اسلام ميں حج کي اہميت

0 4
کعبہ

”‌حج”  اسلام کا اہم ترين رکن اور ديني فريضوں ميں عظيم ترين فريضہ ہے –

قرآن مجيد ايک مختصر اور پر معني عبارت ميں فرماتا ہے – : وَلِلَّہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ اظ•ِلَيْہِ سَبِيلا- اور خدا کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کي استطاعت رکھتے ہوں – اسي آيہ شريفہ کے ذيل ميں فرماتے ہيں : ( وَمَنْ کَفَرَ فَاظِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنْ الْعَالَمِينَ ) اور جنہوں نے کفر و سرکشي اختيار ک ، بے شک خداوند کريم تمام عالمين سے بے نياز ہے –

آيہ شريفہ کے اس جملہ ميں”‌ وَلِلَّہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ —“ ( خدا کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے) اس تعبير کے ساتھ کہ جنہوں نے واجب حج کو چھوڑ ديا، کفر کے مرتکب ہوئے ہيں، اسلام ميں اس کي عظيم ترين اہميت روشن ہو جاتي ہے –

توجہ کي بات يہ ہے کہ سورہ مبارکہ اسراء کي 72 ويں آيت کريمہ کے تفسير ميں ( وَمَنْ کَانَ فِي ہَذِہِ اَعْمَي فَہُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْمَي وَاَضَلُّ سَبِيلًا ) حضرت امام صادق (ع)  سے روايت ہوئي ہے کہ اس آيت کا ايک معني يہ ہے جو اپنے واجب حج ميں تاخير کرے يہاں تک کہ وہ مرجائے ( وہ قيامت کے دن اندھا ہوگا). اور جو اس دنيا ميں اندھا وہ قيامت ميں بھي اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا –

ايک اور حديث ميں آيا ہے : جو بھي اپنے واجب حج کو کسي عذر کے بغير ترک کرے وہ قيامت ميں يہودي يا نصراني محشور ہوگا.

چونکہ حضرت امام صادق (عليہ السلام) کي حديث ميں پڑھتے ہيں : جو حج اور عمرہ کو بجالاتے ہيں وہ خدا کے مہمان ہيں- وہ خدا سے جو چاہتے ہيں وہ انہيں عطا کرتا ہے – وہ جو بھي دعا کريں خدا ان کي دعاۆوں کو بھي قبول کرتا ہے اور وہ اگر کسي کي شفاعت کريں ،تو وہ قبول ہوتي ہے – اور اگر اسي راہ ميں مرجائيں تو پروردگار ان کے تمام گناہوں کو بخش ديتا ہے –

مزید  ولايت اميرالمؤمنين قرآن کي روشني ميں11

اسي طرح ايک اور روايت ميں ہے کہ جو پيغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوئي ہے: الحج المبرور ليس لہ جزاء الا الجنة – قبول ہوئے حج کي جزاء جنت کے بغير کچھ اور نہيں ہو سکتي !

تيسري حديث بھي آنحضرت (ص) ہي سے منقول ہے : ( من حج البيت— خرج من ذنوبہ کيوم ولدتہ امہ ) جو حج انجام ديتا ہے وہ گناہوں سے اسي طرح پاک ہوجاتا ہے جيسے اسي دن اپني ماں سے جنم ليا ہو- يہي سب سے بڑا ہديہ ، عاليشان افتخار اور بہترين جزا ہے –

بے شک مذکورہ روايات يا ان کے علاوہ دوسري روايات ميں حج کا بے شمار ثواب اور بہت ہي اہميت بيان ہوئي ہے اسي طرح اسکے ترک کرنے پر قرآن مجيد اور اسلامي روايتوں ميں سخت ترين عذاب کا ذکر ہوا ہے – يہ سب اسي عظيم عبادت کي وجہ سے ہے جو مہمترين اسرار اور فلسفہ کي حاصل ہے –

قرآن مجيد ايک مختصر اور پر معني جملے ميں حج کے متعلق فرماتا ہے : (لِيَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ ) لوگوں کو حج کي طرف دعوت دو- تاکہ اپنے فوائد کا مشاہدہ کريں –

تحرير: آقاے مکارم شيرازي

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

حج و عمرہ كے اعمال كے بارے ميں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.