فدک پر حضرت علی(علیہ السلام)اور شھزادی زہرا(سلام اللہ علیہا) کی دلیلیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم
     فدک، خیبر کے مشرق اور مدینه منوره سے ۲۰،فرسخ(۱۲۰ کیلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ایک سرزمین کا نام ہے. اس علاقے میں رسول الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دور میں پانی کا چشمه تھا، نخلستان تھا، کھیتی باڑی کے لئے زرخیز خطه بھی تھا اور یہاں رہنے کے لئے ایک رہائشی قلعہ بھی تھا جہاں یہودی رہائش پذیر تھے.
     غزوہ خیبر میں(لشکر اسلام کے سپہ سالاروں کی ناکامی کے بعد) جب علی(علیہ السلام) کی سرکردگی میں خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے فتح ہوئے تو فدک کے یہودی(جنہوں نے جنگ خیبر میں خیبر کے یہودیوں کو تعاون کا وعدہ دیا تھا)، بغیر جنگ و خونریزی کے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے سامنے ہتیار ڈال کر جنگ سے دستبردار ہوگئے، چنانچہ فدک کا علاقہ جنگ کے بغیر ہی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے سپرد کیا گیا اور قرآن کریم کی ان آیات کے  مطابق:« وَمَا أَفَاء اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  مَّا أَفَاء اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُمْ [سورۂ حشر، آیت:۶،۷]؛ اور خدا نے جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کے لئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعہ کوئی دوڑ دھوپ نہیں کی ہے لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شئ پر قدرت رکھنے والا ہے، تو کچھ بھی اللہ نے اہل قریہ کی طرف سے اپنے رسول کو دلوایا ہے وہ سب اللہ، رسول اور رسول کے قرابتدار، ایتام، مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے تاکہ سارا مال صرف مالداروں کے درمیان گھوم پھر کر نہ رہ جائے»۔  
     حکم الہی سے یہ سرزمین رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ملکیت خاص قرار پائی. ان آیات کے مطابق مسلمان اور مجاہدین کے لئے(جنگوں میں ملنے والی غنیمت کے برخلاف) اس سرزمین میں کوئی حصہ قرار نہیں دیا گیا.

فدک پر علی(علیہ السلام) کی دلیل اور سب کی خاموشی
     جب ابوبکر نے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی میراث کی نفی والی حدیث کا حوالہ دیا تو علی(علیہ السلام) نے کہا: اور سلیمان(علیہ السلام) داؤد(علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور زکریا(علیہ السلام) نے کہا (خداوندا مجھے ایسا ولی عنایت عطا فرما جو) میرا اور آل یعقوب(علیہ السلام) کا وارث بنے اور ابوبکر نے کہا ایسا ہی ہے اور آپ جانتے ہیں جو میں جانتا ہوں. علی(علیہ السلام) نے فرمایا: یہ کتاب خدا ہے جو بول رہی ہے. پس سب خاموش ہوئے اور نشست برخاست ہوئی.[۱]

شھزادی زہرا(سلام اللہ علیہا)کی دلیلیں
      جب کہ مہاجرین اور انصار کا مجمع حاضر تھا، فاطمہ بنت رسول الله(صلی الله علیہ و آلہ و سلم) داخل ہوئیں اور فرمایا: میں فاطمہ بنت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہوں. سب سے پہلے بتانا چاہتی ہوں کہ یقینا ایک رسول تم ہی میں سے تمہاری طرف آیا جس پر تمہاری تکالیف بہت گران گذرتی ہیں اور تمہاری ہدایت پر اصرار کرنے والا ہے اور مؤمنین پر رئوف اور مہربان ہے، اگر تم لوگ غور کرو تو اس رسول کو میرا باپ پاؤگے جبکہ وہ تمہارا باپ نہیں ہے اور رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ) کو میرے چچا زاد علی(علیہ السلام)) کا بھائی پاؤگے جبکہ وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں. پهر اب تم گمان کرتے ہو کہ ہمارے لئے میراث نہیں ہے؟ کیا تم دوبارہ جاہلیت کی حکمرانی چاہتے ہو؟ اور کون ہے جو یقین والوں کے لئے خدا سے بہتر فیصلہ کرتا ہے؟ اے ابی قحافہ کے بیٹے! تم تو اپنے باپ کے وارث ہوسکتے ہو، میں رسول اللہ کی بیٹی اپنے باپ کی وارث نہیں ہوسکتی؟ تم نے نہایت عجیب اور برا عمل انجام دیا ہے. پس خدا کا حکم اور اس کا فیصلہ بہترین حکم ہے اور زعیم میرے والد محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہیں اور ہماری میعادگاہ قیامت ہے اور اس وقت باطل والے نقصان اٹهائیں گے.[۲]

ابن ابی الحدید کا بیان
     
اکثر روایات میں تاکید ہوئی ہے کہ یہ خبر اکیلے ابوبکر کے سوا کسی نے بهی نقل نہیں کی ہے اور اکثر محدثین حتی فقہاء  نے اس روایت کو ان روایات میں شمار کیا ہے جو صرف ایک صحابی سے نقل ہوئی ہیں اور ہمارے شیخ (استاد) ابوعلی نے کہا ہے کہ ہر روایت قابل قبول نہیں ہے مگر یہ کہ وہ کم از کم دو صحابیوں سے نقل ہوئی ہو جس طرح کہ شہادت اور گواہی بهی صرف اسی صورت میں قابل قبول ہے جب گواہ دو مرد(یا دو عورتیں اور ایک مرد) ہوں چنانچہ تمام علمائے عقائد(متکلمین) اور فقہاء نے اپنے استدلالات میں اس کو مسترد کیا ہے.

ان دلیلوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فدک شھزادی زہرا(سلام اللہ علیہا) کا مسلم حق تھا جو غصب کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔ « ان علیا قال لابی بکر عند ما ذکر ابو بکر حدیث انتفاء ارت النبی( و ورث سلیمان داؤود) و قال (یرثتی و یرث من آل یعقوب) فقال ابوبکر: هو هکذا و انت والله تعلم ما اعلم، فقال علی(علییہ السلام) :هذا کتاب الله ینطق، فسکتوا و انصرفو». حسن بن يوسف علامه حلى، نهج الحقّ و كشف الصدق،  دار الكتاب اللبناني، ۱۹۸۲م، ص۵۱۹
[۲]۔ « ان فاطمة بنت محمد دخلت على ابى بكر وهو في حشد من المهاجرين والانصار . ثم قالت : انا فاطمة بنت محمد اقول عودا على بدء : لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ، فان تعزوه تجدوه ابى دون آبائكم، واخ ابن عمى دون رجالكم . . ثم انتم الان تزعمون ان لا ارث لنا، أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ تَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ؟ يابن ابى قحافة اترث اباك ولا ارث ابى ؟ ! ! لقد جئت شيئا فريا ، فدونكها مخطومة تلقاك يوم حشرك، فنعم الحكم الله، والزعيم محمد، والموعد القيامة وعند الساعة يخسر المبطلون»۔ ميرزا حبيب الله/ حسن زاده آملىٍ، حسن و كمرهاى، محمد باقر، منهاج البراعة في شرح نهج البلاغة و تكملة منهاج البراعة (خوئى)،  مكتبة الإسلامية، ۱۴۰۰ق، ج‏۲۰،ص۹۷.
[۳] ۔عبد الحميد بن هبه الله ابن أبي الحديد، شرح نهج البلاغة،  مكتبة آية الله المرعشي النجفي، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۲۲۷.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.