احرام -2-

0 4
مکہ

مسئلہ 121_ اگر احرام كا لباس نجس ہوجائے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اسے پاك كرے يا تبديل كرے _

 

مسئلہ 122_ احرام كى حالت ميں حدث اصغر يا اكبر سے پاك ہونا شرط نہيں ہے پس جنابت يا حيض كى حالت ميں احرام باندھنا جائز ہے ہاں احرام سے پہلے غسل كرنا مستحب مؤكد ہے اور اس مستحب غسل كو غسل احرام كہاجاتا ہے اور احوط يہ ہے كہ اسے تر ك نہ كرے_

 

2_ احرام كے مستحبات

 

مسئلہ 123_ مستحب ہے احرام سے پہلے بدن كا پاك ہونا ،اضافى بالوں كا صاف كرنا ،ناخن كاٹنا _ نيز مستحب ہے مسواك كرنا اور مستحب ہے احرام سے پہلے غسل كرنا ، ميقات ميں يا ميقات تك پہنچنے سے پہلے_ مثلاً مدينہ ميں _ اور ايك قول كے مطابق احوط يہ ہے كہ اس غسل كو ترك نہ كيا جائے اور مستحب ہے كہ نماز ظہر يا كسى اور فريضہ نماز يا دوركعت نافلہ نماز كے بعد احرام باندھے بعض احاديث ميں چھ ركعت مستحب نماز وارد ہوئي ہے اور اسكى زيادہ فضيلت ہے اور ذيقعد كى پہلى تاريخ سے اپنے سر اورداڑھى كے بالوں كو بڑھانا بھى مستحب ہے _

 

3_ احرام كے مكروہات

 

مسئلہ 124_ سياہ ،ميلے كچيلے اور دھارى دار كپڑے ميں احرام باندھنا مكروہ ہے اور بہتر يہ ہے كہ احرام كے لباس كا رنگ سفيد ہو اور زرد بستر يا تكيے پر سونا مكروہ ہے اسى طرح احرام سے پہلے مہندى لگانا مكروہ ہے البتہ اگر اس كا رنگ احرام كى حالت ميں بھى باقى رہے _اگر اسے كوئي پكارے تو “”لبيك”” كے ساتھ جواب دينا مكروہ ہے اور حمام ميں داخل ہونا اور بدن كو تھيلى وغيرہ كے ساتھ دھونا بھى مكروہ ہے _

 

4_ احرام كے محرمات

 

مسئلہ 125_ احرام كے شروع سے لے كر جبتك احرام ميں ہے محرم كيلئے چند چيزوں سے اجتناب كرنا واجب ہے _ ان چيزوں كو “” محرمات احرام “” كہا جاتا ہے _

 

مسئلہ 126_ محرمات احرام بائيس چيزيں ہيں _ان ميں سے بعض صرف مرد پر حرام ہيں _ پہلے ہم انہيں اجمالى طور پر ذكر كرتے ہيں پھر ان ميں سے ہر ايك كو تفصيل كے ساتھ بيان كريں گے اور ان ميں سے ہر ايك پر مترتب ہونے والے احكام كو بيان كريں گے_

 

احرام كے محرمات مندرجہ ذيل ہيں:

1_ سلے ہوئے لباس كا پہننا

2_ ايسى چيز كا پہننا جو پاؤں كے اوپر والے سارے حصے كو چھپا لے

3_ مرد كا اپنے سر كو اور عورت كا اپنے چہرے كو ڈھانپنا

4_ سر پر سايہ كرنا

5_ خوشبو كا استعمال كرنا

6_ آئينے ميں ديكھنا

7_ مہندى كا استعمال كرنا

8_ بدن كو تيل لگانا

9_ بدن كے بالوں كو زائل كرنا

10_ سرمہ ڈالنا

11_ ناخن كاٹنا

12_ انگوٹھى پہننا

13_ بدن سے خون نكالنا

14_ فسوق ( يعنى جھوٹ بولنا ، گالى دينا ، فخر كرنا)

مزید  کیا کتاب صحیح بخاری میں،حضرت زہرا (س)کو اذیت و تکلیف دینے کے بارے میں کوئی حدیث موجود ہے؟

15_جدال جيسے “”لا واللہ _ بلى واللہ “”كہنا

16_ حشرات بدن كومارنا

17_ حرم كے درختوں اور پودوں كواكھيڑنا

18_ اسلحہ اٹھانا

19_ خشكى كا شكار كرنا

20_ جماع كرنا اور شہوت كو بھڑ كانے والا ہر كام جيسے شہوت كے ساتھ

ديكھنا بوسہ لينا اور چھونا

21_نكاح كرنا

22_استمنا كرنا

 

مسئلہ 127_ ان ميں سے بعض محرمات ويسے بھى حرام ہيں اگر چہ محرم نہ ہو ليكن احرام كى حالت ميں ان كا گناہ زيادہ ہے_

 

محرمات احرام كے احكام :

1_ سلے ہوئے لباس كا پہننا

مسئلہ 128_ احرام كى حالت ميں مردپر سلے ہوئے كپڑوں كا پہننا حرام ہے اور اس سے مراد ہر وہ لباس ہے كہ جس ميں گردن ، ہاتھ يا پاؤں داخل ہو جائيں جيسے قميص، شلوار ، كوٹ ، جيكٹ،نيچے كا لباس ، عبا اور قبا و غيرہ اور اسى طرح بٹن لگے ہوئے كپڑے_

 

مسئلہ 129_ سابقہ مسئلہ كے موضوع كے بارے ميں فرق نہيں ہے كہ وہ لباس سلا ہوا ہو يابُنا ہوا يا ان كى مثل _

 

مسئلہ 130_ كمربند، و ہ تھيلى كہ جس ميں پيسے ركھے جاتے ہيں اور گھڑى كے پٹے وغيرہ كے پہننے ميں كوئي اشكال نہيں ہے كہ جنہيں لباس شمار نہيں كيا جاتا اگرچہ يہ سلے ہوئے ہوں_

 

مسئلہ 131-سلے ہوئے بستر يا اس لباس پر بيٹھنے اور سونے سے كوئي مانع نہيں ہے كہ جس كا پہننا حرام ہے جيسے كہ انكا بستر بنانے سے بھى كوئي مانع نہيں ہے_

 

مسئلہ132_ لحاف اور استرو غيرہ كوشانے پر ركھنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے اگرچہ اس كے اطراف سلے ہوئے ہوں جيسے كہ احرام كے كپڑوں كے اطراف كے سلے ہوئے ہونے سے بھى كوئي مانع نہيں ہے _

 

مسئلہ 133_ اگر جان بوجھ كر سلا ہوا لباس پہنے تو ايك بكرے كا كفارہ دينا واجب ہے اور اگر سلے ہوئے متعدد كپڑے پہنے جيسے پينٹ اور كوٹ پہنے يا قميص اور اندرونى لباس پہنے تو اس پر ہر ايك كيلئے الگ كفارہ ہو گا _

 

مسئلہ 134_ اگر سردى وغيرہ كى وجہ سے ان كپڑوں كو پہننے پر مجبور ہوجائے كہ جنہيں پہننا حرام ہے تو گناہ نہيں ہے ليكن احوط يہ ہے كہ ايك بكرا كفارے ميں دے _

 

مسئلہ 135_ عورتوں كيلئے ہر قسم كاسلا ہوا لباس پہننا جائز ہے اور اس ميں كفارہ نہيں ہے ہاں ان كيلئے دستانے پہننا جائز نہيں ہے_

 

2_ اس چيز كا پہننا جو پاؤں كے اوپر والے پورے حصے كو چھپا لے_

 

مسئلہ 136_ مرد پر احرام كى حالت ميں موزوں اور جوراب كا پہننا حرام ہے اور احوط وجوبى ہر اس چيز كے پہننے سے اجتناب كرنا ہے جو پاؤں كے اوپر والے پورے حصے كو چھپالے جيسے جو تا اور موزہ وغيرہ _

 

مسئلہ 137_ اس چوڑى پٹى والے جوتے كے پہننے ميں كوئي اشكال نہيں ہے كہ جو پاؤں كے پورے اوپر والے حصے كو نہيں ڈھانپتا _

مزید  حضرت ام البنین (علیہاالسلام) کا ولایت کے تحفظ میں کردار

 

مسئلہ138_ بيٹھنے يا سونے كى حالت ميں پاؤںپر لحاف وغيرہ كے ركھنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے اسى طرح اگر احرام كا لباس پاؤں پر آپڑے تو بھى اشكال نہيں ہے _

 

مسئلہ139_ اگر محرم ايسے جوتے وغيرہ كو پہننے پر مجبور ہو كہ جو پاؤں كے پورے اوپر والے حصے كو ڈھانپ ليتا ہے تو اس كيلئے يہ جائز ہے ليكن اس حالت ميں احوط وجوبى يہ ہے كہ اسكے اوپر والے حصے كو چيردے_

 

مسئلہ 140_ اگر گذشتہ مسئلہ ميں مذكور موزہ اور جوراب وغيرہ پہنے تو كفارہ نہيں ہے اگرچہ جوراب كے سلسلے ميں احوط استحبابى ايك بكرے كا كفارہ دينا ہے _

 

مسئلہ 141_مذكورہ حكم ( موزے اور جوراب و غيرہ كے پہننے كى حرمت ) مردوں كے ساتھ مختص ہے ليكن عورتوں كيلئے بھى احوط استحبابى اسكى رعايت كرنا ہے _

 

3_ مرد كا اپنے سر اور عورت كا اپنے چہرے كو ڈھانپنا

مسئلہ 142_ مرد كيلئے ٹوپى ، عمامے ، رومال اور توليے وغيرہ كے ساتھ اپنے سر كو ڈھانپنا جائز نہيں ہے_

 

مسئلہ 143_ احوط وجوبى يہ ہے كہ مرد اپنے سر كے اوپر كوئي ايسى چيز نہ ركھے اور نہ لگائے جو اسكے سر كو ڈھانپ لے جيسے مہندى ،صابون كى جھاگ يا اپنے سر كے اوپر سامان اٹھانا و غيرہ _

 

مسئلہ 144_ كان ،سر كا حصہ ہيں پس مرد كيلئے احرام كى حالت ميں انہيں ڈھانپنا جائز نہيں ہے _

 

مسئلہ 145_سركے بعض حصے كو اس طرح ڈھانپنا كہ اسے عرف ميں سر كا ڈھانپنا كہا جائے جائز نہيں ہے جيسے ايك چھوٹى سى ٹوپى اپنے سركے درميان ميں ركھے ورنہ كوئي اشكال نہيں ہے جيسے قرآن وغيرہ كو اپنے سر كے اوپر ركھے يا اپنے سر كے بعض حصے كو بالتدريج تو ليے كے ساتھ خشك كرے اگرچہ احوط اس سے بھى اجتناب كرنا ہے _

 

مسئلہ 146_ مُحرم كيلئے اپنے سر كو پانى ميں ڈبونا جائز نہيں ہے اور ظاہر يہ ہے كہ اس مسئلہ ميں مرد اور عورت كے درميان فرق نہيں ہے ليكن اگر ڈبوئے تو كفارہ نہيں ہے _

 

مسئلہ 147_ احوط وجوبى كى بناپر سر كو ڈھانپنے كا كفارہ ايك بكرى ہے _

 

مسئلہ 148_ اگر غفلت، بھول كر يا لا علمى كى وجہ سے سر كو ڈھانپے تو كفارہ نہيں ہے _

 

مسئلہ 149_عورتوں كيلئے احرام كى حالت ميں اس طرح چہرے كو ڈھانپنا جائز نہيں ہے كہ جيسے وہ حجاب يا چہرے كو چھپانے كيلئے كرتى ہيں _ اس بنا پر چہرے كے بعض حصے كو ڈھانپنا كہ جس پر چہرے كا ڈھانپنا صدق كرے جيسے پردے يا چھپانے كيلئے رخساروں كو ناك ، منہ اور ٹھوڑى سميت ڈھانپنا تو يہ پورے چہرے كو ڈھانپنے كى طرح ہے پس يہ بھى جائز نہيں ہے _

مزید  انتخابی خلافت کا سیاسی طریقہ اور اسکا شیعی عقیدے کے ساتھ اختلاف

 

مسئلہ 150_ احرام كى حالت ميں عورتوں كيلئے ماسك كا استعمال جائز ہے _

مکہ

مسئلہ 151_ چہرے كے اوپر ، نيچے يا دونوں اطراف كو اتنى مقدار ڈھانپنا كہ جتنا رائج گھونگھٹ كے ذريعے ہوتا ہے اور جس طرح عورتيں نماز كے وقت سر كوڈھانپنے كيلئے كرتى ہيں كہ جس پر چہرے كا ڈھانپنا صادق نہيں آتا اشكال نہيں ركھتا چاہے يہ نماز ميں ہو يا غير نماز ميں _

 

مسئلہ 152_ چہرے كو پنكھے وغيرہ ( جيسے رسالہ ، كاغذ) كے ساتھ ڈھانپنا حرام ہے ہاں چہرے پر ہاتھ ركھنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے _

 

مسئلہ 153_ محرم عورت كيلے اپنى چادر كو اپنے چہرے پر اس طرح ڈالنا جائز ہے كہ وہ اسكے ناك كے اوپر والے كنارے كے بالمقابل تك اسكے چہرے كے بعض حصے اور اسكى پيشانى كو ڈھانپ لے ليكن احوط اس سے اجتناب كرنا ہے اگر اجنبى كے ديكھنے كى جگہ ميں نہ ہو _

 

مسئلہ 154_ سابقہ مسئلہ ميں احوط يہ ہے كہ مذكورہ  پردے  كو  اس  طرح  نہ  چھوڑ دے  كہ  وہ اس كے چہرے كو  چھو رہا ہو _

 

مسئلہ 155_ چہرے كو ڈھانپنے ميں كفارہ نہيں ہوتا اگرچہ يہ احوط ہے_

 

4_ مردوں كيلئے سايہ كرنا _

مسئلہ 156 _ مرد كيلئے احرام كى حالت ميں چلتے ہوئے اور منزليں طے كرتے ہوئے ( جيسے ميقات اور مكہ كے درميان چلنا اور مكہ و عرفات كے درميان چلنا وغيرہ) سايہ كرنا جائز نہيں ہے ہاں اگر راستے ميں كہيں رك جائے يا منزل مقصود تك پہنچ جائے جيسے گھر يا ريسٹورينٹ ميں داخل ہوجائے تو سايہ كرنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے پس سفر كے دوران چھت والى گاڑى ميں سوار ہونا جائز نہيں ہے _

 

مسئلہ 157_ احوط و جوبى يہ ہے كہ محرم مكہ پہنچنے كے بعد اور اعمال عمرہ كو بجا لانے سے پہلے متحرك سائے سے اجتناب كرے جيسے چھت والى گاڑى ميں سوار ہونا يا چھترى كا استعمال كرنا اور اسى طرح حج كا احرام باندھنے كے بعد عرفات اور مزدلفہ كى طرف جاتے ہوئے البتہ اگر دن كے وقت سفر كرے اور مزدلفہ سے منى كى طرف جاتے ہوئے اور اسى طرح عرفات اور منى كے اندر چلتے ہوئے _

 

مسئلہ 158_ سابقہ دومسئلوں ميں مذكور حكم دن ميں سايہ كرنے كے ساتھ مختص ہے بنابراين رات كے وقت چھت والى گاڑى ميں سوار ہونے سے كوئي مانع نہيں ہے اگرچہ احتياط يہ ہے كہ سايہ سے استفادہ نہ كرے_

 

مسئلہ 159: بارانى اور ٹھنڈى راتوں ميں احوط يہ ہے كہ چھت والى گاڑى وغيرہ ميں سوار ہوكر اپنے اوپرسايہ نہ كرے_

 

مسئلہ 160_ ديوار، درخت اور ان جيسے سايہ سے استفادہ كرنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے حتى كہ دن كے دوران بھى اسى طرح ثابت سايہ جيسے سرنگ اور پُل كے نيچے سے عبور كرنا _

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.