Urdu Library – اردو لائبریری https://urdulib.com/ اردو لائبریری،آن لائن اردو لائبریری,urdu books pdf,urdu books library,urdu books online,urdu books to read Tue, 01 Nov 2022 06:52:44 +0000 fa-IR hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.1.1 https://urdulib.com/wp-content/uploads/2021/04/cropped-51d4f09e-1326-4803-b053-7a7fde98a502-4.png Urdu Library – اردو لائبریری https://urdulib.com/ 32 32 اہلبیت علیہم السلام کتاب و سنت کی روشنی میں https://urdulib.com/%d8%af%d8%b3%d8%aa%d9%87%e2%80%8c%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d9%86%d8%b4%d8%af%d9%87/%d8%a7%db%81%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-2/ https://urdulib.com/%d8%af%d8%b3%d8%aa%d9%87%e2%80%8c%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d9%86%d8%b4%d8%af%d9%87/%d8%a7%db%81%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-2/#respond Tue, 01 Nov 2022 18:46:57 +0000 https://urdulib.com/?p=1238124
  • اہلبیت علیہم السلام کتاب و سنت کی روشنی میں
  • مصنف: نعمت اللہ صالحی حاجی آبادی
  • مترجم: مولانا نذیر ناصری
  •  

    • اردو پی ڈی ایف کتب
    • اردو ڈیجیٹل لائبریری
    ]]>
    https://urdulib.com/%d8%af%d8%b3%d8%aa%d9%87%e2%80%8c%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d9%86%d8%b4%d8%af%d9%87/%d8%a7%db%81%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-2/feed/ 0
    امامیہ دینیات (درجہ دوم) https://urdulib.com/urdu-books/urdu-shia-books/imamia-deneyat-center/ https://urdulib.com/urdu-books/urdu-shia-books/imamia-deneyat-center/#respond Tue, 01 Nov 2022 03:40:27 +0000 https://urdulib.com/?p=1238065
  • امامیہ دینیات (درجہ دوم)
  • سلسلہ نصاب تعلیم برائے امامیہ مدارس
  •  

    • اردو پی ڈی ایف کتب
    • اردو ڈیجیٹل لائبریری
    ]]>
    https://urdulib.com/urdu-books/urdu-shia-books/imamia-deneyat-center/feed/ 0
    عاشورا کے بارے میں امام رضا علیہ السلام کی حدیث https://urdulib.com/daily-urdu-columns/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%88%d8%b1%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/ https://urdulib.com/daily-urdu-columns/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%88%d8%b1%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/#respond Wed, 31 Aug 2022 17:25:21 +0000 https://urdulib.com/?p=317165

    عاشورا کے بارے میں امام رضا علیہ السلام کی حدیث

    عاشورا کے بارے میں امام رضا علیہ السلام کی حدیث

    شیخ صدوق ؒ نےحضرت علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

    من ترك السّعي في حوائجه يوم عاشوراء، قضى الله له حوائج الدنيا والآخرة. ومن كان يوم عاشوراء يوم مصيبته وحزنه وبكائه، جعل الله عزّوَجلّ يوم القيامة يوم فرحه وسروره، وقرّت بنا في الجنان عينه.

    ومن سمّى يوم عاشوراء يوم بركة، وادّخر فيه لمنزله شيئاً، لم يبارك له‏ فيما ادّخر، وحشر يوم القيامة مع يزيد وعبيدالله بن زيَاد و عمر بن سعد عليهم اللعنة إلى أسفل دركة من النّار

    جو شخص عاشورا کے دن اپنے روز مرہ کے کاموں میں سعی و کوشش کو ترک کر دے ، خداوند متعال اس کی دنیا و آخرت کی تمام حاجتوں کو پورا فرمائے گا ، اور جو شخص عاشورا کا دن مصیبت ، حزن اور گریہ و زاری کا دن ہو ، خدائے عزّوجل اس کے لئے قیامت کے دن کو خوشی و مسرت کا دن قرار دے گا اور اس کی آنکھیں جنت میں ہم اہلبیت کے دیدار سے روشن ہوں گی۔ اور جو شخص عاشورا کے دن کو بابرکت سمجھے اور اس دن اپنے گھر میں کوئی چیز لا کر ذخیرہ  کرے تو خداوند متعال اس کی ذخیرہ کی ہوئی چیز میں ان کے برکت قرار نہیں دے گا ، اور وہ قیامت کے دن یزید بن معاویہ ، عبید اللہ بن زیاد اور عمر ابن سعد (ان پر خدا کی لعنت ہو ) کے ساتھ جہنم کے نچلے ترین درجات میں محشور ہو گا ۔[1]


    [1] هدیة الزائرین: ۱۶۵، بحارالانوار: ۴۴/ ۲۸۴ ح۱۸

    ]]>
    https://urdulib.com/daily-urdu-columns/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%88%d8%b1%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/feed/ 0
    زینب امام رضا، حضرت فاطمہ معصومہ قم (س) https://urdulib.com/political-articles/masoma-qom/ https://urdulib.com/political-articles/masoma-qom/#respond Sat, 04 Jun 2022 04:25:11 +0000 https://urdulib.com/?p=1239640 زینب امام رضا،حضرت  فاطمہ معصومہ قم (س)

    زہراء الحسینی

    دل جس کے شہر میں مدینے کی خوشبو محسوس کرتا ہے ۔ گویا مکہ میں صفا و مروہ کے درمیان دیدار یار کے لیے حاضر ہے ، عطر بہشت ہر زائر کے دل و جان کو شاداب و با نشاط کر دیتا ہے ۔ جس کے حرم میں ہمیشہ بہار ہے ۔ بہار قرآن و دعا ، بہار ذکر و صلوات ، شب قدر کی یادگار بہاریں ۔ دعا و آرزو کے گلدستے کی بہار جو تشنہ روحوں کو سیراب کر دیتی ہے ، ہر خستہ حال مسافر زیارت کے بعد تھکن سے بیگانہ ہو جاتا ہے ۔ ہر آنے والا شخص اس حرم میں قدم رکھنے کے بعد خود کو پردیسی اور بیگانہ محسوس نہیں کرتا۔

    وہ ہستی کون ہے ؟
    وہ کون ہے کہ جو مدینہ میں گمشدہ اپنی ماں زہرا (س) کی قبر کو ظاہر کیے بیٹھی ہے ؟
    وہ کون ہے، جو زائرین کے لیے ماں کی طرح آغوش پھیلائے بیٹھی ہے ؟ وہ کون ہے کہ جسکا در زائرین کی گواہی کے مطابق، مشہد سے بھی زیادہ مانوس اور آشنا ہے ؟

    اسے سب پہچانتے ہیں ۔ وہ سب کے دلوں میں آشنا ہے اگر اس کا حرم و گنبد اور گلدستے آنکھوں کو نور بخشتے ہیں تو اس کی محبت و عشق ، اس کی یادیں اور نام دلوں کو سکون بخشتی ہیں ۔ کیونکہ یہ حرم ، حرم اہل بیت ہے ۔مدفن یادگار رسول ، نور چشم موسی بن جعفر (ع)، آئینہ نمائش عفت و پاکی، حضرت فاطمہ ثانی ہے۔

    کریمۂ اہل بیت حضرت معصومہ (س) فرزندِ رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) کی دختر گرامی اور حضرت امام رضا (ع) کی ہمشیرہ ہیں۔ آپ کا اصلی نام فاطمہ ہے۔ آپ اور امام رضا ایک ہی ماں سے پیدا ہوئے ہيں، آپ کے مشہور نام خیزران، ام البنین اور نجمہ ہیں ۔ روایات کے مطابق حضرت فاطمۂ معصومہ یکم ذی العقدہ 173ھ ق کو مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئيں، اور10ربیع الثانی 201 ہجری کو وفات پا گئیں ہے۔

    حضرت فاطمۂ معصومہ (س) اہل بیت رسول کی اُن ہستیوں میں سے ہیں جو مقام عصمت کی حامل نہ ہوتے ہوئے بھی عظیم شخصیت کی مالک تھیں جیسے حضرت زینب کبری (س) اور حضرت ابو الفضل العبّاس (ع) تھے۔ آپ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہيں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نےآپ کے والد گرامی حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے قبل ہی آپ کے مدفن کی پیشنگوئی کرتے ہوئے آپ کی زیارت کی فضیلت بیان فرمائی تھی۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) نے اپنے ایک صحابی سے حضرت امام موسی بن جعفر (ع) کی طرف بچپن میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

    یہ میرا بیٹا موسی ہے، خداوندِ عالم اس سے مجھے ایک بیٹی عطا کرے گا جس کا نام فاطمہ ہو گا ۔ وہ قم کی سرزمین میں دفن ہو گی اور جس نے قم میں اس کی زیارت کی، اس پر بہشت واجب ہو گی ۔

    ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :

    بہت جلد قم میں میری اولاد ميں سے ایک خاتون دفن ہو گی جس کا نام فاطمہ ہے اور جو اس کی قبر کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہو گی۔ اس طرح کی احادیث و روایات حضرت معصومہ کے عظیم مقام و مرتبے کا بہترین ثبوت ہيں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زبان سے زائر حضرت معصومہ کے لیے جنت کی بشارت اور وہ بھی وجوب کی حد تک بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

    حضرت امام رضا (ع) کو چھوڑ کر، حضرت امام موسی کاظم (ع) کی اولاد ميں حضرت معصومہ ہی وہ ہستی ہیں جن کی فضیلت کے بارے میں آئمہ معصومین (ع) کی روایات ملتی ہيں ۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ آئمہ معصومین میں سب سے زيادہ اولاد حضرت امام موسی کاظم ہی کی تھیں۔ آپ کے برادر گرامی حضرت امام رضا (ع) سے روایت ہے :

    جس نے ان کے حق کی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کی اس کے لئے جنت ہے۔

    حضرت معصومہ (س) اسلامی علوم پر دسترس رکھتی تھیں، آپ عالمہ فاضلہ ہونے کے ساتھ محدثہ بھی تھيں۔ آپ سے متعدد احادیث نقل کی گئی ہیں، ان میں سے ایک مشہور حدیث، واقعۂ غدیر سے متعلق ہے۔ حضرت معصومہ(ع) کی معروف و غیر مشہور زیارتوں میں آپ کو حجّت، امین، حمیدہ، رشیدہ، تقیہ، نقیہ، رضیہ، طاہرہ اور برّہ کے القاب سے یاد کیا گيا ہے۔

    غرض یہ کہ حضرت معصومہ (س) معصومین (ع) کی طرح معصوم عن الخطا تو نہيں تھیں لیکن آپ گناہوں سے پاکیزگی کے مقام پر فائز ہیں یعنی آپ کی عصمت اکتسابی ہے۔ آپ کو شفاعت کا مقام بھی حاصل ہے۔ حضرت امام جعفرصادق(ع) سے روایت کی گئی ہے کہ:

    اُس (حضرت معصومہ) کی شفاعت سے ہمارے تمام چاہنے والے بہشت میں داخل ہوں گے۔ آخرت میں شفاعت کے علاوہ دنیا میں بھی حضرت معصومہ (س) کی ذات اقدس کرامات کا سرچشمہ ہے آپ کے روضۂ اقدس پر لاچار اور مضطر لوگوں کی حاجات روا ہوتی ہیں، بیماروں کو شفا ملتی ہے اور دلوں ميں نور ہدایت بھر جاتا ہے۔ قم کی عظیم دینی درسگاہ بھی آپ ہی کی مرہون منت ہے۔ ابتدا سے لے کر آج تک علماء، محدثین، مفسرین، فقہا اور دانشور آپ کے روضے کے نزدیک علم و دانش کی اشاعت میں مصروف رہے ہيں ۔

    حضرت معصومۂ فاطمہ (س) نے زندگی کا بیشتر حصہ اپنے عزیز برادر حضرت امام رضا (ع) کے سایۂ عطوفت ميں گزارا اور آپ کے علم و اخلاق حسنہ سے استفادہ کرتیں رئیں، کیونکہ آپ کے والد گرامی حضرت امام موسی کاظم (ع) زیادہ تر عباسی خلیفہ ہارون کے زير عتاب اور پابند سلاسل رہے ۔ حضرت معصومہ کمسن تھیں جب آپ کے والد کو زندان میں ڈالا گیا۔ اسی لیے جب خلیفہ مامون عباسی نے حضرت امام رضا (ع) کو ایک سازش کے تحت مدینۂ منورہ سے خراسان بلایا، تو آپ بھائی کی جدائی برداشت نہ کر سکیں اور ایک سال بعد خود بھی ایران کی طرف روانہ ہوئیں، لیکن ساوہ پہنچ کر آپ بیمار ہو گئيں۔

    بعض روایات کے مطابق ساوہ میں آپ کے قافلے پر دشمنانِ اہل بیت نے حملہ کیا اور آپ کے 23 حقیقی اور چچا زاد بھائیوں کو شہید کیا گیا ۔ آپ سے یہ منظر دیکھا نہ گيا اور بیمار ہو گيئں اور حضرت زینب کبری (س) کی طرح اعزہ و اقارب کی لاشوں کو چھوڑ کر قم روانہ ہوئيں۔

    مؤرخین کے مطابق ساوہ میں بیماری کے بعد آپ نے قافلہ والوں سے قم لے جانے کو کہا۔ ایک اور روایت ہے کہ حضرت معصومہ(ع) کو ساوہ کی ایک عورت نے زہر دیا تھا، جس کے اثر سے آپ علیل ہوئیں۔ جب قم کے باشندوں کو معلوم ہوا آپ ساوہ پہنچی ہيں تو شہر کے عمائدین نے آپ کو قم تشریف لانے کی دعوت دی ۔ بہرحال حضرت معصومہ قم پہنچنے کے 17 دن بعد رحلت کر گئيں۔ اس مدت میں آپ خداوند عالم سے راز و نیاز میں مصروف رہيں ۔ آپ کا محراب عبادت آج بھی قم کے مدرسہ ستیّہ میں موجود ہے جسے بیت النور بھی کہا جاتا ہے۔ قم کے معززین میں حضرت معصومہ (س) کو دفن کرنے کے مسئلے پر اختلاف ہوا، بالآخر فیصلہ کیا گیا کہ قادر نامی بزرگ آپ کے جسد مبارک کو قبر میں اتاریں گے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے صحرا کی طرف سے دو نقاب پوش نمودار ہوئے جنہوں نے آپ کی نماز جنازہ پڑھ کر آپ کو سپرد خاک کیا۔ وفات کے وقت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی عمر صرف 28 سال تھی۔

    آپ شہر مقدس قم میں مدفون شخصیات اور امام زادوں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ اہل تشیع کے ہاں آپ کی زیارت کرنا خاص اہمیت کا حامل ہے یہاں تک کہ آئمہ سے منقول احادیث میں آپ کی زیارت کرنے والوں کا اجر بہشت قرار دیا گیا ہے۔

    وفات:

    پرانے منابع میں آپکی وفات کی کوئی تاریخ ذکر نہیں ہوئی ہے لیکن جدید کتب کے مطابق اپ کی وفات 10 ربیع الثانی سن201 ہجری قمری،28 سال کی عمر میں ہوئی۔
    اہل تشیع نے آپ کا تشیع جنازہ کیا اور آپکو بابلان نامی جگہ پر جو کہ موسی بن خزرج ملکیت تھی، میں دفن کیا۔
    کچھ روایات کے مطابق نقل ہوا ہے کہ جب قبر تیار کی گئی اور مشورہ ہو رہا تھا کہ کون قبر میں اترے اور سب نے ایک بوڑھے شخص جس کا نام قادر تھا اس کو انتخاب کیا اور کسی کو اس کی طرف بھیجا ایسے میں اچانک دو نقاب پوش آئے جنہوں نے آ کر آپکو دفن کیا اور دفن کرنے کے بعد کسی سے بات کیے بغیر گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے.
    علماء نے کہا ہے کہ احتمال ہے کہ وہ در نقاب پوش امام رضا (ع) اور امام جواد (ع) تھے۔

    اس وقت موسی بن خزرج نے آپکی قبر مبارک پر نشان بنایا اور سنہ 256 میں امام جواد(ع) کی بیٹی اپنی پھوپھی کی زیارت کرنے کے لیے قم آئی تو انہوں نے آپ کی قبر پر مزار بنوایا.

    خداوند متعال حضرت معصومہ کے صدقے میں تمام خواتین کو انکی راہ پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس بی بی کی کرامت کے طفیل ہمیں بھی ان کی مقبول زیارت اور شفاعت سے بہرہ مند فرمائے…..

    السلام علیک یا بنت رسول اللہ السلام علیک یا بنت فاطمۃ و خدیجۃ السلام علیک یا بنت امیر المو منین السلام علیک یا بنت الحسن و الحسین السلام علیک یا بنت ولی اللہ السلام علیک یا اخت ولی اللہ السلام علیک یا عمۃ ولی اللہ السلام علیک یا بنت موسی بن جعفر و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    یا فاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ فان لک عنداللہ شا نا من الشان اللھم انی اسئلک ان تختم لی با لسعادۃ فلا تسلب منی ما انا فیہ و لا حول و لا قوۃ الا با للہ العلی العظیم…..

    سلام آپ پر اے دختر رسول خدا (ص) سلام آپ پر اے دختر فاطمہ (ع) و خدیجہ (ع) ۔ سلام آپ پر اے دختر امیر المومنین (ع) سلام آپ پر اے دختر حسن و حسین (ع) سلام آپ پر اے ولی خدا ۔ سلام آپ پر اے ولی خدا کی بہن ۔ سلام آپ پر اے ولی خدا کی پھوپھی ۔ سلام آپ پر اے دختر موسی بن جعفر (ع) اللہ کی رحمت و برکت ہو ۔

    اے فاطمہ (ص) آپ میر ی شفاعت کیجۓ جنت کے لۓ کہ آپ کی خدا کے نزدیک شان ہے ۔ خدا یا میں تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ میرا خاتمہ سعادت پر ہو پس تو سلب نہ کر مجھ سے وہ جس میں ہوں اور کوئی قوت و طاقت نہیں ہے مگر بلند و عظیم خدا کے ‎لیے۔

    سلام ہو اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون پر روز طلوع سے لے کر لمحہ غروب تک۔

    سلام و درود معصومہ سلام اللہ علیہا کی روح تابناک پر جن کے حرم منور نے قم کی ریگستانی سر زمین کو نورانیت بخشی۔
    التماس دعا🌹

    ]]>
    https://urdulib.com/political-articles/masoma-qom/feed/ 0
    امام خمینی کی اہم خصوصیت میری نظر میں https://urdulib.com/shia-word/tamsel-fatima/ https://urdulib.com/shia-word/tamsel-fatima/#respond Wed, 01 Jun 2022 19:25:55 +0000 https://urdulib.com/?p=1239635 امام خمینی کی اہم خصوصیت میری نظر میں

    تمثیل فاطمہ جلبانی

    امام خمینی کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس میں قوت جاذبہ بہت شدت سے پایا جاتا ہے، اور جو لوگ آپ سے متاثر ہوتے ہیں وہ آپ کی شخصیت میں بالکل ضم ہوکر رہ جاتے ہیں {جیسا کہ فرمان شہید باقر الصدر ہے}
    ایسی عظیم شخصیت سے عدم آشنائی خود ہمارے لئے باعث خسارہ ہے۔امام راحل کی شخصیت کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،کیونکہ بلند شخصیت کو سمجھنے کے لئے بلند ہونا پڑتا ہے، پاکیزہ شخصیات کو سمجھنے کے لئے طاہر قلب کی ضرورت ہوتی ہے۔لہذا ایسی عظیم شخصیات کو درک کرنے کے لئے ہمیں اس کے مقدمات کو فراہم کرنا ہوگا، تاکہ ہم بھی آپ کی شخصیت کو درک کرسکیں__!!

    امام خمینی کی تمام صفات اور تمام پہلو سب اپنی جگہ قابل تحسین اور جالب ہیں جیسے آپ کی استقامت، دلیری،مدیریت..
    مگر ایک صفت جس نے مجھے سب سے زیادہ آپ کی شخصیت کی طرف جالب کیا ہے وہ ہے آپ کا “اطمینان”۔ انقلاب کے تمام مراحل میں آپ کے تمام ساتھیوں نے آپ کو ہمیشہ پر امید اور حالت اطمینان میں ہی دیکھا، حتی جب شاہ کے بندے آپ کو گرفتار کرکے لے کے جارہے تھے تو اس وقت بھی حالت اطمینان میں تھے جب کہ ان لوگوں کے اندر خوف طاری تھا۔
    یہ اطمینان کا درجہ بہت بلند ہے جسے خدا نے “نفس مطمئنہ” سے تعبیر کیا ہے۔۔

    امام خمینی خود اپنے وصیت نامہ میں فرماتے ہیں کہ”میں پرسکون اور مطمئن دل، شاد و مسرور روح اور خدا کے فضل و کرم سے پر امید ضمیر لیکر بہنوں اور بھائیوں کی خدمت سے رخصت ہورہا ہوں اور اپنی ابدی آرام گاہ کی طرف سفر کررہا ہوں.”
    [صحفیہ انقلاب،ص:89]

    السلام علیک یا روح اللہ !

    ]]>
    https://urdulib.com/shia-word/tamsel-fatima/feed/ 0
    عورتوں کے حقوق امام خمینی( رح )کی نظر میں https://urdulib.com/islami-inghalaab/imam-khumani-or-khawateen/ https://urdulib.com/islami-inghalaab/imam-khumani-or-khawateen/#respond Tue, 31 May 2022 19:39:06 +0000 https://urdulib.com/?p=1239629 عورتوں کے حقوق امام خمینی رح کی نظر میں

    مریم حسن

    اسلام نے عورتوں کے ذمے بہت سے فرائض اور ذمہ داریاں عائد کی ہے، جو ان کے حقوق کے تحفظ کا تقاضا کرتی ہے۔ پوری تاریخ انسانی میں عورت کی ایک عجیب اور درد ناک داستان ھے قبل از اسلام بیٹیوں کو زندہ درگور کر دی جاتی تھی، عرب میں عورتوں پر فحش کلامی کا رواج عام تھا۔عورت کو عرب اپنے مشاعروں میں موضوع بحث بناتے تھے ۔اور ان پر فحش اشعار پڑھتے تھے۔اور تمام عرب قبائل میں کم ترین قیمت بھی عورتوں کی نہیں تھیں ۔اسی مہیب سائے میں فاران کی چوٹی سے ایک آفتاب علمتاب نمودار ہوا۔جسکے ضیاء پاش کرنوں سے ایک نئی زندگی اور ایک نئی صبح کا آغاز ہوا اور اس ذلت و خواری سے بھری زندگی کو آب حیات ملا اور پہلی بار انسانیت اپنے حقوق سے آشنا ہوئے۔رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس سسکتی، بلکتی عورت کی فریاد رسی کی۔ اس کے حقیقی مقام کومتعین فرمایا۔

    ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جو پہلے مراحل سے بہت مختلف تھی، یہ وہ دور تھا جس میں عورت مستقل اور تمام انفرادی، اجتماعی اور انسانی حقوق سے فیض یاب ہوئی، عورت کے سلسلہ میں اسلام کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جن کا ذکر قرآنی آیات میں ہوا ہے۔
    جیسا کہ ارشاد خداوندی ہوتا ہے:و لَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوف ” عورتوں کے لئے ویسے ہی حقوق بھی ہیں جیسی ذمہ داریاں ہیں۔
    خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل ہونا چاہیے جو حقیقتا ایک انسان کا حق ہوتا ہے درست ہے کہ مرد اپنے انسانی حقوق سے بہرہ مند ہوتے ہیں لیکن عورت اپنی وجود کی حقیقت اور صلاحیتیں جو ان میں چھپی ہے ان سے بہرہ مند نہیں ہوتی ہیں تو یہ روایات وسنت کے خلاف ہے۔اور عورتوں کو ان کا حق نہ دینا انکی نجی اور عمومی زندگی میں انہیں آزادی سے محروم کرنا در حقیقت ایک تشدد ہے۔ جو انکی ترقی اور رشد میں مانع بنتا ہے بلکہ پورے ایک معاشرے کے لئے رکاوٹ بن سکتی ہے ۔
    اسلام جو کہ ایک نعمت، موہبت اور فضل الٰہی ہے۔ جس نے تمام معیار کو تقوی قرار دیا، انسانیت کی اصل پہچان اسکی روح اور نفس کو قرار دیا نہ کہ انسان کی ظاہری جسم اور بدن کو ،مرد اور عورت خلقت میں دونوں مساوی ہے لیکن دونوں کی جنسیت فرق کرتی ہے دونوں کے حقوق اور انکے استعداد اور فطری تقاضوں پر ہے انسانی حقوق کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی انسان ہے عورت بھی اپنی سرنوشت میں اس طرح حق رکھتی ہے جس طرح ایک مرد رکھتا ہے ۔اسلام جتنا عورتوں کے لئے احترام کا قائل ہے اتنا مردوں کے لئے نہیں ہے ۔اسلام عورت کو نجات بخشتا ہے کہ کسی کے ہاتھ کا کھیلونہ نہ بنے بلکہ انسان ایک کامل انسان کی تربیت چاہتی ہے ۔
    امام رح فرماتے ہیں:ہم چاہتے ہیں کہ عورت اپنی انسانیت کے اونچے اور اعلی درجے تک پہنچیں اور مردوں کے ہاتھوں ایک پست ترین کھیلونہ نہ بنے جسکے ساتھ کوئی بھی آسانی سے کھیل سکے ۔

    عورتوں کے حقوق سے محروم ہونے کی سب سے بڑی وجہ خود عورت کا اپنے حقوق کی شناخت نہ ہونا ہے۔
    امام رح فرماتے ہیں کہ: انسانی تاریخ کے طویل دور میں کفر و شرک کی حکمرانی کے سبب قدیم و جدید ہر دور میں مختلف شکلوں سے عورت کو ذلت و حقارت کے ساتھ کنیز و خدمتگار کی زندگي بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے ۔ اس کی صرف ظاہری شکل و صورت پر نظر رکھی گئی اور لوگ عیش و مستی کے کھلونوں کی طرح اس سے کھیلتے رہے خصوصا´ عصر حاضر میں تو فیشن اور جدت کے نام پر اس سے بد ترین شکل میں فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور سنہری شمشیر سے گلا گھونٹنے والے یہی افراد خواتین کے حقوق اور آزادی کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں اور اپنی شخصیت ،عظمت اور حقوق سے نا واقف خواتین انکی “شیطانی آیات”اپنے لیے رہائی کی تلاش کر رہی ہیں ۔
    حالانکہ یہ نہیں معلوم کہ یہ لوگ انہیں موت کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔

    رسول خدا ص بھی اسلام کے شروع سے ہی خواتین کے حقوق کے احیاء پر زیادہ تاکید فرماتے تھے ۔ایک پاک و پاکیزہ مثالی معاشرے کی تخلیق میں ماں کی حیثیت سے خواتین کا جو کردار ہے اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ عشق ومحبت اور ایثارو قربانی کا اعلیٰ ترین جوہر رکھنے والی ”مائیں “ہی ایسے بچوں کی پرورش و تربیت کرسکتی ہیں جو کمال انسانیت پر فائز ہوسکیں ۔

    انسان سازی سے بہتر اور شرافت مندانہ اورکون سا کام ہو سکتا ہے ؟ اور خدا نے یہ عظیم خدمت خواتین کے سپرد کی ہے کہ وہ اعلی ترین انسانی کمالات سے خود کو مزین کریں اور انسان کہلانے کے سزاوار بچے ملک و قوم کے حوالے کریں ۔

    امام ماں کی آغوش کو ایک مکتب اور مدرسے سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: آپکی گود ایک مدرسہ ہے اس میں عظیم جوانوں کی پرورش کرنی ہے لہذا کمال حاصل کیجیے تاکہ آپکے بچے آپکے آغوش میں صاحب کمال بن سکیں۔
    پس اسلام ہی کے زیر سایہ میں عورتوں کے حقوق کے احیاء ممکن ہے اور اسلام ہی وہ آئین ہے جو خواتین کو وجود محترم ھونے کی حیثیت کے ساتھ ہر جانبہ حقوق دے سکتی ہیں۔

    اسلام سب سے زیادہ عورت کو ماں کی روپ میں اہمیت دیتی ہے ماں جو کہ اپنے بچوں کے لیے خدا کی طرف سے ایک ایک خاص فضل و کرم کا ذریعہ ہوتا ہے۔جسکی رضایت کو خدا نے اپنی رضایت قرار دیا ہے والدین کے حقوق میں ماں کا مقدم ہے کہ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں “حقوق میں جس ہستی کا حق تم پر سب سے زیادہ ہے وہ تیری ماں ہے اسکے بعد تیرا باپ ہے۔امام رہ نے اپنے سائنسی اور عملی سوانح عمری میں خاندانی نظام میں ماں کے بارے خاص رائے دی ہے امام رہ اپنی رائے میں ماں کو دو چیزوں سے موازنہ کرتے ہیں کہ انسانیت اور انسانیت کے لحاظ سے ماں کا قرآن پاک سے موازنہ کرنا ،ماں کا موازنہ انبیاء علیہم السلام سے کرنا کہ جس طرح انبیاء انسانیت کی تربیت اور آبیاری کرتے ہیں ۔ایک ماں کا کام بھی وہی ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کرے جس سے ایک معاشرہ ،ایک قوم نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی انسان سازی ہوگی ۔فرماتے ہیں کہ ماں کا حق ہے کہ انکی خدمت کی جائے معاشرے میں ماں کی خدمت ایک معلم بلکہ تمام لوگوں کی خدمت سے بالاتر ہے۔امام اپنے فرزند ارجمند کے لیے اپنی وصیت میں فرماتے ہیں کہ میرے عزیز بیٹے میری سب سے بڑی وصیت تمھارے لیے کہ،تمہاری بہت وفادار ماں کا حکم ہے، بہت سی حقوق، ماؤں کے شمار نہیں کیے جاسکتے اور صحیح طریقے سے پورے نہیں کیے جاسکتے۔ ماں کی ایک رات اپنے بچے کے لیے، ایک پرعزم باپ کے سالوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ ماں کی روشن آنکھوں میں شفقت و رحم کا مجسمہ رب العالمین کی رحمت کی چنگاری ہے۔ خدا متعال، ماؤں کے دلوں اور روحوں کو اپنے رحمت کے نور سے اس طرح ملاتا ہے کہ اسے کوئی بیان نہیں کر سکتیں ۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ “جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے”۔ اور یہ اس باریک تعبیر کے ساتھ آیا ہے جو اس کی عظمت کے لیے ہے اور یہ بچوں کے لیے آگاہی ہے کہ ان کی خوشی اور جنت ہے۔ ان کے قدموں کے نیچے اور ان کے مبارک قدموں کی مٹی تلاش کریں اور ان کی حرمت کو اللہ تعالیٰ کی حرمت کے قریب رکھیں اور ماؤں کی رضا اور اطمینان میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کریں۔ میرے پیارے بیٹے، اپنے ماں کی خدمت اور انکی رضایت کو حاصل کرنے میں میرے بعد بھی بیشتر کوشش کریں۔اور اسی طرح امام اپنے بیٹوں کو انکی بہنوں کے مقابل میں بھی مہر و محبت،صلح و ایثار کی رعایت کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔
    اسلام نے عورت کو مساوات، عزت و عصمت کا تحفظ، میراث ، مہر ، خلع کا حق، انفرادی حقوق ، تعلیم و تربیت کا حق ، مشورت کا حق رائے دینے کا حق اور ایک آدھی دنیا قرار دیا ہے اور بیٹی ،ماں اور بیوی ہونے اعتبار سے،اسلام نے ہر رشتے سے عورت کا ترکے میں حصہ رکھا ہے۔عورت اگر کمائے تب بھی اس کے ذمہ اسلام نے یہ نہیں کیا کہ وہ اولاد کی کفالت کرے۔ یہ ذمہ داری باپ کی ہے۔ ۔وہ تمام حقوق عطا کیے ہیں جو معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کےلئے ضروری ہے انکے عزت و عصمت و آبرو کے لیے پردے کو لازم قرار دی۔انکی دینی اور دنیاوی تعلیم کے حصول میں آذادی رکھی۔ اسلام ،خواتین کی آزادی کے خلاف نہیں ہے ۔
    امام رہ فرماتے ہیں کہ : اسلامی معاشرے میں عورت آزاد ہے اور انہیں کوئی بھی اسکول ، مدرسہ ، دفتر ،پارلیمنٹ اور مجلیسیں اور یونیورسٹیوں میں جانے سے نہیں روک سکتا۔ اسلام جس چیز سے روکتا ہے وہ اخلاقی فساد ہیں اور جن چیزوں میں فساد کے پھیلنے کا خدشہ ہو اس سے مردوں اور عورتوں دونوں کا روکا گیا ہے۔
    تعلیم انسان کو حیوانیت سے نکال کر اشرف المخلوقات کا درجہ دیتی ہے کیونکہ معاشرے کو تشکیل دینے کیلئے تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے اور خصوصاً ایک ماں کا ، ایک مقولہ کے مطابق مردکو تعلیم فقط اسی ایک مرد کے لیے ہے لیکن عورت کو تعلیم دینا گویا پورے ایک معاشرے کیلئے ہے
    اقبال اپنی شاعری میں عورت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
    وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
    عورت کی سب سے بڑی ذمہ داری جو بتائی جاتی ہے وہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی پروش ہے ، اور یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ اگر مربی ہی جاہل ہو تو تعلیم و تربیت کا کیا عالم ہو گا۔
    امام رہ فرماتے ہیں: “آپ خواتین ماں ہونے کا شرف رکھتی ہیں۔ اس عظمت میں آپ مردوں سے آگے ہیں۔ آپ پر بچوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے اور بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے۔ اچھی ماں اچھے بچے تربیت کرتی ہیں۔ خدانخواستہ اگر ماں گمراہ ہو تو اس کی گود سے بچے بھی برے ہی پروان چڑھتے ہیں گے۔”
    اسی طرح اپنے ایک اور بیان میں اسلام نے عورتوں کو جو اہمیت دی ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قم کی خواتین سے ملاقات کے دوران آپ نے ان کوخطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’مردوں نے آ پ کی گود میں پرورش پائی ہے۔ آپ مردوں کی مربی ہیں آپ اپنی اہمیت کو پہچانئے اسلام آپ کی اہمیت کو پہچانتا ہے۔
    تاریخ اسلام کے آغاز سے کی خواتین کی تعلیم سیکھنے اور علم حاصل کرنے کی بہت سی مثالیں اسلام موجود ہیں۔ان میں ایک یہ کہ زینب عطارہ جو خواتین کے بناؤ سنگھار کی خرید و فروخت کرتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ ص سے پوچھا کہ دنیا کی تخلیق کیسے ہوئی؟ خدا کے رسول نے اس کا جواب بھی تفصیل سے بیان دیا اور ابتدائے تخلیق سے تفصیل کے ساتھ اسے تعلیم دیا۔قرآن کریم نے مریم (سلام اللہ علیہا) اور فرعون کی بیوی آسیہ جیسی قابل خواتین کا تعارف کرایا اور ان کی تعریف صالح اور پرہیزگار خواتین کے طور پر کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآن میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو بطور کوثر ذکر کیا اور اس طرح روحانی کمالات کے حصول اور ہر ایک کے لیے نمونہ عمل ہونے میں خواتین کی اہلیت کو ثابت کیا۔
    حضرت زہرا (س) کی عظیم شخصیت کا تعارف اور تاریخ اسلام میں ان کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو مختلف اخلاقی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں خواتین کی قابلیت کا پتہ چلتا ہے۔
    یہودیوں کے جھوٹے الزامات سے مریم کو پاک و پاکیزہ قرار دینا ، ایک عورت کی خدمت اور حقوق کا دفاع تھا۔ قرآن کریم نے آسیہ جیسی عورتوں کے رائے ومشورے کو جن کا عقیدہ و کردار عقلی اور منطقی تھا ،مفید و مستحسن قرار دیا ہے ۔ اگر فرعون دوسرے امور میں بھی آسیہ کے عقلی اور معتبر نظریوں کی پیروی کرتا تو کبھی بھی بلا و مصیبت میں غرق نہ ہوتا اور خود کو ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ کا ایندھن نہ بناتا پس ایک آزاد اور صالح عورت، مردوں اور تمام معاشرے کی ترقی و کامیابی کے لئے بہترین مشاور و رہنما بن سکتی ہے ۔مردوں کی طرح عورتیں بھی صحیح و سالم معاشرے کی تعمیر ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور معاشرے میں رونما ہونے والے ہر طرح کے ظلم و فساد کا مقابلہ کرکے ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے سکتی ہیں۔
    امام رہ فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی کے لیے بے پناہ تعظیم اور اس نیک بیٹی کے ساتھ والہانہ محبت اس لیے ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ انکے پاس ایک خاص عظیم عورت ہے۔امام رہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کی ایک تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ تمام جہتیں جو ایک عورت کے لیے قابل فہم ہے ،جو تمام انسانوں کیلئے قابل فہم ہے وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا میں ظاہر ہے ۔آپ ع ایک عام عورت ،روحانی شخصیت،آسمانی شخصیت اور اور ایک عورت کی روپ میں انسانیت اور ایک کامل انسان کا نسخه تھیں۔
    امام خمینی خاندان میں خواتین کے تعلیمی کردار پر تاکید کے ساتھ سیاسی اور سماجی میدانوں میں خواتین کی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں “خواتین کو ملک کی بنیادی اقدار میں مداخلت کرنی چاہیے۔جس طرح مردوں کو سیاست میں مداخلت کرنا چاہیے اور اپنے معاشرے کو برقرار رکھنا چاہیے، اور اسکی حفاظت کرنی چاہیے، اسی طرح خواتین کو بھی مداخلت کرنے کا حق ہے اور انہیں بھی اپنے معاشرے کو بچانا چاہیے۔خواتین کو بھی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں مردوں کے شانہ بشانہ ہونا چاہیے، بلاشبہ اسلام نے جو کہا ہے اسے برقرار رکھتے ہوئے، کہ خدا کا شکر ہے، جو کہ آج ایران میں موجود ہے۔”اسلام کے آغاز اور اس کے بعد کی تاریخ میں عورتوں کی جہاد میں شرکت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ میدان جنگ میں خواتین جنگجوؤں کی مدد کرنا، کھانا پکانا، بیماروں کا علاج کرتی تھیں۔انس کہتے ہیں پیغمبر ص اپنے ساتھ جنگ میں ام سلیم انصار کے کچھ خواتین کے زخمیوں کی مدد کے لیے لے جاتے تھیں۔ جنگ احد میں مسلمان میدان جنگ سے نکل گئے اور ام عمارہ نے ہتھیار کے ساتھ رسول اللہ ص کا ور تاریخ اسلام میں ان کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو مختلف اخلاقی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں خواتین کی قابلیت کا پتہ چلتا ہے۔
    جن موضوعات کا بازار گرم ہے اور خواتین کے خیالات کو بگاڑنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ان شریک حیات کے انتخاب کے اختیار سے قطع نظر خواتین کو مردوں کا غلام سمجھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ طلاق کا حق مردوں کے ہاتھ میں ہے جو خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلہ اور اسلام نے عورتوں کو جو اختیار دیا ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔نکاح کے دوران یہ شرط رکھ سکتی ہیں، اب اس پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا، وہ بد اخلاق نہیں کرسکتا، اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی کرے تو اسلامی حکومت میں حرام ہے، اگر وہ نہ مانے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔ امام اپنے حق کے آخری پیغامات میں کہا کرتے تھیں۔
    “میں جوانوں ، لڑکوں اور لڑکیوں سے چاہتا ہوں کہ وہ اپنی آزادی و خود مختاری اور انسانی معیارات کو، چاہے رنج و زحمت ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے ، مغرب اور اس کے آوارۂ ملک وقوم آلہ کاروں کے ذریعے کھولے گئے برائیوں کے اڈوں میں جانے اور عیش و عشرت اور تجملات کی زندگی گزارنے پر قربان نہ کریں”۔
    امام خمینی رح کے نقطہ نظر سے ایک ملک کی ترقی اور خوشحالی کا دار و مدار خواتین کے وجود پر ہے جس کے پیش نظر اسلام نے انکے حقوق کی بھی بہت زیادہ تاکید کی ہے ایک عورت اپنی مثبت اور تعمیری وجود سے ملک و معاشرے کو اصلاح کی طرف لے جاتی ہے امام کے مطابق عورت سیاسی،اقتصادی اور اجتماعی کاموں میں آزادانہ طور پر حق رکھتی ہیں امام خمینی رح کا خیال ہے کہ مرد اور عورت نے مل کر یہ انقلاب برپا کیا۔ خواتین نے مردوں کے ساتھ متحد ہوکر آزادی اور اسلامی جمہوریہ کا نعرہ لگایا۔ شیر دل اور پرعزم خواتین نے مردوں کے ساتھ مل کر پیارے ایران کی تعمیر کی۔ اور امام نے رح اپنی روشن خیالی سے ان تمام غلط فہمیوں کو دور کیا جو لوگ عورتوں کے حقوق کے نسبت رکھتے تھیں۔

    ]]>
    https://urdulib.com/islami-inghalaab/imam-khumani-or-khawateen/feed/ 0
    رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای عالم اسلام کے ایک مفکر اور مصلح https://urdulib.com/daily-urdu-columns/sayed-ali-khamnai-mufakir/ https://urdulib.com/daily-urdu-columns/sayed-ali-khamnai-mufakir/#respond Tue, 17 May 2022 09:27:59 +0000 https://urdulib.com/?p=1239614 *رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای عالم اسلام کے ایک مفکر اور مصلح*

    *تحریر: سکندر علی بہشتی*

    دنیا کے مفکرین، ماہرین اور صاحب فکر ونظر اور دانشوروں کے افکار ونظریات کسی خاص قوم یا ملک تک محدود نہیں بلکہ اگر انسانی مسائل کا حل اس نظریے میں موجود ہے تو یہ انسانیت کا سرمایہ ہے، یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے سے آج تک فلسفی، تعلیمی، سیاسی، اقتصادی، تعلیمی و تربیتی اور فکری نظریات سے بشریت استفادہ کرتی آئی ہے، جس کی واضح مثال ان مفکرین کی کتابوں اور نظریات کامختلف زبانوں میں ترجمہ ہونا اور ان پر تحقیقی اداروں میں ہونےوالی ریسرچ ہے جس کے ذریعے ان کے تجربات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

    اسلامی مفکرین چاہے وہ کسی بھی ملک، مسلک یاخطے سے تعلق رکھتے ہوں، ان کے افکار بھی پوری امت کا سرمایہ ہیں جن پر مسلم مفکرین اور اہل قلم کو توجہ دینی چاہئے۔

    عالم اسلام کی بلند پایہ شخصیات ومصلحین جیسے سید جمال الدین افغانی، سید ابولاعلی مودودی، سید قطب، سید حسن البنا، محمد عبدہ، امام خمینی، استاد مطہری اور سید باقرالصدر سمیت سینکڑوں ایسی اسلامی شخصیات عالم اسلام کے گوشہ وکنار میں وجود میں آئیں جن کے افکار سے ہر طبقۂ فکر مستفید ہورہا ہے۔

    انہی اہم شخصیات میں سے ایک اہم شخصیت آیت اللہ خامنہ ای ہیں، جنہوں نے اپنی جوانی کے آغاز سے ہی عالم اسلام کی تحریکوں اور اسلامی مفکرین کا بغور مطالعہ کیا۔ خصوصاً مصر کی اور برصغیر کی اسلامی تحریکوں اور استعمار کے خلاف جدوجہد اور قائدین سے آپ کو خصوصی دلچسپی تھی، اسی وجہ سے آپ نے برصغیر کی آزادی میں مسلمانوں کے کردار اور اقبال بلند ستارہ مشرق جیسے افکار کو فارسی میں پیش کر کے مسلمانوں میں بیداری کی کوشش کی۔

    مصر کے معروف مفکر سید قطب کی کتابوں کا بھی آپ نے فارسی میں ترجمہ کیا یہ آپ کی وسیع النظری، آفاقی سوچ اور انتہائی گہری نظر کی علامت ہے کہ زبان ومسلک اور نظریے کے اختلاف کو حقیقت تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں سمجھتے اور علمی تبادلہ اور مسلم مفکرین کے افکار سے بلاتعصب اسلامی معاشرے کےلیے استفادہ کو آپ ضروری سمجھتے ہیں۔

    انقلاب اسلامی ایران کے اہم ستون کی حیثیت سے ہر قسم کی مشکلات کامقابلہ کیا، معاشرے میں آگاہی اور اسلامی بیداری کے ساتھ عملی طور پر سختیاں برداشت کیں اور انقلاب کی کامیابی کے بعد وزارت دفاع اور صدر مملکت جیسے عہدوں سے ہوتے ہوئے رہبریت کا منصب سنبھالا اور اس کے بعد سے ملک کی رہنمائی کے حوالے سے اپنا بھرپور ادا کر رہے ہیں۔

    ایک فقیہ، مفکر اور صاحب نظر شخصیت ہونے کے لحاظ سے مختلف میدانوں میں آپ کے نظریات، تجزئیے اور مؤقف انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جس پر اہل علم و دانش کو توجہ دینی چاہئے۔

    رہبر انقلاب کے نظریات اسلامی معاشرہ اور امت مسلمہ کی سربلندی، ترقی وپیشرفت اور مسائل کے حل کےلئے انتہائی راہ گشا ہیں۔

    ]]>
    https://urdulib.com/daily-urdu-columns/sayed-ali-khamnai-mufakir/feed/ 0
    قم المقدس میں رہبر انقلاب کے افکار پر ایک منفرد تقریب https://urdulib.com/news/afkare-rahbar/ https://urdulib.com/news/afkare-rahbar/#respond Mon, 16 May 2022 06:44:12 +0000 https://urdulib.com/?p=1239606 قم المقدس میں رہبر انقلاب کے افکار پر ایک منفرد تقریب

    15مئی بروز اتوار کوقم المقدس میں
    آثار رہبر معظم انقلاب اسلامی حفظہ اللہ اور ہماری ذمہ داریاں
    کے عنوان سے ایک نشست منعقد ہوئی۔
    جس میں رہبر معظم کی دوکتاب «مسئلہ فلسطین » اور «پیغمبر رحمت »کی رونمائی،آل پاکستان کوئز مقابلے کے نتائج کا اعلان اور رہبر انقلاب کے افکار پر تحریر وتحقیق کرنے والے اہل قلم کی تجلیل ہوئی۔

    نشست کاآغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔نظامت کے فرائض برادر کمیل شیرازی نے انجام دئیے۔

    جناب حسنین جعفر صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔
    مسئول آل پاکستان انعامی مقابلہ نصر اللہ فخرالدین نے مقابلے کے حوالے سے مختصر رپورٹ پیش کی اور مہمانوں کو قرعہ اندازی کی دعوت دی۔
    اور ڈاکٹر آخگری،ڈاکٹر مقیسہ،شیخ توحیدی،ڈاکٹر راشداور میثم ہمدانی نے پہلی پانچ پوزیشن کابذریعہ قرعہ اندازی انتخاب کیا ۔

    نشست میں مولانا محسن عباس مقپون نے رہبر انقلاب کی جامعیت اور اس کی ترویج کی ضرورت کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔
    معروف محقق ڈاکٹر حسن مقیسہ اور موسسہ انقلاب اسلامی کے شعبہ بین الملل کے مسئول ڈاکٹر اخگری نے نشست سے خطاب کیا۔
    جس کے بعدرہبر انقلاب کی دوکتابوں« مسئلہ فلسطین اور پیغمبر رحمت »کی رونمائی ہوئی۔

    سید روح اللہ رضوی نے ترانہ شہادت اور کمیل شیرازی نے اشعار پیش کئے۔
    آخر میں ڈاکٹر راشدنقوی نے تشکرانہ کلمات ادا کئے۔اور امام کی برسی کے موقع پر مضمون نویسی اور اماخمینی کے افکار پر لکھنے والے اہل قلم کے لیے بھی ایک پروگرام کااعلان کیا۔۔۔

    ]]>
    https://urdulib.com/news/afkare-rahbar/feed/ 0
    شیعہ جبری گمشدگیاں۔۔۔۔آخر کب تک اور کیوں؟ https://urdulib.com/political-articles/ja-bri-gumshudagi/ https://urdulib.com/political-articles/ja-bri-gumshudagi/#respond Sat, 14 May 2022 02:59:15 +0000 https://urdulib.com/?p=1239599 شیعہ جبری گمشدگیاں۔۔۔۔آخر کب تک اور کیوں؟
    سویرابتول

    شب کا سناٹا جیسے ہی پھیلتا جارہا تھا اُسے مزید وحشت نے گھیر لیا وہ پریس کے شعبے سےمنسلک ایک عام حب الوطن شیعہ عزادار تھا۔اکثر ایک سوال اسے مضطرب رکھتا کہ اگر وہ سن اکسٹھ ہجری کی کربلا میں ہوتا تو کہاں ہوتا؟ معمول کی طرح وہ کارخانے سےواپسی پر اپنے بستر پر لیٹا یہ سوچ رہا تھا جب نیند نے اُسے اپنی آغوش میں لے لیا۔یہ ١١ ستمبر ٢٠١٩ کی شب کا نصف پہر تھا جب اسکے گھر کا دروازہ بری طرح کٹھکٹایا گیا۔سفید لباس میں ملبوس چند افراد چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتےاسکی دہلیز پر موجود تھے۔اُسے اسکے جرم بتاٸے بغیر بے دردی سے گھسیٹتے یہ اہلکار انسانیت کی تضحیک کرتے پاٸے گٸے۔ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ آج کی کربلا میں اپنے کردار کو سوچ رہا تھا اسے علم نہ تھا کہ اسے مثل سید سجاد اسیری کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ حقیقی داستان ہے ابرار احمد کی جن کی زوجہ پچھلے تین سالوں سے انکی جبری گمشدگی کےبعد انکی واپسی کی منتظر ہے۔یہ خاتون نہیں جانتی کہ آیا ابرار احمد زندہ بھی ہے یا نہیں؟

    آٸیے ایک شیعہ جبری گمشدہ عزادار کی حقیقی داستان سنیں۔میرا نام حسین ہے مجھے بچپن سے اس نام سے عشق ہے۔حسینی ہونا ایک ناقابل معافی جرم ہے اسکا علم نہ تھا۔آج سے چند سال قبل مجھے شب کے نصف پہر اٹھاکر لے جایا گیا۔مجھے ایک تاریک زندان میں رکھا گیا جہاں نہ روشنی کا گزر تھا اورنہ ہوا کا۔پورادن آنکھوں پر پٹی بندھی رہتی اور ہاتھ پس پشت باندھے جاتے۔پورا دن کھڑا رکھا جاتا جس کی وجہ سے ٹانگوں میں شدید درد رہتااگر اجازت کے بغیر بیٹھ جاتا تو مارمار کر کھڑاکردیتے۔جب وہ مجھے مارتے اور میں مدد کے لیے اپنے امام عج کو پکارتا تووہ قہقہے مار کر کہتے کہ تمہارا امام عج تمہاری مدد کو کیوں نہیں آرہا؟ ایسےدردناک قطرے پلاٸے جاتے تھے مجھے کہ میں ٢٤ گھنٹوں تک چیختا رہتا تھالیکن کوٸی میری مدد کو نہ پہنچتا تھا۔اس دوران میرے گھر کا احوال یہ تھا جب مجھے دہشتگرد بنا کر ٹی وی پر پیش کیا جارہا تھا تو میرے بچوں کو اسکول سے نکال دیا گیا،میرے بچے تعلیم سے محروم ہو گٸے۔میری ماں مجھے یاد کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگٸی۔میرا باپ بستر مرگ پر آگیا میرے گھر کے معاشی حالات مزید خراب ہوگٸے میری بیوی دردر کی ٹھوکرے کھانے پر مجبور ہوگٸ۔میری نوکری میرا کیرٸیر تباہ ہوگیابالاآخر سات سال بعد مجھے میرا کوٸی جرم بتاٸے اور عدالت میں پیش کیے رہا کر دیا گیا آخراس سب کا ذمہ دار کون ہے؟

    یہ صرف ایک داستان نہیں ایسی ہزاروں داستانیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ہمارے ہزاروں جوان بنا کسی جرم کے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ابرار رضوی کی ڈیڑھ سالہ بیٹی اپنے باپ کی آمد کی منتظر ہے۔ڈیڑھ سالہ بچی روز اپنی ماں سے سوال کرتی ہے کہ بابا کہاں ہیں؟ آخر انکا جرم کیا ہے؟ شمیم حیدر جو پچھلے سات سالوں سے لاپتہ ہیں انکی ضعیف ماں سالوں سے اپنے بیٹےکی آمد کی منتظر ہے۔سیدعلی حیدر زیدی جو اپنے گھر کا واحد کفیل ہے کا شمار بھی شیعہ مسنگ پرسنز میں ہوتا ہے۔سید علی حیدر کے جانے کے بعد انکے اہل و عیال شدید معاشی بحران کاشکار ہیں۔فالج جیسے مرض سے لڑتے سید علی حیدر کے ماں باپ آج بھی اپنے بیٹے کی آمد کے منتظر ہیں۔ سید آفتاب نقوی، ظہیرالدین بابر، واجد حسین، سید قمر عباس رضوی، سید ثقلین جعفری، سید علی حیدر زیدی اور ایسے کئی جوان کال کوٹھڑیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ تو انہیں انکا جرم بتایا جاتا ہے اور نہ انہیں عدالتوں میں پیش کیاجاتا ہے۔

    آئیے ایک نظر ان لاپتہ جوانوں کے جرم پر ڈالتے ہیں،تاریخ گواہ ہے اور خفیہ ایجنسیوں کے سوالات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ لاپتہ شیعہ جوانوں کا سب سے بڑا جرم حسینی ہونا ہے اور اسی شناخت کے ساتھ پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں، یا ان جوانوں کو بی بی سیدہ زینب س کے حرم کا دفاع کرنے کے جرم میں لاپتہ کردیا جاتا ہے، ان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ رہبرمعظم اور آقا سید علی سیستانی کے فرمان پر لبیك کہتے ہوئے یہ پاکیزہ جوان داعش سے لڑے، یہ وہی داعش تھی جو نہ صرف شام و عراق بلکہ پاکستان، ایران کے ساتھ پوری دنیا فتح کرنا چاہتی تھی، یہ خونی تنظیم تو پاکستان کو یہودی و وہابی ریاست بنانا چاہتی تھی مگر ان پاکیزہ جوانوں نے گھر بار دوست احباب کو چھوڑ کر وطن عزیز کا دفاع کیا، اگر پاکستان آئین میں مقدسات کا دفاع کرنا جرم ہے تو عقل مند حضرات یہ سوال ضرور اٹھائیں گے کہ حرمین شریفین کا دفاع کرنا کس آئین و قانون کے تحت ہے؟ حالانکہ وہاں حرمین شریفین کو بھی خطرہ نہیں، وہاں تو صرف خانہ کعبہ کے نام نہاد رکھوالوں کو خطرہ ہے۔

    بالکل واضح بات ہے کہ مقدسات کا دفاع کرنا ہر شیعہ کا اعتقادی حق ہے، بلکہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ دینی مقدسات کا دفاع کرے۔ بالفرض اگر ان جوانوں کا کوئی جرم ہے تو دین اسلام میں مجرم کے حقوق بھی ہیں، اسلامی تعلیمات میں مجرم کو صرف اس کے انجام دئیے گئے جرم کی سزا دی جائے گی اس کے علاوہ اگر زبان، ہاتھ یا کسی اور طریقے سے اضافی عمل انجام دیا گیا تو اس کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور مرتکب فرد کے خلاف کاروائی انجام پائے گی۔ مثال کے طور پر چوری کے ملزم کو مجرم ثابت ہونے ہونے پر صرف چوری کی سزا دی جائے گی۔ اس کو تشدد کا نشانہ بنانا اس سے گالم گلوچ کرنا حتی گرفتاری کے وقت زد و کوب کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے لہذا ریاستی اداروں کی طرف سے غیرآئینی طور پر ماورائے عدالت لاپتہ کردینا اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے بلکہ اس سے انسان دشمنی کہا جائے تو بجا ہوگا۔

    شیعہ جبری گمشدگی کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑگیا۔ شیعہ نسل کشی کی طرح شیعہ جبری گمشدگی کاسلسلہ بھی ہنوزجاری ہے۔ایک محتاط انداز کے مطابق رواں ہفتےمیں آٹھ شیعہ جوان شب کی تاریکی میں لاپتہ کیے گٸے اورابھی تک کوٸی پرسان حال نہیں۔ملک میں عدالتیں ہیں، قانون کی بالادستی ہے یوں غیر آٸینی طور پر ماوراٸے عدالت لاپتہ کردینا انسانیت کی تضحیک ہے۔ جبری اغواہ یا لاپتہ افراد پر کیا بیت رہی ہے اور یہ کہاں ہیں؟ ایک کربناک سوال ہے۔ اس کا جواب جن کے پاس ہے وہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے مگر ظلم کا یہ سلسلہ کب تک چلے گا، مظلوم کی آہ اگر آسمانوں کو چیر کر عرش الہی تک پہنچ سکتی ہے تو زمین پر موجود تکبر و غرور کی یہ مٹی کی بتیاں کب تک ان آہوں سے محفوظ رہیں گی۔

    ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں
    سروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیں
    یہ رات یوں ہی دشمن تونہیں ہماری کہ ہم
    درازی شب غم کے سبب سے واقف ہیں
    نظر میں رکھتے ہیں عصر بلندی بامی مہر
    فرات جبر کے ہر تشنہ لب سے واقف ہیں
    کوٸی نٸی تو نہیں حرف حق کی تنہاٸی
    جو جانتے ہیں وہ اس امر رب سے واقف ہیں

    ہمارے لاکھوں جوان ایسے ہیں جو کال کوٹھڑیوں کی نذر ہوٸے اور کتنے ایسے ہیں جو سالوں سے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔نہ انکا جرم بیان کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔سالوں سے ایک مکتب کو یوں نشانہ بنانا انسانیت سوز عمل ہے اور ناقابل قبول ہے۔
    بقول شاعر:
    یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے، اسے اُٹھا لو
    ’’اُٹھانے والوں‘‘ سے کچھ جُدا ہے، اِسے اُٹھا لو
    وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اُٹھا لیا تھا
    یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے، اِسے اُٹھا لو
    اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے، کیا نہیں
    مگر یہ اپنی ہی بولتا ہے، اِسے اٹھا لو

    ]]>
    https://urdulib.com/political-articles/ja-bri-gumshudagi/feed/ 0
    یوم معلم وشہید مطہری کی برسی کی مناسبت سے اسلامک سٹوڈنٹس شگر قم یونٹ کی جانب سے ایک علمی وفکری نشست https://urdulib.com/news/elmi-nishist-mutahari/ https://urdulib.com/news/elmi-nishist-mutahari/#respond Sun, 08 May 2022 16:32:06 +0000 https://urdulib.com/?p=1239591 یوم معلم وشہید مطہری کی برسی کی مناسبت سے اسلامک سٹوڈنٹس شگر قم یونٹ کی جانب سے ایک علمی وفکری نشست کا انعقاد کیا۔
    اس نشست سے مولانا عمران نواز صاحب نے خطاب کیا۔
    خطیب محترم نے رہبر انقلاب کی نظر میں علما وطلاب کی تین اہم ذمہ داریوں پر گفتگوکرتے ہوئے کہا:
    رہبر انقلاب نے علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں بیان کی ہے۔
    1۔فہم دین
    2۔ابلاغ دین
    3۔نفاذ دین
    جب فہم جامع وکامل ہو تو ابلاغ اور نفاذ آسان ہوگا۔
    فہم پہلا مرحلہ ہے۔دین کے بارے میں ہمارا تصور کیسا ہو؟
    آیت اللہ مصباح کے مطابق ہمارا تصور دین ناقص وپراکندہ ہے۔اس کے روابط اور جامعیت پر نظر نہیں، اس لیے احکام وتعلیمات بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ہمیں ایک سسٹم کے طور پر دین کو سمجھنا چاہیے۔دین کا اگر سیسٹمیٹک نگاہ نہ ہو تو اس وقت حاکمیت دینی ممکن نہیں ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کہ روزانہ جو دین سیکھتے ہیں وہ سیسٹمیٹک انداز میں ہو،اور روزانہ کی دین شناسی کا اس کلی سسٹم کے ساتھ ربط اور جایگاہ کی شناخت بھی ضروری ہے۔
    مبانی،روش اور سسٹم کے تحت سمجھیں تو حقیقی دین کا آپس میں ارتباط معلوم ہوگا۔

    فھم دین میں ایک اہم مشکل، دین میں کسی ایک پہلو پر زیادہ توجہ اور دوسرے پہلووں سے غفلت برتنا ہے۔اس لیے ہر ایک اپنے شعبہ کو ہی درست، باقی شعبوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ جبکہ ہمیں دین پر جامع وکلی نگاہ ہونی چاہے۔
    آیت اللہ مصباح، تین اہم نکات کی جانب طلاب کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تین اہم نکات طلاب مدنظر رکھیں۔
    1۔اسلام کی حقیقی شناخت کاحصول۔
    2۔اخلاقی ومعنوی سطح کوبلند کرنا۔

    3۔ زمانے کی ضروریات کی شناخت اور اس کے حصول کی صلاحیت کو اپنے اندر پیدا کرنا۔

    منظومہ فکری فھم دین کیلئے بہت ضروری ہے۔حوزہ علمیہ کے جن برجستہ شخصیات نے دین کونظام کے طور پر پیش کیا ۔ ان میں شہید صدر، شہید مطہری اور رہبر انقلاب سب سے نمایاں ہیں۔
    شہید مطہری نے ایک نئی روح حوزہ میں پھونکی۔ رہبر انقلاب فرماتے ہیں کہ ا گر مجھے نصاب بنانے کی ذمہ داری دیں توشہید مطہری کےآثار کو ضرور اس میں شامل کروں گا۔

    انقلاب کے آغاز میں دو طرز تفکر تھا۔

    پہلا طاغوت کے مقابلے میں مزاحمت کرنا
    دوسرا لوگوں کی فکری بیداری

    یعنی بعض نے مزاحمت کواہمیت دی اور بعض نےفکری بیداری کے طریقہ کو۔
    لیکن رہبر معظم سید علی خامنہ ائ نے دونوں طرز تفکر سے استفادہ کیا اور دونوں طرز تفکر کو جمع کیا۔
    سب سے نمایاں شخصیت رہبر انقلاب ہیں۔ آپ نے نظاموں کو سمجھنے کے لیے عرب وغیر عرب مفکرین کے لٹریچر کامطالعہ کیا۔
    ساتھ ہر وہ سرگرمی انجام دی جو لوگوں کو اسوقت کے ظالم حکمران کو کمزور کرنے میں مدد دے سکے۔

    کوئی تحریک، اگر مزاحمت سے خالی ہو تو فقط فکری سرگرمی ہے۔
    لیکن اگر کوئی مزاحمت، فکر سے خالی ہوتوقدامت پسندی وتنگ نظری کا شکار ہوگی۔

    جب مزاحمت وفکری بیداری کسی تحریک میں شامل ہو تووہی کامیاب تحریک ہے۔

    مولانا عمران نواز نے آثار رہبری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ:
    رہبر انقلاب کی کتاب “طرح اندیشہ”(ایمان، توحید، نبوت، ولایت) کو نظریاتی اور “ڈھائی سوسالہ انسان” کو عملی راہنما قرار دے کر آثار مطہری کا مطالعہ کرنا جوانوں کے لیے مفید ہے۔

    ]]>
    https://urdulib.com/news/elmi-nishist-mutahari/feed/ 0