غلطیوں کا اعتراف

چکیده: ابو بکر کا اپنی آخری زندگی میں بنت رسول (ص) پر کئے گئے مظالم پر اعتراف ۔

غلطیوں کا اعتراف

میں اپنی بحث کی تکمیل کے لیے علمائے اہل سنت کی کتابوں سے چند ایسی روایتیں پیش کر رہا ہوں ، جن میں ابوبکر نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں واضح لفظوں کے ساتھ خانہ حضرت فاطمہ زہراء پر حملہ کرنے پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے اگرچہ اس قسم کی روایتیں بہت زیادہ ہیں  مگر ہم یہاں ان میں سے صرف چند روایتوں کے ذکر پر اکتفا کریں گے ۔

1۔ابن جرید طبری لکھتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا مجھے دنیا کی کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے جتنا تین چیزوں پر ;اے کاش کہ میں ان کو انجام نہ دیتا, ان میں سے ایک : اے کاش میں نے خانہ فاطمہ کی بے حرمتی نہ کی ہوتی ، خواہ وہ لوگ میرے خلاف آمادہ پیکار ہی کیوں نہ ہو جاتے ۔ [1]
2۔مسعودی کہتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا:مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے مگر  تین چیزوں کے; اے کاش میں انہیں انجام نہ دیتا,ان میں سے ایک : اے کاش کہ میں نے خانہ فاطمہ کی تفتیش نہ کی ہوتی ۔ [2]
3۔طبرانی  لکھتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا :اے کاش کہ میں نے خانہ فاطمہ پر حملہ نہ کیا ہوتا اور اس جگہ کو چھوڑ دیا ہوتا خواہ میرے خلاف پیمان جنگ ہی کیوں نہ باندھ لیا جاتا ۔[3]
4۔ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا: اے کاش میں خانہ فاطمہ پر حملہ نہ کرتا اور اس جگہ کو اسی کے حال پر چھوڑ دیتا، اگرچہ وہ لوگ میری مخالفت میں پیمان جنگ ہی کیوں نہ باندھ لیتے ۔[4]
5۔ متقی ہندی  تحریرکرتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا : اے کاش کہ میں خانہ فاطمہ پر حملہ نہ کرتا اور اس جگہ اسی طرح چھوڑ دیتا اگرچہ وہ لوگ میرے خلاف جنگ کرنے کے لیے عہدوپیمان ہی کیوں نہ باندھ لیتے ۔[5]
6۔ولی اللہ ہندی  کہتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا:مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے مگر تین چیزوں کے،ان میں سے ایک :اے کاش میں انہیں انجام نہ دیتا ، اے کاش کہ میں نے خانہ فاطمہ کی تفتیش نہ کی ہوتی ۔[6]
7۔ذھبی تحریرکرتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا : اے کاش کہ میں خانہ فاطمہ پر حملہ نہ کرتا اور وہ جگہ اسی طرح چھوڑ دیتا اگرچہ وہ لوگ میرے خلاف جنگ کرنے کے لیے عہدوپیمان ہی کیوں نہ باندھ لیتے ۔[7]
8۔ابن حجر عسقلانی تحریرکرتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا : اے کاش کہ میں خانہ فاطمہ پر حملہ نہ کرتا اور وہ جگہ اسی طرح چھوڑ دیتا اگرچہ وہ لوگ میرے خلاف جنگ کرنے کے لیے عہدوپیمان ہی کیوں نہ باندھ لیتے ۔[8]
9۔ابن قتیبہ دینوری کہتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا:مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے مگر تین چیزوں کے،ان میں سے ایک :اے کاش میں انہیں انجام نہ دیتا ، اے کاش کہ میں نے خانہ فاطمہ کی تفتیش نہ کی ہوتی ۔[9]
10۔  حافظ ابوعبید لکھتے ہیں :کہ ابوبکر نے کہا مجھے دنیا کی کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے ،جتنا تین چیزوں پر; اے کاش کہ میں ان کو انجام نہ دیتا, ان میں سے ایک : اے کاش میں نے خانہ فاطمہ کی بے حرمتی نہ کی ہوتی ، خواہ وہ لوگ میرے خلاف آمادہ پیکار ہی کیوں نہ ہو جاتے ۔[10]
نتیجہ
ابوبکر کے ان اعترافات کے سلسلے میں علمائے اہل سنت کی ان عبارتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اگر انصاف پسند انسان اپنے آخری فیصلے کو اپنی عقل وضمیر کے حوالے کردے تو اس کے سامنے یہ بات آشکار ہو جائیگی کہ جناب فاطمہ زہراء کے گھر کو فقط آگ لگانے کی دھمکی ہی نہیں دی گئی تھی بلکہ واقعی طور پر گھر کو آگ لگائی گئی تھی ورنہ ابوبکر کیوں کف افسوس ملتے اور یہ کہتے : اے کاش کہ میں خانہ فاطمہ پر حملہ نہ کرتا اور یوں ہی واپس آجاتا ۔

منابع

[1] تاریخ الامم والمملوک ، ج۲،ص۲۱۹
[2] مروج الذھب ،ج۲ ،ص۱۹۴
[3] المعجم الکبیر ،ج۱،ص۶۲
[4] شرح نہج البلاغہ ،ج۲،ص۴۷
[5] کنزل العمال ،ج۵ ، ص۶۳۱
[6] ازالہ الخفاء،ج۲،ص۲۹
[7] میزان الاعتدال ،ج۲،ص۲۱۵
[8] لسان المیزان ،ج۴،ص۲۱۹
[9] الامامۃ والسیاسۃ ،ج۱،ص۱۸
[10] الاموال،ص۱۹۴

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.