چھٹاسبق

0 6

114

ہے كہ اس راز كو چھپا كر ركھنا”_

ان لوگوں نے كہا :” بہت خوب كيا كہنا چاہتے ہو _”

نعيم نے كہا ” بنى قريظہ ،محمد(ص) كے ساتھ اپنى پيمان شكنى پرپشيمان ہيں اور وہ چاہتے ہيں كہ جو بھول ان سے ہوئي ہے اس كا جبران كريں _انہوں نے محمد(ص) كو پيغام بھيجا ہے كہ ہم قريش و غَطَفَان كے ستر70 سر كردہ افراد كو پكڑ كرآپ(ص) كے حوالے كرديں گے تا كہ آپ ان كو قتل كرديں اس كے بعد جنگ كے خاتمہ تك باقى افراد كو ختم كرنے كے لئے ہم لوگ آپ كے ساتھ ہيں _

محمد(ص) نے يہ پيش كش قبول كرلى ہے تم لوگ اب ہوشيار رہنا اگر يہود تم سے ضمانت كے طور پر كچھ افراد مانگيں تو ايك آدمى بھى ان كے حوالے نہ كرنا _

دوسرى طرف سے احزاب كے سر كردہ افراد جو ٹھنڈى راتوں اور يثرب كے بے آب و گياہ بيابان ميںاپنى طاقتوں كو ضائع كر رہے تھے، بنى قريظہ كى طرف اپنے نمائندے بھيجے اور ان سے كہلوايا كہ :

ہم تمہارى طرح اپنے گھر ميں نہيں ہيں ہمارے چوپائے دانہ اور گھاس كى كمى كى بناپر تلف ہوئے جارہے ہيں ، لہذا جنگ كے لئے نكلنے ميں جلد سے جلد ہمارے ساتھ تعاون كا اعلان كرو تا كہ مل جل كر مدينہ پر حملہ كرديں اور اس جنگ سے چھٹكارا مل جائے_ ”

يہوديوں نے جواب ديا” پہلى بات تو يہ ہے كہ آج ہفتہ ہے اور ہم اس دن كسى كام كو ہاتھ نہيں لگاتے_ دوسرى بات يہ ہے كہ ہم تمہارے ساتھ مل كر جنگ نہيں كريں گے ليكن ايك شرط پر اور وہ يہ كہ تم اپنے اہم افراد ميں سے كسى كو ہمارے حوالہ كردو تا كہ ہم اطمينان كے ساتھ محمد(ص) كے ساتھ جنگ كريں اس لئے كہ ہميں ڈرہے كہ اگر تم جنگ سے عاجز

مزید  آسيہ
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.