دشمن كى صفوں ميں لشكر اسلام كا سپاہي

0 12

117

ابھى سپيدہ سحرى نماياں نہيں ہوا تھا كہ دس10 ہزار كے لشكر نے نہايت ذلت كے ساتھ فرار كو ثابت قدمى پر ترجيح دى اور مكہ كى طرف بھاگ كھڑا ہوا _ اس طرح خدا نے مسلمانوں كى قسمت ميں نصرت اور دشمنوں كے نصيب ميں بكھرنا اور شكست اُٹھانا قرار ديا_

23/ ذى القعدہ بدھ كى صبح پيغمبر(ص) اور لشكر اسلام كے سامنے كفار كى فوج ميں سے كوئي بھى باقى نہ تھا _ سب كے سب بھاگ چكے تھے_ پيغمبر اسلام (ص) نے اجازت ديدى كہ مسلمان محاذ كو چھوڑ ديں اور شہر كى طرف لوٹ چليں_(3)

شہداء اسلام اور كشتگان كفر

اس جنگ اور تيراندازى كے نتيجہ ميں لشكر اسلام كے چھ آدمى درجہ شہادت پر فائز ہوئے ان ميں سے ايك سَعد بن مُعاذ تھے جن كے ہاتھ كى نس كو ايك تير نے كاٹ ڈالا تھا وہ بنى قريظہ والے واقعہ تك زندہ تھے ليكن چند روز بعد شہيد ہوگئے_ مشركين ميں سے تين افراد قتل ہوئے جن ميں سے دو كى ہلاكت حضرت على (ع) كے ہاتھوں ہوئي _(4)

جنگ احزاب كے بارے ميں سورہ احزاب 9 سے 25 نمبر تك كى آيتيں نازل ہوئيں_

لشكر احزاب كى شكست كے اسباب

1: لشكر اسلام كا خندق كھودنا_

2: احزاب كے بہادر اور شجاع پہلوان ” عمرو بن عبدود” كا قتل جس نے كفار كے حوصلوں پر بُرا اثر ڈالا_

3: لشكر اسلام كى ثابت قدمى و پائيدارى اور اپنے محاذ كى باقاعدہ نگہبانى اور شہر مدينہ كى

مزید  سکوت امیرالمومنین کے اسباب
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.