امام اورامامت کا دفاع

امامت کي عظيم منزلت کا اظہار:

کسي بھي چيز کے دفاع کا بہترين طريقہ يہي ہے کہ لوگوں کو اس چيز کي عظمت اور اہميت سے آگاہ کر ديا جائے۔ جناب فاطمہ زہراٴ نے اس طريقے سے بطريقِ احسن فائدہ اٹھايا اور مختلف طريقوں سے امامت کے بلند مقام اور عظيم مرتبے کو بيان کيا۔

١۔مقامِ امامت کي مرکزيت

(i) مانند کعبہ:

بي بي فاطمہٴ نے فرمايا: مثلُ الاِمامِ مثلُ الْکعبۃِ اِذْ تُوْتيٰ وَ لَاتآتي۔ امام کي مثال خانہ کعبہ کي مانند ہے کہ لوگوں کو (طواف کے لئے) اس کے پاس جانا چاہئے نہ کہ کعبہ لوگوں کے پاس آئے گا۔ (بحار الانوار جلد ٣٦)

(ii) مرکزِ معرفت :

بي بي نے فرمايا: و ھو الامام۔۔۔ قطبُ الاَقطابِ۔ وہ امام ہے۔۔۔ جو تمام عارفوں کي توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ (رياحين الشريعہ جلد ١)

(iii) وارثِ انبيائ :

اس بارے ميں بي بي زہراٴ فرماتي ہيں: ۔۔۔ و نحن ورثۃُ انبيائہ۔ اور ہم (اہلبيت) اس کے انبيائ کے وارث ہيں۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد، فرہنگ سخنان فاطمہ)

٢۔امامت کا فلسفہ او رمقصد

(i) نظم اور اتحادِ امت:

جناب فاطمہ زہراٴ نے اس بارے ميں فرمايا: فجعلَ اللّٰہُ ۔۔۔ طاعتنَا نِظاماً لِلملّۃِ وَ امامتنا اماناً للفرقۃ۔ خدا نے ہم (اہلبيت) کي اطاعت کو امت کے لئے (اجتماعي) نظم کي برقراري کا سبب اور امامت و رہبري کو تفرقہ سے محفوظ رہنے کے لئے (عاملِ وحدت) قرار ديا ہے۔ (الاحتجاج طبرسي، فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

ايک اور مقام پر فرمايا: اما و اللّٰہِ لو ترکوا الحقَّ علٰي اھلہِ و اتّبعوا عترۃ نبيّہ لما اختلفَ فِي اللّٰہِ اثنانِ۔ خدا کي قسم! اگر حقِ (امامت) کو اس کے اہل کے حوالے کر ديتے اور اپنے نبي کي عترت کي پيروي کرتے تو خدا کے بارے ميں دو افراد بھي اختلاف کا شکار نہ ہوتے۔ (بحار الانوار جلد ٣٦)

يہ حديث بيان کرتي ہے کہ ائمہ برحق کي امامت، نہ صرف امت کي سياسي اور اجتماعي وحدت کي ضمانت ديتي ہے بلکہ پوري دنيا ميں وحدت اعتقادي کا سبب بھي بن سکتي ہے۔

(ii) دائمي نعمت، ابدي نجات اور اجتماعي عدالت:

بي بي فاطمہ زہراٴ نے فرمايا:

ابوا ھٰذہ الامّۃ محمد و علي يقيمان اودھم و ينقذانہم من العذاب الدائم ان اطاعوھما و يبيحانہم النعيم الدائم ان وافقوھما۔

محمد و علي اس امت کے باپ ہيں جو ان کي انحراف کو سيدھا کرتے ہيں۔ اگر لوگ ان دو کي اطاعت کريں تو يہ ان کو دائمي عذاب سے نجات ديں گے اور اگر ان کي موافقت کريں گے تو (خدا کي) باقي رہنے والي نعمتوں سے نوازيں گے۔ (بحار الانوار جلد ٣٦)

بي بي زہراٴ نے انصار و مہاجر عورتوں کے درميان جو خطبہ ديا تھا اس ميں ايک مقام پر فرماتي ہيں: خدا کي قسم اگر عليٴ کو زمامِ امور سونپ ديتے، جيسا کہ نبي۰ نے ان کے ذمہ لگايا تھا، اور واضح حجت کو قبول کرليتے، تو وہ لوگوں کو بہ آساني راہِ راست پر لے جاتے اور ہر ايک کا حق اس کے سپرد کر ديتے کہ کوئي نقصان نہ اٹھاتا اور ہر شخص اپني محنت کا پھل وصول کرليتا۔ وہ اس اونٹ کو صحيح سالم منزل مقصود تک پہنچا ديتے اور اس کي حرکت کسي کے لئے باعثِ تکليف نہ ہوتي اور عدالت کے پياسوں کو حقيقت کے آبِ شيريں سے سيراب کر ديتے۔۔ وہ چشمہ کہ جس سے فوارے کے طرح شفاف پاني پھوٹتا ہے اور ذرا بھي نہيں گدلاتا۔ (الاحتجاج طبرسي، فرہنگ سخنان فاطمہ)

ائمہ کي امامت کا اثبات اور مصداق کا تعين

بي بي فاطمہٴ نے امامت کے مرتبے کي وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کے حقيقي مصاديق کي بھي وضاحت فرمائي اور نام لے کر ان کي امامت کا ذکر کيا۔

١۔صحيفہ فاطمہ ميں بارہ امام

صحيفہ فاطمہٴ ميں کيا ہے؟ اس خدائي راز سے صرف پيغمبر اکرم۰ اور اہلبيتٴ واقف ہيں، ليکن جابر بن عبد اللہ انصاري جيسے بعض صحابي، بي بي فاطمہٴ کي اجازت سے، اس کے بعض عبوري يا جزئي مضامين سے واقف ہوگئے تھے۔

جابر نقل کرتے ہيں: ميں بي بي فاطمہٴ کي خدمت ميں پہنچا اور وہاں ايک نوراني صحيفہ ديکھا۔ ميں نے پوچھا: يہ کيا ہے؟ تو فرمايا: ھٰذا اللّوح اَھداہ اللّٰہُ عز و جل الي رسولہ، فيہ اسمُ ابي و اسم بعلي و اسم ابنَيَّ و اسمائُ الاوصيائِ من ولدي فاعطانيہ ابي ليسرَّني بذٰلکَ۔ يہ وہ لوح ہے جو اللہ عز و جل نے اپنے رسول کو ہديہ کي ہے، اس ميں ميرے بابا، ميرے شوہر، ميرے دو بچوں اور ميري اولاد ميں سے اوصيائ کے نام مرقوم ہيں۔ پس يہ ميرے بابا نے مجھے عطا کي تاکہ مجھے مسرور فرمائيں۔

جابر نے پوچھا: جو بارہ نام اس ميں ہيں، وہ کس کے ہيں؟

فرمايا: ھذہ اسمائ الاوصيائ اوّلہم ابن عمي و احد عشر من ولدي آخرھم القائم۔ يہ (نبي کے) اوصيائ کے نام ہيں۔ ان ميں سے سے پہلے ميرے چچازاد (علي) ہيں اور گيارہ ميري اولاد سے ہيں جن ميں سے آخري قائم ہے۔

جابر کہتے ہيں: ميں نے اچھي طرح غور کيا تو نامِ محمد تين مقامات پر نامِ علي چار مقامات پر لکھا ہوا نظر آيا۔ (بحار الانوار جلد ٣٦، فرہنگ سخنان فاطمہ)

ايک اور روايت ميں آيا ہے کہ: فيھا اسمائ الائمۃِ من ولدي۔ اس صحيفے ميں ائمہ کے نام ہيں جو ميري اولاد ميں سے ہوں گے۔ (فرہنگ سخنان فاطمہ)

ايک تيسري روايت ميں آيا ہے کہ بي بي زہراٴ نے فرمايا: علي¾ خير من اُخَلِّفُہُ فيکمْ و ھو الامامُ و الخليفۃ بعدي و سبطاي و تسعۃ¾ من صلب الحسين، ائمۃ¾ ابرار¾ لئنِ اتبعوھم وجدتموھم ھادين مہديين و لئن خالفتموھم ليکون الاختلاف فيکم الي يوم القيامۃ۔ تمہارے درميان اپني جانشيني کے لئے علي کو چھوڑ رہا ہوں جو بہترين ہے۔ وہ امام اور ميرے بعد خليفہ ہے اور ميرے دو بيٹے اور حسينٴ کي اولاد ميں سے نو افراد نيک امام ہيں ۔ تم انہيں ہدايت دينے والے اور ہدايت يافتہ پاو گے۔ اور اگر ان کي مخالفت کرو گے تو روزِ قيامت تک اختلاف کا شکار رہو گے۔ (بحار الانوار جلد ٣٦)

٢۔بعض ائمہ طاہرينٴ کي امامت کا واضح بيان

حضرت زہراٴ نے نہ صرف يہ کہ کلي طور پر بارہ اماموں کي امامت کا دفاع کيا اور بلکہ کبھي کبھار موقع محل ديکھتے ہوئے بعض ائمہ کا خصوصي طور پر تذکرہ بھي فرمايا چنانچہ اپنے زمانے کے امام، حضرت عليٴ ‘ کہ جن کي امامت کا معاملہ بنيادي حيثيت اختيار کر گيا تھا’ کي امامت پر خاص طور پر تاکيد فرمائي۔ اس حوالے سے ہم بعض نمونوں کي جانب اشارہ کرتے ہيں:

١۔ بي بي نے فرمايا: ” آ نسيتمْ قولَ رسولِ اللّٰہِ يومَ غدير خمّ من کنت مولاہ فعليّ مولاہ و قولہُ انت بمنزلۃ ہارون من موسيٰ۔ ” کيا تم لوگوں نے رسول اللہ کے روزِ غدير خم کا قول بھلا ديا ہے کہ (آپ۰ نے فرمايا:) جس کا ميں مولا ہوں علي بھي اس کا مولا و رہبر ہے؟ اور آپ۰ کا يہ فرمان کہ : اے علي ميرے ساتھ تمہاري نسبت وہي ہے جو ہارون کي موسيٰ کے ساتھ تھي۔ (الغدير جلد ١)

مدينہ کے ايک نادان شخص نے امام عليٴ کي مذمت کي تو بي بي فاطمہٴ نے اس سے فرمايا: و ھو الامام الربانيّ و الہيکل النوراني، قطب الاقطاب و سلالۃ الاطياب، الناطق بالصواب، نقطۃ دائرۃ الامامۃ و ابو بنيہ الحسن و الحسين الذينِ ہما ريحانتي رسولِ اللّٰہ سيدَيْ شباب اہل الجنّۃ۔ وہ (علي) امامِ رباني، مجسم نور، عارفوں کي توجہ کا مرکز، طيب و طاہر خاندان کے فرزند، حق گو، دائرہ امامت کا مرکزي نقطہ، اور ميرے بيٹوں حسن اور حسين کے بابا ہيں جو کہ گلستانِ رسول۰ کے دو خوشبودار پھول اور جوانانِ جنت کے سردار ہيں۔(رياحين الشريعہ، فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

عليٴ کا زبردست دفاع

بطورِ امامِ زمانہ اور بطورِ خليفہ بلافصل، بي بي زہراٴ نے حضرت عليٴ کي امامت کا زبردست دفاع کيا کيونکہ يہي امامت کي بنياد ہے۔ اس دفاع کو ہم چند موارد ميں بيان کر سکتے ہيں:

ا۔ امامت حضرت عليٴ کا بيان اور اس کا اثبات:

اس کي جانب گذشتہ سطور ميں اشارہ کيا جاچکا ہے۔

٢۔ حضرت عليٴ کے قابلِ فخر ماضي اور فضائل کا بيان:

بي بي فاطمہٴ کي جانب سے حضرت عليٴ کے دفاع کا ايک اور طريقہ يہ تھا کہ بوقتِ ضرورت آپٴ کے طويل قابلِ فخر ماضي اور بے شمار فضائل کو بيان کرتي تھيں۔ 

ياد رہے کہ کسي کے فضائل کا بيان اس وقت موثر واقع ہوتا ہے جب بولنے والا خود اس کا معتقد ہو۔ بہت سے لوگ ہيں جو عليٴ کے فضائل بيان کرتے رہے ليکن اپنے عمل اور کردار ميں اس کے اقرار اور ان کي پابندي سے دور رہے۔ ليکن جناب فاطمہ زہراٴ اپنے پورے وجود کے ساتھ فضائل عليٴ کي معتقد اور معترف تھيں۔

ايک دن رسول اللہ ۰ نے خانداني محفل ميں عليٴ کے فضائل کي جانب اشارہ کيا اور عليٴ سے اپني محبت کي شدت اور دلي وابستگي کا اظہار بي بي فاطمہٴ کے سامنے کيا۔ بي بي فاطمہٴ نے کہا: و الذي اصطفاکَ و اجتباکَ و ھداکَ و ھديٰ بک الاُمّۃَ لازلتُ مقرّۃً لہ ماعِشتُ۔ قسم اس ذات کي جس نے آپ کو (رسالت کے لئے) منتخب کيا اور آپ کو برگزيدہ کيا اور آپ کي ہدايت کي اور آپ کے ذريعے سے امت کو ہدايت دي! ميں ہميشہ سے ان (کے فضائل) کي معترف رہي ہوں۔ (مناقب ابن شہر آشوب جلد ٣)

بي بي زہراٴ نے نبي اکرم۰ کا يہ قول نقل کيا کہ آپ۰ نے فرمايا: علي¾ خير من اُخَلِّفہ فيکمْ۔ علي وہ بہترين شخص ہيں جسے ميں تمہارے درميان جانشين چھوڑ کر جارہا ہوں۔ (بحار جلد ٣٦)

مسجد نبوي ميں اپنے مشہور خطبے کے ايک حصے ميں آپٴ عليٴ کے روشن ماضي کے بارے ميں فرماتي ہيں: کلما اوقدوا ناراً اطفآ اللّٰہُ، او نجم قرن¾ للشيطان و فغرت فاغرۃ¾ من المشرکين قذف اخاہ في لہواتھا فلا ينکفي حتّي يطآ صماخھا باصمخہ و يخمد لھبھا بسيفہ مکدوداً في ذات اللّٰہ، و مجتھداً في امر اللّٰہِ، قريباً من رسول اللّٰہِ سيِّد اوليائ اللّٰہِ مشمّراً، ناصحاً، مجدّاً، کادحاً لاتآخذہ في اللّٰہِ لومۃُ لائم و انتم في رفاہيۃٍ من العيش۔ (بعثت رسول۰ کے بعد) جب کبھي مشرکوں نے آتشِ جنگ کو ہوا دي تو خدا نے اسے بجھا ديا اور جب کبھي شيطان سر اٹھاتا يا مشرکوں ميں سے کوئي آواز بلند کرتا يا حملہ کرتا، تو رسولِ خدا اپنے بھائي (عليٴ) کو مشکلات او رسختيوں کے منہ ميں بھيج ديتے تھے۔ اور عليٴ نے بيٹھنا گوارا نہ کيا جب تک کہ مخالفوں کے سروں کو کچل نہيں ديا اور تلوار کے ذريعے (اسلام کي) راہ ميں آنے والي رکاوٹوں کو دور نہيں کرديا۔ اس (علي) نے خدا کي خاطر تکليفيں اٹھائيں اور حکمِ خدا کے تحقق کے لئے کوششيں کيں۔ وہ اللہ کے رسول۰ کے نزديکي ساتھي، اوليائ اللہ کے بزرگ اور سردار تھے۔

انہوں نے (ہميشہ) ہمت کا دامن تھامے رکھا، ناصح، محنتي اور جدوجہد کرنے والے تھے۔ خدا کي راہ ميں کسي ملامت کرنے والے کي ملامت سے ڈرتے نہيں تھے۔ جب کہ تم لوگ اطمينان اور سکون سے بيٹھے ہوئے تھے۔” (شرح نہج البلاغہ، ابن ابي الحديد جلد ١٦)

٣۔غصبِ خلافت کا بيان

ايک ايسي فضا ميں جب کہ دوسرے لوگ ماحول پر چھا گئے تھے اور کسي کو مخالفت کرنے اور سانس لينے کي بھي اجازت نہيں دے رہے تھے، جناب زہراٴ پوري طاقت کے ساتھ حضرت عليٴ کے پامال شدہ حق کے دفاع کے لئے اٹھ کھڑي ہوئيں اور واضح طور پر اعلان کرديا کہ منصبِ خلافت کو غصب کر ليا گيا ہے۔

(i) امام جعفر صادقٴ سے منقول ہے کہ بي بي فاطمہٴ نے رسول اللہ ۰ کے بعد بے پرواہ امت کي اس طرح شکايت کي: اللّٰہمّ اليک اشکو فقدَ نبيکَ ۔۔۔ و مَنْعَہُمْ ايّانا حقّنا الّذي جعلتَہُ لنا في کتابکَ المنزَلِ عليٰ نبيِکَ الْمُرسَلِ۔ خدايا ميں تجھ سے تيرے نبي کے فقدان کي شکايت کرتي ہوں ۔۔۔ اور اس بات کي (شکايت کرتي ہوں) کہ ہم سے ہمارا وہ حق چھين ليا گيا جو تو نے اپنے نبي مرسل پر نازل ہونے والي کتاب ميں ہمارے لئے قرار ديا تھا۔ (بحار الانوار جلد ٥٣)

آپٴ کي گريہ و زاري کا انداز کچھ ايسا ہوتا تھا کہ مدينہ والے مضطرب اور مخالفين مشتعل ہو جاتے تھے۔ چنانچہ آپٴ کي گريہ و زاري ميں رکاوٹ ڈالا کرتے تھے۔

(ii) جناب زہراٴ اُحد کے دامن ميں حضرت حمزہٴ پر گريہ و زاري کر رہي تھيں کہ کسي نے پوچھا: لوگوں نے آپ کي اور عليٴ کي مخالفت کيوں کي اور آپ کا مسلّم حق آپ سے چھين ليا؟

بي بي نے فرمايا: لٰکنّھا احقاد¾ بدريّۃ¾ و ترات¾ اُحديّۃ¾ کانت عليھا قلوبُ النفاق مکتمنۃ¾ لامکان الوشاۃ فلما استھدفَ الامر ارسلت علينا شآبيب الآثار۔ يہ سب جنگِ بدر کا کينہ اور جنگ احد کا انتقام ہے جو منافقوں کے دل ميں پوشيدہ تھا۔ پس جب انہوں نے اپنا ہدف حاصل کرليا تو تمام دشمنياں اور کينہ و حسد ہمارے اوپر ڈال ديا۔ ((بحار الانوار جلد ٤٣، مناقب ابن شہر آشوب جلد٢)

(iii) امِ سلمہ کہتي ہيں: ميں جنابِ زہراٴ کي خدمت ميں پہنچي اور عرض کيا: اے دختر رسول! آپ کيسي ہيں؟

فرمايا: اصبحْتُ بينَ کمْدٍ و کربِ فقدِ النّبيّ و ظلمِ الوصيّ ہتکَ وَاللّٰہِ حجاً بہ من آصبحت امامتہ مقتضبۃ عليٰ غير ما شرع اللّٰہ في التنزيل و سنّھا النبيّ في التّاويل۔ ميں نے حزنِ شديد اور اندوہِ عظيم ميں صبح کي ہے، جب کہ نبي دور اور اس کا وصي مظلوم واقع ہوا ہے۔ خدا کي قسم! اس شخص کي عظمت و حيثيت برباد ہوگئي جس کے حقِ امامت کو قرآن ميں حکمِ خدا کے برخلاف اور تفسير و تاويلِ قرآن کے بارے ميں سنتِ رسول۰ کي مخالفت کرتے ہوئے غصب کرليا گيا اور دوسروں کو دے ديا گيا۔ (بحار الانوار جلد ٤٣)

(iv) جب خانہ ولايت پر حملہ کيا گيا تو حضرت زہراٴ نے کوچہ و بازار کے لوگوں سے کہا: لا عہدَ لي بقوم حضروا اسوئ محضراً منکم ۔۔۔ لم تستآمرونا و لم تردّوا لنا حقا! کانکم لم تعلموا ما قال يومِ غدير خمّ۔ ميں نے تم جيسي کوئي بے مروت قوم ايسي نہيں ديکھي جو تمہاري طرح پيش آئے۔۔۔ نہ ہم سے کوئي بات پوچھي اور نہ ہمارا حق ہميں پلٹايا۔ گويا جو کچھ روزِ غدير رسول اللہ ۰ نے فرمايا اس سے تمہيں کوئي آگاہي نہيں ہے۔

اور آگے چل کر فرمايا: و اللّٰہِ لقد عقد لہ (علي) يومئذٍ الولائ ليقطع منکم بذالک منھا الرجائ و لٰکنّکم قطعتم الاسباب بينکم و بين نبيکم۔۔۔ اس دن ولايت (و رہبري) کو آپ۰ نے علي کے لئے مقرر کر ديا (اور لوگوں سے بيعت لي) تاکہ تم (جيسے موقع پرست) لوگوں کي اميديں منقطع ہو جائیں ليکن تم لوگوں اپنے اور اپنے نبي کے درميان موجود رشتے کو توڑ ديا۔۔۔ (بحار الانوار جلد ٢٨)

يہاں پر بي بي نے واضح طور پر لوگوں کي موجودگي ميں پوري صراحت کے ساتھ حقِ عليٴ کي پامالي کا تذکرہ کيا ہے۔

(v) بي بي فاطمہٴ نے زندگي کے آخري لمحے تک حضرت عليٴ کے حق کا دفاع کيا ہے۔ چنانچہ آپٴ نے وصيت نامہ ميں بھي لکھا کہ:

لاتُصَلِّ علَيّ اُمّۃ¾ نقضتْ عہدَ اللّٰہِ و عہدَ ابي رسول اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليہ و آلہ في امير المومنين علي عليہ السلام، و ظلموني حقّي۔۔۔ آُذکِّرھم بِاللّٰہِ و برسولہ آلَّا تظلمونا و لاتغصبونا حقّنا الذي جعلہ اللّٰہ لنا، فيجيبونا ليلاً و يقعدون عن نصرتنا نھاراً۔ جن لوگوں نے امير المومنين علي عليہ السلام (کي ولايت) کے بارے ميں خدا اور اس کے رسول کے عہد و پيمان کو توڑ ديا اور مجھ پر ظلم کيا وہ ميرے جنازے پر نماز نہ پڑھيں۔۔۔ اور (وہ بھي) جن کو ميں اللہ اور رسول ياد دلاتي تھي کہ ہم پر ظلم نہ کريں اور ہمارا وہ حق ہم سے غصب نہ کريں جو اللہ نے ہمارے لئے قرار ديا ہے۔ تو وہ رات کي تاريکي ميں جواب ديتے تھے (کہ ہم مدد کريں گے) ليکن دن کي روشني ميں ہماري مدد سے ہاتھ اٹھاليتے تھے۔ (بحار الانوار جلد ٤٣، فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

بے شک بي بي کا يہ عمل غاصبوں کے خلاف يادگار دليل ہے اور منافقوں کے چہروں سے پردہ اٹھانے کے لئے بہترين انداز۔

٤۔عليٴ کي مظلوميت پر گريہ و زاري

قابلِ ذکر ہے کہ بي بي زہراٴ رسول اللہ کي وفات سے پہلے ہي عليٴ پر آنے والے مصائب سے پريشان تھيں اور جب آنحضور۰ نے اپنے بعد عليٴ پر آنے والي مشکلات کا تذکرہ کيا تو بي بي نے پريشاني کے عالم ميں پوچھا: يارسول اللّٰہ! اَلَّا تدعو اللّٰہَ ان يصرف ذلک عنہ۔ يعني اے اللہ کے رسول! کيا آپ اللہ سے دعا نہيں کريں گے کہ عليٴ سے يہ مشکلات دور کردے؟

آپ۰ نے فرمايا: ”کيوں نہيں! ليکن اس سے کوئي مفر نہيں ہے۔ کيونکہ انسان آزاد ہے اور وہ اس اختيار اور آزادي کي نعمت سے سوئِ استفادہ کرتا ہے۔” ((بحار الانوار جلد ٢٤، فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

جب عليٴ پر مصائب کا آغاز ہوا اور خلافت غصب ہوگئي تو بي بي کے دفاع کا ايک انداز يہ تھا کہ آپٴ عليٴ کي مظلوميت پر گريہ کرتي تھيں۔ چنانچہ بابا کي رحلت کے بعد آپٴ روتے ہوئے فرماتيں: من لعليٍّ اخيک و ناصر الدين۔ کون ہے آپ کے بھائي علي کے لئے (مددگار) جو کہ دين کي نصرت کرنے والے ہيں! (بحار الانوار جلد ٢٢)

زندگي کے آخري ايام ميں بھي شدت سے گريہ کرتي تھيں۔ جب عليٴ نے اس کا راز پوچھا تو بتايا: آبکي لما تلقي بعدي۔ ميں ان مصائب پر رروتي ہيں جو ميرے بعد آپ پر ٹوٹيں گے۔ (فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

٥۔لوگوں کو سرزنش کرنا

مہاجر و انصار کي عورتوں سے گفتگو کے دوران فرمايا: فقبحاً لفلول الحد و قرع الصفاۃ۔ کس قدر برا ہے تلواروں کا کند ہونا اور مردوں کا سست ہونا او رکھلونا بن جانا۔

نيز فرمايا: ويحہم اني زعزعوھا عن رواسي الرسالۃ و قواعد النبوّۃ و الدلالۃ و مہبط الروح الامين ۔۔۔ وائے ہو ان پر! کيوں وہ خلافت کو رسالت کے مرکز، نبوت و رہنمائي کي اساس اور روح الامين کے نزول کے مقام سے دور لے گئے۔

”و ما الذي نقموا من ابي الحسن نقموا منہ و اللّٰہ نکير سيفہ۔ کس وجہ سے انہوں نے ابو الحسن (عليٴ) سے انتقام ليا؟ (ہاں) خدا کي قسم! انہوں نے اس کي تلوار کے زخموں کي وجہ سے انتقام ليا۔” (الاحتجاج طبرسي جلد ١)

نيز مسجد ميں اپنے مشہور و معروف خطبے ميں انصار سے فرمايا: يا معاشر الفتيۃ و اعضاد الملّۃ، انصار الاسلام ما ھٰذہ الغميزۃ في حقي، و السنۃ عن ظلامتي، اما کان رسول اللّٰہ صلي اللّٰہ عليہ و آلہ ابي يقول المرئ يحفظ في ولدہ۔۔۔ اے جوانمردو! اے ملت کے دست و بازوو! اے اسلام کے مددگارو! يہ غفلت اور سستي کيسي ہے جو تم ميرے حق ميں کر رہے ہو؟ اور ميري شکايت پر سہل انگاري سے کام کيوں لے رہے ہو؟ کيا ميرے بابا اللہ کے رسول يہ نہيں فرماتے تھے کہ: (عظيم) انسان کا احترام اس کے بچوں ميں محفوظ رہنا چاہئے (يعني اس شخص کي وجہ سے اس کے بچوں کي بھي عزت ہوني چاہئے)۔ کس قدر جلد تم لوگ ناپسنديدہ اعمال کے مرتکب ہوگئے! اور کتني جلدي کمزور بکري کے منہ اور ناک سے پاني بہنے لگا (يعني غفلت کا شکار ہوگئے)۔”

”و لکم طائفۃ¾ بما اُحاول، و قوّۃ¾ عليٰ ما اطلب و اُزاول۔ حالانکہ تم (انصار) کے پاس (ميرا حق لينے کي) طاقت بھي ہے اور جس چيز کا ميں مطالبہ کر رہي ہوں اور جس (حق) سے مجھے دور کر ديا گيا ہے اس کے لئے تمہارے پاس قوت بھي موجود ہے۔” (بحار الانوار جلد ٤٣، الاحتجاج جلد ١)

عہد و پيمان توڑنے والوں اور غفلت برتنے والوں کي مذمت ميں جو چوتھا خطبہ بي بي نے ديا، اس ميں فرمايا: معاشر الناس المسرعۃ اليٰ قيل الباطل، المضيۃ علي الفعل القبيح الخاسر۔ آفلا يتدبرون القرآن ام عليٰ قلوب اقفالھا۔ اے وہ لوگو جو باطل گفتگو کي طرف تيزي سے دوڑتے ہو اور قبيح اور نقصاندہ کام سے غفلت برتتے ہو! کيا قرآن ميں تدبر نہيں کرتے يا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہيں؟! (سورہ محمد آيت ٢٤)

آگے چل کر فرمايا: نہيں، تمہارے برے اعمال نے تمہارے دلوں پر پردہ ڈال ديا ہے اور تمہارے کانوں اور آنکھوں کو بيکار کر ديا ہے۔ (دين کي) کتني بري تاويل تم نے کي ہے!کس قدر بري رائے تم نے دي ہے اور کيسے سنگين گناہ کے تم مرتکب ہوئے ہو! يقينا اس کے سخت اور سنگين انجام کو اس دن ضرور ديکھو گے جب تمہارے کرتوتوں سے پردے ہٹا ديئے جائيں گے۔ اپنے کيفر کردار تک پہنچو گے جو تمہارا منتظر ہے اور وہ عذاب چکھو گے جو خدا نے تمہارے لئے تيار کر رکھا ہے اور تمہيں اس کا گمان بھي نہيں ہے۔ ”اور اس دن اہلِ باطل خسارے سے دوچار ہوں گے۔ (سورہ غافر آيت ٧٨)”(فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

٦۔ جب امامٴ کو بيعت کے لئے لے جايا جارہا تھا

اس تلخ گھڑي اور وحشتناک لمحے ميں کہ جب حضرت عليٴ کو زبردستي مسجد کي جانب لے جارہے تھے، بي بي فاطمہٴ مجمع عام ميں آئيں اور امامٴ اور لوگوں کے درميان آکر کہنے لگيں: و اللّٰہِ لاادعکم تجرّون ابنَ عمّي ظلماً۔ خدا کي قسم! ميں تمہيں اجازت نہيں دوں گي کہ تم اس طرح سے ميرے چچازاد کو کھينچتے ہوئے (بيعت کے لئے) لے جاو۔”

”ويلکم ما اسرع ما خنتم اللّٰہ و رسولہ فينا اہل البيت و قد اوصاکم رسولّ اللّٰہ باتباعنا و مودتنا و التمسّک بنا۔ فقال اللّٰہ تعاليٰ قل لا اسئلکم عليہ اجراً الا المودّۃ في القربيٰ۔ وائے ہو تم پر! ہم اہلبيت کے معاملے ميں تم لوگوں نے کتني جلدي اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خيانت کر دي! حالانکہ رسول اللہ ۰ نے تمہيں وصيت کي تھي کہ ہماري پيروي کرنا، ہم سے مودت رکھنا اور ہمارا دامن تھامے رہنا۔ پس خداوند متعال نے فرمايا: کہہ دو کہ ميں اس (کارِ نبوت) پر تم سے کوئي اجرت نہيں مانگتا سوائے اس کے کہ ميرے اقربائ سے مودت رکھو۔ (سورہ شوريٰ آيت ٢٣)” (فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

٧۔مسجد ميں دفاع

جب عليٴ کو زبردستي بيعت لينے کے لئے مظلوميت کے ساتھ مسجد ميں لے گئے تو زہراٴ کے زخمي جسم سے فرياد بلند ہوئي: ”خلُّوا عن ابن عمّي فوالّذي بعث محمداً بالحقّ لئن لم تخلّوا عنہ لانشرنّ شعري و لآضعنّ قميص رسول اللّٰہ عليٰ رآسي و لآصرخنّ الي اللّٰہ تبارک و تعاليٰ۔ ميرے چچازاد کو چھوڑ دو۔ قسم اس ذات کي جس نے محمد کو برحق مبعوث کيا! اگر تم لوگوں نے علي کو نہ چھوڑا تو اپنے بال کھول دوں گي اور رسول اللہ کي قميض کو سر پر ڈال کر بارگاہِ پروردگار ميں فرياد کروں گي۔”

پھر مزيد فرمايا: ” يقين رکھنا کہ خدا کے نزديک حضرت صالح کي اونٹني مجھ سے بہتر اور اس کا بچہ ميرے بچوں سے بہتر نہيں تھا۔” (بحار الانوار جلد ٤٣، مناقب ابن شہر آشوب جلد ٣)

اس کے بعد بي بي فاطمہٴ نفرين کرنے کے لئے حسنينٴ کے ساتھ قبرِ رسول۰ کي جانب بڑھيں۔ حضرت عليٴ نے سلمان سے فرمايا: اے سلمان! فاطمہ کو سنبھالو! گويا ميں ديکھ رہا ہوں کہ مدينہ کے دونوں اطراف لرز رہے ہيں۔ خدا کي قسم! اگر فاطمہ نے ۔۔ فرياد اور نفرين کردي تو مدينہ والوں کو مہلت نہيں دي جائے گي اور زمين انہيں نگل لے گي۔”

سلمان فوراً بي بي کے پاس پہنچے اور عرض کيا کہ نفرين نہ کريں۔

بي بي نے فرمايا: ” ياسلمان! يريدون قتل عليّ، ما علَيَّ صبر¾۔ اے سلمان! وہ علي کو قتل کرنا چاہتے ہيں۔ ميں اس پر صبر نہيں کر سکتي۔”

سلمان نے عرض کيا: امام عليٴ نے مجھے بھيجا ہے کہ آپ سے کہہ دوں کہ گھر لوٹ جائيں اور نفرين نہ کريں۔

جب بي بي نے اپنے امام کا يہ پيغام سنا تو فرمايا: ”اذا ارجع و اصبر و اسمع لہ و اطيع۔ (جب ميرے امام نے حکم دے ديا تو) اب ميں لوٹ جاوں گي، صبر کروں گي، ان کي بات سنوں گي اور اطاعت کروں گي۔” (فرہنگ سخنان فاطمہٴ)

اس قسم کا دفاع ہي بہترين دفاع ہے کيونکہ اس ميں اپنے امام کے ساتھ سو فيصد اور خالص اطاعت شامل ہوتي ہے۔ جب حضرت عليٴ صحيح سلامت گھر پہنچ گئے اور بي بي کي نگاہ آپٴ پر پڑي تو فوراً فرمايا: روحي لروحک الفدائ و نفسي لنفسک الوقائ يا اباالحسن! ان کنتَ في خيرٍ کنتُ معکَ و ان کنتَ في شرٍّ کنتُ معکَ۔ ميري روح آپ کي روح پر اور ميري جان آپ کي جان پر فدا ہو اے ابو الحسن! اگر آپ بہتر حالات ميں ہيں تو بھي ميں آپ کے ساتھ ہوں اور اگر مشکل حالات ميں ہيں تو بھي ميں آپ کے ساتھ ہوں۔

جي ہاں! بلاتردد يہ کہا جاسکتا ہے کہ امامت اور اپنے امام کا بہترين اور عمدہ ترين دفاع فاطمہٴ نے ہي کيا ہے يہاں تک کہ اپني جان بھي قربان کردي اور آخري لمحے تک امامٴ کے دفاع سے روگرداني نہيں کي۔

تبصرے
Loading...