(۴) امام صادق ‏عليه السلام سے منقول بارہ مواعظ

0 14

(۴) امام صادق ‏عليه السلام سے منقول بارہ مواعظ

(۴)

امام صادق ‏عليه السلام سے منقول بارہ مواعظ

امام صادق ‏عليه السلام کے مواعظ میں سے ایک موعظہ وہ بھی ہے کہ جسے شيخ صدوق ‏رحمه الله نے اپنی «امالى» میں نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

    کوئی شخص امام صادق‏ عليه السلام کی خدمت میں شرفياب ہوا اور عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں! مجھے کوئی پند و نصیحت فرمائیں!

    حضرت نے فرمایا:

 إن كان اللَّه تبارك وتعالى قد تكفّل بالرزق ، فاهتمامك لماذا ؟

 وإن كان الرزق مقسوماً ، فالحرص لماذا ؟

 وإن كان الحساب حقّاً ، فالجمع لماذا ؟

 وإن كان الثواب عن اللَّه حقّاً ، فالكسل لماذا ؟

 وإن كان الخلف من اللَّه عزّوجلّ حقّاً ، فالبخل لماذا ؟

 وإن كانت العقوبة من اللَّه عزّوجلّ النار ، فالمعصية لماذا ؟

 وإن كان الموت حقّاً ، فالفرح لماذا ؟

 وإن كان العَرْض على اللَّه حقّاً ، فالمكر لماذا ؟

 وإن كان الشيطان عدوّاً ، فالغفلة لماذا ؟

 وإن كان المَمرّ على الصراط حقّاً ، فالعُجب لماذا ؟

 وإن كان كلّ شي‏ء بقضاء وقدَر ، فالحزن لماذا ؟

 وإن كانت الدنيا فانية ، فالطمأنينة إليها لماذا ؟ (61)

 اگر خداوند متعال تمہاری روزى کا کفیل ہے تو پھر محزون و مغموم کس لئے ہو؟

 اور اگر روزى تقسيم شده ہے تو پھر حرص اور لالچ کس لئے ہے؟

 اور اگر حساب حق ہے تو پھر مال جمع کرنا کس لئے ہے؟

 اور اگر خداوند متعال کی طرٖ ف سے پاداش حق ہے تو پھر یہ سستی کس لئے ہے؟

 اور اگر (راہ خدا میں ہر خرچ کے) عوض خداوند متعال کی طرف سے حقيقت ہے تو پھر یہ بخل کس لئے ہے؟

 اور اگر خداوند متعال کی طرف سے سزا آتش جہنم ہے تو پھر یہ گناہ کس لئے ہے؟

 اور اگر موت حق ہے تو پھر شادمانی کس لئے ہے؟

 اور اگر بارگاہ الہى میں حاضر ہونا حق ہے تو پھر یہ چالبازی و مکاری کس لئے ہے؟

 اور اگر شيطان دشمن ہے تو پھر غفلت کس لئے ہے؟

 اور اگر صراط سے گذرنا حقيقت ہے تو پھر خودبينى کس لئے ہے؟

 اور اگر ہر چيز  قضا و قدر سے متحقّق ہوتی ہے تو پھر حزن و غم کس لئے ہے؟

 اور اگر دنيا فانى اور بے ‏اعتبار ہے تو پھر اس پر اعتماد کرنا اور دل لگانا کس لئے ہے؟


61) امالى شيخ صدوق : 56 ح 5 مجلس 2 ، التوحيد : 376 ح 21 ، الخصال : 450 ح 55 .

    اس روایت کا کچھ حصہ بحار الأنوار : 157/73 ح 160  1 ح 300 1 ح 1 و 284/75 ح 1 ، اور یہ مکمل حدیث ج : 190/78 ح 1 میں نقل ہوئی ہے۔

 

مزید  سعد بن حذیفہ

 

منبع: فضائل اهلبیت علیهم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 2 ص 629

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.