روزہ اور روزہ داروں کے رتبے

خلاصہ: روزہ صرف کھانے پینے اور روزہ کو دیگر توڑنے والے کامون سے پرہیز کرنا نہیں، بلکہ روزے کے مختلف رتبے ہیں، کھانے پینے کے بعد مستحبات کو بجالانے اور روح و باطن سے متعلق کاموں سے پرہیز کرنے تک کی نوبت آتی ہے۔ جیسے روزہ کے مختلف رتبے ہیں، اسی طرح روزہ داروں کے بھی مختلف رتبے ہیں۔

روزہ اور روزہ داروں کے رتبے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عموماً ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ روزہ رکھنے کا مطلب صرف کھانے پینے اور ان چیزوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے جو روزہ کے ٹوٹنے کا باعث ہیں، جبکہ روزہ کے مختلف رتبے اور درجات ہیں۔ ان رتبوں کو حاصل کرنے کے لئے صرف ظاہری پہلو اور کھانے پینے کا خیال رکھنا اگرچہ ضروری ہے لیکن کافی نہیں ہے، بلکہ ظاہر اور جسم سے بات گزرتی ہوئی روح و عقل پر پہنچتی ہے، اور جیسے روزہ کے متعدد رتبے ہیں اسی طرح روزہ داروں کے بھی رتبے ہیں۔

روزہ کے رتبے:
(الف) عام روزہ: اس روزہ میں کھانے پینے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرنا ہے جو فقہ میں واضح کیا گیا ہے۔ اس قسم کے روزہ کا عذاب سے رہائی کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہے۔
(ب) خاص روزہ: یہ روزہ مذکورہ بالا روزہ کے رتبے کے علاوہ، آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاوں اور دیگر حصوں کو گناہوں سے بچانا ہے اور اس پر خدا نے جن ثوابوں کا وعدہ دیا ہے، وہ ثواب دیئے جاتے ہیں۔
(ج) خاص الخاص روزہ: غیرخدائی مصروفیات سے پرہیز کرنا چاہے جائز ہوں یا ناجائز، اور گھٹیا ہمتوں، پست اخلاق اور دنیاوی سوچوں سے دل کو محفوظ رکھنا، اور نیز دل کو ہر غیرخدائی چیز سے بچانا۔ یہ رتبہ انبیا، صدیقین اور مقربین کا ہے اور اس روزہ کا نتیجہ، اللہ کی ملاقات تک پہنچنا ہے۔
حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: صیامُ الْقَلْبِ عَنِ الْفِکْرِ فی الآثامِ اَفْضَلُ مِنْ صیامِ الْبَطْنِ عَنِ الطَّعام[1]، “گناہوں کی سوچ سے دل کا روزہ، پیٹ کے کھانے سے روزے سے افضل ہے”۔

روزہ داروں کے رتبے
پہلا گروہ: یہ گروہ صرف کھانے پینے اور روزہ توڑنے والی دیگر  چیزوں سے پرہیز کرتا ہے، لیکن ان کے اعضا و جوارح مختلف ناپسند اعمال اور برے کام کرتے رہتے ہیں، لہذا یہ روزہ، غافل لوگوں کا روزہ ہے۔
دوسرا گروہ: بعض لوگ اپنے اعضا و جوارح کو برائیوں سے بچاتے ہیں اور روزہ کو محفوظ کرنے اور ضائع کرنے کے درمیان تردید کی کیفیت میں رہتے ہیں۔
تیسرا گروہ: بعض لوگ ہمیشہ کی عادت کے مطابق منقول مستحبات اور دعاوں کو بجالاتے ہیں۔ لہذا ان کا عمل ان کے اخلاص کے برابر ہے۔
چوتھا گروہ: بعض لوگ ضیافت اللہ (اللہ کی مہمانی) میں داخل ہوجاتے ہیں حالانکہ ان کے دل معارف سے غافل اور جذبہ سے خالی ہوتے ہیں، گویا ان کے اعضا و جوارح بھاری ہیں اور کاموں مشکل کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اس گروہ کی کیفیت ان لوگوں کی طرح ہے جو بادشاہ کو ہدیہ دینے جاتے ہیں جبکہ اس بوجھ کو اٹھانے سے نفرت کرتے ہیں، نیز وہ ہدیے ایسے عیبوں سے آلودہ ہیں جو قبولیت سے رکاوٹ ہیں۔
پانچواں گروہ: بعض لوگ اعضا و جوارح کو روزہ توڑنے سے بچاتے ہیں، لیکن دل کو ان چیزوں سے جو عمل صالح کے سامنے رکاوٹ ہیں، نہیں بچاتے۔
چھٹا گروہ: بعض لوگ پاک دل اور پاک عقل کے ساتھ ماہ رمضان میں داخل ہوتے ہیں، کیونکہ اس خدا کی بارگاہ میں جو غیب اور پوشیدہ چیزوں سے آگاہ ہے، گناہ سے بچنے کا خیال رکھا ہے اور جس کی حفاظت کے لئے کوشش کرنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا، اس کے لئے بھی کوشش کی ہے، ان کی صورتحال ان لوگوں کی صورتحال جیسی ہے جو اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے کامیاب ہوگئے ہیں۔
ساتواں گروہ: بعض لوگوں نے دل، عقل اور اعضا و جوارح کو گناہوں، عیبوں اور برائیوں سے بچانے پر اکتفا نہیں کی، بلکہ اپنے آپ کو صالح اور نیک اعمال میں مصروف رکھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے وجود کو پاک رکھا بلکہ اسے مستحباب کے زیور سے زینت دی، یہ گروہ روزہ کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے فائدہ مند تجارت کرلی ہے۔

نتیجہ: یہ بات انتہائی غور طلب ہے کہ آدمی روزہ رکھتے ہوئے ظاہری روزہ کے اصول کی پابندی کے علاوہ جتنا معنوی اور روحانی پہلووں کو مدنظر رکھتا ہوا ان کے متعلق جو اعمال یا پرہیز ہیں، ان کا خیال رکھے گا، اتنا ہی روزہ کی حقیقت کے قریب ہوتا چلا جائے گا اور جو روزہ رکھنے کا مقصد ہے، وہ مقصد اسے حاصل ہوتا جائے گا اور حقیقی روزہ داروں میں سے شمار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
میگزین ارمغان – تابستان ۱۳۸۶ – شماره ۳ سے ماخوذ۔
[1] غررالحکم، ج ۱، ص ۴۱۶،۶۳۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.