سفر اربعین کے آداب اور ہماری ذمہ داریاں

چکیده:مقالہ ھذا میں سفر اربعین کے آداب اور اس سفر میں درپیش ذمہ داریوں کا ذکر کیا ہے تاکہ یہ سفر بارگاہ ایزدی میں قبول ہو اور ہم حقیقی زائرین حسین میں شمار ہو سکے ،انشاءاللہ۔۔۔

سفر اربعین کے آداب اور ہماری ذمہ داریاں

سفر اربعین کے آداب اور ہماری ذمہ داریاں

 چہلم میں ہماری حاضری ایک عالمی انسانی ذمہ داری ہے یہ صرف ایک شخصی عبادی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ عقل کہتی ہے کہ چہلم میں شرکت ضروری  ہے۔
ہم اگر چہلم میں شرکت کر کے عالمی امن کی راہ میں مدد کر سکیں، عدل کے تحقق میں مدد گار بنیں اور وہ بھی لاکھوں کے مظاہرے میں شرکت کرکے  تو ہم کیوں اس کام کو نہ کریں ؟ عقل انسان سے کہتی ہے کہ ایسا کرنا ضروری ہے ۔عقل انسان سے کہتی ہے کہ اگر تمہارے اندر مہربانی، انسان دوستی ، دور اندیشی اور جہان نگری ہے تو ان مظاہروں میں شرکت کریں ۔امام حسین علیہ السلام ہمارے دین کا پرچم ،اس کا ستون اور اس کا مظہر ہیں ۔ ہم ایک مظلوم کا ساتھ دے کر کام کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔
ہم چہلم میں شریک ہو کر عالمی امن کی مدد کر رہے ہیں ،ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چہلم میں ہماری شرکت صرف ایک ذاتی عبادی ذمہ داری ہے ،بلکہ یہ ایک عالمی انسانی ذمہ داری ہے ۔سالہا سال سے اسلام کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہے ہیں ،یقینا جو کام چہلم کے موقعہ پر ہو جاتا ہے اسے ہم کسی بھی مشہور ترین فلیم کے ذریعے انجام نہیں دے سکتے۔لیکن دنیا والے جب لاکھوں  کی تعداد میں ہمارے زائرین کو چہلم میں دیکھتے ہیں تو یہ کہتے ہیں : یہ کون ہے کہ جس کی خاطر لوگ اس قدر ایثار کا مظاہرہ کر رہے ہیں ؟
ہم ایک عالمی اور انسانی ذمہ داری کی بنیاد پر دنیا میں صلح قائم کرنے کے لیے اور خالص اسلام کی تبلیٖغ کی خاطر اور اس ستم کا مقابلہ کرنے کے لیے کہ جو علاقے میں اسلام کو بد نام کرنے کے لیے روا رکھا جا رہا ہے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس پیادہ روی میں شرکت کرتے ہیں ۔یہ  ہماری عقلانی ذمہ داری ہے ۔

دوسرا نکتہ اس سفر کے آداب ہیں اس نورانی سفر کے عجیب آداب بتائے گئے ہیں ،ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی ؛ جب ہم آپ کے جد امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے نکلتے ہیں تو کیا ہم حج کے سفر میں ہوتے ہیں ؟ کیا یہ کام جو ہم کرتے ہیں اس کام کی مانند ہے جو ہم حج کے لیے کرتے ہیں ؟حضرت نے فرمایا ؛ جی ہاں ” قُلْتُ لَهُ إِذَا خَرَجْنَا إِلَى أَبِیکَ أَ فَکُنَّا فِی حَجٍّ قَالَ بَلَى”،راوی نے کہا : آیا ہم پر وہ سب کچھ لازم ہوتا ہے جو ایک حاجی پر لازم ہوتا ہے ؟ حضرت نے پوچھا : کن مسائل کے بارے میں ؟ کہا : ان امور کے بارے میں کہ جو عموما حاجی پر لازم ہوتے ہیں:” قُلْتُ فَیَلْزَمُنَا مَا یَلْزَمُ الْحَاجَّ قَالَ مِنْ مَا ذَا قُلْتُ مِن الْأَشْیَاءِ الَّتِی یَلْزَمُ الْحَاجَّ”۔
حضرت نے فرمایا : جی ہاں ایسا ہی ہے اور اس کے بعد آپ نے موارد گنوائے اور فرمایا : اچھی ہمراہی کرنا اور اور ساتھیوں پر مہربانی کرنا تم پر لازم ہے اسی طرح تم پر لازم ہے کہ ضروری اور اچھی باتوں کے علاوہ کوئی بات نہ کرو ،تم پر لازم ہے کہ زیادہ خدا کا ذکر کرو ،تم پر لازم ہے کہ تمہارا لباس صاف اور پاکیزہ ہو ،تم پر لازم ہے کہ زیادہ سے زیادہ نماز پڑھو اور صلوات کا ورد کرو ،تم پر لازم ہے کہ اپنی آنکھیں بند رکھو ،اور کسی کو کوئی حاجت ہو تو اس کی حاجت پوری کرو ، اور اپنے دینی  بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو :” قَالَ یَلْزَمُکَ حُسْنُ الصَّحَابَةِ لِمَنْ یَصْحَبُکَ وَ یَلْزَمُکَ قِلَّةُ الْکَلَامِ إِلَّا بِخَیْرٍ وَ یَلْزَمُکَ کَثْرَةُ ذِکْرِ اللَّهِ وَ یَلْزَمُکَ نَظَافَةُ الثِّیَابِ وَ یَلْزَمُکَ الْغُسْلُ قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَ الْحَائِرَ وَ یَلْزَمُکَ الْخُشُوعُ وَ کَثْرَةُ الصَّلَاةِ وَ الصَّلَاةُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ یَلْزَمُکَ التَّوْقِیرُ لِأَخْذِ مَا لَیْسَ لَکَ وَ یَلْزَمُکَ أَنْ تَغُضَّ بَصَرَکَ وَ یَلْزَمُکَ أَنْ تَعُودَ إِلَى أَهْلِ الْحَاجَةِ مِنْ إِخْوَانِکَ إِذَا رَأَیْتَ مُنْقَطِعاً وَ الْمُوَاسَاةُ»[1]” کیا کہنے ان لوگوں کے جو اس راہ میں امام حسین علیہ السلام کے زائرین کی خدمت کرتے ہیں ۔

[1] وسائل الشیعہ ج۸، ص ۳۱۷ و کامل‌الزیارات/131

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.