یه جو کها جاتا هے که:” نیت اگر پاک هو ، تو کافی هے، پهر دعاٶں اور زیارتوں کی ضرورت هی نهیں هے”، کیا یه صحیح هے؟

0 0

انسان کے ارادی واختیاری افعال اس کی ” نیت” پر مبنی هو تے هیں – وضاحت یه ھے که ایک عاقل اور باشعور انسان اپنے مقصود و مطلوب (کام) کے بارے میں پهلے علم حاصل کر تا هے اور اس کے بعد اس کام کے نفع و نقصان کو جانچتا لیتا هے  پھر بعد اس کو انجام دینے ( اگر اس کے لئے مفید اور اس کی مرضی کے مطابق هو ) یا سے ترک کر نے ( اگر اس کے لئے مضر یا مرضی کے خلاف هو ) کا فیصله کر تا هے – اس کے بعد اس کو ترک کر نے یا انجام دینے کے بارے میں رجحان پیدا کر کے اس کام کو ترک یا انجام دینے کی نیت کرتا هے پهر اپنی نیت کو  پر عملی جامه پهناتا هے – ایک دوسری تعبیر میں اجمالی علم عبارت هے: کام کے نفع و نقصان کے بارے میں آگاهی، اس کام کو انجام دینے یا ترک کر نے کا رجحان ، اس کی نیت، کام انجام دینے کے لئے وسائل فراهم کر نا ، کام کو انجام دینے کے لئے فکری و روحانی قوت کا حامل هو نا اور فعل کو انجام دینا یا ترک کر نا  – اس لحاظ سے نیت کے بغیر انسان کے لئے اختیار سے کسی کام کو انجام دینا یا ترک کر نا متحقق نهیں هو تا هے، اگر چه ممکن هے خود انسان اس امر سے غافل هو-

دینی امور میں همت اور نیت کی بلندی اور اس کے دنیوی امور کی ملاوٹ سے پاک و خالص هو نے کی  تاکید اور سفارش کی گئی هے – اس لئے خود نیت کو بھی انسان کے قابل اصلاح اور عروج پانے والے اختیاری اعما ل میں شمار کیا جاسکتا هے – اس کی نیت میں اصلاح اور عروج پانے کے نتائج اس کے گفتار و کردار اور رد عمل میں ظاهر هو تے هیں اور اس کے بر خلاف افراد کی بے همتی بھی ان کے گفتار و کردار اور حالات سے ظاهر هوتی هے – لهذا نیت اور اس کی اصلاح انسان کے کردار و گفتار اور حالات کو جهت دینے میں کلیدی رول ادا کرتی هے – لیکن بات یه هے که: کیا شائسته اور مناسب کام کو منتخب کر نے میں همارے لئے نیت اور اس کی اصلاح کافی هے اور ان کو عملی جامه پهنانے کی ضرورت نهیں هے؟ ! تو یه واضح هے که کوئی بھی عقلمند اس سوال کا جواب مثبت نهیں دے گا-

کیونکه یه ممکن نهیں هے که انسان تعلیم و تعلم کی صرف مخلصانه نیت سے عالم و مخلص بن جائے اور یا صرف غذا کے تصور اور کهانے کی نیت سے هی سیرهو جائے اور قوی بن جائے!

مذکوره سوال کے بارے میں ، یه کیسے ممکن هے که کوئی اپنی نیت کو پاک کرے ، لیکن خدا کے ساتھـ (دعا کی راه سے)اور اولیائے الهی اور خدا کے دوستوں کے ساتھـ (زیارت اور توسل کی راه سے) کو ئی رابطه بر قرار نه رکهے؟ ! اس نے اپنی نیت کو کس لئے اور کس چیز سے پاک کیا هے؟ !کیا اس نے اپنی نیت کو ائمه اطهار علیهم السلام کے توسل اور زیارت اور دعا و راز و نیاز سے پاک کیا هے ؟ ! کیا یه نعوذ با لله رجس و ناپاکی هیں که اپنی نیت کو ان سے پاک کرے؟! افسوس که بظاهر سوال سے اس قسم کے شیطانی وسوسوں کے علاوه کوئی اور چیز سمجھـ میں نهیں آتی هے اور یه امر کئی لحاظ سے باطل هے:

١- دعا وزیارت جیسے کام کو ترک کر نے کے لئے بذات خود نیت کی ضرورت هے ، اور اس کے بغیر یه دو کام ترک نهیں هو سکتے هیں – پس یه سوال پیدا هو تا هے که: دعا اور زیارت کو ترک کر نے میں آپ کی نیت کیا هے؟ ! آپ کن معیاروں کے پیش نظر ان دو مطالب سے بے نیازی اور خود کفیل هو نے کا احساس کر تے هیں؟ ! همیں تو ان دو سوالوں کا کوئی اطمینان بخش جواب نهیں ملتا هے-

٢- جس خداوند متعال کے لئے هم نے اپنی نیت کو پاک کیا هے ! اس نے تو همیں دعا وتوسل اور زیارت کا حکم دیا هے ، جیسا که وه فر ماتا هے :” … مجهـ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اوریقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے هیں وه عنقریب ذ لت کے ساتھـ جهنم میں داخل هو ں گے-“[1]اسی طرح فر ماتا هے : ” خدا سے وابسته هو جاٶ” [2] مزید فر ماتا هے : ” خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رهواور آپس میں تفرقه نه پیدا کرو-“[3] اور مزید فر ماتا هے : ” ایمان والو! الله سے ڈرواور اس تک پهنچنے کا وسیله تلاش کرو اور اس کی راه میں جهاد کرو که شاید اس طرح کا میاب هو جاٶ-“[4]

ائمه اطهار علیهم السلام سے  بھی متعدد مختلف احادیث نقل کی گئی هیں جن میں ذکر کیا گیا هے که:هم ” حبل الله” اور اس (خدا) کا ” وسیله” هیں-[5] واضح هے که ان بزرگوں سے وابسته هو نے کا اهم ترین طریقه ان کی زیارت اور ان کی قبروں کا احترام کر نا اور ان کی ولاد ت و وفات کے ایام کو اهمیت دینا اور ان کی تکریم کر نا هے تاکه هم اس طریقه سے ان کے ساتھـ رابطه بر قرار کر کے اپنی دینی و دنیوی مشکلات اور حاجات کو خدا سے طلب کر سکیں-

٣- اهم امور میں شفاعت کر نے والے سے توسل کر نا ایک معقول  امر هے ، جس کی  تمام معاشروں میں رسم هے اور ممکن هے هم اپنی روز مره زندگی میں کئی بار اس سے استفاده کرتے هوں- احتیاج و ضرورت کے باوجود شفیع سے توسل نه کر نا تکبر اور خود خواهی کے علاوه کچھـ نهیں هے – کوئی بھی حقیقی اور سچا مومن اولیائے الهی سے رابطه بر قرار کر نے سے بے نیاز نهیں هے، کیونکه اگر کوئی شخص تکامل، اصلاح وتر بیت کا سنجیدگی کے ساتھـ قصد و نیت رکھتا هو تو اس کے لئے ان بزرگواروں کی تعلیمات، ، هدایات اور عنایات سے استفاده کر نے کے سوا کوئی چاره نهیں هے، تاکه وه اپنی منزل مقصود تک پهنچ سکے اور ان سے توسل کر نے کے لئے خدا کے حکم میں بھی یهی راز مضمر هے ورنه یه بزرگوار هماری توجه ، احترام ، تکریم ، زیارت اور توسل کے  ھر گز محتاج نهیں هیں-

٤- دعا اور  زیارتیں دلوں کو جلا بخشتی هیں اور جو بھی شخص اپنے آپ کو ان دو نعمتوں سے محروم کر دے وه بد نصیب بهت سے فیو ض سے محروم ھوجاتا  هو تا هے بلکه اس کی ترقی اور رشد و بالید گی ناممکن بن جاتی هے اور سر انجام اس کے لئے جهنم میں داخل هو نے کے سوا کوئی چاره نهیں هو تا-[6]

مذکوره مطالب کے پیش نظر هم اس نتیجه پر پهنچتے هیں: [7]

الف) توسل، زیارت اور دعا انسان کے ان اختیاری اعمال میں سے هیں، جن کا صادر هونا” نیت” کے بغیر ممکن نهیں هے-

ب) حسن نیت اور اس کی عظمت  انسان کے نیک اعما ل میں من جمله مذکوره امور کے ، میں براه راست موثر هے-

ج) ایک نیکی کے لئے اقدام کر نے سے هم دوسری نیکی سے بے نیاز نهیں هوسکتے هیں : یعنی انسان کے عروج کے لئے ” حسن فاعلی ” (حسن نیت) بھی شرط هے اور “حسن فعلی” (اچھے کام کا انتخاب)بھی- دوسرے الفاظ میں ، حسن نیت اور حسن فعلی دونوں علت کے جزو هیں ان میں سے ایک کے وجود اور اصلاح سے دوسری علت کے انجام دینے اور اصلاح سے هم بے نیاز نهیں هو سکتے هیں ، لهذا هم اپنے عروج و کمال کے لئے دونوں کی اصلاح وترقی کے محتاج هیں-

اب ممکن هے کوئی شخص بعض احادیث سے تمسک پیدا کر کے ان کو مذکور مطالب کے لئے تنا قض تصور کرے،من جمله ان کے که پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فر ماتے هیں: ” اے ابوذر! نیک کام کی نیت کرو اگر چه اسے انجام بھی نه دو -“[8] یا فر ماتے هیں : “مومن کی نیت اس کے عمل سے بهتر هے-[9] ” یا امام علی علیه السلام فر ماتے هیں :” بعض اوقات ایک نیت عمل سے بهتر ھوتی هے-” [10]یا آپ(ع) فر ماتے هیں : ” خدا وند متعال نیک نیتی اور باطنی پاکی کے سبب اپنے بندوں میں سے جسے چاهے بهشت میں لے جاسکتا هے- [11]و…

اس قسم کی احاد یث نیک کام کی نیت کی اهمیت بیان کرتی هیں اور نیک کام کو انجام دینے کے امکا ن کی صورت میں اس کو انجام دینے سے بے نیاز هو نے کی کوئی دلیل پیش نهیں کرتی هیں – دوسرے الفاظ میں یه احادیث اس امر کی تاکید کرتی هیں که آپ همیشه نیک کام انجام دینے کی فکر میں رهیں اور برے کاموں کی نیت کو اپنے ذهن سے دور رکھیں-یه امر اس بات کا سبب بن جاتا هے که انسان کا نیک کاموں کی طرف رجحان بڑھـ جائے اور برے کاموں کی سوچ اور انهیں انجام دینے کا تصور ان کے دماغ سے دور هو جائے – اس لئے نیک نیتی اور اس میں اصلاح اور اسے عظمت  بخشنے کے بهت سے وعدے کئے گئے هیں ، مثلا مولا فر ماتے هیں : ” جوشخص سوتے وقت یه نیت کرے که نماز شب پڑھے گا ، لیکن صبح تک نیند سے بیدار نه هو پا ئے ، تو جو کچھـ اس کی نیت میں تھا وه اس کے لئے لکها جائے گا اور اس کی نیند خدا وند متعال کی طرف سے اس کے لئے ایک صد قه هو گی- [12] امام صادق علیه السلام فر ماتے هیں : ” حقیقت میں خدا وند متعال اپنے بندوں کے لئے ان کی نیتوں کے مطابق مدد فر ماتا هے- پس جس شخص کی نیت صحیح هو ، خدا کی نصرت اس کے لئے مکمل طور پر ملے گی اور جس کی نیت میں کمی هوتو اسے خدا کی مدد بھی اسی نسبت سے ملے گی- [13]

پهلی حدیث ان امور کی طرف اشاره هے که انسان حقیقت میں نیک کام انجام دینے کی نیت کرتا هے ، لیکن اس کو انجام دینے کی  قوت نهیں رکهتا هےیا اسے انجام دینے کی فرصت پیدا نهیں کرتا هے اور دوسری حدیث خداوند متعال پر حسن نیت رکھنے کی طرف اشاره اورتاکید هے. اور یه که اگر بنده دعا کرتا هے اور خداوند متعال سے کوئی امید رکھتا هے اور خدا کی طرف سے اجابت اور عنایت کے بارے میں مطمئن هو اور اس کےقبول هونے اور خدا کی طرف سے مدد کے بارے میں کوئی شک و شبهه نهیں رکهتا هو اور اس کے علاوه بلند اور اهم امورکے بارے میں خداوند متعال سے مطمئن هو اور خدا کی طرف سے ان کی قبولیت اور امداد کے سلسله میں شک نه کرتاھو ، اس کے علاوه بلند اور اهم امور کے بارے میں خداوند متعال سے امید رکهتا هو نه که پست اور حقیر امور کے بارے میں – اس لئےاگر نیت سے مربوط احادیث کو ان احادیث کے ساتھـ رکھاجائے جو اولیا الله کی قبور کی زیارت اور ان سے توسل یا دعا کی اهمیت اور ان کی تاکید پر دلالت کرتی هیں، تو اس امر کی تائیید هوگی که ان میں سے ایک کی تاکید دوسری کی بے نیازی کے معنی میں نهیں هے- جی هاں! اگر حقیقت میں کوئی شخص کسی نیک کام کی نیت کرے لیکن اسے انجام دینے میں کامیاب نه هوپائے، تو خداوند متعال اپنے لطف و کرم سے اس کا ثواب نیت کرنے والے کو دیتا هے، اس کے برعکس برے کام کی نیت کے سلسله میں جب تک نه وه کام عملا انجام پائے نیت کرنے والے کے حق میں کوئی گناه لکها نهیں جاتاهے، اگر چه برے کام کی نیت بھی انسان کی روح پر منفی اثر ڈالتی هے.

منابع و ماخذ:

١. ری شهری، محمد، ترجمه شیخی، محمد رضا، میزان الحکمه، ج١٣، مٶسسه فرهنگی دارالحدیث، طبع ٢، ١٣٧٩، قم، ص٦٥٨٥-٦٥٦٠.

٢. کاشانی، ملامحسن، المحجه البیضا، ج٨، مٶسسه نشر اسلامی، قم.

٣. مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش عقاید، ج٣، سازمان تبلیغات اسلامی، طبع١٤،١٣٧٥، قم، درس٥٦-٥٤، ص ١٤٩-١٢٦.

٤. مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق در قرآن، ج١، مٶسسه آموزشی و پزوهشی امام خمینی رحمهم الله، طبع ٨، ١٣٧٦، قم، ص١٧٤-٩٥.


مزید  اگر کوئی مرد کسی نا محرم لیکن با پردہ لڑکی کو گود میں لے کر اس کے ہاتھ کو چھولے، تو ان دونوں کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا یہ لڑکی زنا کے مانند کام کی مرتکب ھوئی ہے؟ کیا اس کے لئے کوئی شرعی سزا مقرر کی گئی ہے؟ اور یہ سزا کیا ہے؟ اگر کوئی اس ماجرا کا عینی شاہد نہ ھو تو کیا ان دونوں کو حاکم شرع کے پاس جاکر اقبال جرم کرنا چاہئیے تاکہ سزا کا نفاذ عمل میں لایا جائے؟

[1] – سوره غافر، ٦٠-

[2] – سوره نساء، ١٤٦ و١٧٥، سوره حج ٧٨-

[3] -سوره آل عمران، ١٠٣-

[4] -سوره مائده، ٣٥، سوره اسراء ٥٧-

[5] – مذکوره آیات کے ضمن میں مختلف تفاسیر-

[6] -سوره غافر ٦٠ـ

[7] – ری شهری، محمد، تر جمه شیخی ، حمید رضا، میزان الحکمه، ج١٣،ح ٢٠٩٧٦،ص٦٥٧٥-

[8] – ری شهری محمد، ترجمه شیخی،حمید رضا ، میزان الحکمه، ج١٣، ح٢٠٩٧٦، ص٦٥٧٥-

[9] – ایضا، ح ٢٠٩ ٧٨، ص٦٥٧٧-

[10] – ایضا، ح ٢٠٩٩٨، ص٦٥٧٩-

[11] – ایضا، ح ٢١٠١٥،ص ٦٥٨٣-

[12] -ایضا، ح٢٠٩٧٧،ص ٦٥٧٥-

[13] – ایضا، ح٢٠٩٨٥، ص٦٥٧٦-

تبصرے
Loading...