پاسبان حرم

0 388

 

پاسبان حرم، عطیه بتول

مختصر تعارف کتاب

پاسبانِ حرم سے مراد وہ پاک طینیت جوان ہیں، جنہوں نے اپنے پاکیزہ لہو سے حرمِ سیدہ سلام علیہا کی حفاظت کی۔ وہ محافظینِ حرم جو وقت کے یزید کے خلاف سینہ سپر ہوٸے اور حرمِ آلِ رسول کا دفاع کیا۔ تاریخِ اسلام میں سب سے پہلے محافظ، نفسِ رسول علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام ہیں، جنہوں نے اپنی جان و مال سے پیغمبرِ اسلامﷺ کا دفاع کیا اور خواتین میں سیدة نساء العالمین پہلی مدافع ولایت کے طور پر سامنے آتی ہیں، یعنی مدافعین کی تاریخ نئی نہیں ہے بلکہ ظہورِ اسلام سے ہے۔ آج “کلنا عباسک یا زینب” کا نعرہ بلند کرتے یہ عشاق حرمِ آل رسول کا دفاع کرتے دکھاٸی دیتے ہیں۔ یہ جوان معاشروں کو شہادت کا درس دیتے ہیں اور شہادت کے فرھنگ کو دوسری نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ سب مدافعینِ حرم ولایت کے پیرو اور بصیرت کے مالک ہیں۔ ان جوانوں نے امام عصر کی غیبت کے زمانے میں بھی کربلا کا راستہ فراموش نہیں کیا۔

پاکستان کی سرزمین میں بھی ایسے جری اور بابصیرت پاسبان ملتے ہیں، جنہوں نے اپنے لہو کے ذریعے اپنے عقاٸد اور آلِ رسول کے مقدسات کی حفاظت کی۔ بلاشبہ خیمہ زینب کے ان پاسبانوں کی داستانیں قابلِ تحسين ہیں۔ یہ کتاب مدافعانِ حرم اور حرمِ اہلِبیت کے جاں نثاروں کی داستان ہے۔ اس قدر عمدگی اور خلوص سے ان اوراق میں الفاظ پروٸے گئے ہیں کہ پڑھنے والا اپنے آپ کو شہداء کی محفل میں محسوس کرتا ہے۔ بلاشبہ شہداء کا تذکرہ دل و دماغ کو نورانیت اور پاکیزگی سے معطر کرتا ہے۔ اس اہم موضوع پر قلم اٹھانے کے لیے ہم خواہر عطیہ بتول کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ پرودگارِ عالم اُن کی اس ادنیٰ کاوش کو بارگاہ جناب زہراء سلام علہیا میں قبول کریں آمین۔

 

تبصرے
Loading...