قريش كے نمائندے آنحضرت (ص) كى خدمت ميں

146

لہذا آپ اپنا اور اپنے باپ كا نام لكھيں(26)

آنحضرت (ص) نے حضرت علي(ع) كو حكم ديا كہ اس جملے كو مٹاديں ليكن حضرت علي(ع) نے عرض كيا ” ميرے ہاتھوں ميں آپ(ص) كا نام مٹانے كى طاقت نہيں ہے ” رسول خدا(ص) نے اپنے ہاتھوں سے اس جملے كو مٹا ديا _ (27)

صلح نامے كى كچھ شرائط يوں تھيں:

1_ قريش اور مسلمان دونوں عہدكرتے ہيںكہ دس سال تك ايك دوسرے سے جنگ نہيں كريں گے تا كہ جزير ةالعرب ميں اجتماعى امن و امان اور صلح قائم ہوجائے_

2_ جب بھى قريش كا كوئي آدمى مسلمانوں كى پناہ ميں چلا جائے گا تو محمد(ص) اس كو واپس كريںگے ليكن اگر مسلمانوں ميں سے كوئي شخص قريش كى پناہ ميں آجائے گا تو قريش پر لازم نہيں كہ وہ اس كو واپس كريں_

3_ مسلمان اور قريش جس قبيلے كے ساتھ چاہيں عہد و پيمان كر سكتے ہيں_

4_ محمد(ص) اور ان كے اصحاب اس سال مدينہ واپس جائيں اور آئندہ سال زيارت خانہ خدا كے لئے آسكتے ہيں_ليكن شرط يہ ہے كہ تين دن سے زيادہ مكّہ ميں قيام نہ كريں اور مسافر جتنا ہتھيار لے كر چلتا ہے اس سے زيادہ ہتھيار اپنے ساتھ نہ ركھيں(28)_

5_ مكہ ميں مقيم مسلمان اس معاہدے كى روسے اپنے مذہبى امور آزادى سے انجام دے سكتے ہيں اور قريش انہيں آزار يا مجبور نہيں كريں گے كہ وہ اپنے مذہب سے پلٹ جائيںيا ان كے دين كا مذاق نہيں اڑائيں گے _اسى طرح وہ مسلمان جو مدينہ سے مكہ آئيں ان كى جان و مال محترم ہے_(29)

معاہدہ كے دو نسخے تيار كئے گئے اور ايك نسخہ رسول خدا(ص) كى خدمت ميں پيش كيا گيا اس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.