٤۔ خاندان وحی کی پیروی

0 20

٤۔ خاندان وحی کی پیروی

٤۔ خاندان وحی کی پیروی

خاندان نبوت علیھم السلام کا اپنے محبوں سے یہی تقاضا  ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ خودسازی اور خدا پسندانہ اعمال انجام دیں ۔ اہلبیت علیھم السلام کی نظر میں جو اپنے دل میں اس خاندان کی محبت و دوستی رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کے کردار کو اپنی زندگی کے لئے نمونۂ عمل قرار دیں اور اپنے تقویٰ و پرہیز گاری میں اضافہ کریں۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: 

”مَنْ أَحَبَّنٰا فَلْیَعْمَلْ وَلْیَتَجَلْبَبِ لْوَرَع”([1])

جو ہم سے محبت کرتا ہو اسے چاہئے کہ وہ کردار و رفتار پرعمل کرے اور تقویٰ کا لباس زیب تن کرے۔

 

جب خاندان وحی علیھم السلام کی محبت انسان کے ظاہر سے باطن میں سرایت کر جائے تو یہ تقویٰ و عمل صالح کا منشاء بن جاتا ہے۔

اہلبیت علیھم السلام کی محبت ہمیشہ انسان کے صالح اعمال کے ساتھ ہوتی ہے۔جن کی محبت زیادہ ہو وہ عام طور پر نیک اور صالح اعمال انجام دینے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔اسی لئے حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:

”لاٰتَدْعُوا الْعَمَلَ الصّالِحَ وَ الْعِبٰادَةَ اِتِّکٰالاً عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدً علیھم السلام وَالتَّسْلِیْمِ لِأَمْرِھِمْ اِِتّکٰالاً عَلَی الْعِبٰادَةِ فَاِنَّہُ لاٰ یُقْبَلُ أَحْدُھُمٰا دُوْنَ الْآخِرِ”([2])

 محمد و آل محمد علیھم السلام کی محبت و دوستی پر تکیہ کرتے ہوئے عمل صالح اور عبادت میں کوشش کوترک نہ کرو اور اپنی عبادت پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی محبت اور ان کے حکم کے سامنے تسلیم ہونے کو خیرباد نہ کہو ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے بغیر قبول نہیں ہو گا۔

یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان اہلبیت علیھم السلام سے شدید محبت بھی کرتا ہو لیکن اس کے باوجود ایسے کاموں میں مشغول ہوجنہیں وہ پسند نہیں کرتے یا ایسے اعمال کو چھوڑ دے جنہیں وہ پسند کرتے ہیں ۔

حقیقی محب اور واقعی دوست وہ ہوتاہے جو محبوب کا مطیع اور پیروکار ہو۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

لَوْ کٰانَ حُبُّکَ صٰادِقاً لَأَطَعْتَہُ      اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُحِبُّ مُطِیْع([3])

اگر تمہاری محبت سچی ہو تو تم اس کی اطاعت کرو گے کیونکہ محب اسی کا مطیع ہوتاہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

ایسی محبت جو اہلبیت اطہار علیھم السلام کی اطاعت اور پیروی کے ساتھ ہو ،وہ ان ہستیوں کی خوشنودی کا باعث بنتی ہے۔اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

”فَأَصْبَحْنٰا نَفْرَحُ بِحُبِّ الْمُحِبِّ لَنٰا”([4])

ہم نے اس حال میں صبح کی کہ ہم اپنے محبوں اور دوستوں کی ہم سے کی جانے والی محبت کی وجہ سے خوشحال ہیں۔

جی ہاں جو بلندمقامات تک پہنچنے کے لئے کوشاںہوں اور جن کے نیک اور عظیم اہداف ہوں ، انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ کوئی بھی گنج و رنج برداشت کئے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔لہذا جو کوئی بلند مقام کے حصول کے بارے میں سوچ رہا ہو تو اسے اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے ہر ضروری عمل  انجام دینا چاہئے۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

”مَنْ أَحَبَّ الْمَکٰارِمَ،اِجْتَنَبَ الْمَحٰارِمَ”([5])

جو کوئی مکرم بننا چاہتا ہو اسے حرام کاموں سے اجتناب کرنا چاہئے۔

حضرت داؤد علیہ السلام کی روایت میں آیاہے کہ خداوندکریم نے فرمایا:

”مٰا لِأَوْلِیٰاءِْ وَالْھَمُّ بِالدُّنْیٰا،اِنَّ الْھَمَّ یُذْھِبُ حَلاٰوَةَ مُنٰاجٰاتِْ مِنْ قُلُوْبِھِمْ،یٰا دٰاوُدُ اِنَّ مَحَبَّتِ مِنْ أَوْلِیٰاء أَنْ یَکُوْنُوا رُوْحٰانِیِّیْنَ لاٰ یَغْتَمُّوْنَ”([6])

میرے محبوں کو دنیاکے ہم و غم سے کیا سروکار؟کیونکہ دنیا سے دل لگی ان کے دل سے مناجات کی شیرینی چھین لیتی ہے۔میں  اپنے محبوں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ روحانی ہوں اور انہیں دنیا کا ہم و غم نہ ہو۔

اس بناء پر خدا و اہلبیت علیھم السلام کے محبوں کو دنیاوی مسائل میں ہی سرگرم نہیں ہونا چاہئے کیونکہ  دنیا پرستی اور مادّی دنیا میں دلچسپی انسان کو بارگاہ خدا سے دور کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔یہ اس سے تقرب سلب کر لیتی ہے اور اس سے خدا و اہلبیت علیھم السلام کی محبت کم کر دیتی ہے۔لیکن معنوی مسائل  اور عالم معنی کے حقائق کی جستجو انسان کو خدا اور آئمہ علیھم السلام کا محبوب حقیقی بنا دیتی ہے۔

[2]۔ سفینة البحار:٢٠٤١، مادۂ حبب

[3]۔ بحار الانوار:ج٤٧ص٢٤

[4]۔ بحار الانوار:ج٢٧ص٨٣

[5]۔ بحار الانوار:ج٧٧ص٤٢١،ارشاد المفید:١٤٠

[6]۔ بحار الانوار:ج٨٢ص١٤٣

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.