سائنس اور مذہب كے باہمى تعلقات

جیسا كہ عرض كیا گیا كہ سائنس كے جدید انكشافات و اكتشافات نے اسلام كے بیان كردہ اُصولوں كا اثبات اور ان كى تائید كى ہے، اس لئے اسلام كو سائنس كى جانب سے كوئى چیلنج درپیش نہیں ہے، بلكہ جب مذہب اور سائنس كا باہم ٹكراؤ شروع ہوا، جس كا سرسرى سا تذكرہ ان سطور كے آغاز میں گزر چكا ہے، تب بھی چونكہ وہ مسئلہ عیسائیت كى محرف روایات كا تھا، نہ كہ اسلام كا، اس لئے مسلمان اس و قت بھی كسى ذہنى اُلجہن كا شكار نہیں ہوئے، اور جب مركزیت ِآفتاب كا نقطہ نظر سامنے آیا، تو مسلم سائنس دانوں نے اسے زیادہ معقول اور مدلل پاكر بغیر كسى ہچكچاہٹ كے قبول كرلیا، پروفیسر ایڈورڈ میك برنس لكہتے ہیں:

”مسلمان ماہرین فلكیات و ریاضیات، طبیعات، كیمیا، اور طب میں نہایت باكمال عالم تہے، ارسطو كے احترام كے باوجود انہوں نے اس میں ذرا تامل نہیں كیا كہ وہ اس كے اس نظریے پر تنقید كریں كہ زمین مركز ہے، اور سورج اس كے گرد گہوم رہا ہے بلكہ انہوں نے اس اِمكان كو تسلیم كیا كہ زمین اپنے محور پر گہومتى ہوئى سورج كے گرد گردش كررہى ہے-“

ذیل میں ہم چند سائنسى مظاہر اور نئى معلومات پیش كرتے ہیں جو قرآنِ حكیم كى تائید كررہى ہے، یہ ان ہى آیات كے بارے میں ہیں، جن كا ذكر ہم ابھی ماقبل كرآئے ہیں :

(1) قرآنِ حكیم اور انسانى جنین كا ارتقا : قرآن حكیم میں انسانى جنین كے بارے میں كئى ایك مقامات پر تفصیل سے معلومات دى گئى ہیں- یہ وہ معلومات ہیں جو ١٤٠٠ سو سال سے پڑہى جارہى ہیں، مگر اس صدى میں جاكر سائنس نے بھی اس امر كى تائید كردى ہے كہ یہ معلومات نہ صرف حرف بہ حرف درست ہیں، بلكہ چونكہ یہ معلومات اس وقت پیش كى گئى ہیں، جب یہ باتیں كسى كے علم میں نہیں تھیں، اس لئے قرآن حكیم اور اسلام كے آسمانى مذہب ہونے اور مبنى برحق ہونے كى بین دلیل بھی ہیں، قرآن حكیم كى ایك آیت اس سے قبل( آیت نمبر ١) پیش كى جاچكى ہے-(٢٢) جس میں تفصیل كے ساتہ انسانى جنین كى تشكیل كے مراحل بیان ہوئے ہیں-

ڈاكٹر كیتہ ایل مور (Khith L Moore) جینیات كے ایك معروف سائنس دان ہیں، انہوں نے ایك بار اس بارے میں اپنے ایك مقالے میں كہا :

”یہ بات مجھ پر عیاں ہوچكى ہے كہ یہ بیانات (انسانى نشوونما سے متعلق) محمدا پر اللہ تعالىٰ كى طرف سے نازل ہوئے ہیں، كیونكہ یہ تمام معلومات چند صدیاں پہلے تك منكشف ہى نہیں ہوئى تھیں- اس سے یہ بات مجہ پر ثابت ہوجاتى ہے كہ (محمدا) اللہ كے پیغمبر ہیں-“

انسانى جنین كى تشكیل اور ارتقا كے بارے میں سائنسى انكشافات اور توجیہات پر بہت سى كتب میں معلومات سامنے آگئى ہیں، جہاں سے یہ معلومات حاصل كى جاسكتى ہیں-

(2) پہاڑوں كے بارے میں قرآنى بیان:پہاڑوں كے بارے مین قرآنِ حكیم كا یہ بیان گزر چكا ہے(آیت نمبر٢) كہ ہم نے پہاڑوں كو میخیں بنایا ہے-(٢٥) اب جدید سائنس نے بھی ثابت كردیا ہے كہ پہاڑ سطح زمین كے نیچے گہرى تھیں ركہتے ہیں اور یہ كہ یہ پہاڑ زمین كى تہ كومضبوطى سے جمانے میں بھی اہم كردار ادا كرتے ہیں

(3) سمندر اور دریاؤں كے طبعى خواص اور قرآنِ كریم:سمندر اور دریا انسان كى اہم ضرورت ہیں- دونوں كے پانى بھی طرح طرح كے خواص ركہتے ہیں، جس میں سے ایك كى خصوصیت یہ ہے كہ بعض مقامات پر میٹہے اور كہارے پانى یكساں چلتے ہیں، مگر باہم نہیں ملتے، اس حقیقت كو قرآن نے چودہ صدیوں قبل بیان كیا تھا، اور اس كا ذكر سطورِ بالا (آیت نمبر٣) میں گزر چكا ہے- اب جدید سائنس نے یہ معلوم كرلیا ہے كہ جہاں میٹہے اور كہارے پانى باہم ملتے ہیں، وہاں ان كے درمیان، ایك گاڑہے پانى كا حجاب ہوتا ہے جو تازہ پانى اور كہارے پانى كى پرتوں كو باہم ملنے نہیں دیتا-

(4) بادلوں اور اَولوں كے بارے میں تفصیلات اور قرآنِ كریم:بادلوں اور اَولوں كے بارے میں قرآنِ حكیم نے جو بیان ذكر كیا تھا(آیت نمبر٤) آج وہى تفصیل سائنس بیان كررہى ہے، مثلاً سائنس دان غوروفكر اور مشاہدے كے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں كہ بارش كے بادل ان مراحل سے گزرتے ہیں، (١) ہوا كا بادلوں كو دہكیلنا،(٢) چہوٹے بڑے بادلوں كا ملاپ، (٣) بادلوں كا انبار، جب بادل اكٹہے ہوجاتے ہیں تو یہ ہوا كى حركت سے اَنبار كى شكل اختیار كرلیتے ہیں اور وہاں سے یہ فضا كے ٹھنڈے علاقوں تك پھیل جاتے ہیں-

(5)انسانى جلد كى حسى خصوصیات اور قرآن حكیم:قرآنِ حكیم میں بیان كیا گیا ہے (آیت نمبر٥) كہ كافروں كو جب عذاب ہوگا تو ان كى جلد تلف ہوجائے گى، اس كے بعد فوراً انہیں دوسرى جلد دى جائے گى تاكہ وہ مسلسل عذاب كا مزا چكہتے رہیں، اس سے معلوم ہوا كہ اصل میں جلد ہى تكلیف محسوس كرتى ہے- اب سائنس نے بھی یہ بات دریافت كرلى ہے كہ تمام تكالیف جلد ہى پر ہوتى ہیں، اور اعصاب جو درد كا اِدراك كرتے ہیں، وہ فقط جلد ہى میں پائے جاتے ہیں، مثلاً اگر جسم كے كسى حصے میں سوئى چبھوائى جائے تو درد صرف جلد میں ہوگا، اور سوئى كو جلد سے آگے گزار دیا جائے، تب بھی فى الواقع درد جلد تك محدود رہے گا، آگے گوشت میں كوئى تكلیف نہیں ہوگى-

ان سطور میں قرآنى بیانات كى سائنس سے تائید دینے كا مقصد صرف یہ ہے كہ اپنا یہ دعوىٰ ثابت كردیا جائے كہ سائنس كے بارے میں اسلام كا رویہ معاندانہ نہیں ہے، نہ مخالفانہ ہے، بلكہ وہ اسے زندگى كى دیگر دوسرى ضرورتوں اور لوازم كى طرح باور كرتا ہے، اور جدید سائنس بھی قدم بہ قدم اس كے بیانات ہى كو آگے بڑہا رہى ہے- قرآن كریم میں پیش كردہ رہنمائى كو پیش نظر ركہ كر اگر سائنس قدم آگے بڑہائے، تو اس كے لئے حقائق تك جلد پہنچنا ممكن ہوگا- اس كى تائید ان چند بیانات سے ہوتى ہے، جس كى جہلكیاں اوپر پیش كى گئیں، وقت كى قلت اور مقالے كى محدود گنجائش كے سبب اس جانب چند اشارے ہى كئے جاسكے ہیں، مگر ان سطور كا مقصد اس سے ضرور حاصل ہوجاتا ہے-

اعترافِ حقیقت

یہ بات باشعور اور علم ركہنے والے مفكرین سے بھی پوشیدہ نہیں، بلكہ سبھی اس حقیقت كو تسلیم كررہے ہیں كہ اسلام اور سائنس دونوں آج كى زندہ ضرورتیں ہیں، جن سے اِعراض ممكن نہیں، معروف نو مسلم فرانسیسى مصنف موریس بوكائے لكہتے ہیں :

”قرآن ہمیں جہاں جدید سائنس كو ترقى دینے كى دعوت دیتا ہے، وہاں خود اس میں قدرتى حوادث سے متعلق بہت سے مشاہدات و شواہد ملتے ہیں، اور اس میں ایسى تشریحى تفصیلات موجود ہیں جو جدید سائنسى مواد سے كلى طور پر مطابقت ركہتى ہیں، یہودى، عیسائى تنزیل میں ایسى كوئى بات نہیں-“

دوسرے مقام پر مزید لكہتے ہیں :

”قرآنِ كریم میں، مقدس بائبل سے كہیں زیادہ سائنسى دلچسپى كے مضامین زیر بحث آئے ہیں، بائبل میں یہ بیانات محدود تعداد میں ہیں، لیكن سائنس سے متباین ہیں- اس كے برخلاف قرآن میں بہ كثرت مضامین سائنسى نوعیت كے ہیں، اسلئے دونوں میں كوئى مقابلہ نہیں، موٴخر الذكر (قرآن) میں كوئى بیان بھی ایسا نہیں، جو سائنسى نقطہ نظر سے متصادم ہوتا ہو- یہ وہ بنیادى حقیقت ہے، جو ہمارے جائزہ لینے سے اُبہر كر سامنے آتى ہے-“

اور ڈاكٹر كیتھ مورجن كا اس سے قبل بھی ایك بیان گزر چكا ہے، ان كا ایك اور بیان ملاحظہ كیجئے :

”١٣ سو سالہ قدیم قرآن میں جنینى ارتقا كے بارے میں اس قدر درست بیانات موجود ہیں كہ مسلمان معقول طور پر یہ یقین كرسكتے ہیں كہ وہ خدا كى طرف سے اُتارى ہوئى آیتیں ہیں-“

خلاصہٴ بحث

سائنس اور مذہب كے باہمى تعلقات اور ان كے مابین مفاہمت كے بارے میں درج بالا بیانات اور سطور پر غوروفكر كرنے سے انسان دو باتیں بہت سہولت كے ساتہ اَخذ كرسكتا ہے- ایك یہ كہ انسان كسى بھی ذریعے سے كائنات اور اس كى اشیا كے بارے میں وہ باتیں نہ جان سكا تھا، جو قرآنِ مجید نے بتائى ہیں- دوسرى بات یہ اَخذ كى جاسكتى ہے كہ اس كائنات كى مادّى دنیا میں جو کچھ اب تك ہوچكا ہے، جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے، وہ صرف خدا كے حكم سے ہورہا ہے اور اس كا كوئى كام مصلحت سے خالى نہیں ہوتا، بہ الفاظ دیگر ہر كام میں علت (Cause) اور معلول (Effect) كے علاوہ غایت(Purpose) بھی لازماً كارفرما ہے، اور كائنات كى ہر شئے اور اس كا ہر قدم اسى سہ ركنى عمل كا نتیجہ ہے-

اس لئے ہمیں باہمى مشترك قدروں كو اَپناتے ہوئے اور تمام مادّى وسائل بروئے كار لاتے ہوئے، انسانى زندگى كے دونوں اہم پہلوؤں اور انسانى زندگى كى دونوں اہم ضرورتوں كو، ان كى ضرورت، حق اور حیثیت كے مطابق ان كا حق دینا ہوگا- نہ تو مذہب كے فرضى اور دیو مالائى مفروضات اختیار كركے ہم سائنس سے دور رہ سكتے ہیں، نہ سائنس كو خدا كا درجہ دے كر خالق حقیقى سے اپنى زندگیوں كو خالى ركہ سكتے ہیں اور اگر بالفرض ایسا كریں گے بھی تو كامیابى كى راہ سے دور ہوتے چلے جائیں گے اور فلاح كى جگہ ناكامى ہمارا مقدر بنے گى-

 

حواشى وحوالہ جات

١-مولانا وحید الدین خان،اسلام اور عصر حاضر، فضلى سنز پرائیویٹ لمیٹڈ كراچى، ١٩٩٦ء ، ص١١٣، كسى قدر اضافے اور ترمیم كے ساتہ یہ تفصیل اسى كتاب سے ماخوذ ہے-

٢-نفس مصدر، ص١١٢، نیز دیكہئے: سائنس اور مذہب میں مفاہمت، حفیظ الرحمن صدیقى، مشمولہ سہ اشا عتى آیات، مدیر ڈاكٹر محمد ریاض كرمانى، مركز الدراسات العلمیہ، على گڑہ، ج سوم، ش اوّل، جنورى تا اپریل ١٩٩٢ء ص٣٧- ستم بالائے ستم یہ ہوا كہ كوپرنیكس كے نظریے كے بعد گلیلیو (١٦٢٤ تا ١٥٦٢ء) نے بھی اس كى تائید كردى، اور یوں ان كے ہاں ایك تقدس پاجانے والا نظریہ غلط ٹہہرا، اس كى یہ تغلیط خالصتاً ایك علمى بحث تھی، جیسا كہ آگے چل كر بیان ہوگا كہ مسلم دنیا نے اسے ایك علمى بحث كے طور پر ہى لیا- مگر ایك غلط نظریے كى تغلیط بدقسمتى سے عیسائیت كى تغلیط سمجہ لى گئى، جس كے نتیجے میں بعد میں افسوسناك واقعات رونما ہوئے-

٣-القرآن، سورہٴ فاطر، آیت ٢٨ ٤-اسلام اور عصر حاضر،ص١١٤

٥-Georee Herbert Blount, The Evidence of God, p.130

٦-Cecil Boyce Hamann,The Evidence of God in an Expanding Universe. p.221

٧-حفیظ الرحمن صدیقى، سائنس اور مذہب میں مفاہمت، مشمولہ سہ اشا عتى آیات، مدیر ڈاكٹر محمد ریاض كرمانى، مركز الدراسات العلمیہ، على گڑہ، ج سوم، ش اوّل، جنورى، اپریل ١٩٩٢ء، ص٤١

٨ -Bertrand Rusel, The Impact of Science on Society, London, 1952, P.18-19

٩-حفیظ الرحمن صدیقى، محولہ بالا- ١٠-ملاحظہ كیجئے راقم كا مضمون ’مغرب كا سائنسى و نفسیاتى زاویہٴ فكر، تدریج و ارتقا، سہ ماہى منہاج،مدیر حافظ سعد اللہ، دیال سنگہ ٹرسٹ لائبریرى، لاہور، ستمبر ٢٠٠٢ء

١١-سائنس اور آج كى دنیا، ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور،دسمبر ١٩٩٤ء

١٢-دیكہئے فرٹ جوف كیپر كى كتاب ٹرننگ پوائنٹ (The Turning Poing, p.21) ١٣-محولہ بالا

١٤-جلال الدین سیوطى، الاتقان فى علوم القرآن، مصطفےٰ البابى الحلبى، مصر، ١٣٢٩ہ، ج٢،ص١٣٨-

١٥-جلال الدین سیوطى،ج٢،ص١٣٠ ١٦-القرآن، سورہ المؤمنون، آیت١٢،١٣،١٤

١٧-القرآن، سورة النباء، آیت ٦-٧ ١٨-القرآن،سورة الفرقان، آیت ٥٣

١٩-القرآن،سورة النور، آیت ٤٣ ٢٠-القرآن،سورة النساء ،آیت ٥٦

١ ٢-Edward Mc Burns/Western Civilizations/ W.W. Narton Companying Ny. p.264

٢٢-ملاحظہ كیجئے حوالہ نمبر ١٦

٢٣-ڈاكٹر حافظ حقانى میاں قادرى،سائنسى انكشافات، دارالاشاعت، كراچى٢٠٠٠ء،ص٧٦

٢٤-ملاحظہ كیجئے مذكورہ كتاب كے صفحات ٥٩ تا٧٤ ٢٥-ملاحظہ كیجئے حوالہ نمبر ١٧

٢٦-The Geological Concept of Movntain in the Quran. p.5

٢٧-ایضاً ص ٤٤،٤٥ ٢٨-ملاحظہ كیجئے حوالہ نمبر ١٨

٢٩-سائنسى انكشافات، ص١٥٠ ٣٠-ایضاً، ص١٦٢ ٣١-ایضاً ،ص١٧٤

٣٢-موریس بوكائے،بائبل، قرآن اور سائنس،ترجمہ ثناء الحق صدیقى،ادارة القرآن، كراچى، ١٩٩٣ء، ص١٨٧

٣٣-ایضاً،ص٢١ ٣٥-حفیظ الرحمن صدیقى : ص ٣٩

٣٤-ڈاكٹر حافظ حقانى میاں قادرى،قرآن، سائنس اور تہذیب و تمدن،دارالاشاعت كراچى، ١٩٩٩ء، ص٦

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More