٢ ۔ گمراہوں کی صحبت

0 20

٢ ۔ گمراہوں کی صحبت

٢ ۔ گمراہوں کی صحبت

جب دین کے دشمنوں سے مبارزہ اور بر سر پیکار ہونے کا امکان نہ ہو تو منفی مبارزہ سے مدد لیں آپ منفی مبارزہ کے ذریعہ دشمنان دین کو نقصان پہنچا سکتے ہیں انہیں ان کے مذموم مقاصد تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں ان سے بے اعتنائی ، کنارہ کشی اور ان سے صحبت نہ کرنا منفی مبارزہ کی ایک نوع شمار ہوتا ہے ۔ ایسا کرنا اگر ان کی شکست کا وسیلہ نہ ہو تو کم از کم ان کے شرّ سے ایک طرح کی حفاظت ہے ۔

امام صادق(ع) ایک روایت میں فرما تے ہیں :

” لا تصحبوا اھل البدع ولا تجالسوھم فتصیروا عند النّاس کواحدٍ منھم ، قال رسول اللّٰہ ، المرئُ علیٰ دین خلیلہ و قرینہ ” ([1])

بدعت گزاروں سے صحبت نہ کرو اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو ۔ کیو نکہ ان کی مصاحبت و مجالست سے تم بھی لوگوں کی نظروں میں ان ہی میں سے ایک شمار ہوگے ۔ پھر انہوں نے فرمایا :  رسول اکرمۖ نے فرمایا : انسان اپنے دوست اور نزدیکی فرد کے دین پر ہو تا ہے  ۔

اس بناء پر ان لوگوں کی صحبت سے پر ہیز کر نا اور ان سے دوری سے انسان بد نامی کے خطرےسے اور تاثیر فکری کے لحاظ سے بھی امان میں ہو تا ہے ۔

 


[1] ۔ اصول کافی :ج٢ ص ٧٥ ٣

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.