اسلام میں حکومت کی ضرورت

مقدمہ

           اسلام میں حکومت کی ضرورت ایک اہم اور بنیادی موضوعات میں سے ایک موضوع ہے مقالہ حاضر میں ہم اس موضوع کی تحقیق کریں گے ۔  آخری آسمانی دین ہونے کی وجہ سے اسلام کچھ ایسے قوانین کا حامل ہے جوا نسان کی ہدایت کے لےے خداوند عالم کی جانب سے حضرت محمد مصطفی  (صلی الله علیه و آله) پر نازل ہوئے ہیں ۔

     چونکہ خداوند عالم انسان کا خالق ، سب چیزوں کا عالم اور انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے واقف ہے لہذا اسکی مصلحتوں کو اچھی طرح تشخیص دیتا ہے

 یہی وجہ ہے کہ اسکی طرف سے نازل شدہ قوانین ،کا مل ترین اور جامع ترین قوانین ہیں جو دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت کے ضامن ہیں ۔ لیکن محض قوانین نہ تو انسان کی زندگی کو سنوارتے ہیں اور نہ ہی اسکی سعادت کی ضمانت لے سکتے ہیں ، بلکہ قوانین کے ساتھ کچھ اشخاص کا ہونا بھی ضروری ہے جو ان قوانین کو عملی جامہ پہنائیں، تب ہی یہ قوانین موئثر ثابت ہو سکتے ہیں ۔ وہ تنظیم ،  جماعت جو قوانین کو نافذکرتی ہے ۔ اور معاشرے کے امور کی ذمہ دارہوتی ہے حکومت کہلاتی ہے اور انسان کی ضروریات میں شمار ہوتی ہے حکومت کے بغیر انسانی معاشرہ ہرج و مرج کا شکار ہو کر زوال اور نابودی کی راہ اختیار کر لیتا ہے

       دین اسلام وہی قانون ہے جو انسانی زندگی کو رخ دیتا اور مقصد عطا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ایک اسلامی حکومت کا ہونابھی ضروری ہے ۔ ہم چاہتے  ہیں کہ اسلام میں حکومت کے قیام کی ضرورت کے سلسلہ میں تحقیق کریں تاکہ اسکے تمام زاویوں سے آشنائی ہوسکے ۔

       اس مقالے میں درج ذیل موضوعات کے بارے میں تحقیق کی جائیگی ۔ دولت و حکومت کی ضرورت ، اسلام میں حکومت کا تاریخی جائزہ ، اور اسلامی حکومت (دولت ) کی ضرورت ۔

حکومت ( دولت ) کی تعریف۔

      (دولت ) حکومت کا لفظ ایک بہت ہی اہم لفظ ہے جو سیاسی علوم میں بہت زیادہ استعمال ہوتاہے ، اسکے معنی سے آشنائی کے لےے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اسکے لغوی معنی کو سمجھیں ، اور اسکے بعد اصطلاحی معنی بیان کئے جائیں لغت میں دولت و حکومت کی ا س طرح تعریف ہوئی ہے:

     لغت میں دولت کا لفظ، اقبال (نیک بختی ) ، حکمراں جماعت ،ملک ، مملکت ومال کی گردش اور کامیابی کے معنی میں آیا ہے (۱) ۔

     اصطلاح میں حکومت کے تین معانی ہیں اورہرمعنی کا ایک الگ استعمال ہے ، ہم پہلے حکومت کے اصطلاحی معنی بیان کریں گے اور پھر ان کے فرق کو روشن کریں گے ۔ اصطلاح میں حکومت کی تعریف اس طرح بیان ہوئی ہے ۔

     اصطلاح میں حکومت کے تین استعمال ہیں ۔

۱۔ دولت( حکومت ) انگلش کے State  لفظ کے مساوی ہے ، جسکے معنی انسانی اس گروہ کے ہیں جو ایک معین سرزمین پر ساکن ہوں ۔ اور ایک ایسی منظم حکومت رکھتے ہوں جوحاکمیت کے فرائض انجام دیتی ہے ۔ اس تعریف کے پیش نظر، حکومت، چار عناصر پر مشتمل ہے ۱۔ جمعیت  ۲۔ سرزمین  ۳۔ حکومت  ۴۔ حاکمیت ۔

۲۔ دولت (حکومت ) کے معنی حکومت اور حکمران جماعت ہے جو لفظ عوام اور رعایاکے مد مقابل ہے ، جن پر حکومت کی جاتی ہے ۔

۳۔ دولت (حکومت) یعنی ملک کی حکمران جماعت جس کا وظیفہ قانون کو نافذ کرنا ہے (۲) ۔

دولت و حکومت کی تمام تعریفات کو مد نظر رکھتے ہوئے ، اگر یہ لفظ بین الاقوامی سطح پر استعمال ہو رہا ہو تو پہلے معنی مراد ہیں ۔ یعنی ایسی سرزمین جسکی آبادی اور حدود اربعہ معین اور ایک منظم حکومت بھی رکھتی ہو۔

      لیکن جب یہ لفظ ملکی سطح پر استعمال کیا جائے تو اس سے مراد اس ملک کی حکمران جماعت ہوتی ہے جسمیں قانون سازکمیٹی ( اسمبلی)، قانون کو نافذ کرنے والی جماعت اور عدلیہ شامل ہیں ۔ اس صورت میں حکومت کے دوسرے معنی مقصود ہیں ۔ لیکن جب دولت اور حکومت کا لفظ دوسری طاقتوں کے مقابلہ میں استعمال کیا جائے توقانون نافذ کرنے والی جماعت مراد  ہے کہ وہی حکمران جماعت ہے ملکی قوانین کا نفاذ اور ادارہٴ مملکت اس کے وظایف میں شامل ہیں، بہرحال عام طور پر جب ہم بین الاقوامی پیمانہ پر اس لفظ کا استعمال کر تے ہیں تو اسکے پہلے معنی مراد ہوتے ہیں ۔

الف) حکومت کی ضرورت

 انسان ایک اجتماعی موجود ہے ، دوسری طرف وہ قدرت طلبی ، خود غرضی جیسے فطری صفات کا حامل ہے اور ہر چیز اپنے لئے چاہتاہے یعنی سب چیزوں کو اپنی ذاتی ملکیت میں منحصر کرنا چاہتا ہے لہذا انہی خود غرضیوں کی وجہ سے انسانوں کے درمیان، نزاع، کشمکش اور مقابلہ کی ضرورت پیش آتی ہے ، معاشرے اور سماج کو آپسی نزاع ،کشمکش اورجنگ وجدال سے بچانے اور ہرج و مرج کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کچھ قوانین موجود ہوں جو انسان کی زندگی کو نظم و ضبط نیز انکے روابط کو بہتر بنا سکیں ۔ البتہ فقط قانون کا ہونا کافی نہیں ہے چونکہ قانون اسی صورت میں مفید ہو سکتاہے جب اسکو نافذ بھی کیا جائے ورنہ اسکی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے کسی انجمن، تنظیم یا جماعت کا ہونا ضروری ہے جو معاشرے میں قوانین کو نافذکرے ،لوگوں کی اجتماعی اور سماجی  زندگی کونظم و ضبط دے سکے ، امن و امان قائم کرے ، اور معاشرے کی باگ ڈور سنبھالے ۔ اسی انجمن، تنظیم یا حکمران جماعت کو حکومت کہتے ہیں ۔ لہذا معاشرے میں حکومت و دولت کا موجود ہونا ضروری چیزوں میں شمار  ہوتا ہے ۔ کیونکہ اسکے نہ ہونے کی صورت میں ہرج و مرج اور بے قانونی حاکم ہوگی ۔ اور انسانی معاشرہ پستی اور نابودی کی راہ پر چلا جائےگا ۔

     حکومت کے ضروری ہونے کے متعلق قدیم یونانی فلسفی ارسطو یہ کہتاہے : حکومت انسان کے فطری تقاضوں میں سے ہے کیونکہ انسان فطری طور پر اجتماعی ہے اسی وجہ سے اجتماعی اور سماجی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ اور جو حضرات حکومت کے قائل نہیں ہیں وہ یا تو وحشی ہیں یا مافوق بشر موجودات ہیں جن کو حکومت کی ضرورت نہیں ہوتی (۳) ۔

    فلاسفہ اور علم سیاست کے مفکروں کے عقیدے میں حکومت ایک اجتماعی ضرورت ہے اور فطری طور پر ہر انسان اس ضرورت کو محسوس کرتاہے البتہ وہ لوگ  جو حکومت کوضروری نہیں سمجھتے یا حکومت کے بغیر زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں وہ یا تو وحشی ہیں جو انسانیت سے دور ہیں اوران میں انسانی صفات نہیں پائے جاتے ، اور حکومت کو اپنے وحشیانہ اعمال میں رکاوٹ سمجھتے ہیں ۔یا پھر وہ اشخاص ہیں جو انسان سے بہت بالا ہیں اوران میں بشری تقاضے نہیں ہوتے ، وہ فرشتوں کے مانند ہیں ۔ کہ فرشتوں کوحکومت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ لیکن معمولی انسان ، انسانی فطرت و جبلت کی وجہ سے اپنی اجتماعی زندگی کے لئے حکومت کو ضروری سمجھتے ہیں ۔کیونکہ نہ وحشی زندگی کے خواہاں ہیں اور نہ وہ فرشتے ہی ہیں کہ انہیں حکومت کی ضرورت نہ ہو۔

     یونان کے دوسرے عظیم فلسفی افلاطون ” ارنبات“  میں انسانی زندگی میں حکومت کے ضروری ہونے کے بارے میں کہتے ہیں ۔

     انسان کے لئے با فضیلت حیات اور فضائل و کمالات کا حاصل کرنا حکومت کے بغیرممکن نہیں ہے ۔کیونکہ انسان کی طبیعت ، سیاسی اور اجتماعی زندگی کی طرف مائل ہے اسی وجہ سے حکومت ایک فطری امر ہے ۔جس سے انسان بے نیاز نہیں ہے (۴) ۔

    علم جامع شناسی (سماجیات) کے بانی ابن خلدون، حکومت کے وجود کو ایک ضروری امر سمجھتے ہیں اور اس کو ثابت کرنے کے لئے انسان کے اجتماعی ہونے یا دوسرے الفاظ میں اس کے فطرتا سماجی ہونے سے استدلال کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حکومت کا وجود ایک لازم اور ضروری امر ہے (۵) ۔

      جو کچھ ذکر ہوا وہ  انسان کی اجتماعی زندگی کے لئے حکومت کی ضرورت کے متعلق فلاسفہ اور مفکرین کے نظریات تھے ۔

چونکہ انسان فطرتا و بالطبع دولت اور حکومت کو اپنی اجتماعی زندگی کی سب سے پہلی ضرورت سمجھتا ہے ، لہذا تاریخ کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں ملے گا جس میں حکومت نہ رہی ہو اگر چہ ابتدائی صورت ہی میں کیوں نہ ہو بہرحال تاریخ کے ہر دور میں دولت وحکومت کسی بھی نوعیت کی ہو موجود رہی ہے ۔ لیکن مختلف صورتوں میں قبیلہ کی حکومت سے لیکر شہر کی حکومت اور بادشاہت تک، یہاں تک کہ آج کی جدید طرز کی حکومتیں،لہذا اس بنیاد پر دولت یا حکومت انسان کی اجتماعی زندگی کے لئے ایک ضروری چیز ہے اور کوئی بھی عاقل شخص اس کی ضرورت کا منکر نہیں ہو سکتا ۔

ب)   اسلامی حکومت کا تاریخی جائزہ

اسلام میں حکومت کے وجود کا تصور ، ظہور اسلام کے ابتدائی زمانے سے ہی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا ۔ تاریخ کے ہر دور میں اسلام اور مسلمانوں کو جو ترقیاں اور  کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ سب حکومت اور دولت کے وجود کی برکت سے تھیں ۔ اسلام میں حکومت کا سابقہ صدر اسلام سے ملتاہے ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اسلامی معاشرہ کے پےشوا اور رہبر ہونے کی وجہ سے اسلامی حکومت کی بنیادرکھنے والے تھے ۔ اپ ہی نے پہلی ممکن فرصت میں اسلامی حکومت قائم کی ۔

۱۔ فلسفہ سیاست، تدوین: موسسہٴ آموزشی پژوہشی امام خمینی (ره)، قم ،  ہمان موسسہ، ۱۳۷۷، ص۸۲

۲۔ گذشتہ حوالہ  ․

۳۔ سیاست، ترجمہ احمد لطفی ، ۶۶

۴۔ جمہوری افلاطون، ترجمہ روحانی

۵۔ مقدمہ ابن خلدون، ص۴۲۔ ۴۱ (مبانی حکومت اسلامی سے نقل، سبحانی)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More