(۳) امام صادق‏ عليه السلام کا نماز میں تشہد

0 24

(۳) امام صادق‏ عليه السلام کا نماز میں تشہد

(۳)

امام صادق‏ عليه السلام کا نماز میں تشہد

نفیس کتاب القطره کے مؤلف رحمه الله کہتے ہیں:ہم امام صادق عليه السلام سے مخصوص باب کا اس تشہد سے اختتام کرتے کہ کہ جو آنحضرت نماز میں پڑھا کرتے تھے، کیونکہ بعض لوگوں سے سنسا گیا ہے کہ وہ لوگ اذان و اقامت میں شہادت ولایت کا انکار کرتے ہیں جب کہ شیخ طبرسى‏ رحمه الله نے كتاب «الإحتجاج» میں امام صادق ‏عليه السلام سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

إذا قال أحدكم لا إله إلّا اللَّه محمّد رسول اللَّه فليقل عليّ‏أميرالمؤمنين وليّ‏اللَّه.(1)

جب بھی تم میں سے کوئی یہ کہے: لا إله إلّا اللَّه، محمّد رسول اللَّه، تو اسے یہ بھی کہنا چاہئے: على اميرالمؤمنین ولىّ اللہ۔

   يعنى خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم ‏صلى الله عليه وآله وسلم کی رسالت کی گواہی کے ساتھ اميرالمؤمنين‏ علی عليه السلام کی ولایت کی گواہی بھی ضرور دینی چاہئے۔ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ امام صادق ‏عليه السلام سے روایت ہوئی ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کی شہادت دینا نماز کے مستحب اجزاء میں سے ایک مستحب جزء ہے۔

   اور میں اس تشہد کو اس جگہ ذکر کرتا ہوں کیونکہ اس کا مضمون اور معنی بہت اعلٰی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے بہت مفید ہے کہ جو اس میں غور و فکر کریں اور یہ دسترس میں نہیں ہے حتى علّامه نورى‏ رحمه الله نے بھی اس سے غفلت برتی ہے اور اسے كتاب «مستدرك» میں ذکر نہیں کیا ہے۔

  یہ روايت «فقه مجلسى‏ رحمه الله» کے نام سے معروف رسالہ کے صفحه 29 پر ذکر ہوئی ہے کہ جس کا متن یہ ہے:

   تشہد میں وہ مستحب ہے کہ جو ابوبصير نے امام صادق‏ عليه السلام سے نقل كیا ہے، اضافہ کیا جائے کہ جو یہ ہے:

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَخَيْرُ الْأَسْماءِ كُلُّها للَّهِِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ ‏وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقّ ‏بَشيراً وَنَذيراً بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ رَبّي نِعْمَ الرَّبُّ، وَأَنَّ مُحَمَّداًنِعْمَ الرَّسُولُ، وَأَنَّ عَلِيّاً نِعْمَ الْوَصِيُّ وَنِعْمَ الْإِمامُ. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍوَآلِ مُحَمَّدٍ، وَتَقَبَّلْ شَفاعَتَهُ في اُمَّتِهِ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ، اَلْحَمْدُ للَّهِ رَبّ‏ الْعالَمينَ.

خدائے رحمن و رحیم کی مدد سے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور تمام اسماء حسنہ اللہ کے لئے ہی ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمّد صلى الله عليه وآله وسلم اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں اور انہیں حق کے سال مبعوث کیا گیا ہے تا کہ وہ قیامت تک بشیر و نذیر ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میرا خدا بہترین پروردگار ہے اور محمّد صلى الله عليه وآله وسلم بہترین پيغمبر ہیں اور علی عليه السلام پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بہترین وصی و جانشينى اور بہترین امام و پيشواء ہیں ۔ خداوندا! محمّد و آل محمّد پر درود بھیج اور ان کی امت کے لئے ان کی شفاعت کو قبول فرما اور ان کے درجہ کو بلند فرما، تمام تعریفیں اللہ کے لئے کہ جو عالمین کا رب ہے۔


1) الإحتجاج: 230/1، بحار الأنوار: 1/27 ح1.

 

مزید  اسلامي سوسائٹي ميں تربيت کي بنياد امام جعفر صادقٴ کي نظر ميں

منبع: فضائل اهلبیت علیهم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ:: 1 / 579

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.