اگر کسی نے بچپن میں کسی لڑکے کے ساتھ ﴿بدون دخول﴾ لواط کیا ھو، تو کیا وہ اس کی بہن کے ساتھ ازدواج کر سکتا ہے؟

سوال کے فرض کے مطابق چونکہ دخول انجام نہیں پایا ہے، اس لئے یہ لواط شمار نہیں ھوتا ہے اور اس لڑکے کی بہن کے ساتھ آپ کی شادی حرام نہیں ہے بلکہ جائز اور بلا مانع ہے۔[1] اس کے باوجود ہم نے آپ کے سوال کو مراجع عظام تقلید کے دفاتر میں بھیجا اور وہاں سے حاصل شدہ جوابات حسب ذیل ہیں:
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ﴿مدظلہ العالی﴾:
جس شخص نے کسی کے ساتھ لواط کیا ھو، اس کی بہن کے ساتھ لواط کرنے والے کی ازدواج حرام ہے۔ لیکن اگر دخول ھونے میں شک کرے، اگر چہ ختنہ گاہ کی مقدار سے کم بھی ہو یا دخول ھونے میں گمان کرے، لیکن یقین نہ رکھتا ھو، تو حرام نہیں ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی ﴿ مدظلہ العالی﴾:
فرض سوال کے مطابق اس کے ساتھ ازدواج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 


[1]  ۔ لواط کرانے والے ﴿مفعول﴾ کی ماں، بہن اور بیٹی لواط کرنے والے ﴿فاعل﴾ پر حرام ہیں، اگر چہ لواط کرنے والا اور لواط کرانے والا نا بالغ بھی ھوں لیکن اگر دخول ھونے میں گمان کرے یا شک کرے کہ دخول ھوا یا نہیں تو اس پر حرام نہیں ہیں ۔ توضيح المسائل (المحشى للإمام الخميني)، ج‏2، ص: 474، مسأله 2405.
نوٹ: اس مسئلہ میں آیت ا۔ ۔ ۔ بہجت﴿رہ﴾ کا فتوی امام خمینی ﴿رہ﴾ کے فتوے کے مطابق ہے۔
تبصرے
Loading...