شہید مطہری امام خمینی کی نگاہ میں

0 14

شہید مطہری امام خمینی کی نگاہ میں

شکیلہ بتول

انسانی تاریخ میں بہت سے نظریاتی شخصیات منصہ شھود پر ابھرے جن کے افکار کو مورخین نے سنہرے حروف میں قلم بند کر کے آنے والی نسل کی رہبری کے لئے محفوظ کر لیا۔ ان شخصیات میں سے ایک ممتاز اور چمکتا ہوا ستارہ شہید مرتضی مطہری ہیں جنہوں نے قدامت پسندانہ اسلام سے یکسر مختلف عملی زندگی میں قابل نفاذ اسلام کا روشن چہرہ تحریری وتقریری قالب میں ڈھال کر اپنے ہم عصر فقہاو علماء اور اساتذہ سے داد تحسین وصول کیا۔ شہی د کے معترفین میں ایک نمایاں شخصیت خود رہبر کبیر روح اللہ موسوی خمینی ہیں جو شہید کو پرثمر درخت اور فرزند عزیز جیسے القابات سے پکارتے تھے۔ عظیم مفکر، فلسفی استاد شہید مرتضی مطہری رح کے بارے میں امام خمینی رح کے کچھ اقوال قلمبند کرکے علم کے متلاشیوں کو اس شہید مفکر کی پاک روح سے آشنا کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

1.۔ شہید مطہری علم و تہذیب کا نمونہ :
شہید مطہری جو علمی میدان میں علوم و معارف کا ایک خزانہ ہیں،اسی طرح اخلاقی میدان میں بھی وہ مہذب نفس کے ساتھ خودسازی، تعبد و بندگی کی روح اور دینی حدود کی پاسداری بھی رکھتے تھے۔ وہ پیغمبر ص کے حقیقی اور سچے پیروکار کی صورت میں حوزہ اور یونیورسٹیوں دونوں کے طلاب کے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں۔ امام خمینی نے ان کے بارے میں فرمایا:
“آپ برادران اور خواہران کہ جو اس مدرسہ”مدرسہ عالی شہید مطہری” میں زیر تعلیم ہیں۔ اپنے برنامہ کو ایسے بنائیں کہ آپ میں سے بہت سارے مطہری یا کم سے کم ایک مطہری بن سکیں۔ حوزات اور یونیورسٹیوں میں اخلاقی اور تہذیبی نظام ہو، تاکہ مرحوم مطہری جیسے افراد بن کر معاشرہ کے کام آسکیں”۔(1)

2. شہید شجرہ طیبہ :
قرآن کریم نے حق ، ایمان اور حقیقت جو مومن کو شجرہ طیبہ اور باطل،کفر اور حق ستیز کافر کو شجرہ خبیثہ سے تشبیہ دی ہے۔امام خمینی نے ان کو پر ثمر درخت کے ساتھ تشبیہ دی، جس کو قرآن میں شجرہ طیبہ کے عنوان سے یاد کیا ہے۔امام خمینی فرماتے ہیں:
“مجھے امید تھی کہ اس پر ثمر درخت سے، علم و ایمان کے وہ میوے حاصل کئے جائیں جو بڑے دانشمند پیدا کرسکیں، لیکن افسوس کہ جنایتکاروں نے مہلت نہیں دی، اور ہمارے پیارے جوانوں کو اس درخت کے پاک و طیب میوہ سے محروم کیا”۔(2)
یہ افسوس کی بات ہے کہ خیانتکاروں کے ہاتھوں، حوزات علمی و اسلامی اس ثمر بخش درخت سے محروم ہوئے۔ مطہری میرے عزیز بیٹے اور حوزات دینی اور علمی کے لیے مضبوط معاون اور ملک و ملت کے لیے ایک مفید خدمت گزار تھے۔(3)

3.۔ جسم کاٹکڑا:
امام خمینی اور شہید مطہری کے تحریروں اور گفتار سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو شخصیات کے درمیان کتنا وسیع اور گہرا رابطہ تھا، اور جو ایک دوسرے کے بارے فرماتے یا لکھتے تھے وہ صرف زبان سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک دوسرے کی معرفت اور شناخت کی بناء پر تھا۔ شہید مطہری امام خمینی کو جانِ جاناں، پہلوانوں کے پہلوان، ایک عالیقدر استاد اور حسنہ الٰہی سمجھتے تھے۔امام خمینی شہید کے بارے میں فرماتے ہیں:
“میں اپنے ایسے عزیز فرزند سے محروم ہوگیا، ایسے فرد کے غم میں بیٹھا ہوں جو میری پوری زندگی کا نتیجہ اور حاصل تھا، اس فرزند اور عالمِ جاودان کی شہادت کے باعث اسلام میں ایک ایسا شکاف اور خلا واقع ہوا کہ جس کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لی سکتی”۔(4)
” اگرچہ میں نے اپنے عزیز فرزند اور پارہ تن کو کھو دیا ، لیکن مجھے افتخار ہے کہ اسلام میں ایسا فداکار فرزند تھا، مطہری روح کی پاکیزگی، ایمان کی قوت اور قدرتِ بیان میں بے نظیر تھے، وہ چلے گئے اور پرواز کرگئے۔ لیکن دشمن یہ جان لے کہ اس کے چلے جانے سے شہید کی علمی، اسلامی اور فلسفی شخصیت ہمیشہ باقی رہے گی۔”(5)
بہت سارے لوگ اپنے بعد کچھ قلمی آثار چھوڑ جاتے ہیں، لیکن ان کے وہ تمام آثار مفید اور سودمند ہوں شک و تردید ہے، بعض اوقات ان آثار کے منفی اور نامطلوب اثرات بھی ہوتے ہیں لیکن اس قانون کلی سے کچھ مستثنیات بھی پائے جاتے ہیں، اور وہ یہ کہ امام خمینی کہ جومکتب امام صادق ع کے شاگرد ہیں کہ جو واقعی میں حق و باطل کی پہچان رکھتے تھے، امام خمینی شہید مطہری کے بارے میں فرماتے ہیں:
“شہید مطہری کی سالروز شہادت ہے کہ جو کم عمری میں ہمیشہ رہنے والے آثار بطور یادگاری چھوڑ گئے، وہ بیدار ضمیر کی کرن، مکتب اہلبیت سے روح سرشار تھی، انہوں نے اپنے روان قلم اور مظبوط فکر سے مسائل اسلامی کی تحلیل اور فلسفی حقائق کی توضیح کو عامیانہ زبان میں جامعہ کی تعلیم و تربیت کی۔”(6)
“شہید کے علاؤہ میری نظر میں ایسا کوئی فرد نہیں جس کے آثار کے متعلق میں یہ کہوں کہ وہ آثار بغیر استثناء اچھے، انسان ساز ہیں،آپ نے ملک کے لئے بہت سی خدمات انجام دی، انہوں اس مشکل دور میں جس دور میں دم گھٹ رہا تھا، بہت بڑی خدمت کی ہے”(7)

4. امام خمینی کی آرزو
شہید مطہری، ان کے آثار ، اور انکی علمی و عملی شایستگی کے متعلق جو امام خمینی کی دقیق اور دیرینہ شناخت تھی، اس لئے ا امام کی آرزو تھی کہ شہید مطہری جمہوری اسلامی کے دور میں بھی ہوتے، تاکہ لوگ ان کے وجود سے فیض حاصل کرتے، جیسے کہ شہید صدوقی کہتے تھے: امام خمینی کا وہ جملہ جو انہوں نے شہید کے بارے میں کہا تھا، کبھی نہیں بھولوں گا، امام فرماتے تھے:
“میری آرزو تھی کہ مطہری زندہ ہوتے، اور جمہوری اسلامی کے دور میں، ایران کے معاشرہ اور مسلمان برادران ان کے وجود سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرتے”۔(8)

حاصل عمر
یقینا ایک شاگرد کے لئے اس سے بڑی کیا بات ہو سکتی ہے کہ خود استاد اس کی مدح و ثنا میں رطب اللسان ہو امام خمینی اپنے شاگرد رشید کے بارے میں فرماتے ہیں میں اپنے عزیز فرزند سے محروم ہو گیا ایسے فرزند کے غم میں بیٹھا ہوں جو میری پوری زندگی کا حاصل شدہ نتیجہ تھااس فرزند کی شھادت کے باعث اسلام میں ایک ایسا خلا واقع ہوا ہے کہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

نتیجہ
آخر میں اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی کہ جو تحصیل علم میں قدم بڑھانا چاہتے ہیں،جو صحیح اور عقایدِ حقہ کو خرافاتی عقائد سے متمایز کرنا چاہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ اس شخصیت والا مقام کے آثار سے استفادہ کریں۔ کیونکہ شہید عرفان و حکمت، کلام و فقاہت، دین و سیاست کے آسمان کا ایک درخشندہ اور چمکتا ہوا ستارہ ہے۔جو مشعل امام صادق ع کے مکتب میں روشن ہوجائے، وہ کبھی بجھتی نہیں۔علم و ایمان کے ہتھیار اور شہادت کا لبادہ اوڑھ کر قرآن کی حفاظت کے لیے انسانی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اِنہی صفات کے مالک شہید مرتضی مطہری بھی تھے۔

حوالہ جات:
1. صحیفہ امام، ج14، ص168-169.
2.صحیفہ امام، ج 14، ص 325.
3. صحیفہ امام، ج 3، ص 187۔
4. صحیفہ امام، ج 7، ص 178.
5. صحیفہ امام، ج 7، ص 178.
6. صحیفہ امام، ج 14، ص 325.
7. صحیفہ امام، ج 16، ص 242.
8. صحیفہ امام، ج 2، ص 16

تبصرے
Loading...