٢۔ توسّل میں توجہ اور فکر کا تمرکز

0 15

٢۔ توسّل میں توجہ اور فکر کا تمرکز

٢۔ توسّل میں  توجہ اور فکر کا تمرکز

کسی بھی عبادت کی انجام دہی میں فکر کا تمرکز،توجہ اور مکمل  دقّت اس کے اثرات میں اضافے کا باعث ہے۔ اب ہم جو واقعہ ذکر کررہے ہیں یہ دعا اور توسّل کے دوران توجہ کی اہمیت کی دلیل ہے۔

ایک شخص اولیائے خدا میں سے کسی کے ساتھ واسطہ تھا اور کبھی کبھار ماضی اور مستقبل کے مطالب ان سے پوچھتا ۔ان کی سچائی  اور امور کی صحت اس کے لئے ثابت تھی۔میں نے ان سے پوچھا:وہ کس طرح اس مقام تک پہنچے اور وہ جو اسرار بیان کرتے ہیں وہ خود کس طرح انہیں جانتے ہیں؟

انہوں نے فرمایا:یہ شخص پہلے میرے شاگردوں میں سے تھا اور کبھی مجھ سے کچھ اذکار سیکھتا اور انہیں انجام دیتا ۔اگرچہ وہ بہت زیادہ دیر تک ان اذکار کو انجام نہیں دیتا تھا کیونکہ وہ کوئی طولانی اذکار اور دعائیں نہیں تھے ۔لیکن اس شخص کی ایک خصوصیت تھی جس کی وجہ سے اس نے یہ  ساری ترقی کی  اور اب وہ میرا استاد ہے۔اب میں ان سے اپنے مجہولات کے بارے میں پوچھتا ہوں اور وہ ان کا صحیح جواب دیتے ہیں اگرچہ ہر بار میرے پوچھنے سے پہلے ہی انہوں نے ان سوالوں کے جواب بتائے جنہیںمیں  ان سے پوچھنا چاہتا تھا۔

پھر انہوں نے فرمایا:ان کی یہ خصوصیت ہے کہ انہیں جو بھی دعا اور ذکر بتایا جائے وہ اسے مکمل توجہ سے انجام دیتے ہیں ۔وہ اپنی توجہ اور حضور قلب کی حالت کی وجہ سے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں۔

  اب آپ حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کے اس مختصر مگر عظیم کلام کی  طرف توجہ کریں ۔ آپ نے فرمایا:

”اَلدِّقَّةُ اِسْتِکٰانَة”([1])

مکمل توجہ تواضع و انکساری ہے۔

جو خدا اور اہلبیت علیھم السلام کے سامنے تواضع کرے ،خدا اسے سر بلند کر دیتاہے اور جو امور ظاہراً ناممکن  ہیں اس کے لئے ممکن بنا دیتا ہے ۔

جی ہاں!مکمل توجہ ناممکن کو آپ کے لئے ممکن بنا دیتی ہے اور آپ کو ایسے بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے جسے آپ ناممکن اور محال سمجھتے ہیں  ۔جس طرح ایک عام شخص (جن کا واقعے کی طرف ہم نے اشارہ کیا) دعا اور توسّل کے دوران توجہ کی وجہ سے عالم غیب سے ارتباط جیسے مقام تک پہنچ گیا۔

اسی وجہ سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

”فَاِذٰا دَعَوْتَ فَأَقْبِلْ بِقَلْبِکَ ثُمَّ اسْتَیْقِنْ بِالْاِجٰابَةِ”([2])

جب بھی دعا کرو تو توجہ اور اقبال قلب کی حالت میں دعا کرو،پھر تمہیں اس کی اجابت کا یقین ہونا چاہئے۔

دعا اور توسّل میں توجہ اور اقبال قلب اس طرح مؤثر اور مفید ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیںکہ توجہ کی حالت کے بعد تم اس دعا کی اجابت کا یقین کر لو!

اس بناء پر باطنی طہارت اور پاکیزگی کے بعد دعاؤں،مناجات اور توسّلات میں تمرکز فکر اور حواس کی توجہ کا مسئلہ بہت اہم اثرات کا حامل ہے۔

جس طرح توجہ  کے بغیر عبادتوں کا کوئی اہم اثر نہیں ہوتا اسی طرح ان توسلات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتاجن میں توجہ نہ ہواور یہ انسان کو اسکے مقصد و حاجت تک نہیں پہنچاتے۔

وہی توسّل مکمل اثرات رکھتاہے جس میں توجہ موجود ہو کیونکہ توسّل اسی صورت میں خدا اور خاندان وحی علیھم السلام سے ارتباط برقرار کر سکتا ہے جب وہ توجہ  سے ہو اور پاک دل سے نکلے۔ایسے توسّلات کے نتیجہ میں بند راہیں بھی کھل جاتی ہیں اور بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں ۔جب انسان کا خدا اور اہلبیت علیھم السلام سے ارتباط برقرا رہو جائے تو کوئی دعا اور توسّل  پورا ہوئے بغیر نہیں  رہ سکتا۔

اس بنا پر اگر اپ چاہتے ہیں کہ آپ کے توسّل کا فوری اثر ہو اور اس کابہترین نتیجہ بھی ہو تو خودسازی کے علاوہ توسّل کے وقت آپ کی توجہ منتشر نہیں ہونی چاہئے بلکہ مکمل توجہ اور تمرکز سے خاندان وحی علیھم السلام کا دامن تھامیں اور انہیں اپنی حاجتوں کے پورا ہونے کے لئے وسیلہ قرار دیں۔

پیغمبر اکرم ۖ فرماتے ہیں:

”نَحْنُ الْوَسِیْلَةُ اِلَی اللّٰہِ”([3])

ہم خدا کی طرف وسیلہ ہیں۔

جی ہاں !ہر آگاہ اور روشن دل انسان کایہی عقیدہ ہے کہ خاندان نبوت علیھم السلام اس کے پشت پناہ اور خدا کی طرف اس کا وسیلہ ہیں ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کی ایک زیارت میں بیان ہوا ہے:

”بِکُمْ یٰا آلَ مُحَمَّدٍ أَتَوَسَّلُ،اَلْاٰخِرُ مِنْکُمْ وَالْاَوَّلُ”([4])

اے آل محمد!آپ کے وسیلے سے ہم متوسل ہوتے ہیں ،آپ میں سے اوّل سے آخر تک۔

ہمیں ان معصوم ہستیوں سے کبھی کبھار نہیں  بلکہ ہمیشہ اپنی حاجتوں اور مشکلات میں ان بزرگ ہستیوں سے متوسل ہونا چاہئے۔

ہم زیارت جامعہ کبیرہ (جسے حضرت امام ہادی علیہ السام نے نور کے دریا کو مختصر بیان میں سمو دیا ہے )میں پڑھتے ہیں: 

”وَمَنْ قَصَدَہُ تَوَجَّہَ بِکُمْ”([5])

جو خدا کا قصد کرے ، وہ آپ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

 

گذشتہ بیانات کی رو سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اپنی حاجتوں کے روا ہونے اور آرزؤں  کے پورا ہونے کے لئے دل کی پاکیزگی کے علاوہ توجہ اور سوچ و فکر کا متمرکز ہونا ضروری ہے۔اس بناء پر ”باطنی تطہیر اور فکر کی توجہ ”توسّل کے اثرات کے لئے دو اہم راہ ہیں۔اس بیان سے یہ ملاحظہ کریں کہ توسّل کی کتنی زیادہ عظمت ہے اور توسّل کرنے والے کی روحانی حالت کیاہونی چاہئے؟

اگر وہابیوں کی طرح کے مغرض افراد توسّل کو کوئی اہمیت نہ دیں تو یہ ان کی باطل سوچ ،تنگ نظری اور ان کی لاعلمی کی  وجہ سے ہے ورنہ جو کوئی یہ جانتا ہو کہ توسّل کیا ہے  اورتوسّل کن بنیادوں پر   استوار ہے تووہ کس طرح انسان کے بہترین روحانی حالات کا انکار کر سکتے ہیں اور کس طرح عظیم روحانی خزانے کاانکار کر سکتے ہیں؟

متفکّر انسان کس طرح پر کشش ترین روحانی حالات کو صرف اسبناء پر ردّ کر سکتا ہیکہ وہ خود انہیں حاصل  نہیں کر سکا؟!!

[2]۔ بحار الانوار:ج۹۳ص۳۲۳،مکارم الاخلاق:٣١٤

[3]۔ بحار الانوار:ج٢٥ص٢٣

[4]۔ بحار الانوار:ج١٠١ص٢٢٧

[5]۔ مفاتیح الجنان ،زیارت جامعہ کبیرہ

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.