قرآن اور امام زمانہ

قرآن اور امام زمانہ

 

قال اللہ تبارک و تعالیٰ: (۱)

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اور ہم نے آپ کو سبع مثانی (سورئہ حمد) اور قرآن عظیم عطا کیا ہے۔

۳۱۸۔ ” وَفی التہذیب باسنادہ عن محمّد بن مسلم قالَ سَاٴلتُ اَبا عبد اللّٰہ علیہ السلام عَنِ السَّبْعِ الْمَثانی وَالْقُرآنِ الْعَظیم ھِیَ فاتِحَةُ الْکِتابْ ؟ قالَ نَعَمْ قُلْتُ بِسم اللّٰہ الْرَحمنِ الْرَحیمْ مِنَ الْسَبْعِ ؟ قالَ نَعَمْ ھِیَ اَفْضَلُھُنَّ “ (۲)

تہذیب میں بطور مسند محمد ابن مسلم سے روایت نقل کی گئی ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے امام جعفر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ حجر، آیت ۸۷۔

(۲)۔ تہذیب الاحکام، ج۲، ص ۲۸۹۔

صادق  – سے سبع مثانی اور قرآن عظیم جو فاتحة الکتاب (سورئہ حمد ) ہے اس کے متعلق دریافت کیا؟ فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا:”بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم “ بھی سبع (سات) میں سے ہے؟ فرمایا: ہاں وہ ان آیات میں افضل ہے ۔ یہی معنی شیعہ روایت میں حضرت امیر المومنین  – اور اکثر ائمہٴ اہل بیت   سے بیان کیا گیا ہے اور اہل سنت کی روایت میں بھی حضرت علی  – اور بعض اصحاب جیسے عمر ابن خطاب ، عبد اللہ ابن مسعود، ابن عباس، ابی ابن کعب اور ابو ہریرہ وغیرہ سے نقل ہوا ہے۔(۱)

مولف کہتے ہیں: مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ سبع ثانی سورئہ فاتحة الکتاب ہے۔

۳۱۹۔ ” وَعَن البحار : عن ابی جعفر علیہ السلام : قالَ نَحْنُ الْمَثانی اَلّتی اَعْطاھا اللُّٰہ نَبیِّنا وَنَحْنُ وَجہُ اللّٰہِ نَتَقَلّبُ فی الارْضِ بَیْنَ اَظْھَرِکُمْ عَرَفْنا مَنْ عَرَفْنا وَجِھْلَنَا مَنْ جَھِلَنا مَنْ عَرَفْنا فَاٴمَامُہُ الیَقینُ وَمَنْ جَھِلَنا فَامَامُہُ السَّعیرُ“ (۲)

بحار الانوار میں امام محمد باقر   – سے منقول ہے کہ حضرت  – نے فرمایا: ہم وہ مثانی (دوبار نازل ہونے والی سورت حمد) ہیں جو اللہ نے اپنے نبی کو عطا کی اور ہم وجہ اللہ (یعنی جن کی طرف توجہ کی جاتی ہے) ہیں ہم تمہارے روبرو روئے زمین پر آمد و رفت رکھتے ہیں جو ہمیں پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو ہم کونہیں جانتا نہیں جانتا اور جس نے ہماری معرفت حاصل کرلی اس کے سامنے یقین کی منزل ہے اور جو شخص ہماری معرفت سے جاہل ہو اس کے سامنے جہنم ہے۔

۳۲۰۔ ”فی الوسائل : سَبْعُ خِصالٍ اَعْطَی اللّٰہ نَبیَّہُ  (ص) مِنْ بَیْنِ النَبیِینَ وَھِیَ فاتِحَةُ الکِتابِ وَ الاذانُ وَالاقامَةُ وَالجَماعَةُ فی المَسْجِد وَیَوْمُ الْجُمَعَةُ وَالاجِھارُ فی ثَلاثِ صَلواتٍ وَالرَخْصُ لامَتِہِ عِندَ المَرَضِ والْسَّفَرِ والصَلاة عَلَی الجنائِز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ علامہ طباطبائی ۺ نے بھی تفسیر المیزان، ج۱۲، ص ۲۰۸ میں ذکر کیا ہے۔

(۲)۔ بحار الانوار، ج۲۴، ص ۱۱۴۔

وَالْشَفاعَةُ لاصْحابِ الکبائِرِ مِنْ اُمَتِہِ  “ (۱)

وسائل الشیعہ میں منقول ہے کہ سات خصلتیں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کے درمیان اپنے نبی اکرم  کو عطا فرمائی ہیں اور وہ یہ ہےں: سورئہ حمد، اذان، اقامت، مسجد میںنماز جماعت ، روز جمعہ، تین نمازیں بلند آواز سے پڑھنا (نماز مغرب و عشاء کی ابتدائی دو رکعتیں اور نماز صبح) حالت مرض، سفر میں اپنی امت پر نماز پڑھنا نماز جنازہ پڑھنا اور اس کی امت کے گناہان کبیرہ والے افراد کی شفاعت میں رخصت عطا کی ہے۔

حضرت قائم آل محمد صلوات اللہ علیہ وآلہ کا مقدس وجود تمام قرآن مجید کے علوم کا حامل ہے اور تمام انبیاء اور ائمہ ہدی ٰ    کے علوم کے وارث ہیں اور جو کچھ ہوچکا اور ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے اس کا بھی علم اس عظیم ہستی کے پاس ہے۔ ان کے علاوہ الٰہی وعدے جو قرآن مجید میں مقدس دین اسلام کی تمام ادیان پر کامیابی کی بشارت دے رہے ہیں انہیں حضرت کے قدرت مند ہاتھوں کی برکت سے محقق ہوں گے۔

کفر و شرک و نفاق کی جڑ اس امام منتطر  – کی شمشیر براں سے قطع ہوگی اور ہر قسم کے ظلم و جور منکرات اور بے عدالتی اپنا رخت سفر باندھ کر رخصت ہوجائے گی اور عدالت و انصاف پسندی ان کی حیات طیبہ میں اس کی قائم مقام ہوگی انشاء اللہ۔

قال تبارک و تعالیٰ: (۲)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: وہ خدا وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ وسائل الشیعہ، ج۵، ص ۲۷۷۔ بحار الانوار، ج۸۱، ص ۱۱۶۔

(۲)۔ سورئہ توبہ، آیت ۳۳، سورئہ صف، آیت ۹۔

۳۲۱۔ ” وَفی تَفْسیر القُمی اِنَّھا نَزَلَتْ فی القائِمِ مِنْ آلِ مُحَمَدْ (ص)“ (۱)

تفسیر قمی میں نقل ہوا ہے کہ یہ مذکورہ آیہٴ کریمہ قائم آل محمد   کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

۳۲۲۔ ”وفی تفسیر البرھان عن الصدوق علیہ الرحمة باسنادہ عَنْ ابی بَصیرْ قالَ: قالَ اَبُو عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام فی قَوْلِہِ عَزَوَجَلّ الآیَہَ وَاللّٰہُ ما نَزَلَ تَاویلُھا حَتّی یَخْرَجُ الْقائِمُ علیہ السلام ، فَاذا خَرَج القائمُ علیہ السلام لَمْ یَبقَ کافِرٌ بِاللّٰہِ وَلا مُشْرِکٌ بِالامامِ الّاکَرِہَ خُروجَہُ حَتی لَو کانَ الکافِرُ فی بَطْنِ صَخْرَةٍ قالَتْ یا مُوٴمِنْ فی بَطنی کافِرٌ فَاکسِرْنی وَاقْتُلُہُ“ (۲)

تفسیر برہان میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ سے بطور مسند ابو بصیر سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: امام جعفر صادق   – نے فرمایا: خدائے بزرگ و برتر کا قول جس میں فرماتا ہے ”وہ وہی ہے کہ جس نے اپنے رسول محمد  (ص) کو بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ“ آیت کے آخر تک: خدا کی قسم! ابھی اس کی تفسیر اور تاویل نازل نہیںہوئی ہے اور نہ نازل ہوگی مگر یہ کہ جب قائم آل محمد   قیام و  ظہور کریں گے تو ہر کافر اور مشرک کو آپ کا خروج و ظہور ناپسند و ناگوار ہوگا۔ اس لیے کہ کوئی کافر و مشرک پتھر کی چٹان میں بھی گھس کر بیٹھ جائے تو چٹان خود آواز دے گی کہ اے مردِ مومن! میرے بطن میں کافر یا مشرک پوشیدہ بیٹھا ہوا ہے،لہٰذا، مجھے توڑ دو اور اس کو قتل کردو۔

۳۲۳۔ ”وَفی الدر المُنْثور اخرج سعید بن منصور وابن المنذر والبیہقی فی سننہ عن جابر فی قولہ آیة قالَ لا یَکونُ ذِلکَ حَتی لا یَبْقی یَھودیٌ وَلا نَصرانیٌ صاحِبُ مِلَةٍ الاسْلامِ حتَی تاٴمَنُ نَشْاةُ الذِئبَ ، وَالْبَقَرَةُ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تفسیر قمی، ج۱، ص ۱۴۔ معجم احادیث الامام المہدی  -، ج۵، ص ۳۲۔

(۲)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۶۷۰۔ معجم احادیث الامام المہدی  -، ج۵، ص ۱۴۵۔

الاسَدَ وَالانْسانُ الحَیَةَ حَتی لا تَفْرُضُ فاٴرةٌ جِراباً وَ حَتی یَوضَعُ الجَزْیَةُ وَیُکْسَرُ الصَلیبُ وَیُقْتَلُ الخِنْزیرُ وَ ذلکَ اذا نَزَلَ عیسی بنُ مَرْیَمَ علیہ السلام  “ (۱)

سیوطی نے اپنی تفسیر الدر المنثور میں نقل کیا ہے کہ سعید ابن منصور، ابن منذر اور بیہقی اپنی سنن میں جابر سے اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے یہ معنی یعنی دین اسلام کا تمام ادیان پر غالب ہونا محقق نہیں ہوگا جب تک کہ کوئی یہودی، کوئی نصرانی، یا کوئی اور مذہب والا ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جو دین اسلام میں داخل نہ ہوجائے بلکہ بھیڑ اور بھیڑیا، بیل اور شیر انسان اور سانپ ایک دوسری کے ساتھ امن و سکون سے زندگی بسر کریں گے یہاں تک کہ چوہا بھی چمڑے کے تھیلے میں سوراخ نہیں کرے گا اور جزیہ (Tex) بھی ختم ہوجائے گا، صلیب توڑ دی جائے گی، تمام سور قتل کردی جائے گی اور یہ سب کچھ اس وقت محقق ہوگا جب عیسیٰ ابن مریم  – نازل ہوں گے۔

مولف کہتے ہیں: حضرت عیسی  – کا نزول حضرت قائم آل محمد   کے بابرکت ظہور کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ حضرت عیسی  – نازل ہوکر حضرت قائم آل محمد   کی اقتدا کرکے ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔

خلاصہ یہ کہ زمین کا کفر و شرک سے پاک ہونا، ظلم و ستم اور ائمہٴ اطہار   اور ان کے اجداد طاہرین   کے غصب شدہ حقوق کو مکمل طورپر اخذ کرنا، اور جو روئے زمین پر ناحق خون بہائے گئے ہیں حق کا ظہور، حق و باطل کے درمیان جدائی کافروں کا قتل یہاں تک کہ آپ کی شمشیر برّاں سے شیطان رجیم کا قتل حضرت کے مبارک ہاتھوں انجام پائے گا اور دنیا اور اس کے درمیان رہنے والوں میں ایک تازہ روح پھونکی جائے گی۔ لوگوں کی عقلیں اس عالمی مصلح کے دستِ مبارک کی برکت سے کامل ہوجائےں گی اور ایک پاک و صاف فضا کائنات میں ایجاد ہوگی کہ گویا کائنات بہشت بریں ہوگئی ہے، اور قابل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ الدر المنثور، ج۳، ص ۲۳۱۔ معجم احادیث الامام المہدی  -، ج۵، ص ۱۴۹۔

توجہ یہ ہے کہ یہ قدرت اور عالمی قوت اس عظیم ہستی کے علاوہ کسی اور کو نہیں عطا کی گئی ہے۔

اللھُمَّ عَجّل فَرَجَہُ وَسَھِّلْ مَخْرَجَہُ وَبَلِّغْہُ اَفْضَلَ ما امَّلَہُ وَاجْعَلنا مِنْ اَعوانِہ وَاَنْصارِہِ وَشیعتِہِ وَالراضینَ بِفَعْلِہ وَمُمتثلینَ لا وامِرِہ وَالمُسْتَشْھِدینَ بَیْنَ یَدَیہِ بِمُحَمَدٍ وَآلہ الطَیِبینَ الطاہریین سَلامُ اللّٰہ وَ صَلَواتُہُ عَلَیْہِمُ اَجْمَعینُ آمینَ َربَّ العالَمینْ ۔

خدایا! ان کے ظہور میں تعجیل فرما ان کی گشائش کو آسان فرما اور ان کی بہترین آرزو انہیں نصیب ہو اور ہمیں ان کے اعوان و انصار اور ان کے شیعوں میں قرار دے نیز ان لوگوں میں قرار دے جو ان کے فعل سے راضی رہنے والے اور ان کے فرامین کی اطاعت کرنے والے ہیں نیز ان کے ساتھ درجہٴ شہادت پر فائز ہونے والوں میں قرار دے۔

۱۳۔ مومنین کے لیے شفا

۱۳۔ القُرآنُ شِفاءُ لِلْموٴمنینَ․

وَالحُجَّة القائِمُ علیہ السلام شِفاءُ لِلْموٴمنینْ ․

قرآن اور امام زمانہ  – کائنات کے تمام مومنین کے ہر قسم کے درد و الم کے لیے شفا ہیں۔

قال اللّٰہ تعالیٰ (۱)

خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: ہم قرآن میں وہ سب کچھ نازل کر رہے ہیں جو صاحبانِ ایمان کے لیے شفا اور رحمت ہے۔

۳۳۴۔ ”وفی تفسیر العیاشی عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام : انما الشفاءُ فی علم القرآن لقول اللّٰہ ماھو شفاء ورحمة للموٴمنین ․ “ (۲)

تفسیر عیاشی میں امام جعفر صادق  – سے منقول ہے کہ حضرت  – نے فرمایا: شفا صرف علم قرآن میں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو صاحبانِ ایمان کے لیے شفا اور رحمت ہے۔

۳۲۵۔ ” وَفی تفسیر الفرات : اِنْ القْرآنَ ھُوَ الدَواءُ وَاِنَّ فیہِ شِفاءٌ مِنْ کُلِ داءٍ وَاِنَّ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ بنی اسرائیل، آیت ۸۲۔

(۲)۔ تفسیر عیاشی، ج۲، ص ۳۱۵۔

مَنْ لَمْ یَسْتَشْفِ بِہِ فَلا شِفاءُ اللّٰہُ وَمَنْ قَرَاٴ مِاةَ آیةٍ مِنْ ایّ آیة القُرآنْ شاءَ ثُمَ قالَ سَبْعَ مَرْاتٍ یا اللّٰہُ فَلَوَ دَعا عَلَی الصَخْرَةِ لَقَلَعَھا۔“

تفسیر فرات میں نقل ہوا ہے کہ : یقینا قرآن دوا ہے اور اس میں تمام درد و الم کے لیے شفا ہے جو شخص قرآن کے ذریعے شفا نہ حاصل کرسکے تو خداوند متعال اسے شفا نہیں عطا کرے گا جو شخص قرآن کی آیات میں سے سو آیتوں کی تلاوت کرے اور پھر سات مرتبہ یا اللہ کہے اس کے بعد اگر کسی بڑے پتھر پر پڑھے تو یقینا وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائے گا۔

۳۲۶۔ ” وفی طب الائمة عن الصادق علیہ السلام : ما اَشْتَکی اَحدٌ مِنَ الموٴمِنینَ شِکایَةً وَقَطُ وَقالَ باخلاصِ نیَّةٍ وَمَسَحَ موضعَ العِلَة الا عُوفی مِنْ تِلْکَ عِلَّةٍ آیَّةُ عِلّةٍ کانت وَمِصْداقُ ذلکَ فی الآیةِ حَیْثُ یَقولُ :“ (۱)

طب الائمہ میں امام جعفر صادق  – سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا: مومنین میں سے کسی ایک مومن نے بھی کسی قسم کی بھی کوئی شکایت نہیں کی اور خلوص نیت کے ساتھ درد کی جگہ اس آیت مبارکہ کو مس کیا اور صحت و عافیت نہ حاصل کی ہو خواہ وہ کسی قسم کا درد رہا ہو وہ اسی آیت کا مصداق ہے جہاں ارشاد فرماتا ہے: ”صاحبان ایمان کے لیے شفا اور رحمت ہے“۔

مولف کہتے ہیں: قرآن کے معنی میں روحوں کے لیے شفا ہے اور اس کے الفاظ میں اجسام و ابدان کے لیے شفا ہے آیہٴ کریمہ (۲) کی تفسیر میں۔

۳۲۷۔ ” وَفی ( مجمعِ ) فی مَعْنیٰ الْتَرْتیلَ عَنْ ابی بَصیر عَن ابی عَبْدِ اللّٰہ علیہ السلام قٰالَ ھُوَ اَنْ تَتَمَکْث فیہِ وَتُحْسِنَ بِہِ صوتَکَ ․ وَقیلَ حَفِظُ الوقوفِ وَاداء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ طب الائمہ، ص ۲۸۔ بحار الانوار، ج۹۲، ص ۵۴، ص ۱۱۰۔

(۲)۔ سورئہ مزمل، آیت ۴۔

الحُروفْ “ (۱)

مجمع البیان میں ترتیل کے معنی میں ابو بصیر سے انہوں نے امام جعفر صادق   – سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: ترتیل سے مراد یہ ہے کہ اس کی قرائت کے وقت ٹھہرو اور اپنی آواز کو اچھی طرح باہر نکالو۔ اور کہا گیا ہے کہ ترتیل یعنی وقف کے مقامات کی رعایت کرنا اور حروف کو بہترین طریقے سے ادا کرنا ہے۔

۳۲۸۔ ”وَفی الدّرالمنثور اخرج العسکری فی المواعظ عن علی علیہ السلام انَّ رَسولَ اللّٰہِ  (ص) سُئِلَ عَنْ قولِ اللّٰہِ قالَ بَیِّنَہُ تَبییناً وَلا تَنْثِرْہُ نَثر الدَقَلَ وَلا تَھُزَّہُ ھَزَّ الشِعْرِ قِفُوا عِنْدِ عَجائبہِ وَحَرِّکوابِہِ القُلوبَ وَلا یَکُنْ ھُمَّ احدکُم آخر السورَةِ “ (۲)

سیوطی نے الدر المنثور میں عسکری سے مواعظ میں حضرت علی  – سے نقل کیا ہے کہ فرمایا: رسول خدا  (ص) سے اللہ کے قول کے متعلق سوال کیا گیا، فرمایا: آشکار کرنے کی طرح مکمل طور پر آشکار کرو اور اسے دقل خرما کی طرح پراگندہ نہ کرو بلکہ اس کے عجائب و غرائب میں غور وفکر کرو اور ان کے ذریعے دل کو حرکت دو اور تمہاری کوشش یہ نہ ہو کہ جتنی جلدی ہو سکے سورے کو اختتام کی منزل پر پہنچاؤ۔

۳۲۹۔ ”وفی الکافی باسنادہ عن عبد اللّٰہ بن سلیمان عن صادق عن علی علیہ السلام بَیِّنَہُ تَبییناً وَلا تَھُزُّہ ھَزَّ الشِعْرِ وَلا تَنْثُرہُ نَثْرَ الرَّمْلِ ، وَلکنْ اَفرِغُوا قُلوبَکُمْ القاسیةَ وَلا یَکُنْ ھَمُّ احدکُمْ آخر السورَةِ  “ (۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تفسیر مجمع البیان، ج۱۰، ص ۱۶۲۔

(۲)۔ الدر المنثور، ج۶، ص ۲۷۔

(۳)۔ الکافی، ج۲، ص ۶۱۴، حدیث ۱، باب ترتیل القرآن۔

کافی میں عبد اللہ ابن سلیمان امام جعفر صادق   – سے اور انہوں نے حضرت علی  – سے نقل کیا ہے کہ فرمایا: الفاظ کو واضح طریقے سے ادا کرو اور اشعار کی طرح نہ پڑھو اور رمل (ریت) کی طرح اسے ریخت و پاش (پراگندہ) نہ کرو بلکہ قرآن اس طرح پڑھو کہ تمہارے سخت دل نرم ہوجائیں اور تمہاری سعی و کوشش یہ نہ ہو کہ جتنی جلدی ہوسکے سورے کے آخر تک پہنچو۔

۳۳۰۔ ”وَفی اصولِ کافی باسنادِہِ عَنْ عَلَی بن ابی حَمْزَةَ قالَ: قالَ ابو عبد اللّٰہ علیہ السلام  اِنّ القُرآنَ لا یَقْرء ھَذْرَمةً وَلکنَ یُرَتِّلُ تَرْتیلاً فَاذا مَرَرْتَ بآیَةٍ فیھا ذِکْرُ الجَنَّة فَقِفْ عِنْدَھا وَاساٴلِ اللّٰہ عَزّوجلّ الجَنَّةَ وَاذا مَرَرْتَ بآیَةٍ فیھا ذِکْرُ النار فَقِفْ عِنْدَھا وتعوذ باللّٰہِ مِنَ النارِ  “ (۱)

اصول کافی میں بطور مسند علی ابن حمزہ سے انہوں نے امام جعفر صادق   – سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: قرآن کو سرعت سے نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ ترتیل اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے اور جب ایسی آیت پڑھو جس میں جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہو تو رک جاؤ اور خدائے بزرگ و برتر سے جنت طلب کرو اور اگر جب ایسی آیت پڑھو جس میں آتش جہنم کا ذکر ہو تو توقف کرو اور اللہ سے آتشِ جہنم سے پناہ طلب کرو۔

خداوند متعال نے قرآن مجید کو شفا قرار دیا ہے، شفا مرض اور مرض کی حالت کے لیے ہے، آیہٴ کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ قلوب کے مختلف حالات ہوا کرتے ہیں۔

اور ان کی بہ نسبت قرآن ان کے امراض کے لیے شفا بخش دوا ہے۔ انسان خلقت اصلی کے لحاظ سے صحت و سلامتی اور جسمانی و روحی استقامت کا حامل ہے جب تک اس کی جسمانی اور روحی صحت و سلامتی مختل نہ ہو اور اگر روحی خلل واقع ہو تو روحی امراض عارض ہوئے لہٰذا اس کا روحی علاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ الکافی، ج۲، ص ۶۱۷۔

ضروری ہے اسی طرح جسمانی خلل ہو تو جسمانی امراض درپیش ہوئے لہٰذا اس کا جسمانی علاج ضروری ہے۔

مختلف امراض کے علاج لے لیے خواہ وہ جسمانی ہوں یا روحی، قرآنی آیات اور سوروں میں بہت سے خواص ذکر ہوئے ہیں کہ اس مختصر کتاب میں اس کے ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے، قارئین کرام س کے متعلق منابع و مصادر جیسے بحار الانوار وغیرہ کی طرف رجوع کریں۔

مولف کہتے ہیں: جس طرح عظیم الشان قرآن مجید مختلف جسمانی و روحی امراض کے لیے شفا بخش ہے اسی طرح قائم آل محمد مہدی موعود عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کا مقدس وجود بھی دشوار علاج والے امراض کے لیے شفا بخش ہے بلکہ جسمانی اور روحی لاعلاج امراض کے لیے بھی۔ تبرکاً ہم چند مورد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

۱۔ محدث نوری طبرسی رحمة اللہ علیہ کتاب نجم الثاقب میں تحریر کرتے ہیں آغا محمد مہدی شیرازی تاجر تھے جو بند کلومین چین کے ممالک میں پیدا ہوئے وہیں پرورش پائی وہ ایسے شدید مرض میں مبتلا ہوئے کہ جس کے نتیجے میں قوت گویائی و سماعت جاتی رہی تقریباً تین سال تک اسی حالت میں باقی رہے پھر شفا حاصل کرنے کی غرض سے ائمہٴ   عراق کی زیارتوں کے لیے جاتے ہیں اور جمادی الاولیٰ ۱۳۹۹ئھ میں کاظمین وارد ہوئے اور وہاں اپنے رشتہ داروں میں سے کسی ایک تاجر کے گھر قیام پذیر ہوئے وہاں بیس دن سکونت اختیار کی پھر ان کی سواری سامرہ کی طرف حرکت کے وقت چلی، اس کے رشتہ داروں نے اسے سواری پر سوار کیا اور اہل قافلہ جو اہل بغداد اور اہل کربلا تھے ان کے ہمراہ کیا اور گونگے ہونے کی وجہ اور پنے مقاصد و حوائج کے اظہار سے عاجزی کی بنا پر سامرہ کے مجاورین کو ایک خط تحریر کیا تاکہ وہ ان کی مدد کریں، وہاں پہنچنے کے بعد ۱۰ جمادی الثانیہ بروز جمعہ ۱۲۹۹ھء سرداب مقدس کی زیارت سے مشرف ہوئے خدّام اور موثق افراد کا ایک گروہ ان کے لیے زیارت پڑھ رہا تھا یہاں تک کہ سرداب کے چبوترے پر گئے اور کنویں کے اوپر کچھ دیر تک گریہ و زاری کرتے ہیں اور جملہ حاضرین و ناظرین سے اپنے لیے دعا اور شفا کی التماس کرتے ہیں گریہ وزاری بے قراری اور انابہ و توبہ کے بعد ان کی زبان حضرت کی طرف سے کھل گئی اور صاف صاف تیزی کے ساتھ فصیح عربی میں گفتگو کر رہے تھے اور سنیچر کے دن ان کے دوستوں نے انہیں جناب آیت اللہ سرکار مرزا محمد حسین شیرازی علیہ الرحمہ و الرضوان کی مجلس درس میں حاضر کیا اور ان کے سامنے تبرکاً مکمل صحت و حسن قرائت کے ساتھ سورئہ الحمد کی تلاوت کی تاکہ تمام حاضرین کو مکمل طور پر یقین ہو جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ دن بڑی مسرت اور خوشی کا رہا شب یکشنبہ ، دوشنبہ صحن مبارک میں چراغانی ہوئی۔ اس واقعہ کے سلسلے میں بہت سی نظمیں عرب و عجم کے شعرا نے نظم کیں کہ ان میں سے بعض رسالة جنت الماویٰ میں موجود ہے۔ (۱)

۲۔ اسماعیل ہرقلی کی غیبت کبریٰ میں ملاقات کا واقعہ مشہور ہے وہ حضرت کو پہچان لیتے ہیں اور اپنی بائیں طرف کے ران کے زخم سے امام زمانہ  – کی برکت سے شفا حاصل کرتے ہیں کہ جس کے علاج سے تمام جرّاح اور ڈاکٹر مایوس تھے اس کی مفصل داستان کتاب نجم الثاقب میں ہے کہ مولف حقیر نے بہت ہی خلاصہ کے طور پر یوں نقل کیا ہے۔

اسماعیل ہرقلی کی بائیں ران میں کوئی چیز پیدا ہوتی ہے جس کو توثہ کی بیماری کہتے ہیں جو بہت زیادہ درد اور تکلیف دہ تھی تمام ڈاکٹروں اور جراحوں کے پاس گئے نتیجتاً یہی کہا کہ اس کا آپریشن کے علاوہ کوئی چارہٴ کار نہیں ہے اور وہ آپریشن بھی سو فیصد خطرناک ہے۔

اسماعیل مایوس ہوکر حلہ آئے اور سید جلیل القدر علی ابن طاوس کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ شکایت کی اور وہ ان کے ساتھ بغداد گئے اور سید جلیل القدر نے بغداد کے ڈاکٹروں کو بلایا اور سب نے وہی تشخیص دی اور وہ لوگ ان کے علاج سے مایوس ہوجاتے ہیں، اسماعیل سید ابن طاوس سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ نجم الثاقب،  ۶۲۰، حکایت ۸۲۔

عرض کرتے ہیں کہ اب جب میں بغداد تک آہی گیا ہوں تو کیا بہتر ہے کہ زیارات عسکریین علیہما السلام سے مشرف ہو لوں اور پھر گھر واپس جاؤں، سید جلیل القدر نے بھی شرعی وظائف نماز وغیرہ ان کے لیے بیان کیے پھر وہ سامرہ کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں جب وہ سامرا پہنچتے ہیں تو پہلے حرم مبارک عسکریین علیہما السلام میں داخل ہوکر زیارت کرتے ہیں پھر سرداب مقدس کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے فریاد و استغاثہ کر کے حضرت حجّت صاحب الامر  – کو شفیع قرار دیتے ہیں اس رات کچھ دیر تک وہاں قیام کرتے ہیں جمعرات کے دن تک وہیں رہتے ہیں اور اس دن دجلہ میں جاکر غسل کرکے پاکیزہ لباس پہن کر اپنے ہمراہ جو لوٹا رکھے ہوئے تھے اسے بھر کر زیارت کے لیے واپس آتے ہیں یہاں تک کہ شہر سامرا کے حصار میں پہنچتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ چار افراد اپنی سواری پر حصار سے باہر آئے دو شخص ان میں جوان اور ایک شخص نقاب دار ضعیف العمر اور ایک دوسرے شخص بہت زیادہ بہترین لباس صاحب فرجیہ (اس زمانے کا مخصوص شان دار لباس) پہنے ہوئے تھے۔

ضعیف العمر نقا ب دار شخص کے ہاتھ میں نیزہ تھا جسے وہ راستے کے داہنی طرف لیے کھڑے تھے اور وہ دونوں جوان بائیں طرف اور صاحب فرجیہ درمیانِ راہ کھڑے تھے مجھے سلام کیا میں نے سلام کا جواب دیا صاحب فرجیہ نے کہا: کل تم اپنے اہل و عیال کے پا س چلے جاؤ گے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، فرمایا: آگے آؤ تاکہ میں دیکھوں تمہیں کس چیز سے تکلیف ہو رہی ہے جب اس کے پاس گیا تو وہ صاحب فرجیہ اپنی سواری سے جھکے اور میرے شانے کو پکڑ کر اپنا ہاتھ میرے زخم پر رکھا اور دبا کر نچوڑ دیا پھر اپنے گھوڑے پر بیٹھے پھر اس شخص نے کہا: اے اسماعیل! تم نے چھٹکارا پالیا ، میں نے کہا: انشاء اللہ ہم سب کے لیے فلاح و نجات ہے، اس کے بعد اس ضعیف العمر نے کہا کہ یہ بزرگوار ہستی تمہارے امام زمانہ  – ہیں پھر میں ان کے پاس گیا اور ان کے پائے مبارک کا بوسہ دیا اور انہوں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی۔

وانفَعَنَا اللّٰہ وجمیع الموٴمنین بوجودہ نفعاً تاماً؛اللہ تعالیٰ ان کے مبارک ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں اور تمام مومنین کو ان کے وجود ذی جود سے مکمل نفع پہنچائے۔ (۱)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۴۱۱، حکایت سوم۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More