اربعین:امام  حسین۔ع۔کے ساتھ تجدید عہد کا دن

*اربعین:امام  حسین۔ع۔کے ساتھ تجدید عہد کا دن*

*🖊️:شیخ بشیر صادقی*

*پیشکش:مجمع۔طلاب شگر*

مکتب اہل بیت کے پاس غدیر،عاشورااور اربعین جیسے انسان ساز،محکم اور مضبوط آئیڈیالوجی موجود ہے۔جن کے زریعے ہم انسانی تخلیق کے  اصل ہدف اور مقصد تک آسانی کے ساتھ پہنچ سکتے ہیں۔
اور انہی محکم  الہٰی نظریات  کی وجہ سے  مذہب اہل بیت کو  دیگر تمام مکاتب کی نسبت ممتاز اور منفرد مقام حاصل ہے۔ اورفکری  طور پر مضبوط اور مدلل اعتقادات کا حامل ہے جسے دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست نہیں دےسکتی۔ یہ ناقابل شکست ہونا اس کے  آئیڈیالوجی کی طاقت کا نتیجہ ہے۔ کہ تاریخ میں ہمیشہ سے اس مکتب کی اقلیت  بھی باطل کی اکثریت  پر غالب رہی ہے اور باطل اپنے تمام تر ناپاک سازشوں کے باوجود مغلوب اور شکست سے دوچار رہاہے۔جبکہ حق اور اس کے پیروکار  ہمیشہ تمام تر مشکلات کے باوجود فتح یاب اور سربلند رہاہے۔

یہ درس اس مکتب کے ماننے والوں کو عاشورا ہی سے ملاہے جہاں مضبوط الہی اعتقاد اور اخلاص وللہیت کے نتیجے میں کم افراد کا خون ہی کئی  ھزار کی تعداد پر مشتمل لشکر کی تلواروں پہ غالب آیا ہے۔اور علی کی بہادر بیٹی نے اپنے بھائی کے یتیموں کو ساتھ لئے اسارت کی سختیوں اور اپنے عزیزوں کی ناقابل برداشت و دردناک مصائب  کے باوجود آل امیہ کی ظاہری فتح اور انکی خوشی وشادمانی کواپنے لہجہ مرتضوی میں  دئیے خطبوں کے ذریعے پاؤں تلے روند ڈالا اور یزید کو اسکے اپنے دربار میں ہی ذلیل ورسوا کرکے قیامت تک کے لئے بنی  امیہ اور یزیدیت کے منحوس چھرے کوانسانیت کے سامنے بے نقاب اور  نمایاں کردیا۔جس کے نتیجے میں رہتی دنیا تک کے لئے  حسین۔ع۔ و حسینیت زندہ باد جبکہ یزیدو  یزیدیت مردہ باد ہوکر حق وباطل میں واضح لکیر کھینچ گئی۔

لیکن حسینی جوانوں کو اس وقت  ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ان چیزوں کے مقاصد سے آگاہی حاصل کریں کہ
کیوں ہم ہرسال عاشورا اور اربعین مناتے ہیں کیوں ہم اس قدر غدیر کو اہمیت دیتے ہیں؟
اس کے فلسفے کو جاننے کےلئے ضروری ہے کہ پہلے خود واقعہ عاشورا کے مقصد کو جان لیں اور خود اس قیام کےفلسفے کو جاننے کی کوشش کریں جسے مظلوم کربلا۔ع۔نے مختلف مقامات پر بیان فرمایا اور امت محمدی کو اس تحریک کی حقیقت کی  طرف متوجہ کرانیکی  اورسوئی ہوئی امت کو جگانے کی کوشش کی۔
ان اھداف کو ذہن میں رکھیں تو  اربعین حقیقت میں آزاد،باضمیر اور حق پرستوں  کا اپنے امام۔ع۔کے ساتھ تجدید عہد کا دن ہے۔کہ ہرسال وہ اپنے امام ۔ع۔کے پاس نجف سے کربلا پیدل چل کر جائے اور یہ عہد کرے کہ:
اے میرے مولا ہم اس وقت نہیں تھے جس وقت آپ یزیدی فکر سے ٹکراکر ظالموں کی نابودی٫ دین کی بالادستی ؛ کفر والحاد اور شرک سے اسلام کو نجات دینے اورقیامت تک کے لئے دین اور دینداری  کے اصل چہرے سے دنیا کو روشناس کرانے جبکہ باطل اور اہل باطل کے سیاہ چہرے سے پردہ اٹھانےکےلئے کربلا کی طرف نکلےاوراس راہ میں مدد کے لئے پکارتےہوئے
*ھل من ناصر ینصرنا؟*
*ھل من مغیث یغیثنا؟*
*ھل من ذاب یذب عن حرم رسول اللہ؟*
کی صدا بلند کی تھی۔۔ آپ کی صدا پر چندمحدود افراد کے علاوہ کسی نے لبیک نہیں کہا پھر بھی اسی محدود لشکر کے ساتھ آپ نے ہزاروں یزیدی لشکر کے ساتھ مقابلہ کیا اور رہتی دنیاتک کےلئے حق وباطل کے درمیان اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون سے لیکر کھینچ لی۔

ہم آپ کے ساتھ تجدید عہد  کرتے ہیں کہ ہم اسی راہ کو جاری رکھیں گے۔ہم تعداد میں  کم ہی کیوں نہ ہو لیکن حسینی راہ پر چلتے ہوئے ہرزمانے کے یزید اور یزیدی فکر کے ساتھ ٹکراجائیں گےاور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کریں گے۔قربانیاں دیں گے۔

یہ سلسلہ سن 61ہجری سے لیکر اب تک چلاآرہاہے۔اور آج بھی دنیا میں ایک طرف حسین۔ع۔اور حسینی خیمہ لگاہواہے جو لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلارہاہے۔سماج میں نظام اسلامی کی ترویج٫عدالت کےاجراء٫فسق وفجور اور ظلم وبربریت کے خلاف اور مستضعفین جہاں کی حمایت اور مدد کے لئے آئے روز ھل من ناصر کی صدا بلندکررہےہیں۔تو دوسری طرف یزید اور یزیدی خیموں سے فکریزیدی پروان چڑھ رہی ہے۔اور یزیدیت سراٹھارہی ہے۔یہی وجہ تھی کہ حسین ابن علی۔ع۔نے
*مثلی لا یبائع مثلہ*
کہہ کر  صرف ایک یزید نہیں بلکہ قیامت تک آنے والےتمام یزیدیوں اور یزیدی افکار کی مخالفت کی تاکہ ہمارا وظیفہ بھی مشخص ہوجائے اور ہرزمانے میں آنے والے حسینی اسی فکر کومشعل راہ قرار دیتے ہوئے اپنے وظیفے پر عمل پیراہوجائے۔

یہی وجہ ہے کہ آئمہ معصومین  نے امام حسین۔ع۔کی زیارت پر خصوصی تاکید کی ہیں جسے محدثین نقل کیاہے۔۔بالخصوص صاحب وسائل کی تعبیرات تو بہت  ہی مہم اور عجیب ہیں۔آپ زیارات کے ابواب کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں مثلا
*باب تاکداستحباب زیارت حسین ابن علی۔ع۔ووجوبھاکفایة*

یعنی آپ ان روایات سے زیارت امام حسین
ع۔کے سنت مؤکدہ ہونے کوبھی استفادہ کرتے ہیں۔واجب کفائی  ہونے کو بھی استفادہ کرتے ہیں۔اسی وسائل کے 37 ویں باب میں ایک عجیب روایت کی تعبیر بیان ہوئی ہے امام صادق ۔ع۔سے کہ معاویہ بن وھب کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق۔ع۔سےانکی خدمت میں اجازہ ورود چاہا امام۔ع۔نے اجازت مرحمت فرمائی۔میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔دیکھاکہ امام۔ع۔نماز کی حالت میں ہیں۔نماز کے بعد اپ۔ع۔نے کچھ دعائیں کی اور آخر میں فرمایا: اے اللہ مجھے اور میرے بھائیوں کو قبر حسین۔ع۔کی زیارت نصیب فرما ۔پھر  آپ۔ع۔نے زوار امام حسینع۔کی کچھ خاص خصوصیات بیان کی اور فرمایا کہ:
جولوگ امام حسین۔ع۔کی زیارت کے لئے مال خرچ کرتے ہیں اور زخمتیں برداشت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس زیارت کے ذریعے رسول خدا۔۔ص۔کے قلب مطہر کو راضی کرے۔یہ لوگ اپنے اس عمل کےزریعے ہمارے دستور کی پیروی اور اسے انجام بھی دیتے ہیں اور ہمارے دشمن کو غصہ دار بھی کرتے ہیں۔
یعنی امام حسین۔ع۔کی زیارت میں عنوان تولی  اور تبری کا عنوان دونوں موجود ہے۔حق کی حمایت کا اعلان بھی ہے باطل سے نفرت اور دوری کا پہلو بھی ہے۔ظالم وجابر اور مستکبرین جہان کے خلاف صدائے  احتجاج بھی ہے جبکہ اسلام اور مستضعفین  کی حمایت اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی ہے۔

یہ تمام چیزیں حقیقت میں امام۔ع۔کے قیام کے اہداف میں سے ہیں۔ایک زائر بھی٫ امام۔ع۔ کی خدمت میں پہنچ کر انکی زیارت سے شرف یاب ہوتے ہوئے انہی اہداف کو اپنی زندگی میں عملی کرنے کا عھد کرکے امام ۔ع۔کی صدا پر لبیک کہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ روایات میں اس قدر امام حسین۔ع۔کی زیارت کی تاکید ہوئی ہے۔خواتین کو ہمیشہ گھروں میں رہنے کی سفارش کی جاتی ہے لیکن زیارت امام حسین۔ع۔کے لئے ان کو ا استثنا نہیں کی بلکہ انہیں بھی سفارش کی گئی ہے کہ وہ زیارت امام حسین کے لئےجائے۔ہدف یہ ہے تاکہ خواتین بھی جائے اور کردار زینبی کا مطالعہ کرے ۔اسلام کی حفاظت کے لیے زینب اور دیگر خواتین کی قربانیاں دیکھے اور واپس آکر ایسی  اولادوں کی تربیت کرے جو مشن حسینی کو معاشروں میں فروغ دے سکے اور اہداف امام حسین۔ع۔کی بقا اور ترویج کے لئے قربانیاں پیش کرے۔
زیارت کے لئے مشی کرکے پیادہ جانے کا بھی بےحد ثواب نقل ہواہے۔جیساکہ امام صادق۔ع۔کا ارشاد گرامی ہے کہ آپ نے فرمایا۔
*من خرج من منزلہ یرید زیارت قبرالحسین ابن علی۔ع۔ان کان ماشیا کتب اللہ لہ کل خطوة حسنة ومحي عنه سيئة۔۔۔*
جو کوئی حسین۔ابن علی۔کی قبر کی زیارت کے لئے اپنی منزل سے پیدل نکلتاہے خداوند اس کے ہر قدم کے بدلے میں ایک حسنہ لکھ دیتاہے اور ایک سیئہ اور گناہ محو کردیتاہے۔۔۔۔
یہ سب ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہے اور وہ حقیقت امام
ع کے قیام کے اہداف ہیں جس کی تکمیل کے لئے امام۔ع۔نے اتنی بڑی قربانی دی۔

لہذا ا زائر ین کا وظیفہ یہی ہے کہ آج اس عظیم اجتماعی عبادت میں حصہ لے کر اپنے آپ کو کربلا تک پہنچادے اور حسین۔ابن علی۔ع۔اور انکے باوفا اصحاب وانصار کے ساتھ تجدید عہد کرے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں انہی کا مطیع رہتے ہوئے تمام اطراف واقشار عالم میں ان کا  پیغام پہنچائیں۔ہرظالم اور جابرحکمران کے خلاف برسرپیکار رہتے ہوئے حق کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرنے کاعہد کرے۔
۔
خداوند ہم سب کو راہ حسینی پر چلتے ہوئے انکے قیام کے اہداف کی راہ میں جدوجہد کرنے اور ہر دور میں حسین ابن علی۔ع۔کی صدائے  ھل من ناصر پر لبیک کہنے کی توفیق عطا کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More