سوره نساء آيات 61 – 80

0 6

سوره نساء آيات 61 – 80

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ رَاَیۡتَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡکَ صُدُوۡدًا ﴿ۚ۶۱﴾

۶۱۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آ جاؤ تو آپ ان منافقین کو دیکھتے ہیں کہ آپ کی طرف آنے سے کتراتے ہوئے ٹال مٹول کرتے ہیں۔

61۔ سلسلۂ کلام اطاعت کے بارے میں ہے کہ مذکورہ اطاعتوں سے ہی ایمان و نفاق کا امتیاز واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔مومنین ہر حال میں اللہ کی طرف سے تعیین کردہ اطاعتوں کے دائرے میں رہ کر اپنے نزاعی مسائل میں فیصلے لیتے ہیں اور منافقین یہ دیکھتے ہیں کہ فیصلہ کس کے حق میں ہونے کی توقع ہے۔ اگر رسول (ص) کا فیصلہ ان کے حق میں ہونے کی توقع ہو تو ان کی طرف اور اگر طاغوت کا فیصلہ ان کے حق میں ہونے کی توقع ہو تو ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔


فَکَیۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡکَ یَحۡلِفُوۡنَ ٭ۖ بِاللّٰہِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّ تَوۡفِیۡقًا﴿۶۲﴾

۶۲۔پھر ان کا کیا حال ہو گا جب ان پر اپنے ہاتھوں لائی ہوئی مصیبت آ پڑے گی؟ پھر وہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے آئیں گے (اور کہیں گے:) قسم بخدا ہم تو خیر خواہ تھے اور باہمی توافق چاہتے تھے۔


اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُ اللّٰہُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ٭ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ عِظۡہُمۡ وَ قُلۡ لَّہُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَوۡلًۢا بَلِیۡغًا﴿۶۳﴾

۶۳۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے، آپ انہیں خاطر میں نہ لائیے اور انہیں نصیحت کیجیے اور ان سے ان کے بارے میں ایسی باتیں کیجیے جو مؤثر ہوں۔


وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا﴿۶۴﴾

۶۴۔اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو اگر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پاتے۔

64۔ اللہ نے جو بھی رسول بھیجے، اس لیے بھیجے کہ ان کی اطاعت کی جائے، اس لیے نہیں بھیجے کہ لوگ ان کے نام کو مقدس سمجھتے ہوئے تعویذ بنا کر گلے میں لٹکا لیں اور ان کے لائے ہوئے دستور پر عمل نہ کریں۔

جَآءُوۡکَ : بارگاہ رسالت میں حاضر ہونا اور رسولؐ کو اپنا وسیلہ بنانا بارگاہ الٰہی میں اثر رکھتا ہے۔ یہ عمل شرک نہیں ہے بلکہ اس آیت کی روسے اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے اور بہت سے علمائے اہل سنت کا یہ نظریہ ہے کہ قبر رسولؐ پرحاضری دینا بھی اسی حکم کے زمرے میں آتا ہے۔


فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا﴿۶۵﴾

۶۵۔ (اے رسول) تمہارے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو منصف نہ بنائیں پھر آپ کے فیصلے پر ان کے دلوں میں کوئی رنجش نہ آئے بلکہ وہ (اسے) بخوشی تسلیم کریں۔

65۔ باہمی تنازعات میں رسولؐ کو حَكَمْ کے طور پر قبول کرنا ایمانِ ظاہری ہے۔ رسولؐ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرنا ایمانِ باطنی ہے۔ حیاتِ رسول کے بعد آپ کی سنت کو حَكَمْ کے طور پر قبول کرنا ایمان کی علامت ہے۔


وَ لَوۡ اَنَّا کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِیَارِکُمۡ مَّا فَعَلُوۡہُ اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ فَعَلُوۡا مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَشَدَّ تَثۡبِیۡتًا ﴿ۙ۶۶﴾

۶۶۔اور اگر ہم ان پر اپنے آپ کو ہلاک کرنا اور اپنے گھروں کو خیرباد کہنا واجب قرار دے دیتے تو ان میں سے کم لوگ ہی اس پر عمل کرتے حالانکہ اگر یہ لوگ انہیں کی جانے والی نصیحتوں پر عمل کرتے تو یہ ان کے حق میں بہتر اور ثابت قدمی کا موجب ہوتا۔

66۔ قتل و خروج سے مراد انفرادی نہیں ہے، بلکہ اپنے آپ کو ہلاک کرنے یا اپنے ہی گھر بار چھوڑ کر نکلنے کا حکم ایک اجتماعی مسئلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہم ان پر اپنی قوم کے افراد کو قتل کرنے یا اپنے گھروں سے نکلنے کا حکم دیتے جو ان کی ذاتی خواہشات کے خلاف پرمشقت کام ہے تو یہ اس حکم کی تعمیل نہ کرتے۔ حکم صرف ان کے اپنے مفاد کے مطابق ہو تو یہ ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ جان دینے یا گھر بار چھوڑنے کا حکم ہو تو راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ جیسے بنی اسرائیل کو گوسالہ پرستی کی سزا میں حکم دیا تھا کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل کرو۔


وَّ اِذًا لَّاٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۶۷﴾

۶۷۔ اور اس صورت میں ہم انہیں اپنی طرف سے اجر عظیم عطا کرتے ۔


وَّ لَہَدَیۡنٰہُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا﴿۶۸﴾

۶۸۔اور ہم انہیں سیدھے راستے کی رہنمائی (بھی) کرتے۔


وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾

۶۹۔اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے وہ انبیاء، صدیقین، گواہوں اور صالحین کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے اور یہ لوگ کیا ہی اچھے رفیق ہیں۔


ذٰلِکَ الۡفَضۡلُ مِنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیۡمًا﴿٪۷۰﴾

۷۰۔ یہ فضل اللہ کی طرف سے (ملتا) ہے اور علم و آگاہی کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے۔

69۔70۔ امالی شیخ طوسی میں مذکور ہے کہ انصار کا ایک فرد رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہؐ میں آپؐ کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔ میں جب گھرجاتا ہوں آپؐ کو یاد کرتا ہوں اور اپنا کاروبار چھوڑ کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور محبت بھری نگاہوں سے آپ کا دیدار کرتا ہوں۔ مجھے خیال آیا کہ قیامت کے دن آپؐ تو جنت کے اعلیٰ علیین میں ہوں گے تو اس وقت میں آپؐ کی زیارت کیسے کر سکوں گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول خداؐ نے اس انصاری کو بلا کر یہ بشارت سنادی۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِیۡعًا﴿۷۱﴾

۷۱۔ اے ایمان والو! اپنے بچاؤ کا سامان اٹھا لو پھر دستہ دستہ یا سب مل کر نکل پڑو۔

71۔ یعنی بچاؤ کا سامان فراہم رکھو۔ بچاؤ کے سامان کا تعین دشمن کی طاقت سے ہوجاتا ہے۔ دشمن کے پاس جس طرح کاجنگی ساز و سامان ہو اور جس طرح کی مادی و عسکری طاقت اور تدبیر ہو مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ وہ اپنے لیے ایسا ہی سامان حرب آمادہ رکھیں۔


وَ اِنَّ مِنۡکُمۡ لَمَنۡ لَّیُبَطِّئَنَّ ۚ فَاِنۡ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ اِذۡ لَمۡ اَکُنۡ مَّعَہُمۡ شَہِیۡدًا﴿۷۲﴾

۷۲۔البتہ تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو (جہاد سے) ضرور کتراتا ہے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت آ پڑے تو کہتا ہے: اللہ نے مجھ پر (خاص) فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ حاضر نہ تھا۔

72۔ سابقہ آیت میں جن سے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے، مِنْكُمْ کا خطاب بھی انہی سے ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کا یہ کہنا: قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ اللّٰہُ نے مجھ پر کرم کیا، بھی دلیل ہے کہ یہ خطاب منافقین کے لیے نہیں ہے جیساکہ بعض حضرات کا خیال ہے۔


وَ لَئِنۡ اَصَابَکُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ لَیَقُوۡلَنَّ کَاَنۡ لَّمۡ تَکُنۡۢ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہٗ مَوَدَّۃٌ یّٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ مَعَہُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِیۡمًا﴿۷۳﴾

۷۳۔ اور اگر تم پر اللہ کی طرف سے فضل ہو جائے تو وہ اس طرح کہ گویا تم میں اور اس میں کوئی دوستی نہ تھی، ضرور کہے گا: کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو میں بھی بڑی کامیابی حاصل کرتا۔

73۔ ایسے ضعیف الایمان لوگ جنگ میں بے ثباتی اور اضطراب کا شکار رہتے ہیںکہ اگر جہاد میں شرکت کرنے والوں کو کوئی حادثہ پیش آئے تو مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور اگر مجاہدین کو فتح و نصرت حاصل ہوتی ہے تو اس طرح اظہار تأسف کرتے ہیں کہ گویا ایک اجنبی دوسرے اجنبی کے بارے میں کہتا ہے: کاش میں ان لوگوں کے ساتھ ہوتا۔ کَاَنۡ لَّمۡ تَکُنۡۢ کی عبارت میں اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لوگ ضعیف الایمان لوگ تھے۔


فَلۡیُقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یَشۡرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ مَنۡ یُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیُقۡتَلۡ اَوۡ یَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا﴿۷۴﴾

۷۴۔ اب ان لوگوں کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے جو اپنی دنیاوی زندگی کو آخرت کی زندگی کے بدلے فروخت کرتے ہیں اور جو راہ خدا میں لڑتا ہے وہ مارا جائے یا غالب آئے (دونوں صورتوں میں) ہم اسے عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

74۔ راہ خدا میں لڑنے والوں کی اس آیت میں دو صورتیں بتائی گئی ہیں کہ وہ یا تو شہید ہو جاتے ہیں یا فتح و غلبہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لیے تیسری صورت یعنی شکست و فرار قابل تصور نہیں ہے۔ اگر کوئی جہاد سے راہ فرار اختیار کرتا ہے تو یہ عمل قتال فی سبیل اللّٰہ کے منافی ہے۔ یعنی جنگ سے بھاگتا وہ ہے جو سرے سے راہ خدا میں لڑہی نہ رہا ہو۔


وَ مَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ وَ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚۙ وَّ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۷۵﴾

۷۵۔ (آخر) تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس کیے گئے مردوں عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو پکارتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے بڑے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا سرپرست بنا دے اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارے لیے مددگار بنا دے؟

75۔ خطاب مومنین سے ہے کہ ان میں سے جو لوگ راسخ الایمان ہیں، انہیں راہ خدا میں جہاد کرنا چاہیے اور جو لوگ ضعیف الایمان ہیں، انہیں اپنے عزیزوں کے بارے میں کچھ حمیت آنی چاہیے۔ کیونکہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کے عزیزوں میں سے بچوں، عورتوں اور ناتواں مردوں کی ایک خاصی تعداد اسلام قبول کر چکی تھی اور یہ سب مکہ میں رہ رہے تھے اور قریش کے ظلم و تشدد کا نشانہ بن رہے تھے۔ اسلام کی نظر میں اگر چہ قومی اور نژادی عصبیت مردود ہے، تاہم ایمان کے بعد برادری اور قومی حمیت، جو ایک فطری عمل ہے، کو بھی مد نظر رکھنا ممنوع نہیں ہے، بلکہ اس آیت میں اسی قومی حمیت اور برادری غیرت کی طرف اشارہ فرمایا ہے


اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِیَآءَ الشَّیۡطٰنِ ۚ اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا﴿٪۷۶﴾

۷۶۔ایمان لانے والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کفار طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں پس تم شیطان کے حامیوں سے لڑو (مطمئن رہو کہ) شیطان کی عیاریاں یقینا ناپائیدار ہیں۔

76۔کفر و ایمان کے تقابل کے ساتھ اللہ اور طاغوت کا بھی تقابل ہے۔ طاغوت کی راہ میں لڑنے والوں کو شیطان کے حامی قرار دینے کے بعد ایک کلیہ بیان فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے راستے میں شیطان کی عیاریاں کارفرما ہوتی ہیں، لیکن ایمان باللہ کے حقائق کے مقابلے میں یہ بے حقیقت عیاریاں کارآمد نہیں ہو سکتیں۔ شیطان کی عیاریاں ناپائیدار ہیں۔ عیاری یعنی مکر و حیلہ اور بے حقیقت عیاری ہمیشہ ناپائیدار ہوتی ہے۔ اس میںمسلمانوں کے لیے ایک ابدی درس ہے کہ عیاری بے حقیقت ہے اور بے حقیقتی ناپائیدار ہوتی ہے۔ لہٰذا مومنین کو اپنے بے حقیقت دشمن سے خوف نہیں کھانا چاہیے۔


اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ قِیۡلَ لَہُمۡ کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ۚ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَخۡشَوۡنَ النَّاسَ کَخَشۡیَۃِ اللّٰہِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡیَۃً ۚ وَ قَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ کَتَبۡتَ عَلَیۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡیَا قَلِیۡلٌ ۚ وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی ۟ وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا﴿۷۷﴾

۷۷۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا: اپنا ہاتھ روکے رکھو ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو؟ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے کچھ تو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر اور کہنے لگے: ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا ؟ ہمیں تھوڑی مہلت کیوں نہ دی؟ ان سے کہدیجئے: دنیا کا سرمایہ بہت تھوڑا ہے اور متقی (انسان) کے لیے نجات اخروی زیادہ بہتر ہے اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

77۔ ان مسلمانوں کا ذکر ہے کہ جو جہاد کا دور آنے سے پہلے جہاد کی اجازت طلب کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ ابھی نماز و زکوۃ کا دور ہے، تم اپنے دور کی ذمہ داریوں پر عمل کرو۔ جب مدینہ میں جہاد و قتال کادور آیا تو ان میں سے ایک گروہ نہ صرف جہاد سے کترانے لگا بلکہ حکم جہاد پر کھلم کھلا اعتراض کرنے لگا: لِمَ کَتَبۡتَ عَلَیۡنَا الۡقِتَالَ ۔ اے اللہ تو نے ہم پر جہاد کیوں واجب کیا؟


اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا﴿۷۸﴾

۷۸۔(تمہیں موت کا خوف ہے) تم جہاں کہیں بھی ہو خواہ تم مضبوط قلعوں میں بند رہو موت تمہیں آ لے گی اور انہیں اگر کوئی سکھ پہنچے تو کہتے ہیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی دکھ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ آپ کی وجہ سے ہے، کہدیجئے: سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، پھر انہیں کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں ہی نہیں آتی؟

78۔ جب مسلمانوں کو فتح و نصرت مل جاتی تو وہ اسے اللہ کا فضل وکرم قرار دیتے اور جب کبھی ہزیمت اٹھانا پڑتی تواس کا الزام رسول پر ڈالتے۔ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ’’ اے رسول! ان سے کہدیجیے یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے‘‘ اور اس کے وضع کردہ قانون کا لازمہ ہے یعنی یہ فتح و شکست اللہ کے وضع کردہ قانون علل و اسباب کا لازمی حصہ ہے۔


مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ ؕ وَ اَرۡسَلۡنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا﴿۷۹﴾

۷۹۔تمہیں جو سکھ پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو دکھ پہنچے وہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے اور ہم نے آپ کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور (اس پر) گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔

79۔ اس کے بعد فرمایا: سکھ اللہ کی طرف سے اور دکھ خود تمہاری طرف سے ہے۔ ظرفیت و اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے اللہ کا فیض اس تک نہیں پہنچتا۔ یہ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ کے تحت ہے اور ظرفیت اور اہلیت پیدا نہ کرنا خود بندے کی کوتاہی ہے۔ یہ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ کے تحت ہے۔


مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ وَ مَنۡ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ﴿ؕ۸۰﴾

۸۰۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے منہ پھیر لیا تو ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ۔

80۔ اطاعت، خوشدلی کے ساتھ تابعداری کرنے کو کہتے ہیں ۔ طَاعَۃٌ کے مقابلہ میں كُرْہٌ آتا ہے۔ جس کے معنی ناگواری اور کراہت کے ساتھ کسی کام کو انجام دینے کے ہیں۔ لہٰذا اطاعت وہ ہے جو کسی جبر و قہر کے بغیر رسولؐ کی محبت کی وجہ سے انجام دی جائے۔ رسولؐ سے محبت اس وقت ہو گی جب ان کے سارے فرامین کو اللہ کی طرف سے مان لیا جائے اور ان پر عمل کیا جائے تواس وقت رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔


مزید  سوره زمر
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.