بَني مُصْطَلقْ كا اسلامى تحريك ميں شامل ہونا

0 17

141

عنوان سے ركھ سكتا ہے _ اسكے علاوہ اور كوئي ہتھياز ركھنے كى اجازت نہيں ہے _رسول خدا(ص) نے قربانى كے لئے ستر(70) اونٹ مہيّا كئے اور چودہ سو مسلمانوں كے ساتھ مكہ كى طرف روانہ ہوئے اور مقام ذو الحليفہ ميں احرام باندھا_

آپ نے عباد بن بشر كو 20 مسلمانوں كے ساتھ ہر اول دستہ كے عنوان سے آگے بھيج ديا تا كہ را ستے ميںآنے والے لوگوں كے كانوں تك لشكر اسلام كى روانگى كى خبر پہنچا ديں اور كسى خطرے يا سازش كى صورت ميں اس كى خبر رسول خدا(ص) كو ديں_ (20)

قريش كا موقف

جب قريش ، رسول خدا(ص) كى روانگى سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے بتوں (لات و عزّي) كى قسم كھائي كہ آنحضرت(ص) كو مكّہ ميں آنے سے روكيں گے _ قريش كے سرداروں نے رسول خدا (ص) كو روكنے كے لئے خالد بن وليد كو دو سو سواروں كے ساتھ مقام ” كُراع الغَميمبھيجا جہاں پہنچ كر يہ لوگ ٹھہر گئے _

رسول خدا(ص) قريش كے موقف سے آگاہى كے بعد يہ چاہتے تھے كہ خونريزى كے ذريعے اس مہينے اور حرم كى حرمت مجروح نہ ہو اس لئے آپ(ص) نے راہنما سے فرمايا كہ كارواں كو اس راستے سے لے چلو كہ جس راستے ميں خالد كا لشكر نہ ملے _

راہنما ، قافلہ اسلام كو نہايت دشوار گذار راستوں سے لے گيا يہاں تك كہ يہ لوگ مكہ سے 22 كيلوميٹر دور” حديبيّہ” كے مقام پر پہنچ گئے_ آنحضرت(ص) نے سب كو يہ حكم ديا كہ يہيں اُتر جائيں اور اپنے خيمے لگاليں (21)

مزید  دشمن کي دشمني کو سمجھیں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.