نماز کی حالت میں سلام کا جواب دینے کی کیفیت کیا ہے؟

نماز کی حالت میں کسی کو سلام نہیں کرنا چاہئیے اور اگر کوئی دوسرا شخص اسے سلام کرے تو اس طرح جواب دینا چاہئیے کہ سلام مقدم ہو،مثال کے طور پر کہے: “السلام علیکم”، یا “سلام علیکم” اور “علیکم السلام” نہیں کہنا چاہئیے[1]۔

قابل ذکر بات ہے کہ انسان کو سلام کا جواب، نما زکی حالت میں یا نماز سے باہر ، فوراً دینا چاہئیے اور اگر عمداً یا بھولے سے سلام کا جواب دینے میں اس قدر تاخیر کرے کہ اس سلام کا جواب شمار نہ ہو، تو نماز کے دوران جواب نہین دینا چاہئیے اور نماز کے علاوہ بھی اس صورت میں جواب دینا واجب نہیں ہے[2]۔

 


[1]. امام خمینى، توضیح المسائل (محشّى)، محقق و مصحح: بنى هاشمى خمینى، سید محمد حسین، ج 1، ص 622، م 1137، ‌دفتر انتشارات اسلامى، قم، طبع هشتم، 1424ھ.

[2]. ایضاً، ص 622 و 623، م 1138.

 

تبصرے
Loading...