تفسیرالمیزان میں ”تاویل“؟

تاویل کامادہ

آل یؤول اولا ای رجع رجوعا ہے اورمعنی لوٹناہے پس تاویل جو مزیدفیہ ہے اس کامعنی ارجاع یعنی لوٹاناہے۔ البتہ ارجاع ہرچیزکے لئے لوٹانے کوکہتے ہیں اورتاویل فقط مفاہیم کسے لئے استعمال ہوتاہے۔
تاویل بعض اوقات گفتاریاگفتگوکے لئے بھی استعمال ہوتاہے جیسے آیات متشابہ کی تاویل،ومایعلم تاویله الاالله والراسخون فی العلم“ (آل عمران ۷)۔
ترجمہ : اس (قرآن) کی تاویل فقط اللہ اورراسخون فی العلم ہی جانتے ہیں۔
بعض اوقات کردارکے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے حضرت موسی کوحضرت خضر کا کہنا”سانبئک بتاویل مالم تستطع علیه صبرا“ (کہف ۷۸)
ترجمہ: میں عنقریب تمہیں ان تمام کاموں کی تاویل بتادوں گاجن پرتم صبرنہیں کرسکے۔

 
تاویل کامعنی :

تاویل چارمواردمیں استعمال ہواہے ان میں سے تین موردقرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں اورچوتھاموردبزرگوں کے کلام میں آیاہے۔

 
الف : متشابہ کی توحید :

یوں ہے کہ ظاہرمبہم اورشبہ پیداکرنے والاہواس کاحق وحقیقت والاپہلوباطل کی طرح جلوہ نماہو۔ گویاحق وباطل کاایک دوسرے پرشبہ ہواورحیرانگی کاباعث بنے راغب اصفہانی کہتے ہیں: ”المتشابه ماتشابه بغیره“۔
متشابہ وہ ہے جودوسری چیزسے شباہت پیداکرے۔
دوسری چیزسے مردوہی باطل ہے کہ اس کاحقیقی چہرہ باطل کی صورت میں آگیا ہو۔پس دیکھنے والاحیرت وسرگردانی میں ہے وہ ونہیں جانتاکہ جودیکھ رہاہے حق ہے یا باطل؟ ایک طرف تویہ کلام صاحب حکمت سے صادرہواہے پس حق ہوناچاہئے لیکن دوسری طرف اس کاظاہرشبہ ناک اورباطل کے مشابہ ہے۔ پس متشابہ (گفتارہویاکردار) کی صحیح تاویل یہ ہے کہ اس سے ابہام کاہالہ دورکیاجائے اوراس کے شبہ کے موارد کو دور کیاجائے۔ یعنی لفظ اورعمل کاچہرہ جس طرف حق ہواسی طرف لوٹانااوردیکھنے یاسننے والے کی نظرکوبھی اسی طرف متوجہ کرنااس طرح اس کو حیرت وسرگردانی سے نکالناہے البتہ یہ کام صالح علماء کے ہاتھوں انجام پاتاہے۔
پس اہل زیغ(جن کے دلوں میں کجی وانحراف ہے) متشابہات کے پیچھے ہیں تاکہ غیرواضح صورت حال سے سوء استفادہ کریں اوران کی تاویل اپنے ذاتی منافع اورمفادات کے لئے کریں۔ یہی تاویل غیرصحیح اورباطل ہے جوغیرصالح افرادانجام دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے تاویل اورتفسیرکے معانی میں فرق ہے۔ تفسیرفقط ابہام کادوکرناہے لیکن تاویل ابہام کودورکرنے کے ساتھ ساتھ شبہ کودورکرنابھی ہے پس تاویل ایک اعتبارسے تفسیربھی ہے۔

 
ب : تعبیرخواب :

سورہ یوسف میں تاویل آٹھ مرتبہ اس معنی میں استعمال ہواہے۔ معنی ومراد یہ ہے کہ خواب میں میں رمزورازکی صورت میں بعض مطالب پیش کئے جاتے ہین تاکہ اس کی صحیح تعبیرسے حقیقت مرادکوکشف کیاجائے۔
حضرت یعقوب حضرت یوسف کے بارے میں کہتے ہیں :
وکذلک یجتبیک ربک ویعلمک من تاویل الاحادیث ویتم نعمته علیک۔یوسف ۶۔
ترجمہ :اسی طرح اللہ تعالی تمہاراانتخاب فرمائے گا اورتمہیں باتوں کی تاویل (حقائق کوآشکار کرنے) کی تعلیم دے گااوراپنی نعمت کوتم پرتمام کرے گایہ ان مطالب کی طرف اشارہ ہے جوخواب میں جلوہ گرہوتے ہیں تاکہ ان میں موجودپوشیدہ حقائق کوان کی طرف لوٹایاجائے جب کہ ان حقائق کوحضرت یوسف جیسی شخصیات جانتی ہیں۔ پس عزیزمصرنے خواب میں دیکھاکہ سات دبلی گایوں کوسات موٹی گائیں کھارہی ہیں اورسات ہری بالیوں کے ساتھ، سات خشک بالیوں کامشاہدہ کیا تو اس نے اپنے اطرافیوں سے اس کی تعبیرکے بارے میں پوچھاتوانہوں نے جواب دیا :
یاایهاالملاء افتونی فی رؤیای ان کنتم للرؤیاتعبرون
ائے بزرگان قوم مجھے میرے خواب کی تعبیربتاؤاگرتم خوب کی تعبیرجانتے ہو۔ تو نجات یافتہ قیدیوں میں سے ایک نے کہا :
اناانبئکم بتاویله فارسلون یوسف ایهاالصدیق افتنافی سبع بقرات…
ترجمہ : میں تمہیں اس کی تعبیرسے آگاہ کرتاہوں مگرمجھے بھیج دو۔یوسف اے سچے انسان ہمیں ان سات گایوں کے بارے بتاؤ…
یوسف نے جواب دیایہ غلے کی فراوانی اورپھرخشک سالی کے سالوں کی طرف اشارہ ہے۔

 
ج : انجام کار :

وزنوابالقسطاس المستقیم ذلک خیرواحسن تاویلا۔ بنی اسرائیل ۳۵۔
اورجب ناپو تو پورا نہ پو اورجب تولو تو صحیح ترازو سے تولو(کیونکہ) یہی بہتر اور بہترین انجام کارہے۔
سورہ اعراف ۵۳ میں ارشادہے :
کیایہ لوگ صرف انجام کارکاانتظارکررہے ہیں توجس دن انجام سامنے آجائے گا تو جو لوگ پہلے اسے بھولے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کے بے شک ہمارے پروردگارکے رسول صحیح ہی پیغام لائے تھے۔
سورہ نساء ۵۹میں ارشادباری تعالی ہے :
ایے ایمان والواللہ کی اطاعت کرو اوررسول اورصاحبان امرکی اطاعت کروپس اگر کسی امرمیں تمہارے مابین اختلاف ہوجائے تواسے اللہ اوررسول کی طرف پلٹادواگرتم اللہ اوریوم آخرت پرایمان رکھتے ہوتمہارے لئے یہی بہتراوربہترین انجام کارہے۔

 
د : کلی مفاہیم اخذکرنا :

شایدبزرگان دین کے کلام میں اہم ترین معنی یہی ہے یہ معنی تنزیل کے مقابل ہے یہ واضح رہے کہ قرآن حکیم رائج کتابوں کی طرح منظم ومنسجم نہیں ہے بلکہ مختلف واقعات وحوادث کی مناسبت سے نازل ہواان واقعات کوسبب نزول یاشان نزول کہتے ہیں۔
یہ امرموجب بنتاہے کہ ہرآیہ مجیدہ کاصرف ایک خاص معنی ومفہوم ہو۔ اگر ایسا ہو تو یقینا قرآن حکیم سے وقتی طورپراستفادہ ہوسکتاہے۔ جب کہ ایسانہیں ہے۔ قرآن حکیم ایک زندہ وجاویدکتاب ہے جوسب زمانوں کے انسانوں کی رہبری،ہدایت اورراہنمائی کے لئے نازل ہوئی ہے پس مواردنزول، آیات کے معانی ومفاہیم کی تخصیص کاباعث نہیں بنتے بلکہ انہی سے کلی مفاہیم قرآن کریم کوزندہ وجاویدرکھتے ہیں جن کوتاریخ بشریت کے مشابہ واقعات سے مطابقت دی جاسکتی ہے ا سکی وجہ یہ ہے کہ ”العبرة بعموم اللفظ لابخصوص المورد“ عبرت لفظ کی عمومت سے ہوتی ہے نہ کہ موردکی خصوصیت سے ۔ اسی لئے آیہ مجیدہ کے ظاہری پہلوؤں کی تنزیل کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی تمام آیات اس اعتبارسے قابل ”تاویل“ ہیں جب کہ ا س سے قبل تاویل کامعنی متشابہ آیات کی توجیہ کرنابیان ہواہے۔
یہی کلی مفاہیم جوآیت کے پیام کوزندہ ودجاویدبنادیتاہے ان کوبطن بھی کہا جاتا ہے۔
اس کوباطن اس لئے کہاجاتاہے کیونکہ عام اورپنہاں معنی ظاہری لفظ کے پس پردہ ہوتاہے۔
اسکے مقابل ”ظہر“ہے جس کامعنی وہی ظاہری کلام ہے جو موجود قرائن پر انحصار کرتا ہے اس طرح اس کوخاص موردسے مخصوص کردیتاہے۔
”ظھروبطن“کوروزاول سے آنحضرت نے تنزیل وتاویل کے مترادف کے طور پر ارشاد فرمایا :ما فی القرآن آیة الاولها ظهوروبطن
ترجمہ : قرآن میں ہرایک آیت کاایک ظاہراورایک باطن ہے۔
فضیل بن یسارامام ابوجعفرباقرعلیہ السلام سے اس حدیث نبوی کے بارے میں سوال کرتے ہں کہ ظاہروباطن سے کیامراد ہے؟ توحضرت ارشادفرماتے ہیں :
ظهرتنزیله وبطنه تاویله منه ماقدمضی ومنہ مالم یکن یجری کماتجری الشمس والقمر[1]
ترجمہ : اس کاظاہر (وہی) تنزیل ہے اوراس کاباطن ا س کی تاویل ہے۔ اس میں سے کچھ تووہ ہے جو گزرگیا اور کچھ وہ ہے جونہ تھااورجاری ہوجاتاہے جیسے شمس و قمرحرکت میں ہیں۔
یہاں سب سے اہم معانی پہلااورآخری معنی ہے جوبزرگان اسلام کے کلام میں نظر آتے ہیں ان کے لئے تفسیرکی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔
۱۔ تاویل کامعنی متشابہ کی توجییہ کرناخصوصامتشابہ آیات کی۔
۲۔ تاویل بمعنی باطن جب کہ آیت کاپیغام عمومی ہے اوریہ چیزسارے قرآن کریم میں جاری وساری ہے۔

 
عینیت تاویل کانظریہ :

تاویل کے گزشتہ معانی مشہورعلمائے اسلام کانظریہ ہے کہ جس کوسب سے پہلے ابن تیمیہ نے پیش کیااوراسی کوعلامہ طباطبائی نے انتہائی گہرائی وگیرائی اور بہت صاف وشفاف اندازسے بیان فرمایاہے گویاحق مطلب اداکیاہے۔
ابن تیمیہ کاکہناہے کہ ”تاویل تفسیرکے مقابل ایک اصطلاح ہے جومتاخرین میں رائج ہے اس سے باطنی مرادلیتے ہیں جوظاہری معانی کے مقابل ہیں جب کہ ظاہری معانی کو تفسیرکہتے ہیں۔
ایک اورمقام پرابن تیمیہ کے بقول گزشتہ علماء کی اصطلاح میں تاویل کے دومعانی ہیں۔
۱۔ کلام کامعنی اورتفسیربیان کرنا۔ طبری کی عبارت یوں ہے ”الکلام فی تاویل هذه الآیة۔ اس آیت کی تاویل میں کلام یہ ہے کہ یااختلاف اهل التاویل فی هذه الآیة ۔ اس آیت کے معنی میں اہل تاویل نے اختلاف کیاہے یہاں تاویل سے مرادآیت کی تفسیر ہے۔
۲۔ جان کلام اورحقیقت مراد۔ یعنی اگرکلام میں ”طلب“ پائی جاتی ہو تواسکی تاویل درحقیقت ”مطلوب“ ہے اور اگر خبر موجود ہو تو اس کی تاویل درحقیقت وہ چیزہے جس سے خبردی گئی ہے تاویل اس اعتبارسے ایک تیسرا معنی اورگزشتہ دومعانی سے بہت مختلف ہے کیونکہ ان دومعانی میں تاویل، علم اورکلام(گفتگو) کی طرح ہے ک جس طرح تفسیر یا شروح وتوضیح ہے اس میں تاویل قلب وزبان کی طرح ہے جوذہنی وکتبی وجودرکھتی ہے لیکن تاویل کا تیسرا معنی صرف وجود خارجی رکھتاہے گزشتہ یاآیندہ ۔اگر کہا جائے ”طلعت الشمس“ تواس کی تاویل وہی طلوع آفتاب ہے جو خارج میں متحقق ہے۔ یہ تیسرامعنی وہی لغت قرآن ہے جس پرنازل ہواہے۔

 
علامہ طباطبائی کانظریہ :

علامہ طباطبائی ابن تیمیہ کے نظریہ کی بعض جوانب کوقابل اعتراض قراردیتے ہیں البتہ اصل نظرئیے کوقبول کرتے ہیں۔ ابن تیمیہ کے کلام کوپیش کرنے کے بعدفرماتے ہیں :
لکنه اخطاء فی عدکل امرخارجی مرتبط بمضمون الکلام،حتی مصادیق الاخبارالحاکیةعن الحوادث الماضیة والمستقبله تاویلاللکلام۔[2]
ترجمہ : لیکن ابن تیمیہ نے مضمون کلام سے مربوط ہرامرخارجی (حتی ماضی و مستقبل کے حوادث کی حکایت کرنے والی خبروں کے مصادیق) کوبھی کلام کی تاویل قراردیتے ہوئے خطاکی ہے۔
الحق فی التفسیرالتاویل انه الحقیقة الواقعیة التی…قال تعالی والکتاب المبین اناجعلناه قرآناعربیالعلکم تعقلون وانه فی ام الکتاب لدینالعلی حکیم۔[3]
ترجمہ : تاویل کی تشریح و تفسیرمیں حق مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر قرآنی حکم، موعظہ اورحکمت دلالت کرتے ہیں اوریہ قرآن حکیم کی تمام محکم ومتشابہ آیات میں موجودہے۔ یہ ان مفاہیم کی طرح نہیں ہے جن پرالفاظ دلالت کرتے ہیں بلکہ اس کاتعلق ان عینی ومتعالی امور(عظیم خارجی امور)سے ہے جودائرة الفاظ سے باہرہیں۔ ان امور کو اللہ سبحانہ نے الفاظ کے ساتھ اس لئے مقید فرمایا ہے تاکہ ہمارے اذہان کے قریب ہوجائیں۔ پس یہ الفاظ مثالوں کیطرح ہیں جن کو مقاصد و اہداف سے قریب ترہونے کے لئے پیش کیاجاتاہے اوران کی تشریح سامع یا مخاطب کے فہم وادارک کے مطابق کی جاتی ہے ارشادباری تعالی ہے ”اورکتاب مبین۔ہم نے قرآن کوعربی میں قراردیاتاکہ تم تعقل سے کام لو۔اوربے شک یہ ہمارے پاس لوح محفوظ (ام الکتاب) میں نہایت بلنددرجہ اورپرازاحکمت ہے۔
علامہ طباطبائی ایک اورمقام پرارشادفرماتے ہیں آیت کی تاویل سے مرادوہ مفہوم مرادنہیں ہے جس پرآیت دلالت کرتی ہے مساوی ہے کہ یہ مفہوم ظاہرآیت کے مخالف ہویاموافق۔ بلکہ تاویل امورخارجیہ میں سے ہے البتہ امرخارجی نہیں تاکہ خبرکاخارجی مصداق اس کی تاویل قرارپائے بلکہ یہ ایک خاص امرخارجی ہے۔ کلام سے [4]اس کی نسبت ایسے ہے جیسے ممثل کی نسبت مثال سے اورباطن کی ظاہر سے ایک اورجگہ فرماتے ہیں ”وتاویل القرآن هوالماخذالذی یاخذمنه معارفة“۔[5]
قرآن کی تاویل وہ ماخذہے جس سے قرآنی معارف کواخذکیاجاتاہے۔
ان عبارتوں میں تین تعبیرات استعمال ہوئی ہیں۔
الف حقیقت
ب واقعیت
ج عینیت۔
پس علامہ کی نظرمیں تاویل عالم ذہن سے ایک جداحقیقت ہے کیونکہ اذہان میں مفاہیم سے بڑھ کے کچھ نہیں ہوتابس مفاہیم کسی چیزکاسرچشہ قرارنہیں پاسکتے کیونکہ مفاہیم توخودحقائق واقعیہ سے نکلتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ تاویل چونکہ قرآن کاباطن ہے اورباطن ظاہری کامنبع ہے جب کہ ظاہر جوکچھ ہوتاہے وہ پوشیدہ حقائق کاایک پرتوہے۔ پس قرآن کی حقیقت اس کے باطن اور تاویل سے تشکیل پاتی ہے اس طرح کہ الفاظ وعبارات کے ظواہرکاسرچشمہ یہی ہیں اس کی مثال وجودانسانی میں روح کی سی ہے۔
قابل ذکرنکتہ یہ ہے کہ مذکورہ تینوں تعبیرات میں ایک قیداحترازی موجودہے گویاواقعیت کہنے سے توہمات اوراوہام کی نفی کی ہے۔
حقیقت جوکہاہے تواس لئے کہ کہیں اموراعتباریہ محض کاگمان نہ ہو اورعینیت کہنے سے ذہنیت (امورذہنی) کی نفی کی ہے تاکہ یہ گمان نہ ہوا س کاتعلق مفاہیم سے ہے اوراس کامقام ذہن ہے البتہ عینیت سے مرادعینیت مصداقی نہیں ہے جیساکہ ابن تیمیہ کے کلام میں ہے بلکہ فقط خارج از ذہن ہونا مقصود ہے۔ اسی اعتبارسے سورہ نساء کی آیت۵۹کی تفسیرمیں فرماتے ہیں، التاویل هوالمصلحة الواقعیة التی ینشاء منهاالحکم ثم لتترتب علی العمل۔[6]
تاویل وہ مصلحت واقعیہ ہے جس سے حم نشات پکڑتاہے پھریہ مصلحت عمل پرمترتب ہوتی ہے۔
پس علامہ کی نظرمیں تاویل ایسی واقعیت ہے جوحقیقت عینی رکھتی ہے اور حقیقت سے مرادیہ ہے کہ امرذہنی نہیں ہے تاکہ اس کومعانی ومفاہیم میں سے شمارکیاجائے بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جوتمام قرانی احکام،تکالیف،آداب اورموعظہ کا سرچشمہ ہے قرآنی تعلیمات اورحکمتیں اس سے پھوٹتی ہیں۔
علامہ نے مندرجہ ذیل تین مواردکابیان فرمائے ہیں:
۱۔ تاویل القرآن هوالماخذالذی یاخذمنه معارفه[7]
۲۔ نسبة الممثل الی المثل[8]
۳۔ والباطن الی الظاهر[9]
یہاں ہم ان تین نکات کاتفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ تاویل القرآن هوالماخذالذی یاخذمنه معارفه۔
اس سلسلے میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں:جوکوئی بھی قران حکیم کی آیات میں تدبرکرے تو ناچاراس نتیجہ پرپہنچے گاکہ قرآن جوپیغمبراسلام (ص)پرتدریجا نازل ہوا اس کا اسی حقیقت پرانحصارہے ایسی حقیقت جو عمومی اذہان کے ادراک سے ماوراء ہے۔ نفسانی خواہشات اورکثافتوں سے آلودہ ہاتھ اس کودرک یالمس نہیں کر سکتے ”لایمسہ الاالمطہرون۔ قرآن کا مقصود نہائی اور مطلوب غائی جوکچھ بھی تھا سب کاسب شب قدراللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کوسکھادیااوراس حقیقت کوایک ہی مقام پریکجانازل فرمایا۔[10]
مزیدفرماتے ہیں : تاویل ایک ایسی خارجی حقیقت ہے جوموجب بنتی ہے تاکہ کوئی حکم وضع ہو،کوئی معرفت بیان ہو یا کوئی واقعہ بیان کیاجائے۔ یہ حقیقت ایسی چیز نہیں ہے جس پرقرآنی ظواہرصراحتادلالت کریں البتہ یہ ظواہراسی حقیقت سے ماخوذ ہیں اوریہ بھی کہ اس کاایک اثرہیں اس طرح کہ اس حقیقت کی حکایت یااس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔[11]
اس مطلب کی مزیدتشریح فرماتے ہیں :
جوکوئی ”اسقنی“[12]کاحکم دیتاہے یہ حکم اس کی اس فطرت سے ہے جوطالب کمال ہے۔ یہ خارجی حقیقت (طلب کمال کی فطرت) تقاضاکرتی ہے کہ انسان اپنے وجودکی حفاظت اوراپنی بقاء کی کوشش کرے۔
اسی طرح اس کے بدن سے اگرکوئی چیزتحلیل یاضائع ہوگئی ہوتوا سکا تدارک کرے۔
مناسب خوراک طلب کرے،پیاس بجھانے کاتقاضاکرے نتیجہ پانی پینے کاحکم صادرکرے۔
فتاول قوله اسقنی هوماعلیه الطبیعة الخارجیة الانسانیة من القضاء الکمال فی وجوده وبقائه۔[13]
پس تاویل اورپانی کی فراہمی کے حکم میں بازگشت انسانی طلب کمال کی فطرت ہے یہ حکم اس حقیقت کی حکایت کررہاہے اوراس واقعیت کی طرف اشارہ ہے اس کی مزیدتوضیح سورہ کہف کی آیت۸۲ مالم تستطع علیہ صبرا کی تفسیرمیں فرماتے ہیں :
قرآنی عرف میں کسی چیزکی تاویل ایک ایسی حقیقت ہے جس پراس شئی کی بنیاد و اساس ہوتی ہے اوراسی کی طرف وہ بولتی ہے جیسے خواب کی تاویل اس کی تعبیرہے،حکم کی تاویل اس کامعیاروکسوٹی ہے،فعل کی تاویل اس کی مصلحت وحقیقی غایت ہے،واقعہ کی تاویل اس کی حقیقی علت وسبب ہے اوراسی طرح۔[14]
حکم(وضعی اورتکلیفی شرعی احکام) کی تاویل اس حکم کی تشریع (قانون سازی) کامعیارہے کیونکہ شرعی احکام حقیقی معیارات اورمصلحتوں کے تابع ہیں یہی معیارات یامصلحتیں اس حکم کی تشریح کاموجب بنتے ہیں۔
ہرفعل (انجام شدہ یانجام پانے والا) کی تاویل اسی فعل کی مصلحت وغایت ہے کیونکہ عاقل کوی فعل بھی انجام نہیں دیتامگریہ کہ اس میں کوئی مصلحت پائی جاتی ہواورکسی ہدف کے حصول کے خاطرہو۔
پس ہرچیزکی تاویل اس کے اپنے دائرہ وجودمیں اس کی بنیادواساس ہے جواس کے ہدف وغایت کوتشکیل دیتی ہے۔
تاویل کالفظ قرآن کریم میں سترہ بار،پندرہ آیات اورسات سورتوں میں استعمال ہوہے۔[15]
ان کے بارے میں فرماتے ہیں”لم یستعمل القرآن لفظ التاویل فی الموارد التی استعمل الافی هذالامعنی۔[16]
ترجمہ : قرآن کریم نے جن مواردمیں بھی لفظ تاویل استعمال کیاہے فقط اسی معنی میں استعمال کیاہے۔ اس مقصدکے لئے ہم بعض آیات کی تشریح کررہے ہیں۔
۱۔ اعراف ۵۲،۵۳،ولقدجئناهم بکتاب …هل ینظرون الاتاویله یوم یاتی تاویله…
ان آیات کی تفسیرمیں علامہ طباطبائی بیان فرماتے ہیں یوم یاتی تاویلہ۔ کی ضمیر پوری کتاب کی طرح لوٹتی ہے کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں تاویل وہی حقیقت ہے جس پرقرآن کاانحصارہے… ھل ینظرون الاتاویلہ ۔ کامعنی یہ ہے کہ کس کاانتظارکررہے ہیں سوائے اس حقیقت کے کہ جوقرآن کریم کامحرک اوربنیادہے اوراب خوداپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔[17]
۲۔ یونس ۳۹۔بل کذبوابمالم یحیطوابعلمه ولمایاتهم تاویله۔
انہوں نے ایسی چیزکی تکذیب کی کہ جس کوجان نہ سکے تھے۔پس ان کی نادانی وجہالت ان کے جھٹلا نے کاسبب بنی یعنی اس کی تاویل جاننے سے قبل انہوں نے ا س کوجھٹلادیا۔قیامت کے دن کی حقیقت آشکارہوجائے گی اوراس کامجبورمشاہدہ کریں گے۔ اس دن جس دن پردے ہٹ جائیں گے اورتمام کے تمام حقائق برملاہوجائیں گے
البتہ این آیات میں مشاہدہ سے مرادلمس حقیقی ہے جس کاپہلے سے انکار کر چکے تھے خودعلامہ فرماتے ہیں۔ وبالجملة مایظهرحقیقته یوم القیامة من انباء النبوة واخبارها۔[18]
انبیاء علیھم الاسلام کی دعوت و اخبارمیں جوکچھ بیان ہواہے قیامت کے دن اس کی ساری حقیقت ظاہرہوجائے گی۔
البتہ اس دنیامیں حقائق کا آشکارہوتا اورعالم آخرت میں حقائق کاہویدا ہونا ان دونوں میں فرق ہے اس بارے میں فرماتے ہیں”اس دن پردوں کاآنکھوں سے اٹھنااوراس وقت آنکھوں کابہت روشن ہونااس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن انبیاء(ع) اورالہی شریعتوں کے بتائے ہوئے معاملات کادیکھناحسی مشاہدہ سے ہٹ کے ہے جس کے ہم لوگ عادی ہوچکے ۔اسی طرح خبروں کاانجام پانااورمحقق ہونااوراس دن کاحاکم نظام سب کچھ اس چیزکے علاوہ ہے جس سے ہم اس دنیامیں آشناہیں۔
بنی اسرائیل ۳۵،واوفواالکیل اذاکلتم وزنوابالقسطاس المستقیم ذلک خیر و احسن تاویلا۔
اس آیت کی تفسیرکے بارے میں فرماتے ہیں”آیت کاظاہریہ ہے کہ تاویل ایک خارجی امراورعینی اثرہے جوخارجی فعل پرمترتب ہوتاہے کیونکہ تاویل ایک خارجی امرہے جو ایک دوسرے امرخارجی کے لئے منبع ومرجع بنتاہے۔
پس اس آیت کی اس تفسیرکوقبول نہیں فرماتے۔ کیل کا پورا کرنے اور وزن قائم کرنے کی تاویل وہی مصلحت ہے جوان دوپرمترتب ہوتی ہے اوروہ مصلحت معاشرتی امور کا قیام واستحکام ہے۔
اس کے قبول نہ کرنے کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ امورعینی نہیں ہیں۔[19]
تاہم اس آیة مجیدہ کے ذیل میں اس نظرئیے کوقبول کرتے ہیں۔[20]
کہف ۸۷۔ سانبئک تباویل مالم تستطع علیه صبرا۔
اس آیت کی تفسیرمیں فرماتے ہیں: اس آیة مجیدہ میں تاویل سے مرادوہ صورت نہیں جوحضرت موسی نے انجام شدہ امورمیں دیکھی۔
کشتی میں سوراخ کے واقعہ میں اس کے سوارافرادکے ڈوب جانے کی بری تصویر حضرت موسی نے تصورکی لیکن آپ کے راہنمانے ایک دوسرارخ پیش کیااورکہا: یہ کشتی چندمساکین کی تھی جوسمندرمیں باربرداری کاکام کرتے تھے میں نے چاہاکہ اس کوعیب داربنادوں کہ ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا جوہر کشتی کوغصب کرلیاکرتاتھا۔
بچے کے قتل کے واقعہ میں حضرت موسی نے جومحسوس کیاوہ یہ تھا: موسی نے کہا کیا آپ نے ایک پاکیزہ نفس کوبغیرکسی نفس کے قتل کردیاہے یہ بڑی عجیب سی بات ہے (کہف۷۴)۔
لیکن حضرت موسی کے راہنمانے اس واقعہ کی ایک اورصورت پیش کی۔
اور یہ بچہ اس کے ماں باپ مومن تھے اورمجھے خوف معلوم ہواکہ یہ بڑا ہو کر سرکشی اور کفر کی بنا پر ان پر سختیاں کرے گا۔ تومیں نے چاہاکہ ان کاپروردگار انہیں اس کے بدلے ایسا فرزند دیدے جو پاکیزگی میں اس سے بہترہو اور صلہ رحم میں بھی۔ (کہف۸۰۔۸۱)۔
دیوارکھڑی کرنے کے واقعہ میں بھی حضرت موسی کاتصوراوران کے راہنماکاتصور مختلف تھا۔
اس کے آخرمیں علامہ طباطبائی بیان فرماتے ہیں : پس ان آیات میں تاویل سے مراد ہر چیزکی بازگشت اس کی حقیقی صورت اوراس کے اصلی عنوان کی طرف ہے۔[21]
یہاں یہ نکتہ بہت قابل توجہ ہے کہ حضرت موسی کے راہنمانے کلام خودسے شروع کیا اور انتہائے امرخداتعالی کے سپردکیا مثلا :
۱۔ کشتی کے غرق کے معاملہ میں کہتے ہیں : فاردت … میں نے چاہا کہ کشتی کو نقصان پہنچاؤں…
۲۔ لڑکے کے قتل کے واقعہ میں کہتے ہیں : فخشیناان یرھقھما… ہمیں خوف تھاکہ اس کے والدین پرغالب آجائے…
۳۔ آخرمیں فقط اللہ تبارک تعالی کے کلام کونقل کیاہے :
فارادربک… پس تمہارے رب نے چاہے…
۴۔ اس طرح اپنے اورپرسے ذمہ داری کی نفی کرتے ہوئے کہا: ومافعلہ عن امری… میں نے خودسے کوئی امرانجام نہیں دیا…۔
۵۔ اورانہوں نے والدین کوتخت کے بلندمقام پرجگہ دی اورسب لوگ یوسف کے سامنے سجدہ میں گرپڑے اوریوسف نے کہابابایہ میرے اس سے قبل کے خواب کی تاویل ہے جسے میرے پروردگارنے سچ کردکھایاہے۔(یوسف۱۰۰)۔
علامہ طباطبائی فرماتے ہیں : اس آیت میں تاویل رجوع کے معنی میں ہے تاہم یہ مثال کاممثل(جس کی مثال دی گئی ہے) سے رجوع ہیں۔ عزیز مصرکاخواب،حضرت یوسف کے ہمراہ قیدیوں کاخواب اوراس سورہ کی دیگرآیات ان تمام مواردمیں تاویل یعنی واقعیت وحقیقت کی صورت ہے جوخواب میں پیش کی گئی ہے اورمثال کے طورپرہے۔یہ مثال اس صورت میں ایک پوشیدہ حقیقت کی حکایت کررہی ہے۔[22]
آخرمیں نتیجہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں :
اولا۔تاویل اس معنی میں آیات متشابہ سے مخصوص نہیں ہے ۔
ثانیا۔ تاویل مفاہیم(معانی ذہنیہ) میں سے نہیں ہے جوالفاظ وعبارات کا مدلول ہوبلکہ امورخارجی میں ہے کہ جوعینیت رکھتے ہیں۔[23]
البتہ علامہ کامقصودخارجی مصداق نہیں بلکہ حقیقت وواقعیت ہے جوکلام کے ہدف کوتشکیل دیتی ہے اوراس کاتحقق عینی طورپرہے فقط وہم یااعتبارمحض نہیں ہے حضرت موسی کے ساتھ کلام میں تغیرممکن ہے اسرارعالم سے آہستہ آہستہ آگاہ کرنے کے لئے ہوااوریہ کہ عالم آفرینش کے نظام پرحاکم مصلحتیں تمام کی تمام ارادہ مشیت الہی کے تابع ہیں۔ اسی کوسنت الہی کہتے ہیں جونظام خلقت میں جاری و ساری ہے۔
ولن تجدلسنة الله تبدیلا(فتح۲۳)۔
ترجمہ : اوراللہ کی سنت میں ہرگزتبدیلی نہ پاؤگے۔
البتہ علامہ طباطبائی کایہ نظریہ موردتنقیدواقع ہواہے جس کاخلاصہ یہ ہے کہ نہ تو متشابہ کی تاویل اورنہ ہی آیت کے باطن کا معنی کوئی بھی تفسیرکے دائرہ سے باہر نہیں ہیں اوران کوحقیقت عینی یا واقعیت خارجی کے معنی میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

۲۔ باطن،ظاہرکی نسبت :

قرآنی تاویل الفاظ ومعانی کے پس پردہ ایک پوشیدہ حقیت ہے۔ وجودباطنی،وجودظاہری کے مقابل ایک اصلاح ہے اوراس کامطلب ایک حقیقی وجودیاثابت چیزکاظاہری وجودیازائل ہونے والی چیزکے مقابل ہوتاہے۔
علامہ قرآن کریم کے لئے وجودلفظی وکتبی کے علاوہ ایک اوروجودکے قائل ہیں جبکہ قرآن کریم کی حقیقت اسی سے وابستہ ہے یہ وجود،جسم میں روح کی مانندہے یہ وہی ہے کہ شب قدرایک ہی مقام پرپیغمبراکرم پرنازل ہوا۔ اس آیت شہررمضان الذی انزل فیہ القرآن…بقرہ۱۸۵۔ کے بارے میں فرماتے ہیں :
قرآن کریم جس حقیقت کوہم درک کرتے ہیں اس سے جداایک حقیقت رکھتاہے اور وہ تجزیہ وتفصیل سے خالی ہے کتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر۔ (ہود۔۱)۔
یہاں احکام (حکمت)تفصیل(فصلت) کے مقابل ہے قرآن کریم درحقیقت وحدت کامل کی صورت میں تھااس میں تفاصیل جونظرآتیں ہیں وہ بعدمیں اس پرعارض ہوئی ہیں۔
اعراف۔۵۲اوریونس۳۹کی آیات بھی اس امرکی طرف اشارہ ہیں کہ قرآن کریم کا سورہ، سورہ ہونااورآیت،آیت ہونا یا اس کا تدریجی نزول یہ عارض اوراجزاء سے جداایک حقیقت رکھتی ہے جوبہت ہی باعظمت اورلوح محفوظ میں ناپاکوں کی دسترسی سے دور ہے جیساکہ الہ العالمین کاارشادقدسی ہے۔
”بل هوقرآن مجیدفی لوح محفوظ۔ (بروج۲۱،۲۲)۔
ترجمہ : بلکہ یہ قرآن مجیدہے جولوح محفوظ میں(محفوظ)ہے۔
فی کتاب مکنون لایمسه الاالمطهرون۔واقعة۷۸۔۷۹۔
ترجمہ : یہ (قرآن کریم) ایک پوشیدہ کتاب میں ہے جسے پاک وپاکیزہ انسانوں کے علاوہ کوئی مس نہیں کرسکتا۔
یہ وہی کتاب مبین ہے کہ جس کوعربیت کالباس پہنایاگیاہے۔
حم ۔والکتاب المبین اناجعلناه قرآناعربیالعلکم تعقلون۔وانه فی ام الکتاب لدینا لعلی حکیم (زخرف۱،۴)۔
ترجمہ : حم۔ اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے عربی میں قرآن قراردیاہے تاکہ تم سمجھ سکواوربے شک یہ ہمارے پاس لوح محفوظ (ام الکتاب) میں نہایت بلند درجہ اورپرازحکمت ہے۔
پس قرآن کریم کاعربی کے لباس سے آراستہ ہونااوراس میں نظرآنے والاتجزیہ وتفصیل یہ حقیقت واصل قرآن سے جداہے اوروہ حقیقت اسی طرح اپنے باعظمت مقام پر مستقرہے۔ اس بارے میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں :
کتاب مبین کوقرائت اورعربیت کالباس پہنایاگیاہے تاکہ انسان تعقل کریں ورنہ یہ اللہ تعالی کے یہاں ام الکتاب میں محفوظ ہے یہ کتاب ”علی“ ہے یعنی انسانی عقول کی اس تک دسترس نہیں اورحکیم ہے یعنی اس میں فصل،فصل،یاجزء جزء نہیں ہے… پس الکتاب المبین۔ جوآیت میں ہے یہ القرآن العربی المبین۔ کی اصل ہے…قرآن کریم کی موقعیت الکتاب المکنون میں ہے …جب کہ تنزیل اس پر بعد میں حاصل ہوئی ہے ام الکتاب جس کوہم حقیقةالکتاب کہتے ہیں یہ معنی کہ قرآن کریم،کتاب مبین کی نسبت مرتبہ تنزیل پرہے یعین ملتبس کے لباس کی طرح ہے،حقیقت کی مثال کی مانندہے یاغرض ومقصودکلام کی مثال کے طورپرہے۔[24]
۳۔ممثل(جس کی مثال دی گئی ہے) کی نسبت مثال: کلام میں مثال مقصود و مراد کو روشن کرنے کے لئے لائی جاتی ہے ”المثال یوضح المقال“ مثال سے مطلب بہتر آشکار ہوتاہے۔ مثال اذہان کوقریب کرنے کے لئے ہوتی ہے مثال جتنی گہری ہوگی مطلب اتنا ہی واضح وروشن ہوجاتاہے یہی سبب ہے کہ قرآن حکیم نے اس روش سے خوب استفادہ کیاہے۔
ان الله لایستحی ان یضرب مثلامابعوضة فمافوقها۔
اللہ تعالی نے بے شک مچھریااس سے بھی چھوٹی مثال دینے سے نہیں جھجکتا۔ بقرہ۲۶۔
وتلک الامثال نضربهاللناس لعلهم یتفکرون(الحشر۲۱)۔
یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے اس لئے بیان کرتے ہیں تاکہ تفکرکریں۔
ویضرب الله الامثال لعلهم یتذکرون(ابراهیم۲۵)۔
اللہ تعالی لوگوں کے لئے مثالیں اس لئے بیان فرماتاہیے تاکہ شایدان کے لئے یاددہانی ہوجائے۔
اس بارے میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں : مثال اگرچہ موردمثال پرمنطبق نہیں ہوتی تاہم اس سے حکایت کرتی ہے کیونکہ موردمثال کی وضیعت اورحالت کوروشن کرتی ہے۔ تمام آیات قرآنی میں قرآنی اوامرونواہی اورظواہرقرآن میں تاویل بھی اسی طرح ہے جواس کی کامل حقیقت کوبیان نہیں کرتی اگرچہ اسی کلام کے گوشہ وکنارمیں حقیقت بھی جلوہ نمائی کررہی ہوتی ہے۔[25]
______________

[1]بصائرالدرجات۔صفارص۱۹۵۔
[2]تفسرالمیزان ج۳ص۴۸۔
[3]تفسرالمیزان ج۳ص۴۹۔
[4]تفسرالمیزان ج۳ص۴۶۔
[5]تفسرالمیزان ج۳ص۲۱۔
[6]تفسرالمیزان ج۴ص۴۲۸۔
[7]تفسرالمیزان ج۳ص۲۱۔
[8]تفسرالمیزان ج۳۔
[9]تفسرالمیزان ج۳ص۲۶۔
[10]تفسرالمیزان ج۳ص۱۶۔
[11]تفسرالمیزان ج۳ص۵۳۔
[12]مجھے سیراب کرو۔
[13]تفسرالمیزان ج۳ص۵۳۔
[14]تفسرالمیزان ج۱۳ص۳۷۶۔
[15]آل عمران،۷نساء۔۵۹،اعراف۵۳،یونس۳۹،یوسف۶،۲۱ ،۳۶ ،۳۷ ،۴۴،۴۵ ،۱۰۰،۱ ۱۰،بنی اسرائیل ۳۵،کہف۷۸،۸۲۔
[16]تفسرالمیزان ج۳ص۴۹۔
[17]تفسرالمیزان ج۸ص۱۳۷۔
[18]تفسرالمیزان ج۳ص۳۲،۲۴۔
[19]تفسرالمیزان ج۳ص۲۳۔
[20]تفسرالمیزان ج۳ص۹۶۔
[21]تفسرالمیزان ج۳ص۲۳۔۲۴۔
[22] تفسرالمیزان ج۳ص۲۴۔۲۵۔
[23] تفسرالمیزان ج۳ص۲۵۔
[24] تفسرالمیزان ج۲ص۱۴۔۱۶۔
[25] تفسرالمیزان ج۲ص۱۴۔۱۶۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.