مستحب روزوں کی اقسام روایات کی روشنی میں

خلاصہ: مستحب روزوں کی اقسام روایات کی روشنی میں  

مستحب روزوں کی اقسام روایات کی روشنی میں

سال کے ہر دن روزہ رکھنا مستحب ہے سوائے ان دنوں کے کہ جن میں حرمت کا حکم آیا ہے (۱) اور اسی طرح وہ دن جن میں روزہ رکھنا مکروہ ہے جیسے عاشورا کا دن (۲) اس کے علاوہ باقی دنوں میں روزہ رکھنا مستحب ہے ۔
پیامبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں ایسی چیز بتاؤں جس سے شیطان تم سے اتنا دور ہو جائے جتنا مشرق سے مغرب تک کا فاصلہ ہے، تو اصحاب نے کہا ضرور فرمائیے یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا: روزہ ایسی چیز ہے جس سے شیطان تم سے دور ہو جاتا ہے ۔(۳)
امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) کا ارشاد ہے: ایک مہینہ میں تین روزے رکھا کرو کیونکہ یہ ایک عمر کے برابر ہے (۴)
امام صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں: روزہ دار کا سونا عبادت اور سانس لینا تسبیح ہے ۔(۵)
البتہ کچھ شرائط ایسی بھی ہیں کہ جن کی وجہ سے ان مستحبات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے:
۱۔ گرمیوں میں روزہ رکھنا یا ایسے دنوں میں کہ جن میں پیاس زیادہ محسوس ہو اور دن سختی سے گذرے۔(۶) یہ اس وجہ سے ہےکہ انسان سختیوں کو برداشت کرتا ہے تو اس کی عبادت اور اطاعت اسے خدا کے قریب کرتی ہے۔
امام صادق (علیہ السلام) کا ارشاد ہے کہ :جب انسان سخت گرمی میں روزہ رکھتا ہے تو خداوند متعال ایک ہزار فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اسکی نیکیاں لکھیں اور انہیں کہتا ہے کہ گواہ رہنا میں نے اس کے گناہ بخش دئے ہیں۔(۷)
البتہ یہ باتیں سردیوں کے روزے کی کوئی نفی نہیں کر رہی اور ہمارے پاس سردیوں کے روزے کے بارے میں بھی روایات موجود ہیں جیسے امام صادق (علیہ السلام) کا ارشاد ہے: سردیوں کے روزوں کو غنیمت سمجھو۔(۸) سردیوں کا موسم مؤمن کے لیے بہار ہے  کیونکہ اس میں رات بڑی ہوتی ہے کہ جو عبادت میں مدد کرتی ہے اور دن چھوٹا ہوتا کہ جو روزے کے لیے مدد کرتا ہے ۔(۹)
۲۔ روزہ شہوت کو قابو میں رکھتا ہے، پیامبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا نوجوانوں کے نام پیغام: تمہارے اوپر لازم ہے کہ شادی کرو اگر شادی کے شرائط میسر نہیں ہیں تو روزے رکھو کیونکہ روزہ سے شہوت کنٹرول میں ہوتی ہے۔(۱۰)
۳۔ جمعہ کا روزہ، جمعہ کا دن باقی دنوں سے افضل ہے اسی لیے جمعہ کے دن کا روزہ کہا گیا ہے ۔(۱۱)
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:جو بھی جمعہ کے دن روزہ رکھے گا اور صبر کرے گا خداوند متعال اسے دس دن کے روزے کا ثواب عطا کرے گا ۔(۱۲)
ہشام بن حکم، امام صادق (علیہ السلام)سے ایسے انسان کے بارے میں سوال کرتا ہے جو صدقہ دیتا ہے اور روزہ رکھتا ہے،  تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اگر اس کا روزہ جمعہ کے دن کا روزہ ہے تو اسی دن جزا بھی حاصل کر لے گا ۔(۱۳)
۴۔ ہر مہینہ کی پہلی اور آخری جمعرات اور اسی طرح ہر مہینہ کا درمیانی بدھ ، ان دنوں میں بھی زیادہ فضیلت ہے ۔
امام صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں: رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہر مہینہ کی پہلی اور آخری جمعرات اور درمیانی بدھ کو روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو بھی اس طرح مہینہ میں تین روزے رکھے وہ ایسے ہے گویا اس نے پوری عمر روزہ رکھا ۔(۱۴)
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) سے تاکید کرتے ہیں کہ ہر مہینہ کی پہلی اور آخری جمعرات اور اسی طرح درمیانی بدھ کے دنوں میں روزہ رکھو ۔(۱۵)
۵۔ شعبان کے مہینہ کے روزے رکھنا اور اسے متصل کرنا ماہ رمضان کے روزوں سے۔
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے اور اسی طرح امام باقر (علیہ السلام) اور امام صادق (علیہ السلام) بھی اسی سنت پر عمل کرتے تھے۔(۱۶)
امام صادق (علیہ السلام) کا ارشاد ہے: خدا کی قسم ماہ شعبان کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں کے ساتھ متصل کرنا خدا کے ساتھ دوستی کا سبب بنتا ہے۔(۱۷)
۶۔ امام باقر(علیہ السلام): جو بھی ماہ رجب کے اول اور آخر اور درمیان میں روزہ رکھے، قیامت کے دن  خدا اُسے  ہمارے ساتھ کھڑا کرے گا اور اگر  کوئی سات دن روزہ رکھے، جہنم کے سات دروازے اس پر بند کردیے جاتے ہیں اور اگر کوئی آٹھ دن روزہ رکھے، اس کے لئے بہشت کے آٹھ دروازے کھول دیے جائیں گے وہ جس دروازے سے چاہے اندر جاسکتا ہے۔(۱۸)
امام صادق (علیہ السلام) کا ارشاد ہے کہ جو جتنا زیادہ روزے رکھے اس کی جزاء بھی اسی طرح بڑھتی چلی جائے گی (۱۹)
ایک اور جگہ فرمایا: ۲۷ رجب کے روزے کو کبھی نہ بھولنا (۲۰) ۔
۷۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  اپنے اصحاب سے سوال کرتے ہیں کہ تم میں سے کون پوری عمر روزے رکھتا ہے ؟
سلمان فرماتے ہیں میں یا رسول اللہ ۔
اصحاب میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ آپ کا سوال یہ تھا کہ کون پوری عمر روزہ رکھتا ہے اور سلمان نے کہا میں جبکہ یہ تو اکثر کھا ،پی رہے ہوتے ہیں اور یہ عجمی ہے اور چاہتا ہے کہ ہم قریش سے آگے بڑھے۔
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) فرماتے ہیں :خاموش ہو جاؤ !
تمہیں کیا معلوم کہ لقمان حکیم کون ہے؟ یہ خود اسی سے پوچھو تاکہ تمہیں بتائے۔
اس شخص نے سلمان سے پوچھا ،تم نے نہیں کہا کہ ہمیشہ روزے رکھتے ہو؟ سلمان نے جواب میں کہا اے بندہ خدا، میں ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتا ہوں اور خود خدا نے کہا ہے کہ جو کوئی بھی ایک نیکی کرے میں دس گنا اسے ثواب دیتا ہوں (۲۱) اور شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے متصل کرتا ہوں اور کوئی بھی اگر ایسا کرے تو گویا اس نے پوری عمر روزے رکھے(۲۲) ۔
۸۔ ایام البیض میں روزے رکھنا (یعنی ہر ماہ کی ۱۵،۱۴،۱۳ کو روزہ رکھنا ) ۔
مولائے کائنات امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جب تک زندہ تھے تو ایام البیض میں ہمیشہ روزے رکھا کرتے تھے ۔(۲۳)
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں: جبرائیل میرے پاس آئے اور کہا کہ علی (علیہ السلام) سے کہو کہ تین دن روزے رکھیں، پہلے دن کی جزاء دس ہزار سال کے برابر ہے، دوسرے دن کے روزے کی جزاء تیس ہزار سال کے برابر ہے اور تیسرے دن کی جزا، سو ہزار سال کے برابر ہے۔ میں نے سوال کیا کہ یہ فقط علی کے لیے ہے تو کہا علی اور اسکے چاہنے والوں کے لیے یہی جزا ہے، میں نے پوچھا وہ تین دن کون سے ہیں تو کہا ایام البیض  کے دن ۔ (۲۴)
۹۔ عید غدیر کے دن کا روزہ ۔
امام صادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں: غدیرکا دن خدا کے نزدیک سو حج اورسو عمرہ کے برابر ہے اور اسے عید اکبر کا نام دیا ہے (۲۵) اور اس دن روزہ رکھنے سے ۶۰ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں (۲۶) ۔
۱۰۔  تین دن روزہ رکھنا نماز استسقاء(بارش کی طلب) کے لیے۔
حماد سراج کہتے ہیں کہ محمد بن خالد مجھے امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں لے گیا  میں نے امام (علیہ السلام) سے پوچھا کہ لوگ مجھے نماز استسقاء کے لیے کہتے ہیں اور اب بھی کہا ہے، میں چاہتا ہوں آپ آئیں اور نماز پڑھائیں، امام (علیہ السلام) نے فرمایا: پہلے لوگوں میں اعلان کرو کہ دو دن روزہ رکھیں اور تیسرے دن روزے کے ساتھ باہر آئیں پھر نماز استسقاء پڑھی جائے گی، اس طرح خدا کبھی رد نہیں کرتا (۲۷) ۔
۱۱۔ حاجت کے لیے  بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھنا ۔
امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: جب بھی تمہیں کوئی حاجت ہو تو بدھ ، جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھو اور پھر جمعہ کے دن غسل کرو، پاکیزہ لباس پہنو،گھر میں کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہوکر دو رکعت نماز پڑھو اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ(دعا مفاتیح الجنان میں موجود ہے)  اور دعا کے بعد اپنی حاجت طلب کرو (۲۸)۔
۱۲۔ عیدنوروز کے دن کا روزہ ۔
معلی بن خنیس امام صادق (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: غسل کرو اور پاکیزہ لباس پہنو، خشبو لگاؤ اور اس دن روزہ رکھو۔(۲۹)
۱۳۔ ماں اور باپ کے لیے روزہ رکھنا۔
امام صادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں:کیوں ماں باپ(چاہے زندہ ہوں یا مردہ)  کے لیے نیکی نہیں کرتے ؟
ان کی طرف سے نماز پڑھو، روزہ رکھو، صدقہ دو،ایسا کرنے سے خدا دونوں کو اس کا اجر عطا کرتا ہے اور تمہارا اس میں زیادہ فائدہ ہے کیونکہ تمہارے حصے میں زیادہ لکھا جاتا ہے ۔(۳۰)
۱۴۔ مدینہ میں روزہ رکھنا ۔
مسافر شخص کہیں بھی روزہ نہیں رکھ سکتا مگر احادیث میں آیا ہے مدینہ میں تین دن روزہ رکھنا مستحب ہے ۔
امام کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں :جب بھی مدینہ جاؤ تو مستحب ہے  تین دن روزہ رکھو اور اگر ممکن ہو تو وہ دن تمہارے بدھ ،جمعرات اور جمعہ ہوں ۔(۳۱)
نتیجہ
ان مطالب سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ روزہ رکھنا بہت بڑی فضیلت ہے اور مخصوصا ً ان دنوں میں کہ جن کا ذکر روایات میں آیا ہے  یا جن دنوں کے بارے میں ہمیں سے تاکید کی گئی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے جات 
[۱]. شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیه، ج ‏۴، ص ۳۶۷، دفتر انتشارات اسلامی، قم‏، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق۔
[۲]. ر.ک: «آثار تربیتی روزه»، سؤال ۱۴۸۵۹؛ «فضیلت روزه ماه ذی الحجه»، سؤال ۴۵۱۲۳.
[۳]. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، ج ۴، ص ۶۲، تهران، دار الکتب الإسلامیة، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق.
[۴]. ابن شعبه حرانی، حسن بن علی، تحف العقول عن آل الرسول(ص)، محقق: غفاری، علی اکبر، ص ۱۱۳، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق. 
[۵]. «عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ(ع) قَالَ نَوْمُ الصَّائِمِ عِبَادَةٌ وَ نَفَسُهُ تَسْبِیحٌ»؛ الکافی، ج ‏۴، ص ۶۴.
[۶]. رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) : «أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ أَحْمَزُهَا»؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ج ‏۶۷، ص ۲۳۷، دار إحیاء التراث العربی‏، چاپ دوم، بیروت، ۱۴۰۳ق‏.‏
[۷]. الکافی، ج ‏۴، ص ۶۴.
[۸]. «أَنَّهُ قَالَ الصَّوْمُ فِی الشِّتَاءِ هُوَ الْغَنِیمَةُ الْبَارِدَةُ»؛ الخصال، ج ‏۱، ص ۳۱۴.
[۹]. «عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ(ع) قَالَ سَمِعْتُهُ یَقُولُ الشِّتَاءُ رَبِیعُ الْمُؤْمِنِ یَطُولُ فِیهِ لَیْلُهُ فَیَسْتَعِینُ بِهِ عَلَى قِیَامِهِ وَ یَقْصُرُ فِیهِ نَهَارُهُ فَیَسْتَعِینُ بِهِ عَلَى صِیَامِهِ»؛ شیخ صدوق، معانی الأخبار، محقق و مصحح: غفارى، على اکبر، ص ۲۲۸، دفتر انتشارات اسلامى، قم‏، چاپ اول، ۱۴۰۳ق‏.‏
[۱۰]. «یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ عَلَیْکُمْ بِالْبَاهِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِیعُوهُ فَعَلَیْکُمْ بِالصِّیَامِ فَإِنَّهُ وِجَاؤُه»؛ الکافی، ج ‏۴، ص ۱۸۰.
[۱۱]. «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ(ص): إِنَّ یَوْمَ الْجُمُعَةِ سَیِّدُ الْأَیَّام»‏؛ شیخ صدوق، الخصال، محقق و مصحح: غفارى، على اکبر، ج ‏۱، ص ۳۱۶، دفتر انتشارات اسلامی، قم‏، چاپ اول، ۱۳۶۲ش‏.‏
[۱۲]. «مَنْ صَامَ یَوْمَ الْجُمُعَةِ صَبْراً وَ احْتِسَاباً أُعْطِیَ ثَوَابَ صِیَامِ عَشَرَةِ أَیَّامٍ غُرٍّ زُهْرٍ لَا تُشَاکِلُ أَیَّامَ الدُّنْیَا»؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق و مصحح: لاجوردی، مهدی، ج ‏۲، ص ۳۶ – ۳۷، نشر جهان، تهران، چاپ اول، ۱۳۷۸ق.
[۱۳]. «عَنْ هِشَامِ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ(ع) فِی الرَّجُلِ یُرِیدُ أَنْ یَعْمَلَ شَیْئاً مِنَ الْخَیْرِ مِثْلَ الصَّدَقَةِ وَ الصَّوْمِ وَ نَحْوَ هَذَا قَالَ یُسْتَحَبُّ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ یَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّ الْعَمَلَ یَوْمَ الْجُمُعَةِ یُضَاعَفُ»؛ الخصال، ج ‏۲، ص ۳۹۲ – ۳۹۳.
[۱۴]. شیخ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص ۷۹ – ۸۰، دار الشریف الرضی للنشر، قم، چاپ دوم، ۱۴۰۶ق.
[۱۵]. الکافی، ج ‏۸، ص ۷۹.
[۱۶]. ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص ۹۱.
[۱۷]. ثواب الأعمال و عقاب الأعمال،  ص ۹۲.
[۱۸]. شیخ صدوق، الأمالی، ص ۵ – ۶، کتابچى‏، تهران، چاپ ششم، ۱۳۷۶ش.
[۱۹]. ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص ۵۳.
[۲۰]. من لا یحضره الفقیه، ج ‏۲، ص ۹۰.
[۲۱]. انعام، ۱۶۰: «مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها».
[۲۲]. الأمالی، ص ۳۳.
[۲۳]. حمیرى، عبد الله بن جعفر، قرب الإسناد، ص ۹۰، مؤسسة آل البیت(ع)، قم، چاپ اول‏، ۱۴۱۳ق‏.
[۲۴]. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعة، ج ‏۱۰، ص ۴۳۷، مؤسسة آل البیت(ع)‏، قم، چاپ اول‏، ۱۴۰۹ق‏.
[۲۵]. شعیرى،‏ تاج الدین، جامع الأخبار، ص ۸۱، انتشارات رضى‏، قم‏، چاپ اول، ۱۴۰۵ق‏.‏
[۲۶]. من لا یحضره الفقیه، ج ‏۲، ص ۹۰.
[۲۷]. شیخ طوسى، محمد بن حسن،‏ تهذیب الأحکام، محقق و مصحح: خرسان موسوی، حسن، ج ۳، ص ۱۴۸، دار الکتب الإسلامیه‏، تهران‏، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق‏.‏
[۲۸]. شیخ طوسى، محمد بن حسن‏، مصباح المتهجد و سلاح المتعبد، ج ‏۱، ص ۳۲۴ – ۳۲۹، مؤسسة فقه الشیعة، بیروت‏، چاپ اول، ۱۴۱۱ق‏.
[۲۹]. وسائل الشیعة، ج ۸، ص ۱۷۲.
[۳۰]. کافی، ج ‏۲، ص ۱۵۹.
[۳۱]. بحار الأنوار، ج ‏۹۷، ص ۱۵۹.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.