یوگا ـ ذن کے مراقبه (meditation) کے بارے میں آپ کا نظریه کیا هے ؟

0 0

(meditation) لغت میں مراقبه (گیان) کے معنى میں هے ـ مراقبه با طنى تعمق وغور و فکر اور درون بینى کو سنه 1970 عیسوى میں ” برنر ” نے معرفى کیا هے ـ اس روش میں انسان اپنى شخصیت کے بارے میں غور و فکر میں لگ جاتا هے اور اپنے آپ سے یه سوال کرتے هوئے که میں کون هوں؟ مدتوں ایک کونے میں بیٹھتا هے اور اپنے اور اپنى زندگى کے بارے میں غور و فکر میں غرق هو جاتا هےـ حالیه زمانه میں مغربى قلم کاروں نے مشرق زمین سے الهام لے کر، مراقبه کو تمرکز اور عمیق آرام کے لئے مشق، ذهنى دباو کو دور کرنے اور انرجى کے تمرکز کے لئے قابل توجه قرار دیا هے ـ مراقبه میں انسان کے اندر خداکى یاد کے ساتھـ فکرو خیال کا سفر انجام پاتا هے، کیونکه خدا کى یاد روحى خودآگاهى کا سبب بن جاتى هے ـ یعنى مراقبه کو غور و فکر کا همراهى جانتے هیں جو روحى هوشیارى و خود آگاهى کے عمیق تر سطحوں کو حاصل کرنے کے لئے انجام پاتا هے اور عام طور پر ایک خاص کلمه کى تکرار سے (مراقبه) وجود میں آتا هے ـ ڈاکٹر ” بنسون “[1] کے خیال کے مطابق مراقبه چار بنیاد ى عناصر پر مبنى هے، یعنى : 1ـ خاموش ماحول، 2ـ ایک ذاتى موضوع پر فکرى تمرکز 3ـ انفعالى ذهنیت 4ـ بدن کى سکون بخش حالت ـ

وجد عمیق کے عنوان سے عمیق غور و فکر، میڈیٹیشن (meditation) یا تعمق باطنى اور اندرونى اور باطن میں غور و فکر کرنے پر توجه دى گئى هےـ عمیق و جد، حواس کو اندر سے تمرکز کرنے پر منحصر کرنے کے معنى میں هےـ مراقبه، ایک ایسا طریقه کار هے، جو همیں ذهن کى مختلف سطحوں اور هوشیارى کى حالت تک پهنچنے کى قدرت بخشتا هے ـ یه حالت ایک ساز کو بجانے کے لئے جابی کرنے کے مانند هےـ یه روش انسان کو یه امکان فراهم کرتى هے که وه اپنے اندر ایک ایسى باطنی حالت پیدا کرے که جس میں نه صرف ایک لذت بخش نیرو کامزه چکھـ لیتا هے، بلکه ایک قسم کى شهودى معرفت میں داخل هوتا هے ـ مراقبه کى تمام روشوں کا انتهائى مقصد خالص هوشیارى کو حاصل کرنا هے [2] اس روش کے مدعى کهتے هیں که مراقبه کى مشق همیں همارے افکار کے شگاف کے اندر ایک حیرت انگیز سفر پر لے جاتى هے، وهاں پر بهت سے فائدے پائے جاتے هیں، جیسے: سالم تر اور آرام و آسائش سے سرشار اور اضطراب و پریشانى اور تھکاوٹ سے عارى زندگى ـ لیکن یه سب چیزیں فرعى فائدے هیں اور مراقبه کا اهم ترین فائده، افکار کے درمیان شگاف میں داخل هونا هے ـ[3]

مراقبه کے لئے مختلف روشیں پیش کى گئى هیں، ان روشوں میں سے ایک ” جاپا ” مراقبه کى روش هے، که ایک هندوستانى استاد نے اسے بیان کیا هے ـ ” جاپا ” خداکے نام کو مسلسل تکرار کرنے کے معنى هیں ـ مراقبه کى اس روش کے ذریعه افکار کے درمیان شگاف میں رها جاسکتا هے، لیکن ایک مدت کے لئے ـ[4] بدھـ مت میں بھى، بدھسٹ بننے کے لئے بنیادى روش مراقبه هے، مکتب ” ذن ” میں اس کے لئے دو صورتیں پیش کى گئى هیں: 1ـ “مراقبه تتاگته” اس میں آلودگى سے پاک ذهن کى ضرورت هوتى هے 2ـ بدھسٹ اساتید کى روش کا مراقبه، که جس میں بدھسٹ ذهن کو فورى طور پر درک  کرنے کے لئے کسى معقول کوشش کى ضرورت نهیں هوتى هے ـ اگرچه انسان هر حالت میں مراقبه انجام دے سکتا هے، لیکن مراقبه کا عام طریقه چار زانو بیٹھنا هے ـ مراقبه کا عروج ممکن هے تدریجى یا ناگهانى هو اور اس سلسله میںمختلف فرقوں کے مختلف طریقے هیں تاکه اپنے خیالات کى توانائى کى تربیت کریں، مثال کے طور پر عجیب و غریب سوالات یا “صاعقه” کى روش، جس میں نیند سے بیدار کرنے کے لئے تنبیه اور پٹائى سے استفاده کیا جاتا هے ـ[5]

لیکن بدھسٹ، ذن کے بارے میں قابل ذکر بات هے که مهایانه صورت کے بدھسٹ خاص طور پر جاپان میں پائے جاتے هیں، اور اب مغربى ممالک میں بھى پھیل رهے هیں ـ مکتب ذن کے پیروں کا یه عقیده هے که آپ “ذن ” کون هے؟ کا سوال پوچھتے هیں تو حقیقت میں آپ اپنے نفس سے سوال کرتے هیں، کیونکه ذن تجھے کهتا هے که تیرا  نفس کیا هے اور بیان کرتا هے که وه غیرمادى مخلوق هاتھـ آنے والى چیز نهیں هے ـ ذن کى نمایاں خصوصیات میں سے متناقض عبارتوں کو بیان کرنا هے، مثال کے طور پر:” نهیں هے، هے ” ” هے، نهیں هے ” میں تم وهوں اور تم میں هوں…. ذن کى تعلیمات، الهىٰ کلمات اور مقدس کتابوں پر استوار نهیں هیں، بلکه ایک خاص صورت میں اور مقدس تعلیمات سے جدا ذهن سے ذهن پر مشتمل هیں ـ[6] یوگا بھى جسم و ذهن کو پهچاننے اور ان کى فعالیت کو عمیق صورت میں درک کرنے کا ایک قدیمى طریقه هے اور یه طریقه جسم و روح کى سلامتى کے سلسله میں اس کے ناقابل انکار اثرات کى وجه سے حالیه صدى میں مغرب میں عالمى سطح پر قبول کیا گیا هے ـ یوگا کى مشقیں انجام دینے کے لئے خاص وسائل اور امکانات کى ضرورت نهیں هوتى هے ـ البته یوگا، هندوستان میں رائج ایک عرفانى مکتب کے طور پر بھی شمار کیا جاتاهے جو روادارى کے آداب اور جسمانى ورزشوں پر مبنى هے، جس کى کئى مختلف شاخیں هیں ـ یوگا میں جن مقاصد کى تلاش کى جاتى هے وه نیک اخلاق ، دوسروں کے ساتھـ صلح دوستى کے ساتھـ رهنے اور اجتماعى قوانین کو سکھانا اور ذهن کى تطهیر وغیره هیں ـ همارا ذهن همیشه گوناگوں افکار کے الجھن سے دوچار اور نفسانى خواهشات کے فیصلے لینے میں مشغول رهتا هے، لهذا اس کى اصلاح کے لئے مراقبه کى ضرورت هے ـ[7]

مراقبه، ذن اور یوگا کے بارے میں ایک مختصر تحقیق کے بعد هم یه نتیجه حاصل کر سکتے هیں، که اگرچه یه چیزیں کسى حدتک مفید واقع هوتى هیں، لیکن قابل اطمینان اور خطا سے عارى نهیں هیں ـ چونکه عالم هستى ایک منسجم مجموعه هے اور انسان کے نفس پر حاکم قوانین سے جدا نهیں هے اور ایسے قوانین اطمینان بخش هوسکتے هیں جن کا سر چشمه عالم تکوین و تشریع کا آگاه مبنع هوـ اس بنا پر جو دستورات خالق تکوین اور پروردگار عالم کى طرف سے انبیاء کے ذریحه انسان تک پهنچے هیں وهى قابل اعتماد هیں، لهذا جب انسان کے پاس اطمینان بخش دینی منبع موجود هو تو اسے تذکیه و تهذیب، مراقبه انجام دینے اور ضمیر کےسکون کو حاصل کرنے کے لئے ایسى چیزوں پر عمل کرنا چاهئے جو معصوم (ع) کے توسط سے لائى گئى هیں ـ اسلامى عرفان میں نفس کے لئے، وجود کى مملکت میں حکومت الهىٰ تشکیل دینے کے لئے سب سے برتر ریاضتیں وهى حلال و حرام کى رعایت کرنا اور مکتب اهل بیت (ع) کى مطلقه اطاعت اور اس پر عمل کرنا، بیان کیا گیا هے ـ چنانچه اسلامی عرفان کے بانى، حضرت على علیه السلام نے فرمایا هے: ” الشریعۃ ریاضۃ النفس ( یعنى دیندار اور متدین هونا سب سے بلند ترین ریا ضت هے) [8]ـ بڑے دانشوروں، جیسے ابن سینا نے بھى عبادت کو نفس کى ریاضت کے طور پر معرفى کیا هے اور اس سلسله فرماتے هیں: ” عبادت کے ذریعه نفس پر قابو پایا جاسکتا هے تاکه حق تعالیٰ پر توجه کرنے کے وقت مزا حمت ایجاد نه کر سکے بلکه اس کا ساتھـ دے ـ “[9] اور شرعى مراقبه یه هے که هم اپنے نفس کے کے بارے میں مراقب اور چوکس رهیں اور اس کى من مانیوں کو توڑ دیں تاکه وه ایسا کردار انجام دے که جو آخرت کے لئے ایک سرمایه اور توشه هو ـ[10] علامه حسن زاده عاملى اس سلسله میں فرماتے هیان : ” جو (شخص) بدخواهى اور بد کارى اور بهبودگى بلکه زیاده گوئى، مختصر یه که نفسانى خواهشات اور حیوانى عشق بازى پر چند دن تک کنٹرول کرے، تو وه مشاهده کرتا هے کے نقس کا تکوینى تقاضایه هے که ریاضت سے نور و صفا پایا جاتا هے اور اس کے آثار اسے نورانى کرنا هے، پس اگر ریاضت انسان ساز وحى کے مطابق (ان ھذالقران یھدى للتى ھی اقوم)[11] هو تو نفس تکوینى اقتضا کے مطابق اپنے کمال کے مقصد تک پهنچتا هے ـ[12]


مزید  کیا شاه اسماعیل ایک صوفی مسلک سنی تھا، یا شیعه؟

[1]  رضایى زاده، محمود ،” مھارت ھاى مدیریت خویشتن دارى”، ص 237، موسسھ تحقیقات و آموزش مدیریت 1385.

[2]  ایضاً، ص 232 تا 242.

[3]  وین دبلیو دایر، مرقبھ، ترجمھ سیما فرجى، ص 25، انتشارات نسل نو اندیش.

[4]  ایضاً ،ص 51.

[5]  مقالھ” نگرش نقادانھ بھ ذن بودایی از دیدگاه توحید “،مزگان سخایى، سایٹ پاسخگویى بھ مسایل دینى ـ

[6]  ایضاً ، بھ نقل از کتاب () ، ص 102.

[7]  فصل نامھ یوگا مھر، شماره 2، پاییز 79.

[8] ناظم زاده ى قمى، ” على در ائینھ عرفان “.

[9] ابن سینا، الا شارات و التنبیھات، نمط 9،فصل 3.

[10]  طبا طبایى، علامه محمد حسین، المیزان ، ج2 ، ص 170.

[11]  اسرا، 9.

[12]  گنجینھ گوھر روان، ص 15.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.