نعمت پر انسان کا تکبر اور تکلیف پر ناامیدی

خلاصہ: انسان کو چاہیے کہ نعمتوں میں اللہ کو یاد رکھے اور تکلیف میں بھی اللہ کو یاد رکھے، ایسا نہ ہو کہ نعمتوں میں تکبر کرے اور تکلیف میں اللہ تعالیٰ سے ناامید ہوجائے۔

نعمت پر انسان کا تکبر اور تکلیف پر ناامیدی

      انسان کو جب نعمتیں مل جاتی ہیں تو اتنا نعمتوں میں غرق ہوجاتا ہے کہ نعمت دینے والے اللہ کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اللہ کو بھلا دیتا ہے، بلکہ سرکشی کرتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھ لیتا ہے!
     سورہ علق کی آیات ۶، ۷ میں ارشاد الٰہی ہے: “كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ .أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ”، “ہرگز نہیں! انسان (اس وقت) سرکشی کرنے لگتا ہے۔ جب وہ سمجھتا ہے کہ وہ (غنی) بےنیاز ہے”۔
      انسان کو کم ظرف نہیں ہونا چاہیے کہ اگر اس کے مال، علم، طاقت آگئی تو وہ متکبر ہوجائے، بلکہ اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اسے پروردگار کی طرف پلٹا دیا جائے گا۔ آیت ۸ میں ارشاد الٰہی ہورہا ہے: إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الرُّجْعَىٰ، “بےشک آپ(ص) کے پروردگار کی طرف ہی (سب کی) بازگشت ہے”۔

      واضح ہے کہ جس انسان نے پروردگار کی طرف پلٹ جانا اور اسے اللہ کی بارگاہ میں حاضر کردیا جائے گا تو وہ اپنے آپ کو کیسے بے نیاز سمجھ سکتا ہے؟
      لیکن جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ کا محتاج اور ضرورتمند سمجھے تو کیا اللہ کے سامنے سرکشی کرے گا؟ نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں محتاج ہوں اور صرف اللہ غنی اور بے نیاز ہے۔

* ترجمہ آیت از: مولانا محمد حسین نجفی صاحب۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

1 × 4 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More