(۱) امام صادق عليه السلام کی زبان سے پيامبر اکرم صلي الله عليه وآلہ وسلم معجزات کی ولادت کے وقت آپ کے معجزات

0 32

(۱) امام صادق عليه السلام کی زبان سے پيامبر اکرم صلي الله عليه وآلہ وسلم معجزات کی ولادت کے وقت آپ کے معجزات

(۱)

امام صادق عليه السلام کی زبان سے پيامبر اکرم صلي الله عليه وآلہ وسلم

معجزات  کی ولادت کے وقت آپ کے معجزات

شيخ صدوق ‏رحمه الله نے امام صادق‏ عليه السلام سے روايت كیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

ابليس – اس پر خدا کی لعنت ہو – ساتوں آسمانوں کو طے کرتا اور وہ ان تک جا سکتا تھا اور جب حضرت‏ عيسى عليه السلام پیدا ہوئے تو اسے تین آسمانوں پر جانے سے منع کر دیا گیا اور وہ چوتھے آسمان تک جا سکتا تھا اور جب حضرت محمّد صلى الله عليه وآله وسلم پیدا ہوئے تو اسے تمام آسمانوں پر جانے سے روک دیا گیا اور شیاطین کو ستاروں کے ذریعہ آسمان پر جانے سے روکا جاتا۔

قريش نے کہا:یہ قیامت کی نشانی ہے جو ہم نے اہل کتاب سے سنی ہے، عمرو بن اميّه جو زمانۂ جاہلیت میں علم نجوم میں شہرت رکھتا تھا، نے کہا: تم ستاروں کی طرف دیکھو اور وہ ستارے کہ جن سے گرمیوں اور سردیوں میں راستوں کا پتہ معلوم کیا جاتا ہے اگر وہ اپنی جگہ چھوڑ کر بھاگتے ہیں تو سمجھ لو کہ مخلوق کی ہلاکت اور بربادی کا وقت آ گیا ہے اور اگر ان ستاروں کے علاوہ دوسرے ستارے حرکت کرتے ہیں اور گرتے ہیں تو کوئی اہم واقعہ رونما ہو ہے.

جس رات پيغمبر اكرم صلى الله عليه وآله وسلم کی ولادت ہوئی تو اس صبح کو دیکھا گیا کہ جہاں کہیں بھی بت تھے وہ سب زمین پر گرے ہوئے تھے، اس رات قیصر و کسریٰ کے محلات لرز اٹھے، اس محل کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر گر گئے، ساوہ کا دریا خشک ہو گیا، وادی ساوی میں پانی جاری ہو گیا ، ایک ہزار سال سے مسلسل جلنے والا فارس کا آتش کدہ خاموش ہو گیا۔ ایک مجلوسی عالم نے خواب میں دیکھا کہ ایک سرکش اونٹ چند نسلی گھوڑوں کو کھینچ رہا ہے جو دجلہ سے عبور کر کے شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔

، کسریٰ کا محراب درمیان سے ٹوٹ گیا اور دجلہ میں شگاف پڑ جانے سے پانی اس کے محل میں داخل ہو گیا ہے ، حجاز کی طرف سے ایک ایسا نور اٹھا کہ جس نے تمام مشرق کو روشن کر دیا۔

ہر بادشاہ کا تخت سرنگوں ہو گیا  اور بادشاہ خود اس دن گونگا ہو گیا اور بات نہ کر سکا، نجومی کا علم اس دن بےکار ہو گیا، جب کہ جادوگروں کا جادو اس دن باطل ہو گیا، عرب میں موجود سب نجومیوں کے مرید انہیں چھوڑ کر چلے گئے ۔ عربوں میں قریش کو عظمت ملی اور آل اللہ کہلانے لگے۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:إنّما سمّوا آل اللَّه لأنّهم في بيت اللَّه الحرام.

ان کو آل اللہ اس لئے کہتے تھے کیونکہ وہ حرم بیت اللہ میں تھے.

پيغمبر اكرم صلى الله عليه وآله وسلم کی والدہ گرامی جناب آمنہ علیہا السلام فرماتی ہیں:خدا کی قسم ! جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ، سر کو آسمان کی طرف بلند کیا، اور دیکھا کہ پھر اس سے ایک نور ظاہر ہوا کہ جس نے ہر طرف روشنی کر دی۔ اس روشنی کے درمیان میں نے ایک آواز سنی کہ کوئی کہہ رہتا تھا:

إنّك قد ولدت سيّد الناس، فسمّيه محمّداً.

تیرے ہاں وہ بچہ پیدا ہوا ہے جو تمام لوگوں کا سردار ہے پس اس کا نام محمد رکھو.

اور اسے عبدالمطلب کے پاس لے جاؤ تا کہ وہ انہیں دیکھیں اور جب آنحضرت کو عبدالمطلب کے پاس لائے تو آپ کی والدہ گرامی کی باتیں جناب عبد المطلب تک پہنچ چکی تھیں۔انہوں نے آپ کو پکڑا اور اپنی گود میں بٹھا لیا اور کہا:

الحمد للَّه الّذي أعطاني

هذا الغلام الطيّب الأردان

قد ساد في المهد على الغلمان(60)

حمد و ثناء اس خدا کے لئے ہے جس نے مجھے یہ نیک اور پاک بچہ عطا فرمایا ہے کہ جو گہوارہ میں تمام بچوں سے افضل ہے.

پھر آپ کو ارکان کعبہ کی پناہ میں دیا اور کچھ شعر پڑھے.

اس وقت ابلیس نے چیخ کر اپنی فوج کو طلب کیا۔ سب کے سب اس کے پاس جمع ہو گئے اور انہوں نے کہا: ہمارے سردار! کس چیز نے تجھے پریشان کیا ہے اور ڈڑیا ہے؟

شیطان نے کہا:اس رات کے شروع سے ہی میں آسمان کی حالت عجیب و غریب دیکھ رہا ہوں ، ایسے لگتا ہے جیسے کوئی اہم واقعہ رونما ہوا ہے کیونکہ جب سے حضرت عيسى کو آسمان پر لے جایا گیا ہے اس وقت سے لے کر اب تک کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ جاؤ اور معلوم کرو کہ کون سا واقعہ پیش آیا ہے؟

سب اس سے جدا ہوئے اور پھر پتی لگانے کے بعد آئے اور کہنے لگے: جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں.

ابليس نے کہا:میں خود معلوم کرتا ہوں اور یہ میرا کام ہے۔ پھر وہ دنیا کی طرف گیا اور ہر جگہ پرواز کی یہاں تک کہ حرم تک جا پہنچا ۔ وہاں فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حرم کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ جب اس نے حرم میں داخل ہونے کی کوشش کی تو تمام فرشتوں نے آواز بلند کی اور وہ واپس چلا گیا۔ پھر وہ دوبارہ ایک چڑیا کی شکل میں آیا اور ایک طرف سے حرم میں داخل ہو گیا۔

جبرئيل نے اس سے فرمایا: اے ملعون! واپس چلا جا۔

ابليس نے کہا: میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ آج زمین پر کون سا واقعہ پیش آیا ہےَ

جبرئیل نے فرمایا: محمّد صلى الله عليه وآله وسلم نے اس زمین پر اپنا قدم رکھا ے جو  خاتم الانبياء اور سب کے سرور و سردار ہیں.

اس نے کہا:کیا ان کے متعلق میرا کوئی حصہ ہے؟

جبرئیل نے فرمایا: نہیں!

اس نے پوچھا:کیا ان کی امت میں میرا کوئی حصہ ہے؟

فرمود: ہاں

ابليس نے کہا:میں اس پر راضی اور خوشنود ہوں.(1)


1) امالى صدوق: 360 ح 1 مجلس 48، بحار الأنوار: 257/15 ح 9، تفسير برهان: 326/2 ح 3.

 

مزید  مشرکین

منبع: فضائل اہلبيت عليہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 1 ص 127 ح39

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.