لشكر احزاب كى مدينہ كى طرف روانگي

0 14

99

ہونے لگے، رسول خدا (ص) ہر بار صدائے تكبير بلند كرتے رہے ، جناب سلمان نے سوال كيا كہ آپ(ص) بجلى چمكتے وقت تكبير كيوں كہتے تھے؟

رسول خدا (ص) نے فرمايا ”جب پہلى بار بجلى چمكى تو ميں نے يمن اور صَنعاء كے محل كھلتے ديكھے، دوسرى مرتبہ بجلى كے چمكنے ميں شام و مغرب كے سرخ محلوں كو فتح ہوتے ديكھا، اور جب تيسرى بار بجلى چمكى تو ميں نے كسرى كے محلات كو ديكھا كہ جو ميرى اُمت كے ہاتھوں مسخر ہوجائيں گے”_(13)

مومنين رسول خدا (ص) كى بشارت سے خوش ہوگئے اور ” بشارت، بشارت” كى آواز بلند كرنے لگے_ ليكن منافقين نے مذاق اُڑايا اور كہا كہ ”حالت يہ ہے كہ دشمن ہر طرف سے ٹوٹ پڑ رہے ہيں اور اتنى جرا ت نہيں ہے كہ ہم قضائے حاجت كے لئے باہر نكل سكيں اور محمد(ص) ايران و روم كے محلوں كى فتح كى گفتگو كر رہے ہيں _ سچ تو يہ ہے كہ يہ باتيں فريب سے زيادہ نہيں ہيں( معاذ اللہ ) قرآن منافقين كے بارے ميں كہتا ہےمنافقين او ر وہ لوگ جن كے دلوں ميں بيمارى ( نفاق) ہے وہ كہتے ہيں كہ يہ وعدے جو خدا اور اس كے رسول(ص) كر رہے ہيں يہ دھوكے سے زيادہ نہيں ہيں”(14)_

منافقين خندق كھودنے ميں مسلمانوں كى مدد كر رہے تھے مگر ان كى كوشش تھى كہ كسى بہانے سے اپنے كاندھوں كو اس بوجھ سے خالى كريں اس طرح وہ اپنے نفاق كو آشكار كر رہے تھے_

خندق كى كھدائي تمام ہوئي جس كى لمبائي 12000 زراع تقريباً 4/5 كلوميٹر ،گہرائي 5 ہاتھ اور اس كى چوڑائي اتنى تھى كہ ايك سوار گھوڑے كو جست ديگر پار نہيں كرسكتا تھا_ آخر ميں خندق كے بيچ ميں كچھ دروازے بناديئےئے اور ہر دروازے كى نگہبانى كے لئے ايك قبيلہ

مزید  سواد اعظم کا نظریہ خلافت
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.