سوره نساء آيات 121 – 140

0 21

سوره نساء آيات 121 – 140

اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ۫ وَ لَا یَجِدُوۡنَ عَنۡہَا مَحِیۡصًا﴿۱۲۱﴾

۱۲۱۔یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ اس سے بچ نکلنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے ۔


وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَ مَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیۡلًا﴿۱۲۲﴾

۱۲۲۔اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں عنقریب ہم انہیں ایسی جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ وہاں ابد تک ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا سچا وعدہ ہے اور بھلا اللہ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہو سکتا ہے؟


لَیۡسَ بِاَمَانِیِّکُمۡ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ ؕ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا یُّجۡزَ بِہٖ ۙ وَ لَا یَجِدۡ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا﴿۱۲۳﴾

۱۲۳۔ نہ تمہاری آرزوؤں سے (بات بنتی ہے) اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں سے، جو برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا نہ اسے کوئی کارساز میسر ہو گا اور نہ کوئی مددگار۔

123۔ اس آیت میں نہایت اہمیت کے حامل اہم نکتے کی وضاحت فرمائی ہے کہ مذہب صرف آرزوؤں کا نام نہیں ہے، جیساکہ دین کے تاجروں، جاہلوں اور دین دشمنوں کا خیال ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب کر کے فرمایا: تمام ادیان کا دار و مدار عمل پر ہے۔اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اس کی سزابھگتنا ہو گی، خواہ وہ مسلم ہو یا اہل کتاب۔


وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ نَقِیۡرًا﴿۱۲۴﴾

۱۲۴۔ اور جو نیک اعمال بجا لائے خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو(سب) جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

124۔ عمل صالح کی جزا پانے میں مرد و زن میں کوئی امتیاز نہیں ہے، البتہ ایمان شرط ہے۔ کیونکہ عمل صالح بجا لانے والا اگر مؤمن نہیں ہے تو اس کے عمل میں حسن نہیں آ سکتا، کیونکہ غیر مؤمن میں حسن فاعلی نہیں ہے۔


وَ مَنۡ اَحۡسَنُ دِیۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ اِبۡرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا﴿۱۲۵﴾

۱۲۵۔ اور دین میں اس سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے جس نے نیک کردار بن کر اپنے وجود کو اللہ کے سپرد کیا اور یکسوئی کے ساتھ ملت ابراہیمی کی اتباع کی؟ اور ابراہیم کو تو اللہ نے اپنا دوست بنایا ہے۔


وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطًا﴿۱۲۶﴾٪

۱۲۶۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب احاطہ رکھنے والا ہے۔

125۔ 126۔ سابقہ آیت میں ارشاد فرمایا: تمام ادیان کا دار و مدار عمل پر ہے، صرف آرزؤں سے بات نہیں بنتی۔ اس آیت میں فرمایا کہ عمل کے لیے دین حق کی اتباع ضروری ہے اور وہ دین حق ملت ابرہیمی کی اتباع ہے۔ یہاں ایمان و عمل اور ادیان الٰہی سے متمسک رہنے کی صورت بیان فرمائی: 1۔ انسان اپنے وجود کو اللہ کے سپرد کر دے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ یہ ایک ایسامؤقف ہے کہ جس کے بغیر کوئی نیک عمل قابل قبول نہیں ہے۔ 2۔ اس درست مؤقف پر آنے کے بعد نیک کردار بن جانا ممکن ہوتا ہے۔ 3۔ ادیان الٰہی سے متمسک رہنے کے لیے اپنے آپ کو اس سلسلے کے ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مربوط رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا ہے اور اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کسی احتیاج اور ضرورت مندی کے تحت خلیل نہیں بنایا۔ وہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے نیز ابراہیم علیہ السلام کو مقام خلت پر فائز کرنے میں کسی قسم کی دیگر قدروں کا دخل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اللہ ہر چیز پر احاطہ رکھنے والا ہے۔ بلکہ ابراہیم علیہ السلام کو الٰہی اقدار کے تحت خلیل بنایا ہے۔


وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِیۡہِنَّ ۙ وَ مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ فِیۡ یَتٰمَی النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَاتُؤۡ تُوۡنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَ تَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ۙ وَ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡیَتٰمٰی بِالۡقِسۡطِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیۡمًا﴿۱۲۷﴾

۱۲۷۔اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہدیجئے: اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور کتاب میں تمہارے لیے جو حکم بیان کیا جاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے متعلق ہے جن کا مقررہ حق تم انہیں ادا نہیں کرتے اور ان سے نکاح بھی کرنا چاہتے ہو اور ان بچوں کے متعلق ہے جو بے بس ہیں اور یہ (حکم بھی دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف کرو اور تم بھلائی کا جو کام بھی انجام دو گے تو اللہ اس سے خوب آگاہ ہے۔

127۔ جواب سے سوال کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے کہ سوال یتیم بچیوں، کمزور بچوں اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں ہے کیونکہ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو یہ کہ کر ارث نہیں دیتے تھے کہ وہ جنگوں میں شرکت نہیں کر سکتے۔ مَا کُتِبَ لَہُنَّ سے مراد ہے: جو ارث ان کے لیے مقرر ہے۔ وَ تَرۡغَبُوۡنَ سے مراد یہ ہے: تم ان لڑکیوں سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو اور ان کے جمال و مال سے لطف اندوز ہوتے ہو لیکن انہیں مہر و ارث سے محروم کرتے ہو۔ چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ جاہلیت میں خوبصورت لڑکیوں سے نکاح کرتے اور ارث و نفقہ اور مہر نہیں دیتے تھے اور اگر بدصورت ہوتیں تو نہ خود نکاح کرتے نہ کسی اور کو نکاح کرنے دیتے تھے۔


وَ اِنِ امۡرَاَۃٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِہَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یُّصۡلِحَا بَیۡنَہُمَا صُلۡحًا ؕ وَ الصُّلۡحُ خَیۡرٌ ؕ وَ اُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ؕ وَ اِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا﴿۱۲۸﴾

۱۲۸۔اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بے اعتدالی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ دونوں آپس میں بہتر طریقے سے مصالحت کر لیں اور صلح تو بہرحال بہتر ہی ہے اور ہر نفس کو بخل کے قریب کر دیا گیا ہے، لیکن اگر تم نیکی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تمہارے سارے اعمال سے یقینا خوب باخبر ہے۔

128۔ زمانہ جاہلیت میں ازدواج کی تعداد غیرمحدود تھی اور بیویوں کے لیے کوئی حقوق بھی متعین نہ تھے۔ اسلام نے اولاً تو تعداد کو محدود کر دیا اور ثانیاً یہ کہ ان کے درمیان عدل کو لازمی قرار دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر کسی شخص کی بیوی بانجھ ہے یا زن و شوہرکے تعلقات قائم رکھنے کے

قابل نہیں ہے یا دائمی مریض ہے یا دیگر عوامل کی بنا پر وہ شخص دوسری شادی کرتا ہے اور پہلی بیوی کی طرف کماحقہ مائل نہیں ہو سکتا تو اس صورت میں بیویوں میں عدل و انصاف قائم رکھنے کا حل کیا ہے؟ آیت ایسی حالت میں مصالحت کا حل پیش کرتی ہے کہ عورت اپنے حقوق میں سے کچھ مقدار سے دستبردار ہو جائے اور مرد باقی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔


وَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَ لَوۡ حَرَصۡتُمۡ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الۡمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالۡمُعَلَّقَۃِ ؕ وَ اِنۡ تُصۡلِحُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا﴿۱۲۹﴾

۱۲۹۔ اور تم بیویوں کے درمیان پورا عدل قائم نہ کر سکو گے خواہ تم کتنا ہی چاہو، لیکن ایک طرف اتنے نہ جھک جاؤ کہ (دوسری کو) معلق کی طرح چھوڑ دو اور اگر تم اصلاح کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ یقینا درگزر کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

129۔ ایک صحت مند خوبصورت نیک خصلت عورت اور ایک دائم المرض، بدشکل اور بدخصلت عورت کے درمیان قلبی رجحان کو برابر رکھنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے لیکن عملی طورپر نان و نفقہ اور راتوں کی تقسیم وغیرہ میں مساوات ممکن ہے۔ آیت میں یہی حکم ہے کہ عملاً ایک طرف اتنا نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو معلق چھوڑ دو۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سورے کی ابتداء میں فرمایا: فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً یعنی اگر عدل قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی زوجہ پر اکتفا کرو۔ اس آیت میں فرمایا: وَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ بیویوں کے درمیان عدل قائم کرنے پر قادر نہ ہو سکوگے۔ ان دو آیات کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی شادی کی اجازت ہے۔ جواب یہ ہے کہ نفقہ و زوجیت میں عد ل نہ کر سکو تو ایک پر اکتفا کرو۔ جبکہ دوسری آیت میں قلبی محبت مراد ہے کہ تم ان میں مساوات قائم نہیں رکھ سکو گے۔ چنانچہ امام جعفر صادق (ع) سے یہی جواب وارد ہوا ہے۔


وَ اِنۡ یَّتَفَرَّقَا یُغۡنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیۡمًا﴿۱۳۰﴾

۱۳۰۔اور اگر میاں بیوی دونوں نے علیحدگی اختیار کی تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت والا، حکمت والا ہے۔

130۔اگر مصالحت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے تو معلق چھوڑنے سے بہتر یہ ہے کہ اسے طلاق دے دی جائے۔ کیونکہ طلاق بھی نہ دے اور حقوق بھی نہ دے تو یہ بیچاری نہ زوجہ رہتی ہے، نہ بیوہ۔ طلاق کی صورت میں عورت آزاد ہو جاتی ہے اور اللہ اس کے لیے کوئی راہ کھول دے گا۔


وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ لَقَدۡ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَنِیًّا حَمِیۡدًا﴿۱۳۱﴾

۱۳۱۔اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کی ملکیت ہے، بتحقیق ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو نصیحت کی ہے اور تمہیں بھی یہی نصیحت ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور اگر کفر اختیار کرو گے تو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اللہ بڑا بے نیاز، قابل ستائش ہے۔


وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا﴿۱۳۲﴾

۱۳۲۔اور اللہ ہی ان سب چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور کفالت کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔


اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ اَیُّہَا النَّاسُ وَ یَاۡتِ بِاٰخَرِیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیۡرًا﴿۱۳۳﴾

۱۳۳۔ اے لوگو! اگر اللہ چاہے تو تم سب کو فنا کر کے تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور اس بات پر تو اللہ خوب قدرت رکھتا ہے۔


مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا فَعِنۡدَ اللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا﴿۱۳۴﴾٪

۱۳۴۔جو(فقط) دنیاوی مفاد کا طالب ہے پس اللہ کے پاس دنیا و آخرت دونوں کا ثواب موجود ہے اور اللہ خوب سننے والا،دیکھنے والا ہے۔

134۔ان لوگوں کے عقل و شعور کو بیدار کیا جا رہا ہے جو صرف طالب دنیا ہیں۔ تقویٰ اختیار کرنے اور بارگاہ الٰہی میں حاضر رہنے سے دنیا اور آخرت دونوں کی سعادتیں مل سکتی ہیں۔ لیکن یہ لوگ آخرت کی ابدی سعادت کو چھوڑ کر چند دنوں کی دنیاوی زندگی کے عیش و نوش میں بدمست ہیں۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ۚ اِنۡ یَّکُنۡ غَنِیًّا اَوۡ فَقِیۡرًا فَاللّٰہُ اَوۡلٰی بِہِمَا ۟ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡہَوٰۤی اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ۚ وَ اِنۡ تَلۡوٗۤا اَوۡ تُعۡرِضُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا﴿۱۳۵﴾

۱۳۵۔ اے ایمان والو! انصاف کے سچے داعی بن جاؤ اور اللہ کے لیے گواہ بنو اگرچہ تمہاری ذات یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اگر کوئی امیر یا فقیر ہے تو اللہ ان کا بہتر خیرخواہ ہے، لہٰذا تم خواہش نفس کی وجہ سے عدل نہ چھوڑو اور اگر تم نے کج بیانی سے کام لیا یا(گواہی دینے سے) پہلوتہی کی تو جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے یقینا خوب باخبر ہے۔

135۔ عدل کا انفرادی حکم مختلف آیات میں آیا ہے لیکن اس آیت میں عدل اجتماعی کا حکم ہے کہ عدل و انصاف کے قوام یعنی سچے داعی بن جائیں۔ مومن کا فریضہ فقط یہ نہیں کہ خود عدل و انصاف کرے اور معاشرے میں موجود ظلم و زیادتی سے لاتعلق ہو جائے، بلکہ مؤمنین کی ذمے داری ہے کہ معاشرے میں بھی عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے: العدل سائس عام۔ (روضۃ الواعظین 2:416) عدل ایک جامع نظام ہے۔ عدل اجتماعی کی اہمیت کے بارے میں منقول ہے: وَاِنَّ قُرَّۃِ عَیْنِ الْوُلَاۃِ اسْتِقَامَۃُ الْعَدْلِ فِی الْبِلَادِ ۔ (مستدرک الوسائل 13:164) یعنی حکمرانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ملک میں عدل و انصاف کا استحکام ہے۔

آیہ شریفہ میں یہ نکات قابل توجہ ہیں: ٭ عدل و انصاف کا نظام قائم کرو۔٭گواہی اللہ ہی کے لیے دیا کرو۔ ٭اپنی ذات یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہوتو بھی سچی گواہی دو۔٭ دولتمندی اور فقیری کا لحاظ نہ کرو ۔کیونکہ عدل و انصاف امیر و غریب دونوں کے مفاد میں ہے۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا﴿۱۳۶﴾

۱۳۶۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے، سچا ایمان لے آؤ اور اس کتاب پر بھی جو اس نے اس سے پہلے نازل کی ہے اور جس نے اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا وہ گمراہی میں بہت دور چلا گیا۔

136۔ ایمان والوں سے ایمان کا مطالبہ: اس کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں: ٭ اجمالی ایمان لانے والوں کو تفصیلی اور تحقیقی ایمان لانے کا حکم ہے یعنی ان کا ایمان ہنوز سطحی اور اجمالی ہے۔ ٭ جو اپنے ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرتے ان سے خطاب ہے کہ اپنے اعمال و سیرت کو اپنے ایمان سے ہم آہنگ کرو۔ کردار و عمل ہی ایمان کی سچی دلیل ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ سَبِیۡلًا﴿۱۳۷﴾ؕ

۱۳۷۔ جو لوگ ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہو گئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے،اللہ انہیں نہ تو معاف کرے گا اور نہ ہی انہیں ہدایت کا راستہ دکھائے گا۔

137۔ سابقہ آیت سے اس آیت کا ربط اس طرح بنتا ہے: ایمان والو! نئے سرے سے پختہ اور سچا ایمان لے آؤ، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو گا تو یہ ابن الوقتی اور مفاد کا ایمان کفر میں بدل سکتا ہے اور اگر ایمان کفر میں بدل گیا اور ایمان کے بعد کفر اختیار کر لیا اور دین و ایمان کو کھلونا بنا دیا تو اس ایمان و کفر کے گومگو کا انجام کار کفر پر استقرار ہو گا: ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا ۔ اس صورت میں اللہ کی طرف واپسی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ظاہر ہے کہ اللہ اسے نہیں بخشتا اور نہ اس کی رہنمائی کرتا ہے، جو اس کی طرف آتا ہی نہیں۔


بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا﴿۱۳۸﴾ۙ

۱۳۸۔ (اے رسول) منافقوں کو دردناک عذاب کا مژدہ سنا دو۔


الَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَیَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الۡعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا﴿۱۳۹﴾ؕ

۱۳۹۔ جو ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا حامی بناتے ہیں، کیا یہ لوگ ان سے عزت کی توقع رکھتے ہیں؟ بے شک ساری عزت تو خدا کی ہے۔

139۔ اس آیہ شریفہ میں منافقین کی ایک اہم علامت بیان کی گئی ہے، وہ یہ کہ منافقین اپنا قلبی لگاؤ مؤمنین کی بجائے کفار سے رکھتے ہیں۔ ایسا وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے وہم و خیال کے مطابق عزت و تمکنت کفار کے ساتھ دوستی رکھنے کی صورت میں مل سکتی ہے ۔

مفہوم عزت: عزت ایک ناقابل تسخیرحالت کو کہتے ہیں۔ صاحب عزت مغلوب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور کائنات میں خدا ہی کی ذات مغلوب ہونے سے محفوظ ہے یا وہ جسے وہ مغلوب ہونے سے تحفظ دے۔


وَ قَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَ یُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡکٰفِرِیۡنَ فِیۡ جَہَنَّمَ جَمِیۡعَۨا﴿۱۴۰﴾ۙ

۱۴۰۔اور بتحقیق اللہ نے(پہلے) اس کتاب میں تم پر یہ حکم نازل فرمایا کہ جہاں کہیں تم سن رہے ہو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھا کرو جب تک وہ کسی دوسری گفتگو میں نہ لگ جائیں ورنہ تم بھی انہی کی طرح کے ہو جاؤ گے، بے شک اللہ تمام منافقین اور کافرین کو جہنم میں یکجا کرنے والا ہے۔

140۔ اگر کسی محفل میں کسی کے دین و عقیدے کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اور اس میں اپنے مذہب کے بارے میں حمیت و غیرت نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی ہے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔ مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے یہود اسلام کا مذاق اڑاتے تھے اور مکہ کے ضعیف الایمان اور مدینہ کے منافقین ایسی محفلوں میں بیٹھ کر ایسی باتوں کا سننا گوارا کرتے تھے۔ ہمارے زمانے میں ہر زمانے کی طرح یہ اصطلاح بدل گئی ہے، چنانچہ اگر کسی کے دل میں اپنے دین و مذہب کے بارے میں غیرت و حمیت نہیں ہے اور وہ ایسی محفلوں میں بیٹھ کر اپنے دین و مذہب کا مذاق اڑانا سن سکتا ہے تو اسے ’’ روشن خیال ‘‘ کہتے ہیں اور مذہبی غیرت و حمیت رکھنے والوں کو ’’ بنیاد پرست‘‘ کہتے ہیں ۔


مزید  سوره حجرات
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.