ماہ رمضان کے نام اور چند صفات

خلاصہ: رمضان اور ماہ رمضان میں فرق، ماہ رمضان کو رمضان کہنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی وجہ بیان ہوئی ہے۔ نیز اس مہینہ کے لئے ۲۹ نام اور صفات کا اس مقالہ میں ذکر کیا ہے۔

ماہ رمضان کے نام اور چند صفات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عام طور پر لوگ ماہ رمضان کو صرف رمضان کہتے ہیں جبکہ روایت میں اس طرح کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ وضاحت یہ ہے کہ ماہ رمضان، اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے اور رمضان “اللہ” کے اسماء میں سے ایک ہے لیکن یہ اسم، ماہ رمضان سے الگ ہے۔ حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ” لَا تَقُولُوا رَمَضَانَ وَ لَکِنْ قُولُوا شَهْرُ رَمَضانَ فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ مَا رَمَضَان‏”[1] رمضان مت کہو بلکہ ماہ رمضان کہو کیونکہ تم (لوگ) نہیں جانتے کہ رمضان کیا ہے۔
رمضان اللہ کے اسماء (ناموں) میں سے ایک اسم ہے اور اسے تنہا ذکر نہیں کرنا چاہیے مثلاً کہیں: رمضان آیا یا گیا بلکہ اس طرح کہنا چاہیے: ماہ رمضان آیا۔ یعنی ماہ (مہینہ) کو رمضان سے نسبت دی جائے۔ اس سلسلے میں حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کی روایت پر توجہ کرتے ہیں:
ہشام بن سالم کا کہنا ہے کہ ہم آٹھ افراد، حضرت ابو جعفر امام باقر (علیہالسلام) کی خدمت میں حاضر تھے تو رمضان کے سلسلے میں بات چلی، تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: “لا تقولوا هذا رمضان، و لا ذهب رمضان و لا جاء رمضان، فان رمضان اسم من اسماء الله عز و جل لا یجیی و لا یذهب و انما یجیی‏ء و یذهب الزائل و لکن قولوا شهر رمضان فالشهر المضاف الی الاسم و الاسم اسم الله و هو الشهر الذی انزل فیه القرآن، جعله الله تعالی مثلا و عیدا و کقوله تعالی فی عیسی بن مریم (علیهما السلام) و جعلناه مثلا لبنی اسرائیل“[2]۔[3]
نہ کہو کہ یہ رمضان ہے اور نہ یہ کہو کہ رمضان چلا گیا اور  رمضان آگیا، کیونکہ رمضان، اللہ عزوجل کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جو نہ آتا ہے اور نہ جاتا ہے اور صرف زائل ہونے والی چیز آتی ہے اور جاتی ہے بلکہ کہو: ماہ رمضان۔ پس ماہ، اسم سے منسوب کیا جاتا ہے اور اسم، اللہ کا اسم ہے اور ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا ہے اور اللہ تعالی نے اسے مثل اور عید قرار دیا ہے جس طرح سے اللہ تعالی کا حضرت عیسی بن مریم (علیہما السلام) کے بارے میں ارشاد ہے: “وجعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل“، “اور ہم نے ابن مریم کو بنی اسرائیل کے لئے مثل قرار دیا”۔
اسلامی احادیث میں ماہ مبارک رمضان کا مختلف ناموں اور صفات کے ذریعہ تعارف کروایا گیا ہے جو اس مہینہ کی عظمت کی دلیل ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس مہینہ کا انسان کے تکامل اور عبادت کے لئے جسمانی اور روحانی تیاریوں میں مثبت اور بے مثال کردار ہے۔ اس مہینہ کے بعض نام اور صفات یہ ہیں:
ـ شَهْرُ اللّه: اللہ کا مہینہ
ـ شَهْرُ اللّهِ الاْعْظَم: اللہ کا سب سے بڑا مہینہ
ـ شَهْرُ ضِیافَةِ اللّه: اللہ کی مہمان نوازی کا مہینہ
ـ شَهرُ قراءَةِ القرآن: قرائت قرآن کا مہینہ
ـ شَهْرُ الصِیامِ: روزہ رکھنے کا مہینہ
ـ شَهْرُ الاْءسْلام: اسلام کا مہینہ
ـ شَهْرُ الطَهُور: پاک کرنے والا مہینہ
ـ شَهْرُ التَمْحیص: خالص کرنے کا مہینہ
ـ شَهْرُ القِیام: نماز کا مہینہ
ـ شَهْرُ العِتْقِ مِنَ النّار: آتش جہنم سے نجات کا مہینہ
ـ شَهْرُ الصَّبر: صبر کا مہینہ
ـ شَهْرُ الْمُواساة: ہمدردی کا مہینہ
ـ شَهْرُ الْبَرَکَة: برکت کا مہینہ
ـ شَهْرُ الْمَغْفِرَة: بخشش کا مہینہ
ـ شَهْرُ الرَحْمَة: رحمت کا مہینہ
ـ شَهْرُ التَوْبَة: توبه کا مہینہ
ـ شَهْرُ الاْنابَة: واپس پلٹ آنے کا مہینہ
ـ شَهْرُ الاِِسْتِغْفار: استغفار کا مہینہ
ـ شَهْرُ الدُعا: دعا کا مہینہ
ـ شَهْرُ العِبادَة: عبادت کا مہینہ
ـ شَهْرُ الطاعَة: اطاعت کا مہینہ
ـ شَهْرٌ مُبارَک: مبارک مہینہ
ـ شَهْرٌ عَظیمٌ: عظیم مہینہ
ـ شَهْرٌ یُزادُ فیه رِزْقُ الْمُؤْمِنِ: مومن کے رزق کے بڑھائے جانے کا مہینہ
ـ سَیِّدُ الشُهور: مہینہوں کا سردار
ـ شَهْرُ عِیدِ اَوْلِیائه: اولیائے الہی کی عید کا مہینہ
ـ رَبِیعُ الْقُرآن: قرآن کی بہار
ـ رَبیعُ الْفُقَراء: فقیروں کی بہار
ـ رَبیعُ الْمُؤْمِنین: مؤمنین کی بہار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
سائٹ حوزہ نٹ، ارمغان – تابستان ۱۳۸۶ – شماره ۳ – بخش اول: رمضان و روزه، آموزه های قرآنی و روایی، بایسته ها و… سے ماخوذ۔
[1] الکافی، ج۴، ص: ۶۹  بَابٌ فِی النَّهْیِ عَنْ قَوْلِ رَمَضَانَ بِلَا شَهْرٍ
[2] سورہ زخرف، آیت۵۹۔
[3] بحار جلد ۹۶، ص ۳۷۶، مطبوعہ اسلامیه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.