قرآن وحدیث میں محبت

قرآن وحدیث میں محبت

 

اسلام دینِ اعتدال و توازن ہے۔ اور ہمیں کشادہ دلی سے اعتدال و توازن کا راہ دکھاتا ہے۔ جبکہ آج کے دور میں کچھ حضرات دین و ایمان میں محبت کی قلبی کیفیات کی اہمیت کی ہی نفی کر ڈالتے ہیں اور صرف اور صرف ظاہری اعمال پر زور دے کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے لے کر آج تک مسلمانوں کے دلوں میں موجزن اللہ تعالٰی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت اطہار و صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اور اولیائے کرام کی محبت و عقیدت کے عقیدے کو ہی غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور“محبت“ کے بارے میں گفتگو کو ہی “بےکار“ قرار دے دیتے ہیں۔

لہذا جو محبت دل میں ہے ، اس کے متعلق بحث بیکار ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اعمال کی نفی نہ تو دینِ اسلام کرتا ہے، نہ کوئی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داعی، نہ اہلبیت اطہار و صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کا محب اور نہ ہی اولیائے کرام کا معتقد کرتا ہے۔ ایسا کہنے والے دراصل صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے لے کر آج تک امت مسلمہ کے دل میں موجزن محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عظیم جذبے کی اہمیت کو کم کرنا چاہتے ہیں کہ جس کے بھروسے پر خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو آخرت میں اپنی سرخروئی کا یقین و ایمان تھا۔

قرآن وحدیث میں “محبت“

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّہِ اَندَاداً يُحِبُّونَھُمْ كَحُبِّ اللّہِ وَالَّذِينَ آمَنُواْ اَشَدُّ حُبًّا لِّلّہِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّہِ جَمِيعاً وَاَنَّ اللّہَ شَدِيدُ الْعَذَابِO(الْبَقَرَۃ ، 2 : 165)

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اﷲ کے غیروں کو اﷲ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان سےایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے محبت ہونی چاہیئے اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اﷲ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں، اور اگر یہ ظالم لوگ اس وقت کو دیکھ لیں جب (اُخروی) عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگا (توجان لیں) کہ ساری قوتوں کا مالک اﷲ ہے اور بیشک اﷲ سخت عذاب دینے والا ہےo

یہاں ایمان والوں کی علامت اور نشانی ہی “اللہ تعالٰی سے بہت ہی زیادہ محبت“ بنایا گیا ہے۔

لَّيْسَ الْبِرَّ اَن تُوَلُّواْ وُجُوھَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلآئِكَۃِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّہِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلاۃَ وَآتَى الزَّكَاۃَ وَالْمُوفُونَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عَاھَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْباْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَاْسِ اُولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَاُولَـئِكَ ھُمُ الْمُتَّقُونَO (الْبَقَرَة ، 2 : 177)

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیںo

اللہ تعالٰی نے سارے اعمال کی بنیاد “اللہ کی محبت “ کو بنایا ہے۔ یعنی نیکوکار، سچے، متقی لوگ وہ ہیں جو سارے اعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب “اللہ کی محبت“ میں کرتے ہیں۔

قُلْ اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِيمٌO (آل عِمْرَان ، 3 : 31)

(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہےo

یہاں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد “محبتِ الہی“ کو بنایا گیا ہے۔

يَا اَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِہِ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّہُ بِقَوْمٍ يُحِبُّھُمْ وَيُحِبُّونَہُ اَذِلَّۃٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اَعِزَّۃٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاھِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّہِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللّہِ يُؤْتِيہِ مَن يَشَاءُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِيمٌO (الْمَآئِدَۃ ، 5 : 54)

اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اﷲ (ایسوں کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے وہ مومنوں پر نرم (اور) کافروں پر سخت ہوں گے اﷲ کی راہ میں (خوب) جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ یہ (انقلابی کردار) اللہ کافضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اﷲ وسعت والا (ہے) خوب جاننے والا ہےo

دین سے پھر جانے والوں کی جگہ اللہ تعالٰی اپنے دین کی اقامت و احیاء کے لیے ایسے لوگوں کو لائے گا جو اللہ تعالٰی کے محبوب ہوں گے اور وہ اللہ تعالٰی سے محبت رکھتے ہوں گے۔ مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے۔

آج ہمیں اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہمارا رویّہ کلمہ گو مسلمانوں کے ساتھ کیا ہے کہ انہیں تو ہم ہرصورت باطل، کافر، ان پڑھ، گمراہ ثابت کرنے کے لیے شب وروز ایک کر دیں۔ اور کافرانہ باطل استعماری طاقتوں کے خلاف ہمیں کبھی ایک سطر لکھنے اور ایک جملہ کہنے کی بھی توفیق نہ ہو تو ہم اللہ تعالٰی کی بیان کردہ علامتِ ایمان کی رو سے مومن کہلانے کے کہاں تک حقدار ہیں ؟

قُلْ اِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَاَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَھَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَيْكُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِھَادٍ فِي سَبِيلِہِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَاْتِيَ اللّہُ بِاَمْرِہِ وَاللّہُ لاَ يَھْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَO (التَّوْبَۃ ، 9 : 24)

(اے نبی مکرم!) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتاo

اللہ، اسکے رسول کی محبت اور جہاد کی محبت نہ رکھنے یا دنیوی مال و متاع و اھل وعیال کے مقابلے میں کم محبت رکھنے پر عذابِ الہی کی اور گمراہی کی وعید۔

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّہِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَاَسِيرًاO (الْاِنْسَان / الدَّھْر ، 76 : 8)

اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیںo

اعمال کی بنیاد محبتِ الہی پر رکھنے والوں کی شان میں قرآنی آیات اتاری جارہی ہیں۔

ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّہُ عِبَادَہُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُل لَّا اَسْاَلُكُمْ عَلَيْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدّۃ َ فِي الْقُرْبَى وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہُ فِيھَا حُسْنًا اِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ شَكُورٌO (الشُّوْرٰی ، 42 : 23)

یہ وہ (انعام) ہے جس کی خوشخبری اللہ ایسے بندوں کو سناتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، فرما دیجئے: میں اِس (دعوت و تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر (اپنے) قرابت داروں سے محبت (چاہتا ہوں) اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں اُخروی ثواب اور بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہےo

قرابتداروں کی وضاحت بھی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے فرما دی :

عن ابن عباس رضي اﷲ عنھما قال : لما نزلت (قُلْ لَا اَسْالُکُمْ عَلَيْہِ اجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبٰی) قالوا : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! ومن قرابتک ھؤلاء الذين و جبت علينا مودتھم؟ قال : علي و فاطمہ و ابناھما.

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آیت مبارکہ ’’فرما دیں میں تم سے اس (تبلیغ حق اور خیرخواہی) کا کچھ صلہ نہیں چاہتا بجز اہل قرابت سے محبت کے‘‘ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم! آپ کے وہ کون سے قرابت دار ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (حسن و حسین)۔(رضوان اللہ علیھم اجمعین) “

(طبراني، المعجم الکبير، 3 : 47، رقم : 2641، طبراني، المعجم الکبير، 11 : 444، رقم : 12259، الہيثمي، مجمع الزوائد، 7 : 103)

قرآن مجید اللہ تعالٰی، اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، جہاد فی سبیل اللہ ، صدقہ وخیرات و اعمالِ صالحہ کے ساتھ ساتھ واضح طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلبیتِ پاک سے محبت و مودت کا درس بھی دے رہا ہے۔ حیرت ہے کہ یہ سب کچھ جان کر اگر اپنے علم کے زور پر کچھ حضرات “محبت“ کی بات کو ہی “بیکار“ قرار دے دیتے ہیں ؟

قرآنی آیات کریمہ سے ایمان میں محبت کی اہمیت کی وضاحت ہوجانے کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات اور خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے ایمان میں “محبت “ کی اہمیت کیا ہے۔

عَنْ اَنَسٍ رضي اللہ عنہ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : لَا يُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّي اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ.

:: بخاری شریف، کتاب الايمان، باب : حُبُّ الرَّسُوْلِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مِنَ الاِيْمَانِِ، 1 / 14، الرقم : 15،مسلم شریف، کتاب : الايمان، باب : وجوب محبّۃ رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اکثر من الاھل والولد والوالد والناس اجمعين، 1 / 67، الرقم : 44.)

روايۃ بخاری: عَنْ اَبِي ھُرَيْرَۃَ رضي اللہ عنہ قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ، وَذَکَرَ نَحْوَہُ.

بخاری، کتاب : الاِيْمَانِ، باب : حُبُّ الرَّسُوْلِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مِنَ الاِيْمَانِ، 1 / 14، الرقم : 14.)

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘

’’اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! (اِس کے بعد سابقہ الفاظِ حدیث ہیں)۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ساری کائنات سے بڑھ کر اپنی ذات سے محبت کو ایمان کی اصل قرار دیں اور اس سے کم محبت رکھنے والے کو “لایومن احدکم حتی“ کے الفاظ کے ذریعے ایمان کے درجے میں ہی شامل نہ فرمائیں۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ جیسے امام المحدثین تو “محبتِ رسول کے واجب ہونے پر“ پورے پورے باب قائم کردیں۔ اور آج کے مخصوص فکر کے حامل چند مولانا بڑے آرام سے لہذا جو محبت دل میں ہے ، اس کے متعلق بحث بیکار ہے۔کہہ کر کس ایمان اور کونسے اعمال کی بنیاد پر آخرت میں کامیابی کے دعوےدار ہیں جن عظیم صحابی رسول عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فرمان کا حوالہ محترم نے یہاں دیا ہےظاہری اعمال سے متعلق حدیث میں حضرت عمر (رض) کا حکم تو صاف درج ہے کہ : اب ہم تمہارا مواخذہ صرف تمہارے ان عملوں پر کریں گے جو ہمارے سامنے آئیں گے ۔

پہلی بات تو یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ امیرالمومنین تھے تب وہ مواخذہ فرماتے تھے اور وہ بھی اس دور میں گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے جو اصلاً منافق اور گستاخ تھے، بظاہر کلمہ گو اور نیک اعمال بھی کرتے تھے اور انکا مواخذہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ فرماتے تھے۔

کیا میں آج کے دور میں ایسے حوالے دینے والے صاحب یا دوستوں سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو “مواخذہ “ کرنے کا یہ اختیاراور ٹھیکہ کہاں سے عنایت ہوگیا ؟ اور وہ بھی عذابِ قبر سے متعلقہ ایک حدیث کے تناظر میں ؟

اب آئیے انہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے ایمان کی عظمت و کاملیت کیسے حاصل کی ۔ امام المحدثین کی صحیح بخاری شریف پڑھیں

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ ھِشَامٍ رضي اللہ عنہ قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم، وَھُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ کُلِّ شَيءٍ اِلاَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : لَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ، حَتَّي اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْکَ مِنْ نَفْسِکَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : فَاِنَّہُ الآنَ، وَاﷲِ، لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : الآنَ يَا عُمَرُ.

:بخاری شریف،کتاب : الايْمَانِ وَالنُّذُوْرِ، باب : کَيْفَ کَانَتْ يَمِيْنُ النَّبِيِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم، 6 / 2445، الرقم : 6257.)

حضرت عبد اللہ بن ھِشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جب تک میں تمہیں اپنی جان سے بھی محبوب تر نہ ہو جاؤں (تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ رب العزت کی قسم! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، چنانچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر! اب (تمہارا ایمان کامل ہوا) ہے۔‘‘

عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ النَّبِيَّ :saw: السَّاعَۃِ فَقَالَ : مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ : وَ مَاذَا اعْدَدْتَ لَھَا؟ قَالَ : لَا شَيْئَ اِلَّا انِّي احِبُّ اﷲَ وَ رَسُوْلَہُ صلی :saw: فَقَالَ : انْتَ مَعَ مَنْ احْبَبْتَ. قَالَ انَسٌ : فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْئٍ فَرِحْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ :saw: : انْتَ مَعَ مَنْ احْبَبْتَ قَالَ انَسٌ : فَانَا اُحِبُّ النَّبِيَّ :saw: وَ ابَا بَکْرٍ وَ عُمَرَ وَ ارْجُو انْ اکُونَ مَعَھُمْ بِحُبِّيْ اِيَّاھُمْ، وَ اِنْ لَمْ اعْمَلْ بِمِثْلِ اعْمَالِھِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی صحابی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ وہ صحابی عرض گزار ہوا! میرے پاس تو کوئی عمل نہیں سوائے اس کے کہ میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ فرمایا : تمہیں آخرت میں اسی کی معیت اور سنگت نصیب ہو گی جس سے تم محبت کرتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں کسی خبر نے اتنا خوش نہیں کیا جتنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان نے کیا کہ ’’تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو‘‘۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں اور ابو بکر و عمر سے بھی لہٰذا امیدوار ہوں کہ ان کی محبت کے باعث ان حضرات کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔واضح ہو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اعمال بھی کرتے تھے بلکہ ہم میں سے کون ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سے بڑھ کر اعمال کا دعویٰ کرسکے ؟لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْئٍ فَرِحْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہ “ہمیں کسی خبر نے اتنا خوش نہیں کیا جتنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان نے کیا “ فرما کر وہاں موجود سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی اس خوشخبری پر اجتماعی فرحت و مسرت کے بارے میں مطلع فرمایا ہے۔ اور پھر “میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں اور ابو بکر و عمر سے بھی لہٰذا امیدوار ہوں کہ ان کی محبت کے باعث ان حضرات کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان جیسے نہیں۔“ فرما کر اپنے عقیدے اور ایمان میں “محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی “فقط ظاہری اعمال“ پر اہمیت و فوقیت کو بھی واضح فرما دیا“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت تو کمال درجے کے ایمان کی علامت ہے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےاھلیبت اطہار، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سے محبت بھی علاماتِ ایمان میں شمار ہوتی ہے۔ اور انکے بغض و عداوت علاماتِ نفاق ہیں۔

عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم قَالَ : آيَۃُ الاِيْمَانِ حُبُّ الْاَنْصَارِ، وَآيَۃُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْاَنْصَارِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ.

بخاری شریف، کتاب : الايمان، 1 / 14، الرقم : 17، کتاب : فضائل الصحابہ، 3 / 1379، الرقم : 3573، مسلم شریف، کتاب : الايمان، باب : الدليل علي ان حب الانصار وعلي رضي اللہ عنہ من الايمان وعلاماتہ، وبغضھم من علامات النفاق، 1 / 85، الرقم : 74،

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اور انصار سے بغض منافقت کی علامت ہے۔‘‘

عَنْ اُمِّ سَلَمَہَ رضي اﷲ عنھا تَقُوْلُ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم يَقُولُ : لَا يُحِبُّ عَلِيًا مُنَافِقٌ وَلَا يَبَْغَضُہ مؤْمِنٌ. رَوَاہ التِّرْمِِذِيُّ وَابُوْيَعْلَي.

:: ترمذی شریف، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم، باب : (21)، 5 / 635، الرقم : 3717،

حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے : کوئی منافق علی (علیہ السلام) سے محبت نہیں کرتا اور کوئی مومن علی (رضی اللہ عنہ) سے بغض نہیں رکھتا۔‘‘

عن عبد اﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنھما قال : قال النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : من احبني فليحب ھذين.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مجھ سے محبت کی، اس پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں (حسنین کریمین رضوان اللہ علیھما) سے بھی محبت کرے۔‘‘

:: نسائی، 5 : 50، رقم : 8170، ا، فضائل الصحابه، 1 : 20، رقم : 67،

عن ابن عباس رضي اﷲ عنھما قال : لما نزلت (قُلْ لَا اَسْالُکُمْ عَلَيْہِ اجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبٰی) قالوا : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! ومن قرابتک ھؤلاء الذين و جبت علينا مودتھم؟ قال : علي و فاطمہ و ابناھما.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آیت مبارکہ ’’فرما دیں میں تم سے اس (تبلیغ حق اور خیرخواہی) کا کچھ صلہ نہیں چاہتا بجز اہل قرابت سے محبت کے‘‘ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم! آپ کے وہ کون سے قرابت دار ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (حسن و حسین)۔‘‘

:: مجمع الزوائد، 7 : 103

عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي اللہ عنہ قَالَ : قُلْتُ : يَارَسُولَ اﷲِ، اِنَّ قُرَيْشًا اِذَا لَقِيَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا لَقُوھُمْ بِبَشْرٍ حَسَنٍ، وَاِذَا لَقُوْنَا لَقُوْنَا بِوُجُوہٍ لاَ نَعْرِفُھَا. قَالَ : فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم غَضَبًا شَدِيْداً، وَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لاَ يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الاِيْمَانُ حَتَّي يُحِبَّکُمْ لِلّہِ وَلِرَسُوْلِہِ وَ لِقَرَابَتِي. رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالْبَزَّارُ.و في روايۃ : قَالَ : وَاﷲِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِيءٍ اِيْمَانٌ حَتَّي يُحِبَّکُمْ لِلّہِ وَلِقَرَابَتِي.

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا : یا رسول اللہ! قریش جب آپس میں ملتے ہیں تو حسین مسکراتے چہروں سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں سے ملتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے (یعنی جذبات سے عاری چہروں کے ساتھ) حضرت عباس فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر شدید جلال میں آگئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بھی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میری قرابت کی خاطر تم سے محبت نہ کرے۔‘‘ اسے امام احمد، نسائی، حاکم اور بزار نے روایت کیا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ فرمایا : خدا کی قسم کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہ ہوگا جب تک کہ وہ اللہ تعالٰی اور میری قرابت کی وجہ سے تم سے محبت نہ کرے۔‘‘

:: مسندامام احمد بن حنبل 1 / 207، الرقم : 1772، 1777، 17656، 17657، 17658،

عن علي بن ابي طالب رضي اللہ عنہ : ان رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اخذ بيد حسن و حسين، فقال : من احبني و احب ھذين و اباھما و امھما کان معي في درجتي يوم القيامۃ.

حضرت علی بن ابی طالب علیہم السلام بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین علیہما السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جس نے مجھ سے اور ان دونوں سے محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہو گا۔‘‘

:: ترمذی شریف، 5 : 641، ابواب المناقب، رقم : 3733،

عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رضي اﷲ عنھما : اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم قَالَ : الْزِمُوْا مَوَدَّتَنَا اَھْلَ الْبَيْتِ، فَاِنَہُ مَنْ لَقِيَ اﷲَ عزوجل وَھُوَ يَوَدُّنَا، دَخَلَ الْجَنَّۃَ بِشَفَاعَتِنَا. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ، لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُہُ الَّا بِمَعْرِفَہِ حَقِّنَا. رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ.

حضرت حسین بن علی علیہم السلام بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہم اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑو پس وہ شخص جو اس حال میں اﷲ سے (موت کے بعد) ملا کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہو تو وہ ہماری شفاعت کے وسیلہ سے جنت میں داخل ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں مجھ محمد کی جان ہے کسی بھی شخص کو اس کا عمل ہمارے حق کی معرفت حاصل کئے بغیر فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔

:: في المعجم الاوسط، 2 / 360، الرقم : 2230،مجمع الزوائد، 9 / 172.

محبتِ رسول کی اہمیت سے انکار اور اسکے ذکر کو “بیکار“ کہنے والوں کے لیے لمحہء فکریہ ہے کہ فرمانِ رسول صلی علیہ وآلہ وسلم کے مطابق محبتِ رسول و اھلیبت رسول کے بغیر اعمال کی حقیقت کیا ہے ؟

اللہ تعالٰی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اھلیب اطہار رضوان اللہ علیھم کی محبت کی اہمیت واضح ہوجانے کے بعد اسکے مخالف جذبات یعنی “بغض و عداوت“ رکھنے والوں کواچھے اعمال کے باوجود اللہ تعالٰی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جن نتائج کا اعلان کیا گیا ہے وہ بھی دیکھ لیجئے۔

عن زيد بن ارقم رضي اﷲ عنہ، ان رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم قال لعلي و فاطمہ و الحسن و الحسين رضي اﷲ عنھم : انا حرب لمن حاربتم، و سلم لمن سالمتم.

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین سلام اﷲ علیہم سے فرمایا : جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہو گی، اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی۔‘‘

::ترمذی شریف، 5 : 699، ابواب المناقب، رقم : 3870، ابن ماجہ شریف، 1 : 52، رقم : 145،

احادیثِ صحیحہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایمان ، عمل پر مقدم ہے۔ بےایمان کا کوئی عمل اللہ تعالٰی کے اجر نہیں پائے گا۔ اور ایمان کے لیے اللہ تعالٰی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اشد ضروری بلکہ امام مسلم کے مطابق واجب ہے۔جب تک ایمان ہی دل میں داخل نہ ہو ۔عمل کا اوراسکے اجر کا کیا جواز ؟ اگر فقط کلمہ پڑھ لینا ہی “ایمان“ ہوتا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صحابی کو حضورنبی اکرم :saw: ایمان کی تکمیل کے لیے اپنی جان سے بڑھ کر دل میں “محبتِ رسول :saw: “ بسانے کا حکم نہ دیتے۔

اہلبیتِ اطہار کی محبت ، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور اہلبیت اطہار رضوان اللہ علیھم سے بغض و عداوت اللہ تعالٰی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت ہے۔ قاتلانِ حسین کے شان میں قصیدے لکھنے والوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر سوچنا چاہیئے کہ کل قیامت کے دن جنت کے سردار اگر “سیدنا امام حسن و حسین رضوان اللہ علیھما“ ہیں تو قاتلانِ حسین کا شمار کہاں ہوگا؟ اور قاتلانِ حسین کے دفاع و حمایت میں قصیدہ سرائی کرنے والوں کا شمار کس قطار میں ہوگا ؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More