپیٹروں اور جنگی کشتیوں کے درمیان تصادم ہوا ہے۔

اس المناک حادثے کے بعد مرحوم آیۃ اللہ منتظری نے امام خمینی(رح) کے نام خط لکھا جس میں انہوں نے ذکر کیا کہ ایک بار پھر امریکہ نے اپنا غیر انسانی اور منافقانہ چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا مجھے امید ہیکہ اگر مقام معظم رہبری مصلحت سمجھیں تو اسلام اورقرآن کے دشمن امریکا کے خلاف جنگ کا حکم دیں اس وقت لاکھوں مسلمان اس شیطان کے خلاف لڑے کے تیار ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی(رح) نے مرحوم  آیت اللہ منتظری کے جواب میں فرمایا کہ آپ کے پیغام سے سکون ملا آپ کا پیغام ان تمام دلوں کے سکون کا سبب ہے جنہیں اس شیطان بزرگ کا دھوکہ کھایا ہے امام خمینی(رح) نے اپنے جواب میں آیۃ اللہ منتظری کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اس انقلاب کے ذخیروں میں سے ایک ہیں لہذا جناب ہاشمی کی حمایت کریں اور ایک بہترین دنیا کو بنانے کی کوشش کریں۔

واضح رہے کہ 3 جولائی 1988 ھما ایر لائن کے ایک ہوائی جہاز نے 290 مسافروں کے ساتھ بندر عباس سے دبئی کی طرف اُڑان بری جب یہ جہاز خلیج فارس کے اوپر پہنچا تو امریکہ نے دو میزائلوں سے اس جہاز کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے جہاز کے درمیان سے دو حصے ہو گئے اور تمام مسافر شہید ہو گئے بعد میں جب جنازوں کو پیدا کیا گیا تو اس میں جوان بچے اور بوڑھوں کی تعداد زیادہ تھی جو آگ سے جلے ہوے تھے اور ان کے جسم ہوا کی وجہ سے چور چور ہو چکے تھے امریکہ نے یہ غیر انسانی عمل انجام دے کر اپنے مناقفق اور شیطان ہونے کا ثبوت دے دیا۔

تبصرے
Loading...