اتحاد امت ۔۔۔ امام امت کا دیرینہ خواب

0 8

امام خمینی نے امریکہ اور اسرائیلی مشینری اور ان کے آلہ کاروں کو مخاطب کرکے فرمایا: “امریکہ برطانیہ سے بدتر اور برطانیہ امریکہ سے بدتر ہے اور سوویت یونین تو ان دونوں سے بھی بدتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں بدتر ہے اور ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں پلید تر بھی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا سارا سروکار ان خبیثوں اور امریکہ کے ساتھ ہے۔

امریکہ کا صدر جان لے؛ اس مفہوم کو جان لے کہ وہ خود دنیا کا منفور ترین شخص ہے اور ہمارے نزدیک بھی ایسا ہی ہے۔ ہماری ساری مشکلات اسی امریکہ کی ایجاد کردہ ہیں۔ ہماری تمام تر مشکلات کا سبب یہی اسرائیل ہے اور اسرائیل خود امریکہ کی دین ہے۔”
 
تحریر: سید محمد علی شاہ الحسینی

کمال تک پہنچنے میں مختلف امور موثر ہیں۔ انسان کو خداوند عالم نے کمال کے لئے خلق کیا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ اس وصف سے کس طرح متصف ہوسکتا ہے۔ ان میں معرفت الٰہی میں اضافہ، تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنا پیشہ کرنا، اپنی زندگی میں نظم و نسق قائم  رکھنا، علمی میدان میں ارتقاء کے مراحل کو طے کرنا، خصوصی طور پر دینی علم کے حصول میں سرگرم رکھنا اور اس پر عمل کے ذریعے وارث انبیاء کا عنوان پانا “اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَتُ الاَنْبِیَاءُ” عرفان کے ذریعے کشف و شہود کے مرحلے تک رسائی پیدا کرنا اور کائنات کی ہر چیز کو قدرت الٰہی کے مظاہر سمجھنا، اپنی شناخت کے ذریعے رب کی شناخت حاصل کرنا “مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ”۔ اپنی زندگی میں ہر کام کو خدا کی خوشنودی کے لئے بجا لانا “مَنْ کَاْنَ لِله کَانَ الله لَهُ” اپنی جان، مال اور اولاد کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رہنا شامل ہیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کے اس خطرناک دور میں بھی ایسے اوصاف کے حامل افراد کا پایا جانا ممکن ہے؟ جواب اثبات میں ہے۔ ایسا ہونا ناصرف ممکن ہے بلکہ موجودہ صدی میں ہی ہم اس کے مصداق اتم کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں۔ میرا مقصود ہے؛ بت شکن زمان، عارف بے مثل، مجتہد کل عالَم جہان تشیع، وارث علم انبیاء، فیلسوف بے نظیر، سیاستدانِ یکتائے زمان، شجاعت کا پیکر، اخوت کا داعی، انقلاب شبیری کے پیغمبر اور صبر حسینی کے مصداقِ بارز، شجاعت حیدری کا عملی مظہر، حلم امام حسن مجتبیٰؑ کا زندہ مصداق، امام سجادؑ کی عبادت کا احیاءگر، باقرالعلومؑ کے منبع علمی کو دنیائے جہان تک منتقل کرنے والا اور صادق آل محمدؑ کی پیروی میں ہزاروں شاگردوں کے مربِّی اور دوسرے ائمہ معصومین علیھم السلام کے اوصاف حمیدہ کو زمانٖ حاضر میں عملی جامہ پہنا کے دنیا کو دکھانے والی عظیم شخصیت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہے۔

آپ نے ہر میدان میں دنیا کے سامنے ایسا کردار متعارف کرایا، جس کا آج کے مادی دور میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہم یہاں صرف مسلمانوں کے اتحاد کے حوالے سے آپ کے کردار کے چند گوشوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفاء کریں گے۔ آپ نے صرف ایران کے مسلمانوں کو استعمار کے پلید ہاتھوں سے نجات نہیں دلائی بلکہ پوری عالم انسانیت کو بالعموم اور ساری دنیا کے مسلمانوں  کو بالخصوص خواب غفلت سے جگایا۔ آپ نے ہر مرحلے پر مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کی اور سامراجی عناصر کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین فرمائی۔ یوں آپ نے اپنی اس تحریک کو منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے ایک پیش خیمہ قرار دیا۔ آپ نے فرمایا: “ہمارے اس انقلاب کے آنے سے؛ جو حقیقی انقلاب ہے اور اس میں احکام محمدی کا بیان ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا پرستوں کے مظالم کا خاتمہ کریں گے اور خدا کی مدد سے منجی و مصلح کل، امام برحق؛ امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے راہ ہموار کریں گے۔”1 وہ سپر طاقتیں جن کے سامنے ساری دنیا سرتسلیم خم ہے، امام خمینی ؒ نے دوٹوک الفاظ میں ان کے داغدار چہرے کے بدنما داغ کو پوری دنیا کے سامنے واضح کر دیا اور مسلمانوں کے دلوں میں امید کی ایک کرن روشن کر دی۔ آپ نے فرمایا: “ہمارا انقلاب ایران کی حد تک محدود نہیں بلکہ ایرانی قوم کا انقلاب عالم اسلام میں انقلاب کا نقطہ آغاز ہے، جو امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ خداوند منان ان کے ظہور کو اسی عصر میں قرار دے کر ساری دنیا والوں اور مسلمانوں کو اپنے لطف و کرم میں شامل حال کرے۔”2

مزید  (۳۰ ربیع الثانی) هلاکت خالد بن وليد

یقیناً آپ نے اسلامی اصولوں کو ایران کی سرزمین پر آزما کر دنیا کو دکھا دیا کہ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے، جس میں ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اصول و ضوابط موجود ہیں۔ آپ نے پورے عالم اسلام کو درس دیا کہ اسلام صرف چند اعمال و اذکار کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک جامع نظام حیات ہے۔ جس پر عمل کرکے مسلمان دونوں جہاں میں سروخرو ہوسکتے ہیں۔ جسے آپ نے عملی طور پر ثابت بھی کر دکھایا۔ ساری دنیا کے آزادی طلب انسانوں کو خمینی بت شکن کی اس تحریک سے سبق سیکھنا چاہئے اور سارے مسلمانوں کو اس نظام سے درس لے کر اسلامی اصولوں کو اپنے  معاشرے میں عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئے۔ امام خمینی نے امریکہ اور اسرائیلی مشینری اور ان کے آلہ کاروں کو مخاطب کرکے فرمایا: “امریکہ برطانیہ سے بدتر اور برطانیہ امریکہ سے بدتر ہے اور سوویت یونین تو ان دونوں سے بھی بدتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں بدتر ہے اور ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں پلید تر بھی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا سارا سروکار ان خبیثوں اور امریکہ کے ساتھ ہے۔ امریکہ کا صدر جان لے؛ اس مفہوم کو جان لے کہ وہ خود دنیا کا منفور ترین شخص ہے اور ہمارے نزدیک بھی ایسا ہی ہے۔ ہماری ساری مشکلات اسی امریکہ کی ایجاد کردہ ہیں۔ ہماری تمام تر مشکلات کا سبب یہی اسرائیل ہے اور اسرائیل خود امریکہ  کی دین ہے۔”3

اسی خطاب میں آپ نے مسلمانوں کی تمام مشکلات کا سبب امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے یوں فرمایا: “دنیا جان لے کہ ایرانی قوم اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو جن جن مشکلات کا سامنا ہے وہ سب غیروں کی جانب سے ہیں یعنی؛ یہ سب کچھ امریکہ، اسرائیل اور ان کے حواریوں کے  ہاتھوں ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ امت مسلمہ ان غیروں سے بالعموم اور امریکہ سے بالخصوص متنفر ہے۔ امریکہ ہی اسرائیل اور ان کے ہمراہیوں کا معاون  ہے۔ امریکہ ہی ہے جو اسرائیل کو طاقت فراہم کرتا ہے، تاکہ اس طاقت کے بل بوتے پر وہ عرب کے مسلمانوں کو بے گھر کرے۔”4 آپ نے مسلمانوں کو اپنی تہذیب یاد دلاکر مغربی تہذیب پر خط بطلان کھینچا:”اسلام جدید ترین تہذیبوں کا حامل ہے اور اسلامی حکومت کسی حوالے سے بھی جدید تہذیب و تمدن کا مخالف نہیں۔اسلام خود پوری دنیا میں سب سے عظیم تمدن کا سنگ بنیاد رکھنے والا ہے۔ پس جو بھی ملک اسلامی قوانین پر مکمل عمل پیرا ہوگا تب وہ  پوری دنیا کا پیشرفتہ ترین ملک ہوگا۔”5 “اسلام ہر قسم کی جدید ترین تہذیب و تمدن کی اجازت دیتا ہے، مگر یہ کہ اس سے اخلاقی مفاسد پیدا ہوتے ہوں اور عفت کے منافی ہو۔ اسلام نے صرف ان چیزیوں کی مخالفت کی ہے جو ملت کے لئے نقصان دہ ہوں اور ان چیزوں کی حمایت کی ہے جو ملت کے مصالح پرمشتمل ہوں۔”6

مزید  اربعین کا جلوس

“وہ چیزیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ تهذیب و تمدن ہے۔ درواقع وہ تهذیب و تمدن نہیں بلکہ یہ صرف ایک وهم و گمان ہے۔ اگر اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تهذیب و تمدن نہیں بلکہ درندگی سے زیادہ نزدیک تر ہے کیونکہ وہ جتنے بھی جدید اسلحے بناتے ہیں، وہ سب اپنے جیسے ہی انسانوں کے قتل عام کی خاطر ہیں۔ حقیقی تہذیب و تمدن اور حقیقی آزادی دونوں اسلام کے ہاں ہیں۔”7 “ان کی (مغربیوں) کی مادی ترقی کے ہم مخالف نہیں اور نہ ہی ہمارا اس پر کوئی اعتراض ہے۔ انھوں نے مادی دنیا میں تو بہت ترقی کی ہے، لیکن ہمارا اعتراض صرف اس مورد میں ہے کہ ہم اپنے آداب و قوانین اور روش زندگی کو بھی ان سے ہی لینا چاہتے ہیں، جبکہ تهذیب  کے اعتبار سے وه ہم سے بہت پیچھے ہیں۔ انسانوں کے خون بہانے والے آلات بنانے کے میدان میں وہ آگے ہیں۔ انھوں نے ایسے آلات بنائے ہیں جس سے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور پوری دنیا میں آگ لگائی جاتی ہے۔ اگر اسی کا نام حقیقی تمدن ہے تو ساری دنیا والوں کو اس سے بیزار ہونا چاہئے۔ وہ مکتب جو ہر ملک کی اصلاح اور اس کے تمدن اور حقیقی آزادی و استقلال کا ضامن ہے؛ وہ مکتب انسانیت ہے۔”8

آپ نے تمام مسلمانوں کو اسلام کے پرچم تلے جمع ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: “میں امید رکھتا ہوں کہ موجودہ صدی کے سارے مسلمان، اپنی مشکلات اور ان کے اسباب کا خوب ادراک کریں گے اور ہر حوالے سے اپنے درمیان اتفاق و اتحاد قائم کریں گے اور اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے عظیم پرچم کے سائے تلے جمع ہوکر استعمار کی ہر قید و بند سے نجات حاصل کریں گے۔ اس صدی کے مسلمانوں نے اپنی جان فرسا مشکلات کا ادراک کیا ہے اور شیطان بزرگ (بڑے شیطان یعنی امریکہ) سے مختلف قسم کی مشکلات اور چاپلوسی اور قتل و غارت گری کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آپس میں قلبی لگاؤ، خدائے باعظمت اور اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے لئے کوئی راہ حل تلاش کیا جائے۔ اس کے لئے لائحہ عمل یہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے دردمند حکمران اور عوام مل کر اپنی ثقافت اور حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے مغربی ممالک پر انحصار ختم کریں اور وحی الٰہی سے منسلک اسلامی تہذیب کو فروغ دیں۔ حقیقی اسلامی ثقافت کا خود ادراک کرنے کے بعد دوسروں تک بھی منتقل کریں۔”9 آپ نے انقلاب اسلامی کی سالگرہ کی مناسبت سے فرمایا: “ہم پوری دنیا کے غیروں کے تحت تسلط تمام مسلمانوں کی آزادی اور استقلال کی خاطر مکمل ان کے ساتھ تعاون کا اعلان کرتے ہیں اور  صراحت کے ساتھ انھیں یہ بھی تلقین کرتے ہیں کہ یہ حق لینا تمہارا فریضہ ہے۔ انھیں چاہیے کہ ان طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالیں۔ میں نے کئی باریقین دہانی کرائی ہے اور اب پھر آگاہ کرتا ہوں کہ اگر مشرق کے مظلومین اور افریقی اپنے قدموں پر کھڑے نہ ہوئے تو وه  ہمیشہ مشکلات میں پھنسے رہیں گے۔”10

مزید  وجوب تقيہ کے موارد اوراس کا فلسفہ

“آج اگر مختلف طبقوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والے؛ دینی علماء، اہل قلم، روشن فکر اور سرکردہ افراد ہر جگہ سے اٹھ نہ کھڑے ہوں اور مسلمانوں کو بیدار کرکے ستم زده قوموں کی فریاد کو نہ پہنچیں تو ان کا ملک ہر لحاظ سے تباہی کے داہنے کی طرف بڑھتا چلا جائے گا اور مشرق سے تعلق رکھنے والے غارت گر ملحدین اور ان سے بھی بدتر مغربی ملحدین ان کی شہ رگ حیات کو ہی کاٹ کر ان کی عزت نفس اور کرامت انسانی کو بھی پامال کر دیں گے۔”11 خدا ہم سب کو امام خمینی  کی سیرت کو اپناتے ہوئے مہدی برحق، عزیز زہراء اور ظلم و جو ر کو عدل و انصاف میں بدلے والی عظیم ہستی؛ امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کی توفیق عطا فرما آمین ثم آمین۔

فهرست منابع:
1۔ عصر امام خمینی۔ میر احمد رضا حاجتی، ص:242۔ ناقل۔ دو ماہہ آفتاب۔ سال ہشتم۔ شمارہ چہل و چہار۔ اردبہشت، خرداد
2۔ ایضاً۔ ص:243۔ ناقل ایضاً۔ (ترجمہ:خود محقق)
3۔ زندگی نامہ امام خمینی {از تولد تا رحلت۔ دکتر حمید انصاری} ص: 54
4۔ ناشر: معاونت فرہنگی ستاد بزرگداشت حضرت امام خمینی ۔تاریخ نشر:1389۔ (ترجمہ: ایضاً)
5۔ ایضاً۔
6۔ صحیفہ نور۔ جلد چہارم۔ ص:221۔ ناقل: دو ماہہ آفاق: ص:98۔ سال ہشتم۔ شمارہ چہل و چہار۔ اردوبہشت، خرداد، (ترجمہ:ایضاً)
7۔ صحیفہ نور۔ جلد پنجم۔ ص:263۔ ناقل: ایضاً (ترجمہ: ایضاً)
8۔ صحیفہ نور۔ جلد ہشتم۔ ص:309۔ ناقل: ایضاً۔ (ترجمہ: ایضاً)
9۔ صحیفہ نور۔ جلد: نہم۔ ص:82۔ ناقل ایضاً۔ (ترجمہ: ایضاً)
10۔ دو ماہہ آفاق۔ ص:3۔ سال ہشتم۔ شمارہ چہل و چہار۔ اردوبہشت، خرداد۔ (ترجمہ:ایضاً)
11۔ صحیفہ امام۔ جلد 19۔ ص: 344 ناقل: مجلہ آفاق۔ ص:44۔ سال ہشتم۔ شمارہ چہل و چہار۔ اردوبہشت، خرداد۔ (ترجمہ:ایضاً)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.